30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
میں کہتا ہوں طہارت اور نجاست کوئی اضافی چیز نہیں (کہ کسی کہ بہ نسبت طہارت ہو اور کسی کی بہ نسبت نجاست) بلالکہ یہ ایسا وصف ہے جو خود شیئ کیلئے براہِ راست یا کسی عارض کی وجہ سے ثابت ہوتا ہے۔ کسی شیئ کے حق میں پاك ہونے کا معنی یہ ہے کہ اس میں اس کا استعمال جائز ہے اور ناپاك ہونے کا معنی یہ ہے کہ اس میں اس کا استعمال جائز نہیں۔ اور یہ اسی وقت ہوگا جب کچھ نجس جز باقی رہ گیا ہو جو کسی چیز کے حق میں معاف ہے اور دوسری چیز کے حق میں معاف نہیں۔ جیسا کہ ملك العلماء نے اس کی طرف اشارہ فرمایا۔ (ت)اور اسی سے وہ بھی ہے جس میں خوب نچوڑنے کا حکم ہے۔ اب زید نے اپنی طاقت بھر نچوڑا مگر عمرو اسے نچوڑتا تو ابھی کچھ اور ٹپکتا۔ یہ زید کے حق میں پاك ہے مگر عمرو کے حق میں نہیں۔ جیسا کہ
بعد نقلہ الحق انھا طاھرۃ فی حق الکل قال وانما منع التّیمّم لفقد الطھوریۃ کالماء المستعمل وللحدیث عــہ۱ الوارد من قولہ صلی الله تعالٰی علیہ وسلم جعلت لی الارض مسجدا وطھورا بناء علی ان الطھور بمعنی المطھر وقد عــہ۲ تقدم الکلام فيہ [1] اھ
اقول : (۱) مطمح نظرھم فی ھذا التعلیل ان الکتاب الکریم انما شرط صعیدا طیبا
دُرمختار وغیرہ میں ہے۔
اس تفصیل سے بحرالرائق کی عبارت میں جو خامی ہے ظاہر ہوگئی انہوں نے اسے نقل کرنے کے بعد یہ فرمایا ہے کہ حق یہ ہے کہ وہ زمین (نماز وتیمم) ہر ایك کے حق میں پاك ہے اور اس سے تیمم اس لئے ممنوع ہے کہ اس میں مطہّر ہونے کی صفت مفقود ہے۔ جیسے مائے مستعمل میں یہ صفت مفقود ہے۔ دُوسری وجہ یہ ہے کہ حدیث میں نبی پاك صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا قول وارد ہے : “ میرے لئے زمین کو مسجد اور طہور بنایا گیا “ ۔ یہ استدلال اس بنیاد پر ہے کہ طہور بمعنی مطہّر ہے۔ اور اس پر کلام گزر چکا ہے۔ (ت)
میں کہتا ہوں اس تعلیل میں ان علماء کا مطمحِ نظر یہ ہے کہ قرآن کریم نے “ صعید طیب “ کی شرط
عــہ۱ اقول : فی (۲) جعلہ دلیلا براسہ نظر لایخفی ۱۲ منہ غفرلہ (م)
عــہ۲ اقول : (۳) الذی قدم صدر بحث المیاہ انکار ان یکون الطھور بمعنی المطھر لغۃ (۴) ولاشك ان المحاورات الشرعیۃ تظافرت علی ذلك منھا ھذا الحدیث فان کون الارض طاھرۃ لیس من خصائص ھذہ الامۃ بل کونھا طھورا وقد سلم المحقق علی الاطلاق الاجماع علی ان الطھور فی لسان الشرع مایطھر غیرہ ۱۲ منہ غفرلہ (م)
اقول : اسے مستقل دلیل بنانا نمایاں طور پر محل نظر ہے ۱۲ منہ غفرلہ (ت) (کیونکہ حدیث سے صرف یہ ثبوت فراہم ہوتا ہے کہ زمین مطّہر ہے اس کو ماسبق سے ملائیں تو ایك دلیل مکمل ہوگی اور ماسبق سے الگ کردیں تو مدعا ثابت نہ ہوگا ۱۲ محمد احمد مصباحی) اقول : اس سے پہلے بحث میاہ کے شروع میں انہوں نے لغت میں طہور ، بمعنی مطہِّر ہونے کا انکار کیا ہے لیکن اس میں شك نہیں کہ طہور بمعنی مطہّر ہونے پر شرعی محاورات کثرت سے موجود ہیں انہی میں سے یہ حدیث بھی ہے کیونکہ زمین کا طاہر ہونا اس امت کی خصوصیات میں نہیں بلالکہ زمین کا مطہّر ہونا اس امت کے خصائص سے ہے ، اور محقق علی الاطلاق نے تو اِس بات پر اجماع تسلیم کیا ہے کہ زبانِ شرع میں طہور وہ ہے جو دوسرے کو پاك کردے۔ (ت)
والطیب ھوالطاھر فاشتراط وصف اٰخر فوق الطھارۃ زیادۃ علی الکتاب فيجب ان تخرج ارض تنجست وجفت من الطہارۃ کیلا یشملھا المأموربہ۔
اما الحدیث فاقول : (۱) یفيد کالاٰیۃ وصف الارض بانھا طھور فيثبت لکل ارض طاھرۃ لاتقییدہ التطھیر بما ھو منھا طھور فوق الطہارۃ اما قرربہ المحقق حیث اطلق ان الصعید علم قبل التنجس طاھرا وطھورا وبالتنجس علم زوال الوصفين ثم ثبت بالجفاف شرعا احدھما اعنی الطھارۃ فيبقی الاٰخر علی ماعلم من زوالہ واذا لم یکن طھورا لایتیمّم بہ [2] اھ۔
فاقول : (۲) لم یعلم کونھا طھورا الا بالکریمۃ والکریمۃ لم تشرط لطھوریتھا الاطیبھا وطھارتھا ومازالت الطھوریۃ الالزوال الطھارۃ فان عادت عادت فلابد من القول بما قالوا والمیل الی مامالوا۔
لگائی۔ اور طیب وہی ہے جو پاك ہو۔ اور پاکی سے اوپر ایك وصف کا اور اضافہ کرنا کتاب الله پر زیادتی ہے۔ اس لئے یہ (کہنا) ضروری ہے کہ جو زمین نجس ہوکر خشك ہوگئی وہ (تیمم کے حق میں) طاہر ہی نہیں تاکہ ماموربہ اس زمین کو شامل ہی نہ ہو۔ (ت)رہی وہ حدیث جو آپ نے پیش کی فاقول : یہ بھی آیت کی طرح زمین کیلئے طہور ہونے کی صفت کا افادہ کررہی ہے۔ تو یہ صفت ہر طاہر زمین کیلئے ثابت ہوگی۔ حدیث یہ افادہ نہیں کرتی کہ تطہیر کا عمل اسی زمین سے مقید ومخصوص ہے جو طاہر ہونے سے بڑھ کر مطِہّر ہو۔ لیکن محقق علی الاطلاق کی یہ تقریر کہ “ نجس ہونے سے قبل سطح زمین کا طاہر اور مطہّر دونوں کا ہونا معلوم تھا۔ اور نجس ہونے سے دونوں صفتوں کا زوال اور ختم ہونا معلوم ہوا۔ پھر خشك ہونے سے دونوں میں ایك وصف یعنی طاہر ہونا شرعًا ثابت ہوا تو دوسرا وصف اسی حال معلوم زوال پر باقی رہے گا (مطہّر ہونے کا وصف ثابت نہ ہوسکے گا) اور جب مطہر نہ ہوگی تو اس سے تیمم جائز نہ ہوگا “ ۔ اھ (ت)
فاقول : زمین کا مطہّر ہونا آیت ہی سے معلوم ہوا اور آیت نے مطہّر ہونے کیلئے صرف پاکیزگی وپاکی کی شرط لگائی اور وصف طہارت ختم ہونے ہی کی وجہ سے مطہّر ہونے کی صفت ختم ہوئی ، تو اگر طہارت کی صفت (خشك ہوجانے سے) لوٹ آئے تو مطہر ہونے کی صفت بھی لوٹ آئیگی ،
اقول : لکن قدیلزم علیہ انھا اذا اصابھا الماء تنجس وعادت نجسۃ لان القلیل والکثیر من النجاسۃ سواء فی الماء القلیل فيتنجس ثم ینجس الارض (۱)وھو احد تصحیحین فی کل ماحکم بطھارتہ بغیر مائع کمافصلہ البحر فی البحر قبیل قولہ وعفی قدر الدرھم ونقل عن المحیط فی خصوص مسألۃ الارض ایضا ان الاصح عود النجاسۃ لکن الروایۃ المشھورۃ انھا لاتقود نجسۃ وھو المختار خلاصۃ وھو الصحیح خانیۃ ومجتبی وھو الاولی لتصریح المتون بالطھارۃ وملاقاۃ الماء الطاھر للطاھر لاتوجب التنجس وقد اختارہ فی فتح القدیر فان من قال بالعود بناہ علی ان النجاسۃ لم تزل وانما قلت[3] اھ بحر۔
اس لئے اسی کا قائل ہونا پڑے گا جس کے قائل وہ حضرات ہیں اور اسی کی طرف مائل ہونا ہوگا جس کی طرف وہ مائل ہیں۔ (ت)
اقول : لیکن اس پر یہ اعتراض لازم آتا ہے کہ خشك ہونے سے پاك ہوجانے والی زمین پر اگر پانی پہنچ جائے تو نجس ہوجائےگا اور زمین بھی پھر نجس ہوجائیگی۔ اس لئے کہ آب قلیل کیلئے قلیل وکثیر دونوں ہی نجاستیں برابر ہیں تو پانی نجس ہوجائےگا پھر زمین کو بھی نجس کردے گا۔ اور ہر وہ چیز جس کے متعلق کسی بہنے والی چیز کے بغیر پاك ہوجانے کا حکم کیا گیا ہے اس کے بارے میں دو تصحیحوں میں سے ایك یہی ہے کہ پانی پڑنے سے وہ پھر ناپاك ہوجائیگی ، جیسا کہ البحرالرائق میں “ وعفی قدر الدرھم “ سے قبل اس کی تفصیل موجود ہے اور محیط سے خاص مسئلہ زمین میں ، یہ نقل کیا ہے کہ اصح یہی ہے کہ نجاست لوٹ آئیگی۔ لیکن روایت مشہورہ یہ ہے کہ نجس نہ ہوگی اور یہی مختار ہے۔ خلاصہ اور یہی صحیح ہے خانیہ ومجتبی اور یہی اولٰی ہے کیونکہ متون میں طہارت کی صراحت موجود ہے اور پاك شیئ سے پاك پانی کا اتصال باعث نجاست نہیں۔ اور اسی کو فتح القدیر میں اختیار کیا اس لئے کہ جو دوبارہ نجس ہوجانے کے قائل ہیں ان کی بنیاد اس پر ہے کہ نجاست زائل نہیں ہوئی صرف کم ہوئی اھ البحرالرائق۔ (ت)
اقول : عــہ تحقیق اور نظر دقیق یہ ہے کہ یہ بھی
عــہ ملك العلماء کی عبارتِ بدائع سے یہ معلوم ہوا کہ زمین خشك ہوجانے سے نجاست بالکل زائل نہیں ہوتی کچھ (باقی برصٖفحہ آیندہ)
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع