دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 3 | فتاوی رضویہ جلد ۳

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۳

الوجہ الثالث :  قال شیخ الاسلام ابو عبدالله محمد بن عبدالله الغزی التمرتاشی رحمہ الله تعالٰی فی التنویر ھو قصد صعید مطھر واستعمالہ بصفۃ مخصوصۃ لاقامۃ القربۃ [1] قال ش المصنف ذکر التعریفین المنقولین عن المشائخ والظاھر انہ قصد جعلھما تعریفا واحدا ثم ذکر ماقدمنا عنہ من اخذ المعنی اللغوی فی الشرعی وانہ لابد من ذکر الشروط حتی یتحقق المعنی الشرعی قال ولما کان الاستعمال وھو المسح المخصوص للوجہ والیدین من تمام الحقیقۃ الشرعیۃ ذکرہ مع القصد تتمیما للتعریف فاغتنم ھذا التحریر المنیف[2]  اھ

اقول :  (۱) لاشك ان المصنف رحمہ الله تعالٰی یرید حدا واحد التیمم ولیس ھذا محل الاستظھار (۲) غیر انك قد علمت مافی جعل القصد من الحقیقۃ فلا یصح ان المسح من تمام الحقیقۃ وانہ ضمہ الی القصد تتمیما للتعریف وبالله التوفیق                                          

منقسم ہے۔ یہ انتہائے تحقیق ہے اور خدا ہی کی توفیق ہے اور اسی کیلئے حمد ہے جیسا کہ اس کیلئے لائق ومناسب ہے۔ (ت)

تعریف سوم : شیخ الاسلام ابو عبدالله محمد بن عبدالله غزّی تمرتاشی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِنے تنویر الابصار میں فرمایا : “ تیمم ، پاك کرنے والی سطح زمین کا قصد کرنا اور اسے قربت کی ادائیگی کیلئے مخصوص طریقہ پر استعمال کرنا “ ۔ شامی فرماتے ہیں : “ مصنف نے مشائخ سے منقول دونوں تعریفیں ذکر کردیں۔ اور ظاہر یہ ہے کہ وہ دونوں کو ایك تعریف بنانا چاہتے ہیں۔ “ پھر علّامہ شامی نے وہ لکھا ہے جس کا ہم نے پہلے تذکرہ کیا یعنی شرعی تعریف میں لُغوی معنی کا ماخوذ ہونا ، اور یہ کہ شرعی معنٰی کے ثبوت وتحقق کیلئے شرطوں کا بھی ذکر ضروری ہے ، فرمایا : “ چونکہ استعمال۔ یعنی چہرے اور ہاتھوں کا مخصوص مسح۔ تمام حقیقت شرعیہ ہے اس لئے تکمیل تعریف کیلئے قصد کے ساتھ اسے بھی ذکر کیا۔ اس عمدہ تحریر توضیح کو غنیمت سمجھو “ ۔ (ت)

اقول : مصنّف رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِبلاشبہ تیمم کی ایك تعریف کرنا چاہتے ہیں تو اسے صرف “ ظاہر “ کہنے کا یہ موقع نہیں۔ بلالکہ یہ یقینی بات ہے۔ ہاں “ قصد “ کو تیمم کی حقیقت سے قرار دینے میں جو خرابی ہے وہ معلوم ہوچکی تو یہ درست نہیں کہ مسح تمام حقیقت سے ہے اور اسے قصد کے ساتھ اس لئے

والتوقیف۔ ثم قداعلمناك ان کلا التعریفین یشمل کلا الامرین وانما الفرق ان الاول یقول ھو قصد الصعید للاستعمال والثانی انہ استعمال الصعید مع القصد والثالث انہ القصد والاستعمال وخیر الامور اوساطھا۔

الوجہ الرابع :  قال المحقق وتبعہ البحر والشرنبلالی وابن الشلبی واٰخرون الحق انہ اسم لمسح الوجہ والیدین عن الصعید الطاھر والقصد شرط لانہ النیۃ[3]  اھ

اقول :   ھو علی ماحققنا من معنی الاستعمال عین الثانی وان فارقہ علی مازعم العلامۃ ش ان الاستعمال جعلہ اٰلۃ التطھیر (۱) والعجب من العلامۃ البحر تبع المحقق علی تصویب ھذا وفیہ التعبیر بطاھر دون مطھر فاذا کان ھذا ھو الحق فلم الاخذ علی الکنز ولھذا

ذکر کردیا کہ تعریف کی تکمیل ہوجائے (قصد رکن تیمم نہیں تو حقیقتِ تیمم کے بیان میں اسے شامل کرنا بھی درست نہیں)۔ اور توقیق وآگاہی خدا ہی کی جانب سے ہے۔ (ت)

پھر ہم یہ بتا چکے کہ دونوں تعریفیں دونوں باتوں۔ قصد واستعمال پر مشتمل ہیں۔ فرق یہ ہے کہ پہلی میں ہے : استعمال کیلئے صعید کا قصد کرنا۔

دوسری میں ہے : قصد کے ساتھ صعید کا استعمال کرنا۔ تیسری میں ہے کہ تیمم قصد اور استعمال ہے۔ اور بہترین امور درمیانی ہے (تینوں میں سے دوسری تعریف کی عمدگی کی طرف اشارہ ہے ۱۲)

تعریف چہارم : محقق علی الاطلاق نے اور ان کی تبعیت میں بحر ، شرنبلالی ، ابن شلبی اور دوسرے حضرات نے فرمایا : “ حق یہ ہے کہ تیمم ، پاك جنس سے چہرے اور ہاتھوں کے مسح کا نام ہے۔ اور قصد شرط ہے اس لئے کہ یہ تو نیت ہے “ ۔ اھ

اقول :  ہم نے معنی استعمال کی جو تحقیق کی ، اس کی بنیاد پر یہ تعریف بعینہ تعریف دوم ہے۔ اگرچہ علامہ شامی نے جو گمان کیا کہ استعمال آلہ تطہیر بنانے کا نام ہے اس کی بنیاد پر یہ تعریف دوم سے جداگانہ تعریف ہے۔ اس تعریف میں “ طاہر “ کالفظ ہے “ مطہّر سے تعبیر نہیں۔ اس کے باوجود تعجب ہے کہ صاحبِ بحر نے بھی اسے درست قرار دینے پر محقق علی الاطلاق کی پیروی کرلی۔ جب یہی حق ہے تو کنز الدقائق کے طاہر وپاك سے تعبیر کرنے پر

قال فی منحۃ الخالق کان علیہ ان یقول المطھر کما سینبہ علیہ نفسہ عند قولہ المصنف بطاھر من جنس الارض [4] اھ

اقول :   اخذ علی البحر لاتباعہ لہ فی الفرق بین الطاھر من الارض والمطھر والحق ان الصواب مع الکنز والمتون والمحقق والجم الغفیر فانما کان علیہ ان لایؤاخذ علی الکنز فی قولہ بطاھر (۱) وعلیکم ان تؤاخذوا علی قولہ ذلك لاھذا۔

الوجہ الخامس :  قال العلامۃ ابن کمال الوزیر فی ایضاح اصلاحہ ھو طہارۃ حاصلۃ باستعمال الصعید الطاھر فی عضوین مخصوصین علی قصد مخصوص[5]  اھ وتبعہ فی مجمع الانھر والیہ یشیر قول البرجندی فی شرح النقایۃ التیمم فی اللغۃ القصد ثم نقل الی ھذہ الطھارۃ المخصوصۃ[6] اھ

اقول :   (۲) الطھارۃ حکم التیمم والاثر المترتب علیہ کما علی الوضوء ولیس الوضوء نفس الطھارۃ الا تری ان التیمم ماموربہ ولا یؤمر                                   

انہوں نے مواخذہ کیوں فرمایا؟ اسی لئے علامہ شامی نے بحررائق کے حاشیہ منحۃ الخالق میں فرمایا : “ انہیں “ مطہر “ کہنا چاہئے تھا جیسا کہ خود شارح ، مصنّف کی عبارت “ بطاھر من جنس الارض “ کے تحت اس پر تنبیہ کریں گے “ ۔

اقول : علّامہ شامی نے یہاں بحر پر مواخذہ کیا اس لئے کہ زمین طاہر اور زمین مطہر کی تفریق کے معاملہ میں شامی بھی بحر کے متبع ہیں۔ اور حق یہ ہے کہ “ طاہر “ سے تعبیر میں کنزالدقائق ، کتبِ متون ، محقق علی الاطلاق اور علماء کی جماعت کثیرہ ہی صواب ودرستی پر ہیں۔ تو بحر پر لازم تھا کہ کنز کی عبارت “ بطاھر “ پر مواخذہ نہ کریں۔ اور علامہ شامی پر لازم تھا کہ بحر نے وہاں جو مؤاخذہ کیا ہے اس پر گرفت کریں اور یہاں مواخذہ نہ کیا تو اس پر گرفت نہ کریں۔

تعریف پنجم : علّامہ ابن کمال وزیر نے اپنی کتاب اصلاح کی شرح ایضاح میں فرمایا : “ تیمم وہ طہارت ہے جو مخصوص ارادہ سے دو مخصوص عضووں پر پاك رُوئے زمین کے استعمال سے حاصل ہو “ اھ۔ مجمع الانہر میں بھی اسی کا اتباع کیا ہے ، اور نقایہ کی شرح میں برجندی کی یہ عبارت بھی اسی جانب اشارہ کررہی ہے : “ لغت میں تیمم کا معنٰی قصد ہے پھر شریعت میں یہ لفظ اس مخصوص طہارت کیلئے منقول ہوا “ ۔ اھ

اقول : طہارت تو تیمم کا حکم اور وہ اثر ہے جو اس پر مرتّب ہوتا ہے ، جیسے یہی اثر وضو پر مرتب ہوتا ہے مگر وضو عین طہارت نہیں۔ دیکھیے کہ تیمم ماموربہ ہے اور مکلّف کو اس کی بجا آوری اور اسے کرنے ہی کا تو حکم دیا جاتا ہے اور اسے کرنا وہی

المکلف الابفعلہ وفعلہ ھو الاستعمال ولیست الطھارۃ الحاصلۃ بہ فی شیئ من افعالہ وھذا ظاھر جدا وخفاؤہ علی مثل العلامۃ بعید ۔

 



[1]   الدرالمختار  باب التیمم  مطبوعہ مجتبائی دہلی  ۱ / ۴۱

[2]   ردالمحتار باب التیمم  ایچ ایم سعید کمپنی کراچی  ۱ / ۱۶۸

[3]   فتح القدیر باب التیمم  مطبوعہ نوریہ رضویہ سکھر  ۱ / ۱۰۶

[4]   منحۃ الخالق علی البحرالرائق  باب التیمم  ایچ ایم سعید کمپنی کراچی  ۱ / ۱۳۸

[5]   ایضاح واصلاح للعلامہ وزیر ابن کمال

[6]   شرح النقایۃ للبرجندی فصل التیمم  مطبع نولکشور لکھنؤ بالسرور  ۱ / ۴۳

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن