دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 3 | فتاوی رضویہ جلد ۳

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۳

کُل پانی کا حکم ہے جتنا نجاست نکلنے کے وقت اُس میں تھا دوسو۲۰۰ تین سو۳۰۰ کا تخمینہ بغداد مقدس کے کُنوؤں کیلئے تھا اس میں ہزار ڈول پانی یا زائد ہوگا تین سو۳۰۰ سے کُل کا حکم کیسے پُورا ہوسکتا ہے سو۱۰۰ پچاس۵۰ ڈول پانی کھینچ کر پھرنا پا جائے کہ کتنا گھٹا اُسی نسبت سے ڈول نکال لیے جائیں مثلًا پچاس ڈول میں ایك فٹ گھٹا اور ۱۴ فٹ تھا تو ساڑھے چھ سو ڈول اور نکال لیے جائیں اور اگر کنویں۲ میں پانی کی آمد جلد نہیں تو اتنے ڈولوں کے بعد کہ اُس میں نصف ڈول نہ بھر سکے گا اسے کہیں گے کہ پانی ٹوٹ گیا اور اگر آمد۳ جلد ہو تو جتنے ڈول حساب سے اُس وقت تھے اُتنے نکالنے پر کنواں پاك ہوجائےگا اگرچہ پھر اُتنا ہی پانی اُس میں موجود ہو اسے کہیں گے کہ پانی کُل نکل گیا یعنی اُس وقت موجود تھا والله تعالٰی اعلم۔

مسئلہ ۸۸ : کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں ، زید نے ایك چاہ پختہ  میں ایك نل پانی سے چار ہاتھ گہرا بائیس۲۲ ہاتھ کھڑا لگایا جس سے پانی بلندی پر لے گیا پانی جو نل کے ذریعہ سے پہنچا وہ اس پانی کے نجس ہونے سے جو پہلے سے چاہ مذکور میں تھا نجس ہوگا یا نہیں اور اس میں کمی و زیادتی گہرائی کا لحاظ ہوگا یا نہیں اور اگر ہوگا تو کیا مقدار ہوگی اور اسی طرح نل میں نجاست کے پڑنے سے سوائے نل کے جو پانی چاہ میں ہے نجس ہوگا یا نہیں ۔

الجواب :

پانی نہایت نفّاذ ہے ولہذا ۴ شرع میں حکم ہے کہ جو شخص زمین افتادہ میں باذن سلطان کنواں کھودے اس کے چاروں طرف چالیس چالیس ہاتھ تك دوسرے کو کنواں کھودنے کی اجازت نہ دی جائے گی کہ اول کا پانی اس طرف کھنچ کر کم نہ ہوجائے۔ درمختار میں ہے :

حریم بئر اربعون ذراعا من کل جانب اذا حفرھا فی موات باذن الامام [1]۔

کنویں کا محفوظ دائرہ (حریم) چالیس ہاتھ (گز) ہر جانب سے ہوگا جب اسے غیر آباد زمین میں حکومت کی اجازت سے کھودا گیا ہو۔ (ت)

ردالمحتار میں ہے :

المقصود من الحریم دفع الضرر کی لایحفر بحریمہ احد بئرا اخری فيتحول الیھا ماء بئرہ [2]۔

حریم کا مقصد کنویں کو نقصان سے محفوظ کرنا ہے کیونکہ کوئی شخص کنویں کے دائرے (حریم) میں دوسرا کنواں کھود کر اپنے کنویں کی طرف پھیرنے سے نقصان پہنچا سکتا ہے۔ (ت)

کنویں کے۱  قریب نجس چہ بچہ کا ہونا اُسے نجس کردیتا ہے بعض نے کہا پانچ ہاتھ سے کم تك بعض نے سات ہاتھ سے کم تک ، اور صحیح یہ ہے کہ جتنی دُور سے نجاست کا اثر ظاہر ہو نجس کردے گا اگرچہ بیس۲۰ ہاتھ کے فاصلہ سے ،

درمختار میں ہے :

البعد بین البئر والبالوعۃ بقدر مالایظھر للنجس اثر [3]۔

کنویں اور نجس چہ بچہّ کے درمیان اتنا فاصلہ ہو کہ نجاست کا اثر کنویں میں ظاہر نہ ہو۔ (ت)

ردالمحتار میں ہے :

فی الخلاصۃ والخانیۃ والتعویل علیہ وصححہ فی المحیط بحر [4]۔

خلاصہ اور خانیہ کے حوالے سے ہے اسی پر اعتماد ہے اور محیط میں اسی کو صحیح قرار دیا گیا ہے ، بحر۔ (ت)

اُسی میں ہے :

فی روایۃ خمسۃ اذرع وفی روایۃ سبعۃ والحاصل انہ یختلف برخاوۃ الارض وصلابتھا ومن قدرہ اعتبر حال ارضہ [5]۔

اس میں پانچ ہاتھ اور سات ہاتھ کی روایتیں بھی ہیں ، الحاصل یہ فاصلہ زمین کی نرمی اور سختی اور اس کی مقدار کے لحاظ سے مقرر کیا جائیگا۔ (ت)

جب پانی بلامنفذ صرف مسام کے ذریعہ سے ایسی سرایت کرتا ہے تو جہاں نل لگے گا ضرور منفذ پیدا کرے گا پھر پانی کیونکر رُك سکے گا ان کا دو پانی جدا جدا ہونا معقول نہیں اوپر کا پانی ناپاك ہونا ضرور نل کے پانی کو ناپاك کرے گا اور وہ صورت نادرہ کہ نل میں نجاست پڑے بحال اتصالِ آب اُسی میں ہے سریان نجاست میں شبہ نہ ہونا چاہئے اگرچہ نل کتنے ہی دُور تك ہو کہ مذہب صحیح میں عمق محض معتبر نہیں کمانصوا علیہ ھذا ماظھرلی والعلم بالحق عند ربی ،  والله سبحٰنہ وتعالٰی اعلم (جیسا کہ انہوں نے تصریح کی ہے ، مجھے یہ معلوم ہوا ، حقیقی علم الله کے ہاں ہے ، والله تعالٰی اعلم۔ ت)

مسئلہ ۸۹ :                                 مسئولہ مولوی عبدالشکور ارکانی  ۶ شوال ۱۳۲۰ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ اگر کُنویں میں سے کوئی جانور مُردہ سڑا ہوا نکل آئے تو اس کنویں کے پانی کا کیا حکم ہے۔

الجواب :

اگر جانور میں دَم سائل نہ تھا جیسے مینڈک ، بچھّو ، مکّھی ، بھڑ وغیرہ تو پاك ہے اور اگر دم سائل تھا تو ناپاك ہے کُل پانی نکالیں والله تعالٰی اعلم۔

مسئلہ ۹۰ :                 از شہسرام محلہ دائرہ ضلع آرہ مرسلہ حافظ عبدالجلیل ۱۶ شوال شنبہ ۱۳۳۳ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ اگر رافضی نمازی کنویں میں گُھسے تو پانی کنویں کا نکالا جاوے یا نہیں اور رافضی کے یہاں حقّہ پینا چاہئے یا نہیں اگر پی لیا تو کیا حکم ہے ، بینوا توجروا۔

الجواب :

 رافضی۱  کے یہاں کچھ کھانا پینا نہ چاہئے وہ اہل سنّت کو قصدًا نجاست کھلانے کی کوشش کرتے ہیں سُنیوں کے کنویں میں بھی اگر جائیگا تو پاخانہ نہ ہو تو پیشاب کر ہی دے گا احتراز ضرور ہے اور احتیاط اس میں ہے کہ ایسا ہوا تو کُل پانی نکال دیا جاوے کماھو حکم کل کافر صرح بہ فی ردالمحتار عن الذخیرۃ عن کتاب الصلاۃ والله تعالٰی اعلم (جیسا کہ ہر کافر کا حکم ہے ذخیرہ کی کتاب الصّلوٰۃ سے ردالمحتار نے نقل کرتے ہوئے اس کی تصریح کی ہے۔ ت)

 



[1]   الدرالمختار کتاب احیاء الموات  مجتبائی دہلی ۲ / ۲۵۵

[2]   ردالمحتار  کتاب احیاء الموات  مصطفی البابی مصر  ۵ / ۳۰۸

[3]   الدرالمختار فصل فی البئر  مجتبائی دہلی  ۱ / ۴۰

[4]   ردالمحتار  فصل فی البئر  مصطفی البابی مصر / ۱۶۳

[5]   ردالمحتار فصل فی البئر مصطفی البابی مصر ۱ / ۱۵۲۔ ۱۶۳

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن