30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اس اعتراض پر متعدد حضرات نے ان کا اتباع کیا ، اور اسی لئے جوہرہ نیرہ میں تعریف اول کو “ اصح “ قرار دیا۔ جوہرہ میں یہ ہے : تیمم ، زمین کے کسی پاك جُز کو محلِ تیمم میں استعمال کرنا اور کہا گیا کہ : تطہیر کے لئے صعید (سطحِ زمین) کا قصد کرنا۔ اور یہ تعریف زیادہ صحیح ہے اس لئے کہ پتھر سے بھی تیمم جائز ہے اھ (ت)
میں کہتا ہوں جوہرہ کی عبارت میں دور نہیں اس لئے کہ محلِ تیمم لوگوں کے نزدیك معروف ہے ، اور تعریف سے اس کی شرعی حقیقت بیان کرنا مقصود ہے۔ جوہرہ میں مذکور دوسری تعریف پر شرنبلالی نے اپنی غنیہ میں یوں رَد کیا ہے کہ : یہ اگرچہ اس لحاظ سے اصح ہے جسے جوہرہ نے ذکر کیا لیکن ایك دوسری جہت سے اس میں جو خامی ہے وہ پوشیدہ نہیں۔ وہ یہ ہے کہ اس تعریف میں تیمم کا مدلول ، قصد مخصوص کو قرار دیا ہے ، اور اس پر کمال ابن ہمام نے جو اعتراض ذکر کیا ہے وہ معلوم ہے اھ (وہ یہ کہ قصد شرط ہے رُکن نہیں) تو جوہرہ کی تعریف ثانی پر جو تردید ہے شرنبلالی نے اسے تسلیم کیا ہے اگرچہ انہوں نے اس کی تعریف اول کی تصحیح سے بھی اختلاف کیا ہے۔ ہماری نقل کردہ تعریفِ دوم پر جو اعتراض ہے علامہ ابن کمال پاشا نے ایضاح میں اس کا جواب دیا جو دُرمختار وغیرہ میں بھی ان کے اتباع میں مذکور ہے۔ (ت)
وہ یہ کہ “ استعمال سے مراد وہ ہے جو
الحکمی فيوجد فی التیمّم بالحجر الاملس [1] اھ۔
اقول : (۱) واغرب الرومی فی حواشی الدرر فقال بعد ذکرہ ھذا اذا کان المراد بالصعید التراب اما اذا کان بمعنی وجہ الارض فیشمل الحجر الاملس کما لایخفی [2] اھ فکانہ فھم ان الاخذ علی لفظ الصعید انہ التراب ولایشترط بل یجوزبالحجر فاجیب بانہ تراب حکما ولایخفی علیك مافیہ من البعد البعید عن فھم المرام واجاب النھر بوجہ اٰخر فقال یمکن ان یقال ان التیمم بالاملس فیہ استعمال جزء من الارض[3] اھ نقلہ السید ابو السعود الازھری وھو ماٰل مافی مجمع الانھر اذ قال یمکن ان یجاب بان یراد من الجزء الجزء الحاصل من الارض والحجر ایضا من الارض والمراد باستعمالہ استعمالہ المعتبر شرعا تدبر[4] اھ وتبعہ اعنی النھر ط فقال علی قول الدر استعمالہ حقیقۃ اوحکما لیعم التّیمّم بالحجر الاملس مانصہ۔
استعمال حکمی کو بھی شامل ہو اور یہ چکنے پتھّر سے تیمم میں بھی موجود ہے۔ اھ (ت)
میں کہتا ہوں فاضل رومی نے حاشیہ درر میں عجیب بات کی ، اعتراض مذکور لکھنے کے بعد یہ کہا کہ “ یہ اعتراض اس وقت ہوگا جب صعید سے مراد مٹّی ہو ، لیکن جب صعید بمعنی رُوئے زمین ہو تو یہ چکنے پتھّر کو بھی شامل ہے جیسا کہ ظاہر ہے اھ گویا انہوں نے یہ سمجھا کہ لفظِ “ صعید “ پر گرفت کی گئی ہے کہ صعید تو مٹّی کو کہتے ہیں ، اور تیمم کے لئے مٹّی کا ہونا شرط نہیں بلالکہ پتھّر سے بھی جائز ہے پھر اس کے جواب میں کہا گیا کہ پتھّر بھی مٹّی کے حکم میں ہے “ ۔ یہ سب باتیں فہم مقصد سے جس قدر بعید تر ہیں مخفی نہیں۔ اعتراض بالا کا النہرالفائق میں دوسری طرح جواب دیا ہے ، فرمایا ہے “ کہا جاسکتا ہے کہ چکنے پتھّر سے تیمم کرنے میں بھی زمین کے ایك جُز کا استعمال ہوتا ہے اھ “ ۔ اسے سید ابو السعود ازہری نے نقل کیا۔ یہی اس جواب کا بھی مآل ہے جو مجمع الانہر میں ہے۔ اس میں یوں فرمایا ہے : “ جواب دیا جاسکتا ہے کہ جُز سے مراد زمین سے حاصل ہونے والا جز ہے اور پتھّر بھی زمین ہی سے حاصل ہوتا ہے۔ اور استعمال سے
جواب عن سؤال حاصلہ انہ یجوز التیمم علی الحجر الاملس ولااستعمال فیہ وحاصل الجواب انہ وجد الاستعمال الحکمی بوضع الیدین علیہ و ظاھر ما فی النھر ان الاستعمال فیہ حقیقی بذلك الوضع لاحکمی و علیہ فلا حاجۃ الی زیادۃ او حکما [5] اھ
واوضحہ ش فقال لایخفی ان الحجر الاملس جزء من الارض استعمل فی العضوین للتطھیر اذلیس المراد بالاستعمال اخذ جزء منھا بل جعلہ اٰلۃ للتطھیر و علیہ فھو استعمال حقیقۃ و ھو ظاہر کلام النھر فلاحاجۃ الٰی قولہ او حکما کماافادہ ط اھ [6]۔
اقول : (۱) لایرتاب احد انك اذاعمدت الی حجر املس فوضعت کفیك علیہ ثم مسحت بھما وجھك وذراعیك فقد استعملت الحجر فی التطھیر لکن اذا قیل
وہ استعمال مراد ہے جس کا شریعت میں اعتبار ہے غور کرو اھ اور طحطاوی نے نہر کی پیروی کی ہے۔ انہوں نے دُرمختار کی عبارت “ استعمالہ حقیقۃً اوحکمًا لیعم التیمم بالحجر الاملس “ (اس کا حقیقۃً استعمال ہویا حکمًا تاکہ چِکنے پتھّر سے تیمم کو بھی شامل رہے) کے تحت یہ لکھا ہے :
“ یہ ایك سوال کا جواب ہے۔ حاصل سوال یہ ہے کہ تیمم تو چِکنے پتھّر پر بھی جائز ہے اور اس میں اس کا استعمال نہیں پایا جاتا۔ حاصل جواب یہ ہے کہ اس پر ہاتھوں کے رکھنے سے حکمی استعمال پالیا گیا۔ اور نہر فائق کی ظاہر عبارت سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ ہاتھوں کے رکھنے کی وجہ سے حکمی نہیں حقیقی استعمال موجود ہے اور جب یہ بات ہے تو “ اوحکمًا “ بڑھانے کی کوئی ضرورت نہیں اھ۔ (ت)
شامی نے اسے واضح کرکے یوں فرمایا : “ ظاہر ہے کہ چِکنا پتھّر زمین کا ایك جُز ہے جو تطہیر کیلئے دونوں اعضاء میں استعمال ہوا ، کیونکہ استعمال سے یہ مراد نہیں کہ اس کے کسی جُز کو لے لیا جائے بلالکہ یہ مراد ہے کہ اس کو آلہ تطہیر بنایا جائے۔ اور جب یہ بات ہے تو مذکورہ استعمال ، حقیقۃً استعمال ہے اور یہی عبارتِ نہر کا ظاہر ہے تو لفظ “ اوحکما “ کی کوئی ضرو رت نہیں ، جیسا کہ طحاوی نے افادہ فرمایا اھ (ت)
میں کہتا ہوں اس میں کسی کو شك نہ ہوگا کہ جب کسی نے چِکنے پتھّر کا قصد کرکے اس پر اپنی دونوں ہتھیلیوں کو رکھا پھر ان سے اپنے چہرے اور دونوں کلائیوں کا مسح کیا تو تطہیر کے کام میں پتھّر کو
استعمال جزء من الارض فی العضوین اوعلی العضوین کما ھوالفاظھم لم یتبادر منہ الامساس العضوین بجزء من الارض الا (۱) تری ان السید ط فسر استعمالہ بقولہ ھو المسح علی الوجہ والیدین [7] اھ وذکر مثلہ غیرہ (۲)بل قال العلامۃ ش نفسہ بعید ھذا الاستعمال ھو المسح المخصوص للوجہ والیدین [8] اھ ولاشك ان مسح العضوین بجزء من الارض لایقع فی نحو الحجر الاملس وکل ما لا یلتزق شیئ منہ بالکفین انما الواقع فیہ امساسھا بکفین امستا بالجزء فلم یستعمل الجزء فیھما وعلیھما الابالواسطۃ وھذا معنی استعمالہ الحکمی۔
(۲) اماجعلہ اٰلۃ للتطھیر فکلام مجمل خفی لا یحصل بہ التعریف فانہ باطلاقہ یشمل مااذا ذرالتراب علی وجہہ وذراعیہ بنیۃ التطھیر فقد جعلہ اٰلۃ لہ ولایصیر متیمّما مالم یمسح بیدیہ علی وجہہ وذراعیہ بنیۃ التطھیر بعد وقوع التراب علیھا والمسألۃ
استعمال کیا۔ لیکن جب یہ کہا جائے کہ “ زمین کے کسی جز کو “ دونوں اعضاء میں “ یا “ دونوں عضووں پر “ استعمال کرنا جیسا کہ ان حضرات کی عبارتوں میں ہے ، تو اس سے ذہن اسی بات کی طرف جائے گا کہ دونوں عضووں کا زمین کے کسی جز کو مس کرنا۔ دیکھ لو سید طحطاوی نے استعمال کی تفسیر ان الفاظ میں کی ہے : “ وہ چہرے اور ہاتھوں پر مسح کرنا ہے اھ “ اسی کے مثل دوسرے حضرات نے بھی ذکر کیا ہے ، بلکہ خود علامہ شامی نے اس استعمال
[1] حاشیہ درر لمولٰنا عبدالحلیم مطبعہ عثمانیہ بیروت ۱ / ۲۵
[2] حاشیہ درر لمولٰنا عبدالحلیم مطبعہ عثمانیہ بیروت ۱ / ۲۵
[3] فتح المعین باب التیمم ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۸۶
[4] مجمع الانہر باب التیمم دار احیاء التراث العربی بیروت ۱ / ۳۷
[5] طحطاوی علی الدر المختار باب التیمم بیروت ۱ / ۱۲۲
[6] ردالمحتار باب التیمم مصطفی البابی مصر ۱ / ۱۶۷
[7] طحطاوی علی الدرالمختار باب التیمم بیروت ۱ / ۱۲۴
[8] ردالمحتار باب التیمم مصطفی البابی مصر ۱ / ۱۶۷
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع