30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
میں ہے کہ اگر وہ اعضاء پر جاری ہو تو غالب پانی ہی ہوگا اھ (ت)تیسرے یہ کہ محقق نے فتح میں فرمایا وہ پانی جس میں کیچڑ ملی ہوئی ہو ، اگر وہ اعضاء پر بہتا ہو تو اس سےوضو میں حرج نہیں ، اور اگر اس میں مٹّی غالب ہو تو وضو جائز نہیں اھ اور ناطفی کی اجناس میں اور منیہ میں ہے اگر پانی کی رقت غالب نہ ہو تو وضو جائز نہیں اھ اور ذخیرہ ، تتمہ ، حلیہ میں ہے کہ اجزاء کے اعتبار سےغلبہ اس انداز میں کہ پانی کی رقت ختم ہوجائے اور اس کی ضد یعنی گاڑھا پن اس میں پیدا ہوجائے اھ اور خانیہ میں ہے زعفران اور زردج کا پانی اگر گاڑھا ہو تو وضو جائز نہیں اھ اور خلاصہ میں ہے کہ اگر اتنا رقیق ہو کہ پانی اس سےالگ ظاہر ہوتا ہو تو وضو جائز ہے اور اگر نشاستہ بن گیا ہو تو جائز نہیں اھ اور فقیہ النفس کے فتاوٰی (قاضیخان) میں ہے سیلاب کے پانی سےوضو جائز لیکن اگر گاڑھا ہو تو جائز نہیں جیسےکیچڑ اھ اور ہدایہ اور کافی میں ہے
المخلوط لزوال اسم (۱)الماء عنہ [1] اھ
وفی الخانیۃ وان صار ثخینا مثل السویق لا [2] اھ
وفی البدائع الا اذاصار غلیظا کالسویق المخلوط لانہ حینئذ یزول عنہ اسم الماء ومعناہ ایضا [3] اھ وفی الکافی ثم الھندیۃ اذا کان النبیذ غلیظا کالدبس لم یجز الوضوء بہ [4] اھ وفی الخلاصۃ ھذا (یرید الاختلاف فی جواز الوضوء) اذا کان حلوا رقیقا یسیل علی الاعضاء فان کان ثخینا کالرب لایجوزبالاجماع[5] اھ۔ وفی البدائع عــہ
ان کان غلیظا کالرب لایجوز بلاخلاف [6] اھ فظاھرالاول ان لایسری التغیراصلا الی رقۃ الماء وسرعۃ سیلانہ۔
کہ وہ پانی جس میں اُشنان پکائی جائے ، مگر یہ کہ وہ پانی پر ایسی غالب ہوجائے کہ وہ ستّو بن جائے ، کیونکہ اب اس پر پانی کا نام نہیں بولا جائے گا اھ اور خانیہ میں ہے اگر ستّوؤں کی طرح گاڑھا ہوجائے تو وضو جائز نہیں اھ اور بدائع میں ہے کہ اگر ستوؤں کی طرح گاڑھا ہوجائے ، کیونکہ اس صورت میں اس پر پانی کا نام نہیں بولا جائے گا اور نہ ہی معنًا وہ پانی رہے گا اھ اور کافی ، ہندیہ میں ہے کہ جب نبیذ گاڑھا ہو جیسا شیرہ تو اس سےوضو جائز نہیں اھ اور خلاصہ میں ہے یہ (جواز وضو میں اختلاف مراد ہے) جبکہ میٹھا رقیق ہو اور اعضاء پر بہتا ہو اور اگر شیرہ کی طرح گاڑھا ہو تو بالاجماع جائز نہیں اھ اور بدائع میں ہے کہ جب شیرہ کی طرح گاڑھا ہوجائے تو بلاخلاف جائز نہیں اھ تو اول کا ظاہر یہ ہے کہ تغیر پانی کی رقّت کی طرف اور اس کی سرعتِ سیلان کی طرف سرایت نہ کرے۔ (ت)
عــہ قولہ فی البدائع بل تقدم فی ١٠٧عن الحلیۃ عنھاوعن التحفۃ والمحیط الرضوی والخانیۃ وغیرھا اذا صار غلیظابحیث لایجری علی العضو الخ ۱۲ منہ غفرلہ (م)
ان کا قول بدائع میں ہے بلالکہ ۱۰۷ میں حلیہ کی نقل اُن سےگزری نیز تحفہ ، محیط رضوی اور خانیہ وغیرہا سےہے کہ جب اتنا گاڑھا ہوجائے کہ اعضاء پر نہ بہے الخ ۱۲ منہ غفرلہ (ت)
اقول : ولیس مراداقطعافان ماء المدالحامل للطین والتراب والرمل والغثاء یستحیل ان یبقی علی رقۃ الصافی وقداعترف انہ باق علی رقتہ واصل سیلانہ وظاھر الثانی الاکتفاء بنفس السیلان وقد اکدہ فی العنایۃ بزیادۃ الامکان فلم یخرج الا مابلغ مبلغ الجامدات حتی خرج عن صلاحیۃ الاسالۃ اصلا فھو مع الاول علی طرفی نقیض۔
اقول : ولیس مراداقطعا فان الطین والنشاوالسویق المخلوط والدبس والرب من المائعات الممکن تسییلھاواذابلغ الماء الی ھذہ الحال لایشك احد فی ماحدث لطبعہ من التغیر والزوال وھل تری احدایسمی الطین والسویق ماء فالصواب ھوالثالث المنصوص علیہ صریحا فی کلام کبارالائمۃ والثانی یرجع الیہ باقرب تاویل کماتقدمت الاشارۃ الیہ فی صدر الکلام۔
بقی الاول فاقول : کلام العنایۃ فیہ قریب غیر بعید فانہ لم یفسرہ تفسیر الغنیۃ بزیادۃ ماقبل المخالطۃ والاناقض کلامہ فی الثانی وکلام الغنیۃ یفسرہ ھکذاوقد تفرد عــہ بہ فیمااعلم ثم یجعل ماء المد
میں کہتا ہوں یہ قطعًا مراد نہیں ، کیونکہ سیلاب کے پانی میں کیچڑ ، مٹی ، ریت اور کوڑا کرکٹ ملا ہوا ہوتا ہے اور محال ہے کہ صاف پانی کی سےرقت پر باقی رہے اور وہ اعتراف کرچکے ہیں کہ وہ اپنی رقت اور اصل سیلان پر باقی ہے اور دوسرے کا ظاہر نفس سیلان پر اکتفاء کرنا ہے اور اس کو عنایہ میں زیادۃ امکان سےمؤکد کیا ہے تو وہ اُسی حد تك پہنچا جس حد تك جامدات پہنچتی ہیں ، یہاں تك کہ وہ اسالت کی صلاحیت سےبالکل خارج ہوگیا تو وہ اول کے ساتھ نقیض کی دوطرفوں پر ہے۔ (ت)
میں کہتا ہوں وہ قطعًا مراد نہیں کیونکہ کیچڑ اور نشا(گارا) اور مخلوط ستّو ، شیرہ اور راب ایسےمائعات میں سےہے جن کا بہانا ممکن ہے اور جب پانی اس حال پر پہنچ جائے تو کوئی بھی اس کی طبیعت میں پیدا ہونے والے تغیر پر اور زوال پر شك نہیں کرے گا ، کیا کوئی ستّوؤں اور کیچڑ کو پانی کہتا ہے؟ تو صحیح تیسرا ہے جس کی صراحت بڑے بڑے ائمہ کے کلام میں موجود ہے ، اور دوسرا اس کی طرف قریب ترین تاویل سےرجوع کرتا ہے جیسا کہ اس کی طرف صدر کلام میں اشارہ گزرا ہے۔ (ت)
پہلا باقی رہا تو میں کہتا ہوں عنایہ کا کلام اس میں قریب ہے دُور نہیں کیونکہ انہوں نے اس کی تفسیر غنیہ کی طرح نہ کی ، اور اس میں مخالطۃ سےماقبل کااضافہ نہیں کیا ورنہ ان کا کلام دوسرے میں متناقض ہوتا ہے ، اور وہ اس میں متفرد ہیں [7] جیسا کہ میں جانتا ہوں ، پھر سیلاب کے
کاللامخالط فادنی عــہ احوالہ الاضطراب فالماخوذمانص علیہ الاصحاب٭ والله تعالٰی اعلم بالصواب
پانی کو اس پانی کی طرح کرتے ہیں جو مخلوط نہ ہو ، تو کم از کم اضطراب تو ہے ہی ، تو ماخوذ وہی ہے جس پر اصحاب نے نص کی ہے ، والله تعالٰی اعلم بالصواب۔ (ت)
[1] الہدایۃ الماء الذی یجوزبہ الوضوء عربیہ کراچی ۱ / ۱۸
[2] فتاوٰی قاضی خان فصل فیما لایجوزبہ التوضی نولکشور لکھنؤ ۱ / ۹
[3] بدائع الصنائع مطلب الماء المقید ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۱۵
[4] فتاوٰی ہندیہ فصل فیما لایجوزبہ التوضو نورانی کتب خانہ پشاور ۱ / ۲۲
[5] خلاصۃ الفتاوٰی الماء المقید نولکشور لکھنؤ ۱ / ۹
[6] بدائع الصنائع الماء المقید ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۱۷
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع