30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
والاٰخر اذانوی بعد الضرب فمن جعلہ رکنا لم یعتبر النیۃ بعدہ ومن لم یجعلہ رکنا اعتبرھا بعدہ کذافی السراج الوھاج [1] بحر۔
وھھنا فروع جمۃ تشھد للقول الثانی ذکرت فی المعتمدات من دون اشارۃ الٰی خلاف فیہا :
منھا۱ فی الفتح والبحر وغیرھما میں ہے : ہم پہلے بیان کرچکے کہ اگر دوسرے کو حکم دیا کہ اسے تیمم کرادے تو جائز ہے بشرطیکہ حکم دینے والا نیت کرلے۔ تو اگر مامور نے آمر کی نیت کے بعد زمین پر اپنا ہاتھ مارا پھر آمر کو حدث ہوا تو شیح میں کہا ہے کہ اسے ابو شجاع کے قول پر آمر کے حدث سے باطل ہوجانا چاہئے اھ بحر میں فرمایا : اس عبارت کا ظاہر یہ ہوا کہ مامور کے حدث سے باطل نہ ہوگا اس لئے کہ مامور آلہ وذریعہ ہے اور اس کی ضرب آمر ہی کی ضرب ہے تو اعتبار آمر کا ہوگا۔ اسی لئے ہم نے آمر (حکم دینے والے) کی نیت کی شرط رکھی۔ مامور کی نیت کی شرط نہ لگائی اھ۔
دُوسرا ثمرہ اختلاف یہ ہوگا کہ جب ضرب کے بعد تیمم کی نیت کی تو جن لوگوں نے ضرب کو رکن قرار دیا ہے انہوں نے بعد کی نیت کا اعتبار نہ کیا۔ اور جن حضرات نے اسے رکن نہیں مانا ہے انہوں نے ضرب کے بعد پائی جانے والی نیت کا اعتبار کیا ہے السراج الوہاج میں ایسا ہی ہے۔ بحر
اس مقام پر ایسے بہت جزئیات وفروع ہیں جن سے قول دوم (عدمِ رکنیت ضرب) کی تائید اور شہادت حاصل ہوتی ہے۔ یہ معتمد کتابوں میں مذکور ہیں اور کسی اختلاف کا کوئی اشارہ بھی نہیں۔ کچھ جزئیات یہاں پیش کئے جاتے ہیں:
جزئیہ۱ : فتح القدیر اور بحرالرائق وغیرہما
(۱) صرحوا انہ لو القت الریح الغبار علی وجہہ ویدیہ فمسح بنیۃ التیمم اجزاء وان لم یمسح لایجوز [2] اھ وفی الظھیریۃ ثم الھندیۃ لواصاب الغبار وجھہ ویدیہ فمسح بہ ناویا للتیمّم یجوز وان لم یمسح لا [3] اھ ومثلہ فی التبیین۔
ومنھا۲ فی (۲) الخانیۃ والخلاصۃ لوقام فی مہب الریح اوھدم الحائط فاصاب الغبار وجھہ وذراعیہ لم یجز حتی یمسح وینوی بہ التیمّم [4] اھ وفی الدرر کنس دار ا او ھدم حائطا اوکال حنطۃ فاصاب وجھہ وذراعیہ غبار فمسح جاز حتی اذا لم یمسح لم یجز [5] وقال العلامۃ الوزیر فی ایضاح اصلاحہ قدذکر فی کتاب الصلٰوۃ لوکنس دارا اوھدم حائطا اوکال حنطۃ فاصاب وجھہ وذراعیہ لم یجزہ ذلك من التیمم حتی یمریدہ علیہ[6] ۔
میں ہے : “ علماء نے تصریح فرمائی ہے کہ اگر آندھی سے اس کے چہرے اور ہاتھوں پر غبار پڑ گیا پھر ان پر تیمم کی نیت سے ہاتھ پھیر لیا تو کافی ہوگا اور اگر ہاتھ نہ پھیرا تو تیمم نہ ہوگا “ ۔ اھ اور ظہیریہ پھر ہندیہ میں ہے : “ اگر اس کے چہرے اور ہاتھوں پر غبار پڑ گیا پھر اس پر تیمم کی نیت سے ہاتھ پھیر لیا تو تیمم ہوجائے گا اور اگر مسح نہ کیا تو نہ ہوگا “ اھ۔ ایسا ہی تبیین میں بھی ہے
جزئیہ ۲ : خانیہ اور خلاصہ میں ہے : “ اگر آندھی کی گزرگاہ میں کھڑا ہوا ، یا دیوار ڈھائی غبار اس کے چہرے اور ہاتھوں پر لگ گیا جب تك تیمّم کی نیت سے اس پر ہاتھ نہ پھیرے تیمم نہ ہوگا “ اھ دُرَر میں ہے : “ گھر میں جھاڑُو دیا ، یا دیوار گرائی ، یا گیہوں ناپا اس کے چہرے اور ہاتھوں پر غبار پڑ گیا اس پر ہاتھ پھیر لیا تو تیمم ہوگیا ، نہ پھیرا تو نہ ہوا “ ۔
اور علّامہ وزیر نے اپنی کتاب اصلاح کی شرح ایضاح میں فرمایا : “ کتاب الصلوٰۃ میں ذکر ہے کہ اگر گھر میں جھاڑو دیا یا دیوار گرائی یا گیہوں ناپا غبار اُڑ کر چہرے اور ہاتھوں پر پڑگیا جب تك اس پر ہاتھ نہ پھیرے تیمم نہ ہوگا “ اھ۔
ومنھا۳ فی الخانیۃ والخلاصۃ والتاتارخانیۃ والحلیۃ (۱) اذا اراد التیمم فتمعك فی التراب وذلك بجسدہ کلہ ان کان التراب اصاب وجھہ وذراعیہ وکفیہ جاز وان لم یصب وجہہ وذراعیہ لم یجز [7]۔
ومنھا۴ فی (۲) الخلاصۃ لوادخل راسہ فی موضع الغبار بنیۃ التیمّم یجوز[8]۔
ومنھا۵ (۳) فیہا لوانھدم الحائط فظھر الغبار فحرك راسہ ینوی التیمم جاز والشرط وجود الفعل منہ[9]۔
ومنھا۶ (۴) فیہا وفی الخانیۃ وخزانۃ المفتین لوذر الرجل علی وجھہ ترابا لم یجز وان مسح ینوی بہ التیمم والغبار علیہ جاز عند ابی حنیفۃ رضی الله عنہ [10] اھ ای ومحمد خلافا لابی یوسف رحمھما الله تعالی فانہ لایجیز التیمم بالغبار مع القدرۃ علی الصعید ۔
جزئیہ۳ : خانیہ ، خلاصہ ، تاتارخانیہ اور حلیہ میں ہے : “ جب تیمم کا ارادہ کرکے خاك میں لوٹا اور اس سے سارے جسم کو ملا ، اگر چہرے ، کلائیوں اور ہتھیلیوں پر مٹّی پہنچ گئی تو تیمم ہوگیا اور چہرے اور کلائیوں پر نہ پہنچی تو نہ ہوا “ اھ۔
جزئیہ۴ : خلاصہ میں ہے : “ کسی غبار کی جگہ اپنا سر (اور دونوں ہاتھ) تیمم کی نیت سے داخل کیا (جس سے منہ اور ہاتھوں پر غبار پھیل گیا) تو تیمم ہوجائےگا “ ۔
جزئیہ۵ : اسی میں ہے : اگر دیوار گری جس سے گرد اٹھی اس میں اپنے سر کو تیمم کی نیت سے حرکت دی تو تیمم ہوگیا۔ تیمم کرنے والے سے فعل کا وجود شر ط ہے “ ۔
جزئیہ۶ : اس میں اور خانیہ وخزانۃ المفتین میں ہے : “ اگر آدمی نے اپنے چہرے پر مٹّی گرائی تو تیمم نہ ہوگا اور غبار چہرے پر ابھی پڑا ہے بہ نیت تیمم ہاتھ پھیر لیا تو امام اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکے نزدیك تیمم ہوجائےگا اھ“۔ اور امام محمد رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِکے یہاں بھی ہوجائے گا امام یوسف رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِکا اختلاف ہے ان کے نزدیك سطح زمین سے تیمم پر قدرت ہوتے ہوئے
وفی الجوھرۃ النیرۃ قولہ یمسح اشارۃ الی انہ لوذر التراب علی وجھہ ولم یمسحہ لم یجز وقد نص علیہ فی الایضاح انہ لایجوز[11] اھ
[1] البحرالرائق باب التیمم ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۱۴۵
[2] فتح القدیر باب التیمم نوریہ رضویہ سکھّر ۱ / ۱۱۰
[3] فتاوٰی ہندیۃ الباب الرابع من التیمم پشاور ۱ / ۲۷
[4] خلاصۃ الفتاوٰی نوع فیما یجوزبہ التیمم نولکشور لکھنؤ ۱ / ۳۶
[5] درر حکام لملّا خسرو باب التیمم مطبعۃ کاملیہ بیروت ۱ / ۳۱
[6] ایضاح واصلاح
[7] خلاصۃ الفتاوٰی کیفیت التیمم نولکشور لکھنؤ ۱ / ۳۵
[8] خلاصۃ الفتاوٰی نوع فیما یجوزبہ التیمم نولکشور لکھنؤ ۱ / ۳۶
[9] خلاصۃ الفتاوٰی ، نوع فیما یجوزبہ التیمم ، نولکشور لکھنؤ ، ۱ / ۳۶
[10] خلاصۃ الفتاوٰی ، نوع فیما یجوزبہ التیمم ، نولکشور لکھنؤ ، ۱ / ۳۶
[11] جوہرہ نیرّہ باب التیمم مکتبہ امدادیہ ملتان ۱ / ۲۵
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع