دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 3 | فتاوی رضویہ جلد ۳

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۳

مسئلہ ۸۱ :                    از بریلی محلہ کوہاڑا پیر  ۱۴ ربیع الاول ۱۳۱۹ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك شخص کل تیسرے پہر مسجد کے کنویں پر آیا اور وہ ایك لڑکے غیر نمازی سے صرف یہ کہہ کر چلا گیا کہ یہ کنواں ناپاك ہے چھپکلی نکلی ہے شام کے وقت نمازیوں کو خبر ہوئی اور تحقیق کیلئے اس شخص کو تلاش کیا لیکن پتا نہیں چلا اور نہ چھپکلی کنویں کے پاس پڑی ہوئی نظر آئی جس سے اس کی حالت معلوم ہوتی۔ اب ایسی صورت میں وہ کنواں پاك ہے یا ناپاك اور ناپاك ہے تو کس قدر ڈول نکالنا چاہئے اور مسجد کے سقاوے میں جو ایك روز قبل کا پانی بھرا ہوا ہے اُس سے نمازیوں نے مطلع ہوجانے پر وضو کیا اور نماز پڑھی اس کا کیا حکم ہے اور کسی وقت کی نماز لوٹائی جائے یا نہیں۔

الجواب :

جبکہ اُس شخص کا نہ حال معلوم نہ پتا چلا اور اُس سے ناقل صرف ایك لڑکا نابالغ یا بالغ بے نماز ہے نہ کُنویں میں کوئی آثار نجاست معلوم ہوئے تو ایسی صورت میں حکم نجاست نہیں ہوسکتا کنواں بھی پاك سقایہ بھی پاك نمازیں بھی ٹھیک۔ اگر دل کا شبہ مٹادینا چاہیں تو صرف بیس۲۰ ڈول نکال دیں کافی ہے ، والله سبحنہ تعالٰی اعلم۔

مسئلہ ۸۲ :      از پیلی بھیت مسجد جامع مرسلہ حافظ شوکت علی صاحب  ۳ ربیع الآخر ۱۳۲۰ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ مسجد کے کنویں سے پانی ہنود اپنے برتن سے بھریں مرد وعورت دونوں اُن کا بھرنا پانی کا نمازی کی طہارت کو نقصان لائے گا یا نہیں جو شخص اس کو  جائز رکھے اور اسلام کے مقابلالہ میں ہنود کو قوت دیوے اس کو کیا کہنا چاہئے مسلمان کوشش کریں کہ مسجد کے کنویں سے پانی ہنود نہ بھریں اور ایك شخص کوشش سے باز رکھے وہ کون ہے اور کسی عالم صاحب کے فرمانے کو کہے کہ وہ کیا جانے عالم کی اہانت کرنا کیا ہے اور اس شخص کے پیچھے نماز پڑھنا جائز ہے یا نہیں۔ بینوا بالدلیل فتوجروا عندالجلیل۔

الجواب :

اگرچہ نجاست جب تك یقینا نہ معلوم ہو طہارت ہی مانتے ہیں مگر شك نہیں کہ ہنود کے برتن بدن سب نجاستوں پر مشتمل ہوتے ہیں جس قوم کے یہاں خود نجاست مطہر اور پاك کرنے والی مانی گئی ہو اور بچھیا کے مُوت گوبر کو پبتر کہیں یعنی پاك کرنے والا ان کی طہارت کی کیا ٹھیك ہے تو احتیاط اس میں ہے کہ مسجد کا کنواں ان کے تصرف سے دُور رہے جو شخص بلاضرورت شرعیہ مسلمانوں کا خلاف کرتا اور ان کے مقابل ہنود کو قوت دیتا ہے سخت خطرناك حالت میں ہے اور عالمِ۱  دین کی توہین کو ائمہ نے کفر لکھا ہے۔ مجمع الانہر میں ہے : الاستخفاف بالاشراف والعلماء کفر [1] (صحیح العقیدہ سنّی علماء اور اشراف کی توہین کفر ہے) ایسے شخص پر توبہ فرض ہے اگر نہ مانے اور اصرار کرے تو اس کے پیچھے ہرگز نماز نہ پڑھی جائے والله تعالٰی اعلم وعلمہ اتم۔

مسئلہ ۸۳ :  از اڈیشنل منصفی اعظم گڈھ مرسلہ نبی حسن خان صاحب ۸ شوال ۱۳۳۱ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ ایك کنویں میں سے ایك کُتّا نکلا اور وہ مرا ہوا تھا یہ نہیں معلوم کہ کب گر گیا تھا اُس کا پانی عدم واقفیت کی وجہ سے استعمال میں آتا رہا جس صبح کو وہ کُتا برآمد ہوا اُس سے قبل اُس پانی سے سر دھویا یا فورًا چادر سے اس کو پُونچھ کر تُرکی ٹوپی اوڑھی اُس وقت سر میں نمی موجود تھی پانی کا کچھ نہ کچھ اثر ٹوپی میں ضرور پہنچا ہوگا اس حالت میں ٹوپی پاك رہی یا کہ ناپاک ، اور اس کُنویں سے کتنا پانی نکالا جائے۔

الجواب :

کُل پانی نکالا جائے جبکہ سر پونچھ ڈالا تھا تو ٹوپی ناپاك نہ ہوئی صرف نم باقی رہنا ناپاك کرنے کو کافی نہیں جب تك اتنی تری نہ ہو کہ نچوڑے سے بوند ٹپکے کماصرح بہ فی الکتب المعتمدۃ منھا الدر وغیرہ (جیسا کہ معتبر کتابوں میں اس کی تصریح موجود ہے ان میں سے در وغیرہ بھی ہیں۔ ت) اور صاحبین کے قول پر تو کنویں کی ناپاکی کا اُسی وقت سے حکم دیا جاتا ہے جب سے کوئی نجاست اس میں گرنا معلوم ہو اُس سے  پہلے کا پانی پاك فرماتے ہیں تو کُتّے کے نکلنے سے پہلے جو پانی استعمال ہُوا اس پر حکمِ ناپاکی نہیں دیتے۔ والله تعالٰی اعلم۔

مسئلہ ۸۴ : از چتور گڈھ اودےپور میواڑ مرسلہ مولوی قاضی اسمٰعیل محمد صاحب امام مسجد چھیپاں ۱۴ ذی القعدہ ۱۳۳۱ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ مسجد کے کنویں میں(جوکہ دہ در دہ نہیں ہے) ایك شخص کا مستعملہ جُوتا پڑ گیا گرے ہوئے جُوتے پر نجاست کے ہونے نہ ہونے کا حال معلوم نہیں مگر اُس شخص کا باقیماندہ دوسرا جُوتا اُسی وقت دیکھا گیا تو اس پر نجاست کا اثر نہیں تھا کتب موجودہ درمختار عٰلمگیریہ کبیری شرح منیۃ المصلی وغیرہا کتب فقہ میں دیکھا گیا تو بظاہر کوئی حکم صورتِ مسئولہ میں نہیں پایا گیا البتہ ایك عالم رکن الدین صاحب ساکن الور نے اپنے رسالہ رکنِ دین میں بلاحوالہ کتاب بایں عبارت کہ کنویں میں اگر جُوتی گرجائے تو سارا پانی نکالا جائے کیونکہ جوتی مستعملہ میں نجاست کا لگا رہنا یقینی ہے اور یہاں عام بلویٰ بھی نہیں کہ جس سے بچاؤ مشکل ہو چونکہ غایۃ الاوطار شرح درمختار میں ہے پس ان اقوال سے سخت حیرانی ہے کہ کون سا مسئلہ صحیح سمجھاجاوے آیا کنویں کا سارا پانی نکالا جائے یا پانی پاك سمجھا جائے امید کہ جواب اس کا مفصل بحوالہ کتب فقہ جلد تحریر فرمائیں کہ شرع شریف کے حکم پر عمل کیا جائے نمازیوں کو سخت تکلیف ہے۔ فقط

الجواب :

جبکہ اس کی نجاست معلوم نہیں پانی ناپاك نہ ہوا فان الیقین لایزول بالشك [2] (شك کی وجہ سے یقین زائل نہیں ہوتا۔ ت) تاتارخانیہ وطریقہ محمدیہ وحدیقہ ندیہ وغیرہا کتب معتمدہ میں ہے :

سئل الامام الخجندی رحمہ الله تعالٰی عن رکیۃ وھی البئر وجد فیھا خف اونعل تلبس ویمشی بھا صاحبھا فی الطرقات لایدری متی وقع فیھا ولیس علیہ اثر النجاسۃ ھل یحکم بنجاسۃ الماء قال لا [3] ۔

امام خجندی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِسے ایسے کنویں کے بارے میں پوچھا گیا جس میں کوئی ایسا موزہ یا چپل گرا ہوا پایا گیا جو گلی کُوچے میں پہن کر چلنے میں استعمال ہوا ہو اور یہ معلوم نہ ہو کہ وہ کنویں میں کب گرا ، اور اس پر نجاست کا اثر نہ ہو ، کیا پانی کے نجس ہونے کا حکم دیا جائےگا ، آپ نے فرمایا :

نہیں۔ ہاں تسکین قلب کیلئے بیس۲۰ ڈول نکال لینا مستحب ہے جیسے بھینس یا بکری کہ کنویں میں گر کر زندہ نکل آئے اُس کی رانوں پر پیشاب کی چھینٹیں ہونا اس سے کم مظنون نہیں پھر بندھا ہوا جانور وہیں نجاست کرتا وہیں بیٹھتا ہے مگر جب نجاست معلوم نہ ہو یہ ظنون معتبر نہ ہوں گے اور صرف ۲۰ ڈول نکالنے ہوں گے وہ بھی تطییب قلب کیلئے ورنہ پانی پاك ہے۔ فتاوٰی قاضی خان وفتاوٰی عٰلمگیری میں ہے :

لووقعت الشاۃ حیۃ ینزح عشرون دلوالتسکین القلب لالتطھیر حتی لولم ینزح ویتوضأ جاز[4] ۔

اگر زندہ بکری کنویں میں گری (اور زندہ نکال لی) تو بیس۲۰ ڈول نکالے جائیں تاکہ اطمینانِ قلب ہوجائے ، کنویں کو پاك  کرنے کی غرض نہیں حتی کہ اگر کوئی ڈول بھی نہ نکالا تو بھی وضو جائز ہے۔ (ت)

 



[1]   مجمع الانہر شرح ملتقی الابحر  ثم ان الفاظ الکفر انواع  بیروت  ۱ / ۶۹۵

[2]   فتاوٰی ہندیۃ  الاعیان النجاسۃ پشاور ۱ / ۴۷

[3]   حدیقۃ ندیۃ الصنف الثانی من الصنفین من الطہارۃ نوریہ رضویہ فیصل آباد  ۲ / ۶۷۴

[4]   فتاوٰی قاضی خان  فصل مایقع فی البئر  نولکشور لکھنؤ  ۱ / ۵

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن