30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
رد محتار میں ہے کہ بحر میں کہا ہے کہ ہم نے علم کی قید اس لئے لگائی ہے کہ فقہاء نے فرمایا کہ اگر بھینس وغیرہ کنویں میں گر جائے اور زندہ نکال لی جائے تو کنویں سے پانی نکالنے کی ضرورت نہیں ہے اگرچہ ظاہر طور ہر بھینس کی رانوں پر پیشاب لگا ہوتا ہے لیکن اس کے باوجود بھینس کے پاك ہونے کا بھی احتمال ہے وہ یوں کہ ہوسکتا ہے بھینس کنویں میں گرنے سے متصل قبل کثیر پانی میں داخل ہوئی ہو اس کے ساتھ یہ بھی کہ طہارت اصل ہے اھ اور فتح القدیر میں بھی اسی طرح ہے والله تعالٰی اعلم۔ (ت)
مسئلہ ۷۵ : ۲۶ صفر ۱۳۱۴ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك مُرغا اور مُرغی کنویں میں گرے اور زندہ نکل آئے اُن کے نکالنے کو خشك کھانچا جس میں نجاست کا ہونا معلوم نہیں مرغی اُس میں بند ہوا کرتی تھی ڈالا گیا اس صورت میں کُنویں میں سے کتنے ڈول نکالے جائیں اور اُن کا نکالنا یا اُس کے دام دینا اُس شخص پر لازم ہوگا یا نہیں جس کی وہ مرغی ہے حالانکہ مرغی آپ مرغ سے بھاگ کر اُس میں گری۔ بینوا توجروا۔
الجواب :
بیس۲۰ ڈول نکالے جائیں اور کھانچے میں مرغی کا بند ہوا کرنا اُس کی نجاست پر یقین کا موجب نہیں جیسے استعمالی جُوتا اور خود جانوروں کے پنجے پاؤں اُس کا تاوان اس پر اصلًا نہیں جس کی وہ مرغی تھی اگر اس سے جبرًا لیا جائے گا ظلم وحرام ہوگا۔ والله تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۷۶ : از در و تحصیل کچھا ضلع نینی تال مرسلہ عبدالعزیز خان صاحب ۱۴ رجب ۱۳۱۵ھ
چھپکلی اگر کنویں میں گر کر مرجائے اور پھُول یا پھٹ جائے تو کس قدر پانی کنویں سے نکالا جائے گا ، بینوا توجروا۔
الجواب :
سب کہ اس میں دَم سائل ہوتا ہے فقیر نے خود اپنی آنکھ سے مشاہدہ کیا ہے ، ردالمحتار بحث آسار میں زیر قول ماتن سؤر سواکن بیوت مکروہ (گھروں میں رہنے والے جانوروں کا جھوٹا مکروہ ہے) کے تحت فرمایا :
قولہ سواکن بیوت ای ممالہ دم سائل کالفارۃ والحیۃ والوزغۃ وتمامہ [1] فی الامداد(۲)۔
سواکن البیوت سے مراد وہ جانور جن میں بہنے والا خون ہو ، جیسے چُوہا ، سانپ ، چھپکلی ، پوری بحث “ الامداد “ میں ہے۔ (ت)
فتاوٰی امام۳ اجل قاضیخان فصل النجاسۃ التی تصیب الثوب (کپڑے کو لگنے والی نجاست کی فصل۔ ت) میں ہے :
دم الحلمۃ والوزغۃ یفسد الثوب والماء [2] ۔
حلمۃ (ایك قسم کا کیڑا ہے جو چمڑے کو لگ جاتا ہے اور اسے خراب کردیتا ہے) کا خون اور چھپکلی کا خون کپڑے اور پانی کو فاسد کردیتا ہے۔ (ت)
فتاوٰی (۴) عالمگیریہ میں ہے :
دم الحلمۃ والوزغۃ نجس اذا کان سائلا کذا فی الظھیریۃ(۵) فاذا اصاب الثوب اکثر من قدر الدرھم یمنع جواز الصلاۃ (۶) کذا فی المحیط[3]۔ اقول : والتقیید بالسیلان علی المعھود من اصلنا ان دم کل دموی لاینجس منہ الاسائلہ ولذا لاینقض دم الانسان وضوء ہ الا اذا کان سائلا۔
حلمۃ کا خون اور چھپکلی کا خون نجس ہے جب وہ بہنے والا ہو ، ظہیریہ میں ایسے ہے جب کپڑے کو مقدارِ درہم سے زیادہ لگ جائے تو نماز کے جواز سے مانع ہوگا ایسے محیط میں ہے۔ (ت)
میں کہتا ہوں کہ خُون کے ساتھ بہنے کی قید ہمارے مقررہ قاعدہ پر مبنی ہے کہ ہر خون والے کا صرف بہنے والا خون نجس ہوتا ہے۔ اسی لئے انسان کے وضو کو صرف بہنے والا خون توڑتا ہے۔ (ت)
لاجرم۶ خزانۃ المفتین میں برمز ظ اسی فتاوٰی ظہیریہ۷ سے ہے :
دم الوزغۃ یفسد الثوب والماء [4]۔
چھپکلی کا خون کپڑے اور پانی کو فاسد کردیتا ہے۔ (ت)
فتح۸ القدیر میں ہے :
دم الحلمۃ والاوزاغ نجس [5] اھ۔
اقول : فقد اطلقوا والمراد المراد ولو شك فی دمویتھا لماساغ لھم الاطلاق کالامام فقیہ النفس۔
حلمۃ (ایك قسم کا کیڑا) اور چھپکلیوں کا خون ناپاك ہے۔ (ت)
میں کہتا ہوں ان فقہاء نے مطلق چھپکلی کو ذکر کیا ہے حالانکہ مراد خاص خون والی ہے اگر اس کے خون کے بارے میں شك ہوتا تو پھر ان کو اطلاق کی گنجائش نہ ہوتی جیسا کہ امام فقیہ النفس نے فرمایا۔ (ت)
فتاوٰی صاحبِ۹ بحرالرائق میں ہے :
سئل عن دم الوزغ ھل ھو طاھر ام نجس اجاب ھو نجس[6] والله تعالٰی اعلم۔
ان سے چھپکلی کے خون کے بارے میں پوچھا گیا کہ کیا وہ پاك ہے یا نجس ، تو انہوں نے جواب دیا وہ نجس ہے والله تعالٰی اعلم۔ (ت)
مراقی الفلاح ۱۰ میں ہے :
سؤر سواکن البیوت ممالہ دم سائل کالحیۃ والوزغۃ مکروہ للزوم طوافھا وحرمۃ لحمھا النجس [7] اھ۔
بہنے والے خون کے حامل گھروں میں رہنے والے جانوروں جیسے سانپ اور چھپکلی کا جھوٹا مکروہ ہے ان کے حرام گوشت کی نجاست اور ان کے لازمی طواف (گھر میں چلنے پھرنے) کی بناء پر یہ حکم ہے۔ (ت)
[1] ردالمحتار مطلب فی السؤر مصطفی البابی مصر ۱ / ۱۶۴
[2] فتاوٰی قاضی خان فصل فی النجاسۃ التی تصیب الثوب نولکشور لکھنؤ ۱ / ۱۰
[3] فتاوٰی ہندیۃ الاعیان النجاسۃ پشاور ۱ / ۴۶
[4] خزانۃ المفتین
[5] فتح القدیر باب الانجاس وتطہیرہا سکھر ۱ / ۱۸۳
[6] فتاوٰی ابن نجیم علی حاشیۃ فتاوٰی غیاثیۃ مکتبہ اسلامیہ کوئٹہ ص۶
[7] مراقی الفلاح مع الطحطاوی بولاق مصر ص۱۹
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع