دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 3 | فتاوی رضویہ جلد ۳

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۳

جزم فی المنیۃ وغیرھا واقرہ فی الغنیۃ وصرح انہ احوط [1]  وقال فی الحلیۃ ھوظاھر قول مالك فی المدونۃ وبہ قال الشافعی فی الجدید واکثر العلماء لاحادیث صریحۃ بہ [2] اھ۔  بل قال الامام ملك العلماء فی البدائع امارکنہ فقال اصحابنا ضربتان ضربۃ للوجہ وضربۃ للیدین الی المرفقین [3]  اھ ثم ذکر مذاھب الامام مالك    

التیمم ضربتان الخ یہی متون میں سے مختصر قدوری ، ہدایہ ، کافی ، وقایہ ، نقایہ ، اصلاح اور متعددمعتمد کتابوں کی عبارت ہے۔ یہ پوشیدہ نہیں کہ اس تعبیر کا ظاہر مدلول ومعنی یہی ہے کہ دونوں ضربیں تیمم کا رکن ہیں ، یہی سید امام ابو شجاع کا قول ہے ، اسی کو امام شمس الائمہ حلوانی نے اختیار کیا ، اسی کو خلاصہ میں صحیح کہا نصاب میں فرمایا کہ “ یہ استحسان ہے اسی کو ہم لیتے ہیں اور یہی احوط ہے “ ۔ درمختار میں ہے : یہی اصح واحوط ہے۔

 اسی پر امام ناصرالدین نے جزم کیا ، ظہیریہ میں ہے : یہ عمدہ ہے اور اسی کو ہم لیتے ہیں “ اھ۔ جواہر الفتاوٰی اور منیہ وغیرہا میں اسی پر جزم کیا ، اور غنیہ میں اسے برقرار رکھا اور صراحت فرمائی کہ یہ احوط ہے۔ حلیہ میں کہا کہ : “ یہی مدّونہ میں امام مالك کا ظاہر قول ہے یہی امام شافعی کا جدید قول ہے ، اکثر علماء اسی کے قائل ہیں اس لئے کہ اس پر صریح حدیثیں وارد ہیں اھ۔ بلکہ امام ملك العلماء نے بدائع میں فرمایا : “ لیکن اس کا رکن ، تو ہمارے اصحاب نے فرمایا : یہ دو ضربیں ہیں ، ایك ضرب چہرے کیلئے اور ایك ضرب ہاتھوں کیلئے کہنیوں تک “ ۔ اھ پھر امام مالک ،

والشافعی والزھری وابن ابی لیلی وابن سیرین وغیرھم وفی جمیعھا ان التمیم ضربۃ اوضربتان اوثلاث فافاد اجماع ائمتنا الثلثۃ وھؤلاء جمیعا علی ان الضربۃ ھی رکن التیمم انما اختلفوا فی عددہ ومبلغھا فی الیدین الی الرسغین اوالمرفقین اوالابطین۔

ونفاہ الامام علی الاسبیجابی والامام فقیہ النفس قاضیخان واختارہ فی البزازیۃ وبہ جزم فی نورالایضاح والامداد و رجحہ فی شرح الوھبانیۃ ونص علیہ ابن کمال وحققہ المحقق فی الفتح وتبعہ فی الحلیۃ والبحر اذ قال والذی یقتضیہ النظر عدم اعتبار ضربۃ الارض من مسمّی التیممّ شرعا فان المأموربہ المسح لیس غیر فی الکتاب قال تعالٰی فتیمّموا صعیدا طیبا فامسحوا بوجوھکم فیحمل قولہ صلی الله تعالٰی علیہ وسلم التیمم ضربتان اما علی ارادۃ الاعم من المسحتین او انہ خرج مخرج الغالب والله تعالی اعلم [4] اھ۔

بامام شافعی ، زہری ، ابن ابی لیلی ، ابن سیرین وغیرہم کے مذاہب بیان کیے۔ سب میں یہ ہے کہ تیمم ایك ضرب ہے ، یا دو ضرب ہے ، یا تین ضرب ہے۔ تو افادہ فرمایا کہ ہمارے تینوں ائمہ اور ان تمام حضرات کا اس پر اجماع ہے کہ ضرب تیمم کا رکن ہے۔ ان کا اختلاف ہے تو اس بارے میں کہ ضرب کی تعداد اور انتہا کیا ہے ، ہاتھوں پر کہاں تك مسح کرنا ہے ، گٹوں تک ، یا کہنیوں تک ، یا بغلوں تک۔
امام علی اسبیجابی اور امام فقیہ النفس قاضی خان نے ضرب کے رکنِ تیمم ہونے کا انکار کیا ، اسی مذہب کو بزازیہ میں اختیار کیا ، اسی پر نورالایضاح اور امداد الفتاح میں جزم کیا اسی کو شرح وہبانیہ میں ترجیح دی ، اسی کی ابنِ کمال نے تصریح کی اور محقق علی الاطلاق نے فتح القدیر میں اس کی تحقیق کی اور حلیہ وبحر میں ان کا اتباع کیا۔ انہوں نے فرمایا : نظر کا تقاضا یہی ہے کہ شرعا تیمم کے معنی مسمّٰی میں زمین پر ضرب کا اعتبار نہ ہو ، اس لئے کہ کتاب الله میں تو صرف مسح کا حکم دیا گیا ہے ارشاد ہے : “ تو پاك سطح زمین کا قصد کرکے اپنے چہروں کا مسح کرو ، اور نبی کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا ارشاد “ تیمم دو۲ ضرب ہے “ یا تو اس پر محمول ہوگا کہ یہ زمین پر دو ضرب ہونے یا عضو پر دوبار مسح ہونے سے اعم اور دونوں ہی کو شامل ہے ، یا اس پر محمول ہوگا کہ ضرب والی صورت اکثر پائی جاتی ہے اس لئے یہ ارشاد بیان اکثر کے لحاظ سے وارد ہے والله تعالٰی اعلم۔ (ت)

وذکروا ثمرۃ الاختلاف شیئین :  

احدھما :   لوضرب یدیہ علی الارض فقبل ان یمسح احدث لایجوز المسح بتلك الضربۃ علی القول الاول لانھا رکن فصارکما لو احدث فی الوضوء بعد غسل بعض الاعضاء قال فی الخلاصۃ الاصح انہ لایستعمل ذلك التراب کذا اختارہ الشیخ الامام شمس الائمۃ کمالو اعترض الحدث فی خلال الوضوء [5] اھ وقال القاضی الاسبیجابی یجوز کمن ملا ء کفیہ ماء فاحدث ثم استعملہ [6]  وبہ جزم فی الخانیۃ وخزانۃ المفتین قال اذا اراد ان یتیمّم فضرب ضربۃ واحدۃ ثم احدث فمسح بذلك التراب وجہہ ثم ضرب ضربۃ اخری للیدین الی المرفقین جاز [7] اھ وعزاہ فی الخلاصۃ الی بعض نسخ الواقعات ، ونقل تصحیحہ فی جامع الرموز عن جامع المضمرات قائلا لواحدث قبل المسح لم یعد الضرب علی الاصح کمافی المضمرات [8]  اھ

وقال فی البحر                                 

ضرب کی رکنیت اور عدم رکنیت میں اختلاف کا ثمرہ دو۲ باتیں بتائی گئی ہیں :

ایك یہ کہ اگر اپنے ہاتھوں کو زمین پر مارا پھر مسح کرنے سے پہلے حدث کیا تو قولِ اوّل پر اس ضرب سے مسح جائز نہ ہوگا اس لئے کہ ضرب رکن ہے تو ایسا ہوا جیسے وضو کے دوران بعض اعضاء دھونے کے بعد حدث کیا خلاصہ میں ہے : “ اصح یہ ہے کہ اس مٹّی کو استعمال نہ کرے۔ اسی طرح اس کو امام شمس الائمہ نے اختیار کیا جیسے درمیانِ وضو اگر حدث عارض ہو “ اھ۔ اور قاضی اسبیجابی نے فرمایا کہ جائز ہے جیسے کسی نے ہتھیلیوں میں پانی بھر لیا پھر حدث کیا پھر اسی پانی کو استعمال کیا۔ اسی پر خانیہ اور خزانۃ المفتین میں جزم کیا۔ فرمایا : “ جب تیمم کا قصد کیا پھر ایك ضرب ماری پھر حدث کیا پھر اسی مٹّی سے اپنے چہرے کا مسح کیا ، پھر دوسری ضرب کہنیوں تك ہاتھوں کے مسح کیلئے ماری تو جائز ہے “ اھ اس پر خلاصہ میں واقعات کے بعض نسخوں کا حوالہ دیا ہے۔ اور جامع الرموز میں جامع المضمرات سے اس کی تصحیح نقل کی ہے ، عبارت یہ ہے : “ اگر مسح سے پہلے حدث کیا تو قول اصح پر ضرب کا اعادہ نہیں جیسا کہ مضمرات میں ہے اھ “ ۔ اور البحرالرائق

قد قدمنا انہ (۱) لوامر غیرہ بان ییممہ جاز بشرط ان ینوی الاٰمر فلوضرب المامور یدہ علی الارض بعد نیۃ الاٰمر ثم احدث الاٰمر قال فی التوشیح ینبغی ان یبطل بحدث الاٰمر علی قول ابی شجاع [9]  اھ قال البحر وظاھرہ انہ لایبطل بحدث المأمور لما ان المأمور اٰلۃ وضربہ ضرب الاٰمر فالعبرۃ للاٰمر ولھذا اشترطنا نیتہ لانیۃ المأمور [10]  اھ

 



[1]   غنیۃ المستملی  فصل فی التیمم سہیل اکیڈمی لاہور  ص۶۳

[2]   حلیہ

[3]   بدائع الصنائع  ارکان التیمم سعید کمپنی کراچی  ۱ / ۴۵

[4]   فتح القدیر ، باب التیمم ، مطبوعہ نوریہ رضویہ سکھّر  ۱ / ۱۱۰

[5]   خلاصۃ الفتاوٰی  جنس فی نقض التیمم  نولکشور لکھنؤ ۱ / ۳۷

[6]   فتح القدیر باب التیمم سکھر ۱ / ۱۱۰

[7]   فتاوٰی قاضی خان  فصل فيما لایجوزبہ التیمم  نولکشور لکھنؤ ۱ / ۳۰

[8]   جامع الرموز ، باب التیمم ، مطبعہ کریمیہ قزان  ۱ / ۶۸

[9]   البحرالرائق  باب التیمم  ایچ ایم سعید کمپنی کراچی  ۱ / ۱۴۵

[10]   البحرالرائق  باب التیمم  ایچ ایم سعید کمپنی کراچی  ۱ / ۱۴۵

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن