30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
باقی ظنون کا جواب اور ایسے تمام مسائل کی تحقیق فقیر کے رسالہ الاحلی من السکر میں ہے۔ والله تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۸۵ : ازموضع منصور پور متصل ڈاك خانہ قصبہ شیش گڈھ تحصیل بہیڑی ضلع بریلی مرسلہ محمد شاہ خان ۳۰ محرم ۱۳۳۲ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ اکثر اشخاص کو دیکھا جاتا ہے کہ کُنویں سے پانی کا ڈول نکال کر پانی صرف کے لائق لیتے ہیں باقیماندہ پانی کنویں میں لَوٹ دیا کرتے ہیں اس کیلئے کیا حکم ہے۔
الجواب :
عاقل بالغ شخص اگر ایسا کرے کوئی حرج نہیں کہ پانی جب اُس نے بھر کر باہر نکال لیا اُس کی مِلك ہوگیا جب اُس نے باقی کنویں میں ڈال دیا تو اُسے مسلمانوں کیلئے مباح کردیا اور عاقل بالغ اپنے مال کو مباح کرسکتا ہے ہاں مجنون اور نابالغ میں دقت ہے اُس کی تحقیق عــہ ہماری تعلیقات علی ردالمحتار
میں ہے والله تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۸۶ : از سیتاپور کوٹھی حضرت سید محمد صادق صاحب وکیل مرحوم مرسلہ صاحبزادہ صاحب مولانا مولوی حضرت سید محمد میاں صاحب زیدت مکارمہم ۴ رمضان ۱۳۳۲ھ
مولانا صاحب معظم ومکرم دام مجدہم۔ پس ازاہدائے سلام مسنون۔ صورت یہ ہے کہ گھر کے چاہ میں
عــہ اور اس کی تحقیق تام اور تفصیل کامل رسالہ عطاء النبی لافاضۃ احکام ماء الصبی مندرجہ رسالہ النور والنو رق میں گزری۔ (م)
ایك شخص نے بے احتیاطی سے ایسا گھڑا ڈالا جو گوبر سے مخلوط تھا مگر اس کا راوی کہ وہ ایسا گھڑا تھا ایك مسلمان غیر عادل وثقہ ہے بہرحال میں نے اُس کا پانی ایك ایسے ڈول سے جو علی العموم اُس چاہ میں نہیں پڑتا بلکہ معمولی اُس چاہ کے ڈول سے دو گنا بلکہ ڈھائی گنا تھا جس میں ایك گھڑا بھر پانی کم ازکم آجاتا ہے نکلوایا اور جب ڈول نصف بلکہ نصف سے بھی کسی قدر کم آنے لگا تو پانی نکلوانا موقوف کرادیا ایك ہندو شخص نے پانی نکالا تھا اور نصف تك پانی ڈول میں آتے میں نے خود دیکھا تھا اور ڈول کو چاہ میں نہ ڈوبتے بھی میں نے دیکھا تھا مگر اس ڈول کا نصف سے کم بھرنا یہ اُس ہندو کی روایت ہے ندی کے قریب ہی چاہ ہے اس وجہ سے پانی برابر آتا رہتا ہے یہ ڈول اگرچہ اس خاص چاہ میں تو نہیں ڈالے جاتے مگر اس کے برابر دوسرا چاہ جو باغ نہیں ہے اس میں ڈالے جاتے ہیں پھر اس اودیو سے تھوڑی دیر پہلے اور بھی سوپچاس ڈول نکالے جاچکے تھے مگر چونکہ درمیان میں وقفہ ہوگیا پانی پھر بھر گیا لہذا نئے سرے سے یہ بار دیگر ادیو کرایا جس کا حال یہ ہوا اب آیا وہ کنواں پاك ہوگیا یا نہیں اگر نہیں تو کس قدر پانی نکالنے سے پاك ہوگا اور کب پانی نکلوانا چھوڑا جائے اور کس ڈول کا اعتبار کیا جائے چونکہ رمضان المبارك کے دن ہیں دُور سے پانی لانے میں تکلیف ہے لہذا جناب سے بہت قوی امید ہے کہ جواب سے مفصل جلد سے جلد مطلع فرمائیں گے امید کہ فورًا جواب روانہ ہوگا مختصر جواب کہ یہ چاہ پاك ہے یا نہیں تو اس طرح پاك ہوگا درکار ہے مکرر یہ کہ اس قدر کم پانی اس چاہ میں ہوجاتے میں نے خود دیکھا تھا کہ ڈول کا پیندا تلی پر رکھا ہوتا تھا پانی میں ڈوبتا نہیں تھا ٹیڑھا کرنے سے پانی ڈول میں آتا تھا والسلام خیرختام۔
الجواب :
حضرت صاحبزادہ والا دامت برکاتہم۔ تسلیم مع التکریم۔ مخبر غیر ثقہ جس نے وہ گھڑا ڈالنے کی خبر دی اگر قلب پر اس کی بات نہ جمتی ہو اس بیان میں اس کی کوئی مصلحت ہو یا اتنا لاابالی ہوکہ محض بے سبب ایسے امور میں غلط باتیں کہتا ہو جب تو کنویں کی نجاست ہی کا حکم نہیں اور اگر تحری سے اس کی بات قلب پر جمےتو حکم تطہیر ہے مگر تطہیر بئر میں موالات شرط نہیں اعتبار اس کنویں کے ڈول کا ہے مگر یہاں کہ نزح کُل منظور ہے عددًا لحاظ دلو کیا ضرور ہے ہاں نصف ڈول نہ بھرنے میں اتنے بڑے ڈول کا اُس ڈول سے ڈھائی گنا ہے۔ نہ بھرنا کافی نہ ہوگا جبکہ اُس کنویں کے ڈول کا نصف یا ایسے ڈول کا جس میں ایك صاع ماش آئے بھرسکتا ہو مگر اس سے پہلے جو سو پچاس ڈول نکالے گئے تھے۔ وہ غالبًا اس کمی کے پورا کرنے کو کافی بلالکہ زائد ہوں پھر یہ بھی قابلِ لحاظ ہے کہ جمیع مافیہ وقت وقوع النجاسۃ کا اعتبار ہے جبکہ بوجہ قرب نہر پانی اس کنویں میں ہر وقت آتا رہتا ہے تو ختم پر جو زیادت رہی وہ اگر تازہ آئی ہوئی ہے ملحوظ نہیں مثلًا مافیہ وقت الوقوع ہزار ڈول تھے ہزار نکال دئے گئے طہارت ہوگئی اگرچہ بعد اخراج بوجہ جریان امداد پھر ہزار کے ہزار موجود ہوں غرض عــہ صورت مستفسرہ میں غالبًا کنواں طاہر ہوگیا اور ان باتوں کا صحیح اندازہ جناب فرماسکیں گے اگرچہ دلو کا اشتباہ معلوم ہو وہ چند اب نکلوادیے جائیں۔ والسلام والله تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۸۷ : از بریلی محلہ خواب قطب مرسلہ محمد ابراہیم ۲۱ عیدالفطر ۱۳۳۲ھ
ایك چاہ پختہ جس کا قطر تین ہاتھ ہے اور جس میں اس وقت ۱۴ فٹ پانی موجود ہے اُس میں ایك چُوہا جو
عــہ فان قلت الیس (۱) ان القلیل عفو بلافرق بین البعر والروث والخثی والرطب والیابس والصحیح والمنکسر والفلاۃ والمصر ومالھا حاجز من البئر ومالاکل ذلك علی الصحیح المعتمد ولاشك ان مالصق من الخثی بالجرۃ قلیل فلا یحتاج الی التطھیر اصلا اقول : ھذا الحکم معلل بالضرورۃ فی التبیین لافرق بین الرطب والیابس والصحیح والمنکسر والبعر والخثی والروث بشمول الضرورۃ [1] اھ وفی الفتح ھو الاوجہ لان الضرورۃ تشمل الکل[2] اھ وفی التاترخانیۃ لوفیہ ضرورۃ وبلوی لاینجس والانجس [3] اھ (۲) والضرورۃ فی الوقوع لا فی الالقاء قصدا قال فی ردالمحتار اذا رماہ فی الماء قصدا فانہ لاضرورۃ فی ذلك لکونہ بفعلہ[4] اھ ولاشك ان الادلاء من الالقاء فینجس لاسیما فی اٰبار فی دور السلمین والمستقون من الکفرۃ لھم خادمون کما فی صورۃ السؤال والله تعالٰی اعلم۔ (م)
اگر یہ سوال ہو کہ مینگنی ، گوبر ، لید خشك ہو یا نہ ، ثابت ہو یا ریزہ ریزہ ، کنویں میں قلیل مقدار میں گر جائے کہ کُنواں جنگل میں ہو یا شہر میں ، کنویں پر ڈھکنا ہویا نہ ہو تو وہ معاف ہے کنواں ناپاك نہ ہوگا اور بےشك گھڑے پر جو گوبر لگا ہے وہ قلیل ہوگا تو اس کے پاك کرنے کی اصلًا حاجت نہیں ، تو میں اس کا جواب دیتا ہوں کہ یہ حکم ضرورت کی بنا پر ہے تبیین میں ہے مینگنی ، گوبر ، لید خشك ہو یا تر ، ثابت ہو یا ریزہ ریزہ کنویں میں گر جائے تو بشمول ضرورت کوئی حرج نہیں ہے اھ اور فتح میں ہے یہی اوجہ ہے کیونکہ ضرورت سب کو شامل ہے اھ اور تاتارخانیہ میں ہے اگر اس میں ضرورت اور بلویٰ ہو تو نجس نہ ہوگا ورنہ نجس ہوگا اھ اور ضرورت نجاست کے خود بخود واقع ہونے میں ہے قصدًا ڈالنے میں نہیں ردالمحتار میں فرمایا کہ جب اس نے نجس کو پانی میں قصدًا پھینکا ہو تو ضرورت نہیں ہے کیونکہ یہ تو اس کا اپنا فعل ہے اھ اور بے شك ڈول کو اگر لٹکا کر ڈالا گیا تو کنواں نجس ہوجائےگا ، خاص طور پر وہ کنویں جو مسلمانوں کے شہروں میں ہوں اور مسلمانوں کو پانی پلانے والے ان کے خادم کافر ہوں ، جیسا کہ سوال کی صورت میں ہے والله تعالٰی اعلم (ت)
ریزہ ریزہ ہوگیا تھا پانی بھرتے ہوئے ڈول میں برآمد ہوا ہے اس چاہ کے پاك کرلینے کیلئے کس قدر ڈول یا پانی اس میں سے نکالا جائے بڑا کنواں جس کیلئے پانی بالکل نکالے جانے کی صورت میں دوسو۲۰۰ سے تین سو۳۰۰ تك ڈول معین کئے گئے ہیں اس کنویں کیلئے یہ حکم جاری ہوسکتا ہے اگر یہ حکم اس کنویں کیلئے نہیں صادر ہوسکتا تو اس چاہ میں سے کس قدر ڈول نکالے جائیں لفظ پانی توڑنا یا بالکل پانی نکالا جانا صاف نہیں ہیں چاہ کی اور پانی کی پیمائش متذکرہ بالا معلوم ہونے پر ڈولوں کی تعداد متعین فرمائی جائے۔
الجواب :
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع