30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
مسئلہ۹۱ : از ضلع آرہ ڈاك خانہ وقصبہ رانی ساگر مسئولہ محمد یوسف بروز شنبہ۲۰ ذی الحجہ ۱۳۳۳ھ
ایك کنویں میں خنزیر گر گیا زندہ نکالا گیا اور وہ کُنواں بہت بڑا ہے جس میں اندازًا بارہ گز پانی ہے کس قدر پانی نکالنے سے پاك ہوگا۔
الجواب :
اُس کے نکالنے کے وقت جتنا پانی کنویں میں تھا اُس سب کا نکل جانا ضرور ہے اور خنزیر کے مُردہ زندہ میں کچھفرق نہیں کہ وہ عین نجاست ہے پانی اگر۱ زیادہ ہے ایك ساتھ نہیں نکل سکتا بتدریج نکالیں مثلًا تین ہزار ڈول پانی ہو اور روز ہزار ڈول نکالیں تو تین دن میں پاك ہوجائیگا اور تین تین سو تو دس دن میں۔ والله تعالٰی اعلم
مسئلہ ۹۲ : ۲۵ جمادی الاولی ۱۳۳۴ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ گائے یا بکری کُنویں میں گر کر زندہ نکل آئے تو کنواں پاك بتاتے ہیں تسکینِ قلب کیلئے دس بیس ڈول کا حکم اور بات ہے حالانکہ یقینا اُس کے کُھر اور پاؤں کا زیریں حصّہ پیشاب وغیرہ میں روز آلودہ ہوا کرتا ہے تو حکمِ طہارت کس بنا پر ہے۔ بینوا توجروا۔
الجواب :
اِسی بنا پر سیدنا امام اعظم وامام ابویوسف رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَاسے ایك روایت نادرہ آئی کہ گائے بکری کے گرنے سے کنواں مطلقًا ناپاك ہوجائیگا اگرچہ زندہ نکل آئیں اور اسی کو حاوی قدسی میں اختیار کیا۔ بدائع میں ہے :
روی عن ابی حنیفۃ وابی یوسف فی البقر والابل انہ ینجس الماء لانھا تبول بین افخاذھا فلا تخلو عن البول [1]۔
گائے اور اونٹ کے بارے میں امام ابوحنیفہ اور ابویوسف رَحِمَہُمُ اللہُ تَعَالٰیسے روایت ہے کہ پانی نجس ہوجائیگا کیونکہ یہ جانور اپنی رانوں کے درمیان پیشاب گراتے ہیں جس کی وجہ سے رانیں ، پیشاب سے محفوظ نہیں رہتی ہیں۔ (ت)
حلیہ میں ہے :
وعلی ما عن ابی حنیفۃ من ھذا الحکم المذکور مشی الحاوی القدسی[2]۔
اس مذکور حکم کے بارے میں امام صاحب کی روایت کی بنا پر حاوی قدسی اس پر چلے۔ (ت)
مگر مذہب صحیح ومشہور ومعتمد ومنصور یہی ہے کہ جب تك اُن کے بدن پر کسی نجاست کا ہونا یقینا نہ معلوم ہو کنواں پاك رہے گا ، خانیہ وہندیہ میں ہے :
وقعت شاۃ وخرجت حیۃ ینزح عشرون دلوا لتسکین القلب لاللتطھیر حتی لولم ینزح وتوضأ جاز[3]۔
اگر کنویں میں بکری گری اور زندہ نکلی تو اطمینان قلبی کیلئے بیس ڈول نکالے جائیں پاك کرنے کیلئے نہیں حتی کہ اگر یہ ڈول نہ نکالے تو بھی وضو جائز ہوگا۔ (ت)
نیز عٰلمگیریہ میں تبیین امام زیلعی سے ہے :
ان وقع نحو شاۃ واخرج حیا فالصحیح انہ اذالم یکن فی بدنہ نجاسۃ فالماء طاھر [4] اھ مختصرا۔
اگر بکری جیسا کوئی جانور گرا اور زندہ نکال لیا گیا تو صحیح مذہب یہ ہے کہ اگر اس کے بدن پر نجاست نہ ہو تو کنویں کا پانی پاك ہے اھ مختصرًا۔ (ت)
امام محقق علی الاطلاق نے اس کی توجیہ یہ فرمائی کہ اگرچہ امر مذکور ظاہر ہے مگر احتمال ہے کہ کنویں میں گرنے سے پہلے آب کثیر میں گزری ہوں کہ بدن پاك ہوگیا ہو ، فتح القدیر میں ہے :
الحاصل المخرج حیا ان کان نجس العین اوفی بدنہ نجاسۃ معلومۃ نزحت کلھا وانما قلنا معلومۃ لانھم قالوا فی البقر ونحوہ یخرج حیا لایجب نزح شیئ وان کان الظاھر اشتمال بولھا علی افخاذھا لکن یحتمل طھارتھا بان سقطت(عہ) عقیب دخولھا ماء کثیرا ھذا مع الاصل وھو الطہارۃ تظَافَرَ علی عدم النزح والله سبحٰنہ و تعالٰی اعلم۔
الحاصل کنویں سے نکلا ہُوا جانور اگر زندہ ہو اگر وہ نجس العین (خنزیر) ہو یا اس کے بدن پر نجاست کا علم ہو تو کنویں کا سارا پانی نکالا جائیگا ہم نے نجاست کے علم کی بات اس لئے کی ہے کہ فقہاء نے گائے وغیرہ کے بارے میں فرمایا کہ اگر یہ زندہ نکال لی جائے تو کنویں سے کچھ پانی نکالنا ضروری نہیں اگرچہ ان جانوروں کی رانوں کا پیشاب سے ملوّث ہونا ظاہر بات ہے لیکن ان کے پاك ہونے کا پھر بھی احتمال ہوسکتا
عــہ قال فی المنحۃ قولہ بان سقطت ای النجاسۃ وضمیر دخولھا للبقر وماء بالنصب مفعول دخول اھ[5] اقول بل ضمیر سقطت ایضا للبقر والمعنی سقطت فی البئر بعد دخولھا الماء الکثیر ولو کان کمافھم لقال بدخولھا مع مافيہ من تفکیك الضمائر من دون حاجۃ اھ منہ (م)
منحہ میں کہا ہے کہ “ سقطت “ کی ضمیر ، نجاست اور “ دخولھا “ کی ضمیر “ بقر “ کیلئے ہے اور “ ماء “ پر نصب “ دخول “ کا مفعول ہونے کی بنا پر ہے اھ میں کہتا ہوں بلالکہ سقطت کی ضمیر بھی بقر کیلئے ہے ، اور معنی یہ ہوا کہ گائے یا بھینس کثیر پانی میں داخل ہونے کے بعد کنویں میں گری اور اگر ایسے ہوتا جیسے انہوں (صاحبِ منحہ) نے سمجھا تو پھر بدخولھا کہتا ، حالانکہ ایسے ضمیروں کا اختلاف ہے جوکہ بلاوجہ ہے اھ منہ (ت)
وقیل ینزح من الشاۃ کلہ والقواعد تنبوعنہ مالم یعلم یقینا تنجسھا کماقلنا [6]۔
ہے کہ جانور پیشاب کرنے کے بعد کثیر پانی میں داخل ہونے کے بعد کنویں میں گرے ہوں اور اس کے ساتھ یہ بھی کہ طہارت اصل ہے ، یہ دونوں چیزیں کنویں سے کچھ پانی نہ نکالنے کو واضح کرتی ہیں والله تعالٰی اعلم ، اور کہا گیا ہے کہ بکری کے گرنے پر کنویں کا سارا پانی نکالا جائے حالانکہ یہ قواعد سے بعید ہے جب تك یقینی طور اس کا نجس ہونا معلوم نہ ہو جیسے ہم نے بیان کیا ہے۔ (ت)
حلیہ وبحر وغیرہما میں اس پر اُن کی تبعیت کی۔ : اقول : مگر لاکھوں ۱ جانور کہ گھروں میں بندھے کھاتے ہیں اُن میں اس احتمال کی کیا گنجائش اور حکم بلاشبہ عام ہے______ تو دوسری توجیہ ضرور درکار والله الھادی وولی الایادی (الله تعالٰی ہادی اور مددگار ہے۔ ت) خاطر فقیر غفرلہ المولی القدیر میں مدت سے یہ خطور کرتا تھا یہاں جفاف وانتشار سبب طہارت ہوں یعنی جس۲ طرح زمین پر پیشاب پڑا اور خشك ہوگیا کہ اثر باقی نہ رہا زمین نماز کیلئے پاك ہوگئی اگرچہ اُس سے تیمم نہیں ہوسکتا یوں ہی۳ ان کے بدن پر ان کا پیشاب لگ کر خشك ہونے کے بعد بدن پاك ہوجاتا ہے نیز۴ جس طرح جُوتے میں کوئی جرم دار نجاست لگی اور چلنے میں ریت مٹی سے خشك ہوکر جھڑ گئی جُوتا پاك ہوگیا یوں ہی جب۵ ان کی مینگنی گوبر بدن پر لگ کر خشك ہوکر لیٹنے لوٹنے بدن کھجانے سے جھڑ گئی بدن پاك ہوگیا مگر اس پر جرأت نہ کرتا تھا یہاں تك کہ بفضلہ تعالٰی فتاوٰی غیاثیہ میں اسکی تصریح دیکھی؟
حیث قال سئل ابونصر رحمہ الله تعالٰی من (۶) یغسل الدابۃ فيصیبہ من مائھا (۷) اوعرقھا قال لایضرہ قیل لہ فان کانت تمرغت فی روثھا وبولھا قال اذا جف وتناثر وذھب عینہ فلایضرہ فعلی عــہ ھذا
[1] بدائع الصنائع امابیان المقدار الذی یصیربہ المحل نجسًا سعید کمپنی کراچی ۱ / ۷۵
[2] حلیہ
[3] فتاوٰی قاضی خان فصل مایقع فی البئر نولکشور لکھنؤ ۱ / ۵
[4] فتاوٰی ہندیۃ النوع الثالث ماء الاٰبار من المیاہ پشاور ۱ / ۱۹
[5] منحۃ الخالق علی البحر الرائق کتاب الطہارۃ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۱۱۷
[6] فتح القدیر فصل فی البئر سکّھر ۱ / ۹۲
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع