30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
جہاں انہوں نے کہا ابونصر رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِسے ایسے شخص کے بارے میں سوال کیا گیا جو جانور کو نہلا رہا ہو اور اس کو جانور کا پانی یا پسینہ لگ جائے ، جواب میں انہوں نے فرمایا کہ کوئی ضرر نہیں ، اس پر یہ پُوچھا گیا کہ اگر وہ جانور گوبر اور پیشاب سے ملّوث ہو تو۔ جواب
عــــہ : اقول : وکذا ان علم نجاسۃ الذنب ومر علی الماء بحیث اذھب النجس فضرب بذنبہ بعد ذلك لایضرہ مااصابہ من بلله ۱۲منہ غفرلہ (م)
میں کہتا ہوں اسی طرح اگر گھوڑے کی دُم پر نجاست کا علم ہو اور پانی میں گزرنے کی وجہ سے دُم کی نجاست ختم ہوگئی ہو تو اس صورت میں سوار کو دُم مارنے کی وجہ سے جو تری لگی وہ مضر نہ ہوگی ۱۲ منہ غفرلہ (ت)
(۱) اذاجری الفرس فی الماء وابتل ذنبہ وضرب بہ علی راکبہ ینبغی ان لایضرہ[1]۔
میں انہوں نے کہا جب (جانور کے بدن) پر سے گوبر وغیرہ خشك ہوکر جھڑ جائے اور بدن اس سے صاف ہوجائے تو کوئی حرج نہیں ، اس بناء پر گھوڑے کے پانی میں گزرنے اور اُس کی دُم تر ہوجانے کے بعد اگر گھوڑے نے اپنی دُم سوار کو ماردی تو کوئی ضرر اور حرج نہیں ہونا چاہئے۔ (ت)
پھر بحمدالله تعالٰی اس کی تائید بدائع امام ملك العلماء میں دیکھی کہ بکری۲ کا بچّہ اُسی وقت پیدا ہوا جب تك اُس کا بدن رطوبتِ رحم سے گیلا ہے ناپاك ہے خشك ہوکر پاك ہوجائے گا یعنی صاحبین کے طور پر جن کے نزدیك رطوبتِ فرج نجس ہے ورنہ امام کے نزدیك وہ بحال تری پاك ہے ،
وھذا نصہ لوسقطت السخلۃ من امھا وھی مبتلۃ فھی نجسۃ حتی لوحملھا الراعی فاصاب عــہ بللھا الثوب اکثر من قدر الدرھم منع جواز الصلاۃ ولووقعت فی الماء فی ذلك الوقت افسدت الماء واذا یبست فقد ھرت[2]۔
اس کی عبارت یہ ہے جب بکری کا بچّہ پیدا ہو اور وہ ابھی (رحم کی رطوبت) سے تَر ہو تو ناپاك ہوگا حتی کہ اگر اس کو چرواہے نے اٹھا لیا اور اس بچّے کی تری کپڑے کو لگ گئی تو اس کپڑے سے نماز جائز نہ ہوگی جبکہ کپڑے کو لگنے والی تری مقدار درہم سے زیادہ ہو ، اور اگر اس حالت میں بچہ پانی میں گرا تو پانی بھی ناپاك ہوجائیگا ، اور اگر وہ بچّہ خشك ہوگیا تو پھر پاك ہے۔ (ت)
یہ ہے بحمدالله تعالٰی جوا ب شافی ولاحاجۃ بعدہ الی ماکنت وجھت بہ فی الاحلی من السکر
عــہ اقول فيہ نظر فالسخلۃ حین تقع من امھالا تستمسك بنفسھا فيکون عندھما حاملا للنجاسۃ وان لم یصب ثوبہ ولابدنہ منہ شیئ الا ان یقال ان الرطوبۃ مادامت علی السخلۃ فی معدنھا وقد اسلفنا ردہ فی مسألۃ المثانۃ تقع فی البئر منہ غفرلہ (م)
میں کہتا ہوں یہ قابلِ غور ہے بکری کا بچّہ جب پیدا ہوتے گِرا تو صاحبین رَحِمَہُمُ اللہُ تَعَالٰیکے نزدیك بچّے کے بدن پر نجاست ہے تو حاملِ نجاست ہونے کی وجہ سے اس کو اٹھانے والے کی نماز نہ ہوگی اگرچہ وہ رطوبت اٹھانے والے کے کپڑے یا بدن کو نہ لگی ہو مگر یہ کہا جاسکتا ہےکہ جب تك رطوبت بچّے کے بدن پر ہے وہ اپنے معدن میں ہے حالانکہ اس بات کا رَدہم مثانہ کے کنویں میں گرنے کے مسئلہ میں کرچکے ہیں۔ (ت)
والله تعالٰی اعلم (اس کے بعد “ الاحلی من السکر “ میں جو وجہ میں نے بیان کی ہے اس کی ضرورت نہیں رہتی۔ ت)
مسئلہ ۹۳ : از شہر بریلی مسئولہ نظیر احمد محلہ لودہی ٹوکہ شہر کہنہ بروز شنبہ ۲۲ شعبان ۱۳۳۴ھ
اگر ناپاك کنویں سے کپڑا دھویا جائے یا نہایا جائے اور یہ معلوم نہیں ہے کہ یہ ناپاك ہے تو اب جب معلوم ہوا کپڑے کو کیا کرے اور جو نہایا وہ بھی کیا کرے اور اگر اُس پانی سے کھانا پکایا جائے تو اُس کھانے کو کیا کرنا چاہئے اور وہ کھانا پاك ہے یا ناپاک۔
الجواب :
کپڑے پاك کیے جائیں نہایا وضو کیا یا ہاتھ دھوئے غرض جتنے بدن کو پانی لگا اُسے پاك کیا جائے کھانا کُتّوں کو ڈال دیا جائے ، والله تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۹۴ : از امر تسر تحصیل امرتسر ڈاك خانہ خاص وڈالہ ومرم مسئولہ شمس الدین صاحب ۲۴ ذی القعدہ ۱۳۳۴ھ
حامی حمایت دین مفتی شرع مجتبیٰ مولٰنا احمد رضا خان صاحب مدظل فيوضاتہ آپ اس مسئلہ کو کامل وجہ سے تحریر فرمائیں کہ ایك چاہ جس کا پانی تمام نکالنا دشوار ہے جب وہ ایسا ناپاك ہوجائے جس سے اُس کا تمام پانی نکالنے کا حکم ہے یعنی وہ چشمہ دار ہے تو مثلًا زید کہتا ہے کہ اس کا تمام پانی تین روز میں نکالا جائے ، اور ایك کہتا ہے کہ جب بقول مفتی بہ تین سو ڈول سے چاہ چشمہ دار پاك ہوسکتا ہے تو تین روز میں پانی نکالنے میں ایك تو وقفہ درمیان واقع ہوتا ہے اور دوم تکلیف مالایطاق ہے غرضکہ جس قدر ڈول نکالنے کا حکم ہے اگر اس میں وقفہ واقع ہو یعنی پانی حرکت سے ٹھہر جائے تو وہ ڈول کشیدہ محسوب ہوں گے یا نہیں وہ شخص باوجود جہالت کے قول مفتی بہ کا خلاف کرتا ہے وہ مستحق فتوٰی دینے کا ہے یا نہیں۔
الجواب :
جبکہ کنواں چشمہ دار ہے اُس میں پانی پیمائش سے دریافت کرلیں کہ اتنے ڈول ہے اور اس کا یہ آسان طریقہ ہے کہ رسّی میں کوئی پتھّر باندھ کر کنویں میں اس طرح چھوڑیں کہ رسّی میں خم نہ آئے جس وقت پتھّر تَہ تك پہنچ جائے معًا ہاتھ روك لیں پھر جس قدر رسّی پانی میں بھیگی اُسے ناپ لیں اور مثلًا چار شخص پچیس۲۵ پچیس۲۵ ڈول جلد کھینچیں پھر اُسی طرح ناپیں فرض کرو کہ ان سو۱۰۰ ڈولوں کے سبب ایك ہاتھ پانی کم ہوگیا اور پیمائش میں مثلًا دس ۱۰ ہاتھ آیا نوسو۹۰۰ ڈول اور نکال لیں سو۱۰۰ وہ مل کر دس ہاتھ ہوجائیں گے پانی نکالنے میں صحیح مذہب یہی ہے کہ پے درپے ہونا ضرور نہیں اگر ایك ڈول روزانہ کرکے نکالیں جب تعداد مطلوب پُوری ہوجائے گی کنواں پاك ہوجائے [3] گا نص علیہ فی الدرالمختار وغیرہ من معتمدات الاسفار (درمختار وغیرہ معتمد کتابوں میں اس پر نص کی گئی ہے۔ ت)تین سو۳۰۰ ڈول پر فتوٰی بغداد شریف کے کنووں کے اعتبار سے ہے وہاں کنویں میں اسی قدر پانی ہوتا ہے اور جہاں کُل پانی نکالنے کے حکم میں ہزار ڈول پانی ہے تین سو۳۰۰ ڈول سے ہزار ڈول کیسے ادا ہوسکتے ہیں ، والله تعالٰی اعلم
مسئلہ ۹۵ : مرسلہ ملّا محمد اسمٰعیل قصبہ کپاس محلہ مومناں علاقہ اودے پور ۲۱ صفر ۱۳۳۵ھ
چاہ چشمہ دار ہو اُس میں چڑیا یا چُوہا پڑ کر مرجائے اور پھُول پھٹ جائے اور ریزہ ریزہ ہوجائے اُس میں سے کتنے ڈول نکالے جائیں اور ڈول کس قدر وزن پانی کا ہو۔ چڑیا۲ یا چُوہا یا آدمی بے وضو یا بے غسل یا بے نمازی کنویں میں گر جائے اور زندہ نکل آئے تو کنویں کا پانی تمام نکالنا یا کس قدر ڈول نکالنا درست ہے۔ بینوا توجروا۔
الجواب :
کل۱ پانی نکالا جائے جتنے ڈول اس میں ہیں یا تو دو ثقہ مبصر جو پانی میں نگاہ رکھتے ہیں اندازہ کرکے بتائیں کہ اس میں اتنے ڈول پانی ہے اس قدر نکال دیں پاك ہوجائے گا اگرچہ نیا پانی برابر آتا رہے یا رسّی میں پتھر باندھ کر کنویں میں اس طرح ڈالیں کہ رسّی میں خم نہ آئے جب تَہ کو پہنچ جائے نکال کر جتنی بھیگی ہو ناپ لیں اور مثلًا سو۱۰۰ ڈول بتعجیل نکالیں اُس کے بعد پھر رسّی ڈال کر ناپیں سو ڈول میں جتنا گھٹا اُسی کے حساب سے نکال لیں مثلًا پہلی پیمائش
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع