30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
کے کچھ بعد یہ کہا ہے : “ وہ چہرے اور دونوں ہاتھوں کا مخصوص مسح ہے۔ اھ اور اس میں شك نہیں کہ چکنے پتھّر میں اور ہر ایسی چیز میں جس سے ہتھیلیوں میں کچھ بھی چپك نہ پائے دونوں عضووں کا جزو زمین سے مسح نہ پایا جائےگا اس میں بس دونوں اعضاء پر جزو زمین کا استعمال بالواسطہ ہی ہوا ، اور یہی استعمال حکمی کا معنی ہے۔ (ت)
اور وہ معنی جو علامہ شامی نے بتایا کہ جزو زمین کو آلہ تطہیر بنانا تو یہ مجمل وخفی کلام ہے جس سے تعریف حاصل نہیں ہوتی۔ اسے مطلق رکھا جائے تو یہ اس صورت کو بھی شامل ہے جب آدمی مٹّی اپنے چہرے اور کلائیوں پر تطہیر کی نیت سے چھڑك لے اُس نے جزوِ زمین کو آلہ تطہیر تو بنالیا مگر تیمم کرنیوالا نہ ہوگا جب تك کہ چہرے اور کلائیوں پر مٹّی پڑنے
مخصوص علیھا فی المعتمدات کالخانیۃ والخلاصۃ وخزانۃ المفتین والایضاح و الجوھرۃ وغیرھا ستأتی ان شاء الله تعالٰی۔
ثم اقول : بل التحقیق عندی ان الاستعمال ھو المسح کمافسرہ السیدان ط وش وھو حقیقۃ التیمم کماحققہ المحقق حیث اطلق فلابد من وجودہ حقیقۃ بالمعنی الذی سنحققہ ان شاء الله تعالٰی فلا یکفی الاستعمال الحکمی والا لم یکن تیمما حقیقۃ لان الحقیقۃ الرکن حقیقۃ۔
(۱) بل الصعید ھو المنقسم الی الحقیقی وھو جزء من جنس الارض (۲) والحکمی وھو الکف الذی امس بہ علی نیۃ التطہیر فان الشرع المطھر امرنا ان نمسح وجوھنا وایدینا منہ وارشدناہ الی صفتہ بان نضع الاکف علیہ فنمسح بھا من (۳) دون حاجۃ الی ان یلتزق بھا شیئ منہ بل سن لنا ان ننفضھا ان لزق حتی یتناثر فعلم ان الجزء الملتزق ساقط الاعتبار بل مطلوب التجنب فما ھو الا ان الکفین بوضعھما المنوی یورثھما الصعید صفۃ التطھیر فیقومان ویفید ان
کے بعد ان پر بہ نیتِ تطہیر ہاتھوں سے مسح نہ کرے۔ اس مسئلہ پر کتبِ معتمدہ خانیہ ، خلاصہ ، خزانۃ المفتین ، ایضاح ، جوہرہ وغیرہا میں نص وتصریح موجود ہے ان شاء الله تعالٰی آگے اس کا ذکر بھی آئیگا۔ (ت)
ثم اقول : بلالکہ میرے نزدیك تحقیق یہ ہے کہ استعمال وہی مسح کرنا ہے جیسا کہ حضرات طحطاوی وشامی نے تفسیر کی۔ اور یہی تیمم کی حقیقت ہے جیسا کہ محقق علی الاطلاق نے اس نے تحقیق کی۔ تو اس کا وجود حقیقۃً۔ اس معنی میں جس کی اِن شاء الله تعالٰی ہم عنقریب تحقیق کررہے ہیں ، ضروری ہے اور حکمی استعمال کافی نہ ہوگا ، ورنہ حقیقۃً تیمم کرنے والا نہ ہوگا۔ اس لئے کہ حقیقت وماہیت تو وہی ہے جو حقیقۃً رکن ہو۔ (ت) بلالکہ (تحقیق یہ ہے کہ) صعید ہی کی دو۲ قسمیں ہیں : حقیقی اور حکمی۔ حقیقی ، جنس زمین کا کوئی جز ہے ، اور حکمی ، وہ ہتھیلی ہے جو جنسِ زمین سے بہ نیت تطہیر مس کی گئی۔ اس لئے کہ شرع مطہر نے ہمیں یہ حکم دیا کہ اس سے اپنے چہروں اور ہاتھوں کا مسح کریں۔ اور ہمیں اس کا طریقہ یہ بتایا کہ اس پر اپنی ہتھیلیوں کو رکھیں پھر ان سے مسح کرلیں ، اس کی ضرورت نہیں کہ ان میں جنسِ زمین سے کچھ چپك جائے ، بلالکہ ہمارے لئے مسنون یہ ہے کہ اگر کُچھ لگ جائے تو ہتھیلیوں کو جھاڑ دیں تاکہ گردوغبار جھڑ جائے ، اس سے معلوم ہوا کہ جنس زمین کا وہ جُز جو ہتھیلیوں سے چپك جاتا ہے ساقط الاعتبار
حکمہ فھما الصعید الحکمی حکما من ربنا تبارك وتعالٰی غیر معقول المعنی۔ قال الامام ملك العلماء فی البدائع قال ابوحنیفۃ رضی الله تعالٰی عنہ یجوز التیمم بکل ماھو من جنس الارض التزق بیدہ شیئ او لا وقال محمد رحمہ الله تعالٰی لایجوز الا اذا التزق بیدہ شیئ من اجزائہ فالاصل عندہ انہ لابد من استعمال جزء من الصعید ولایکون ذلك الا بان یلتزق بیدہ شیئ وعند ابی حنیفۃ ھذا لیس بشرط وانما الشرط مس وجہ الارض بالیدین وامرارھما علی العضوین وجہ قول محمد ان المامور بہ استعمال الصعید وذلك بان یلتزق بیدہ شیئ منہ ولابی حنیفۃ ان الماموربہ ھو التیمم بالصعید مطلقًا من غیر شرط الالتزاق ولایجوز تقیید المطلق الابدلیل وقولہ الاستعمال شرط ممنوع لان (۱) ذلك یؤدی الی التغیر الذی ھو شبیہ المثلۃ وعلامۃ اھل النار ولھذا امر بنفض الیدین بل الشرط امساس الید المضروبۃ علی وجہ الارض علی الوجہ والیدین
ہے بلالکہ اس سے بچنا مطلوب ہے۔ تو یہی ہوا کہ نیت کے ساتھ دونوں ہتھیلیاں جب جنس زمین پر رکھ دی جاتی ہیں تو ان دونوں کے اندر جنس زمین تطہیر کی صفت پیدا کردیتی ہے جس کی وجہ سے یہ دونوں اس کے قائم مقام ہوجاتی ہیں اور اسی کے حکم کا افادہ کرتی ہیں۔ اس لئے یہی دونوں صعید حکمی ہیں۔ یہ ہمارے رب تبارك وتعالٰی کے حکم کی بنا پر ہے جس کا معنی عقل کی دسترس میں نہیں۔ (ت)
امام ملك العلماء بدائع میں فرماتے ہیں امام ابوحنیفہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے فرمایا تیمم ہر اس چیز سے جائز ہے جو جنس زمین سے ہو ، ہاتھ اس سے کچھ لگے یا نہ لگے۔ اور امام محمد رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِنے فرمایا کہ جب تك ہاتھ میں جنسِ زمین کے اجزاء سے کچھ لگ نہ جائے تیمم جائز نہیں۔ تو ان کے نزدیك اصل یہ ہے کہ صعید کے کسی جز کا استعمال ضروری ہے اور یہ اسی وقت ہوگا جب ہاتھ میں کچھ لگ جائے۔ اور امام ابوحنیفہ کے نزدیك یہ شرط نہیں۔ شرط صرف یہ ہے کہ رُوئے زمین ہاتھوں سے مس ہو اور ان دونوں کو دونوں عضو پر پھیر لیا جائے۔ امام محمد کے قول کی دلیل یہ ہے کہ ماموربہ ، جنس ارض کا استعمال ہے اور وہ اسی طرح ہوگا کہ اس میں سے ہاتھ میں کچھ لگ جائے۔ اور امام ابوحنیفہ کی دلیل یہ ہے کہ مامور صرف اتنا ہے کہ صعید سے تیمم کرو ، ہاتھ سے چپکنے کی شرط نہیں۔ ماموربہ جب مطلق ہے تو اسے بلادلیل مقید کرنا ، جائز نہیں۔ اور ان کا یہ قول کہ استعمال شرط ہے تسلیم نہیں اس لئے کہ یہ چہرہ کی تغیر وتبدیل کا باعث ہوگا جو مُثلہ کے مشابہ اور اہل جہنّم کی نشانی ہے اسی لئے ہاتھوں کو جھاڑ دینے
تعبدا غیر معقول المعنی لحکمۃ استأثر الله تعالٰی بعلمہ[1] اھ قول الکافی ان استعمال التراب مثلۃ کل ذلك یفیدك ماھو المراد من الاستعمال لامجرد جعلہ اٰلۃ للتطھیر۔ وفی کافی الامام النسفی الواجب المسح بکف موضوع علی الارض لااستعمال التراب لان استعمال التراب مثلۃ[2] اھ (۱) فانظر الی قول البدائع فی بیان قول محمد ان استعمال جزء من الصعید لایکون الابان یلتزق بیدہ شیئ والی قولہ فی بیان قول الامام ان الاستعمال یؤدی الی شبیہ المثلۃ ومثلہ واذا کان الاستعمال ھو المسح المأموربہ والامر ورد بمسح العضوین من الصعید ولابمسح العضوین من الصعید ولایمسح بہ الا الکفان ثم بھما یمسح الوجہ والذراعان تبین لك انقسام الصعید الی الحقیقی والحکمی وقصر الاستعمال مطلقًا علی الحکمی فھذا غایۃ التحقیق وبالله التوفيق٭ولہ الحمد کما
کا حکم ہے بلالکہ شرط یہ ہے کہ روئے زمین پر لگاتے ہوئے ہاتھ کو چہرے اور ہاتھوں سے مس کردیا جائے بطور عبادت اس کا مکلّف بنایا ہے جس کا معنی عقل کی دریافت میں نہیں۔ یہ حکم کسی ایسی حکمت کی بنا پر ہے جس کا علم خدا تعالٰی کو ہے اھ (ت)اور کافی امام نسفی میں ہے : واجب یہی ہے کہ جو ہتھیلی زمین پر رکھی جاچکی ہے اس سے مسح کرلیا جائے ، مٹّی کا استعمال واجب نہیں ، کیونکہ مٹّی کا استعمال مُثلہ ہوگا اھ بدائع کے الفاظ پر غور کیا جائے ، قول امام محمد کے بیان میں ہے : “ صعید کے کسی جُز کا استعمال اسی طرح ہوگا کہ اس سے ہاتھ میں کچھ چپك جائے “ ۔ قول امام اعظم کے بیان میں ہے : “ استعمال مشابہ مثلہ ہونے کا باعث ہوگا۔ “ اسی طرح کافی کے یہ الفاظ دیکھے جائیں : “ مٹّی کا استعمال مثلہ ہے “ ۔ ان سب کو دیکھنے سے استعمال کی مراد معلوم ہوجائے گی اور ظاہر ہوجائے گا استعمال صرف آلہ تطہیر بنانے کا نام نہیں۔ (ت)
جب یہ ثابت ہوگیا کہ استعمال وہی مسح ہے جس کا حکم دیا گیا ہے۔ اور حکم یہ ہے کہ دونوں عضووں کا صعید سے مسح کیا جائے۔ اور صعید سے صرف دونوں ہتھیلیوں کا مسح ہوتا ہے پھر ان دونوں سے چہرے اور دونوں کلائیوں کا مسح ہوتا ہے اس سے یہ واضح ہوگیا کہ استعمال تو اپنے حکمی معنی پر ہی محدود ہے اور صعید حقیقی وحکمی دو قسموں کی طرف
ینبغی لہ ویلیق٭
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع