دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 3 | فتاوی رضویہ جلد ۳

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۳

جبکہ اس چہ بچے میں پانی زیادہ گرتا اور ہر وقت جاری رہتا ہے تو اس کا پانی پاك ہے پیچك کہ اُس میں گر کر کنویں میں گری کنواں ناپاك نہ ہوا بلالکہ غسل کا پانی خود بھی پاك ہے جب تك کوئی نجاست نہ دھوئی گئی ہو ہندو کے بدن پر اگر کوئی نجاست حقیقی نہ تھی کُنواں ناپاك نہ ہوا مگر احتیاطًا کُل پانی نکالیں کما یظھر بالمراجعۃ الٰی ردالمحتار والوھبانیۃ وغیرھما والله تعالٰی اعلم (جیسا کہ ردالمحتار اور وہبانیہ وغیرہ کی طرف رجوع کرنے سے ظاہر ہے۔ ت)

مسئلہ ۷۴ : ازشہر کہنہ مرسلہ امجد علی خان وتلن خان ۳ محرم الحرام ۱۳۱۴ھ

جناب مولوی صاحب دام ظلہ۔ بعد سلام نیاز کے عرض ہے کہ اسی مضمون کا ایك سوال کل آپ کے پاس آیا تھا لیکن اس کے لکھنے میں کچھ فروگذاشت ہوگیا تھا اور مفتی سے جو سوال کیا جاتا ہے اس کا جواب دیتا ہے لہذا ہوہو جو حال تھا اس میں لکھ دیا اس کو ملاحظہ کرکے لکھ دیجئے ایك چوبچّہ زیر غسل خانہ سواگز طول بارہ گرہ چوڑا بارہ گرہ عمیق ہے اور آٹھ گرہ اونچائی پر اُس میں سوراخ لوٹے کی ٹونٹی کے برابر ہے اور چوبچہ میں پانی جنابت اور غیر جنابت غسل کا اور وضو کا اور کنویں پر جو بہشتی بھرتے ہیں اُن کا گرا ہوا اور سقاوے میں برائے وضو جو لوٹوں میں بھرتے وقت تھوڑا سا گرتا ہے اور استنجا چھوٹا اور بڑا اور ایسے جنب جن کے نجاست لگی ہو اُن کے غسل کا یہ سب پانی چوبچہ میں آتا ہے اور جب آٹھ گرہ سے زیادہ اونچا پانی اُس میں ہوجاتا ہے تو نکلنا شروع ہوتا ہے ورنہ اُس میں ٹھہرا رہتا ہے اور رنگ بُو پانی کا تبدیل نہیں ہوا ہے لیکن اُس چوبچہ کے پانی میں بُو بھی آتی ہے اور مزہ کسی نے چکھا نہیں ہے تو ان صورتوں میں اُس چوبچہ کا پانی پاك ہے یا ناپاك اور پاك ہے تو کس قسم کا اور ایك پیچك اسی چوبچہ میں ڈال کر کنویں میں ڈالی تھی تو کنواں پاك رہا یا ناپاك اور اگر ناپاك ہوا تو کس قدر ڈول نکلیں گے۔

الجواب :

شرع مطہر میں مدار نجاست علم پر ہے اور مدار طہارت نامعلومی نجاست پر۔ جس چیز کی نجاست معلوم نہیں وہ پاك ہے سقا وسقایہ و وضو وغسل بے جنابت وغسل جنابت سب کے پانی پاك ہیں اور استنجا ۱  جب ڈھیلے سے کرلیا جائے تو اصح مذہب پر طہارت ہوجاتی ہے اور اب جو پانی سے استنجا کریں تو وہ ناپاك نہیں ہوتا جبکہ نجاست نے مخرج جسے تجاوز نہ کیا ہو ،

فان الشرع قداعتبر الاحجار مطھرۃ لما علی المخرج دفعا للحرج علی خلاف القیاس فی سائر البدن [1]   کماقررہ فی الحلیۃ من اٰداب الوضوء فما جاوزہ اعنی المخرج                   

پاخانہ اور پیشاب کے مقام پر اگر نجاست صرف سوراخ (مخرج) تك محدود ہے تو شریعت نے اس حد تك طہارت کے لئے ڈھیلے کے استعمال کو معتبر قرار دیا ہے ، شریعت کا یہ حکم خلاف قیاس ہے اس سے

لایطھر بالحجر وانما یجف فاذا لاقی ماء قلیلا افسدہ ھذا ھو التحقیق الذی حصل للعبد الضعیف بمطالعۃ کلمات کثیرۃ شدیدۃ الاضطراب کماذکرتہ فیما علقتہ علی ردالمحتار ثم کون الاستجمار مطھرا قد استدل لہ فی الفتح بما رواہ الدار قطنی وصححہ انہ صلی الله تعالٰی علیہ وسلم نھی ان یستنجی بروث اوعظم وقال انھما لایطھران [2] وتبعہ فی البحر وایدہ فی النھر وقال فی جامع الرموز ھو الاصح ،

اقول  :  واخرج الطبرانی فی الکبیر بسند حسن عن خزیمۃ بن ثابت رضی الله تعالٰی عنہ قال قال رسول الله صلی الله تعالٰی علیہ وسلم من استطاب بثلثۃ احجار لیس فیھن رجیع کن لہ طھور [3] فھذا نص بحمدالله صریح فی المقصود وقد قال العلماء کما فی الغنیۃ وغیرھا انہ لایعدل عن درایۃ ماوافقتھا  روایۃ [4] فکیف اذا کان ثم اختلاف تصحیح فعلی ھذا القول فلیکن التعویل وبالله التوفیق۔                                           

مقصد عوام سے حرج وتنگی ختم کرنا ہے ، جیسا کہ حلیہ کے آدابِ وضو میں اس کو بیان کیا ہے۔ پس وہ نجاست جو مخرج کی حد سے تجاوز کر جائے وہ ڈھیلے سے پاك نہ ہوگی بلالکہ وہ ڈھیلے کے استعمال سے خشك ہوجائے گی اور جب وہاں پانی لگے گا تو وہ جگہ ناپاك ہوجائے گی ، باہم مختلف کثیر عبارات کے مطالعہ سے اس ضعیف بندے کو یہی تحقیق حاصل ہوئی ہے ، جیسا کہ میں نے ردمحتار پر تعلیقات میں ذکر کیا ہے ، پھر ڈھیلے کا استعمال طہارت کا ذریعہ ہے ، اس پر فتح القدیر میں اس حدیث کو دلیل بنایا جس کو دارقطنی نے روایت کیا اور اس کو صحیح قرار دیا کہ حضور عَلَیْہِ الصَّلَاۃُ وَالسَّلَام نے گوبر اور ہڈی سے استنجاء کرنے کو منع فرمایا اور فرمایا کہ دونوں چیزیں پاك کرنے والی نہیں ہیں ، بحر میں اس کی اتباع کی اور نہر میں اس کی تائید کی ہے ، جامع الرموز میں اس کو اصح کہا۔

 میں کہتا ہوں طبرانی کبیر میں مصنف نے حسن سند کے ساتھ حضرت خزیمہ بن ثابت رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت کی ہے کہ حضور عَلَیْہِ الصَّلَاۃُ وَالسَّلَام نے فرمایا جس نے صفائی کیلئے تین ڈھیلے استعمال کئے اور ان میں گوبر نہ ہو تو ان سے طہارت حاصل ہوجائےگی ، یہ حدیث صریح نص ہے جس میں مقصد واضح ہوتا ہے۔ اور علماء نے فرمایا جیسا کہ غنیہ وغیرہا میں ہے کہ جو استدلال سے ثابت ہو وہ روایت سے ثابت شدہ کے مساوی نہیں ہوسکتا خصوصًا جب ہاں تصحیح میں بھی اختلاف ہو تو کیسے مساوی ہوگا۔ لہذا اس قول پر اعتماد ہونا چاہئے الله تعالٰی سے توفیق ہے۔ (ت)

اور غسل خانے میں جو نجاست پیش از غسل دھوئی گئی اگر ابھی اُس کا پانی چہ بچہ میں نہ پہنچا تھا کہ اُس کے بعد غسل کیا اور یہ کہ پاك پانی اُسے بہا کر لے گیا تو زمین بھی پاك ہوگئی اور پانی بھی پاك رہا۔

فی ردالمحتار فی الذخیرۃ لواصابت الارض نجاسۃ فصب علیھا الماء فجری قدر ذراع طھرت الارض والماء طاھر بمنزلۃ الجاری [5] ۔

ردمحتار میں ہے کہ ذخیرہ میں بیان کیا ہے کہ اگر زمین پر نجاست ہو تو جب اس پر پانی بہایا گیا اور وہ پانی ایك ہاتھ گز (ذراع) تك جاری ہوا تو زمین پاك ہوجائےگی اور پانی بھی جاری پانی کی طرح پاك ہوجائےگا۔ (ت)

اور اگر آب نجس چہ بچہ میں پہنچ گیا تھا اُس کے بعد پاك پانی غسل و وضو وغیرہما کا بہتا آیا اور اس نے چہ بچہ کو جاری کردیا تو سارا پانی کہ چہ بچہ میں تھا پاك ہوگیا۔

فی ردالمحتار والعرف الاٰن انہ متی کان الماء داخلا من جانب وخارجا من جانب اٰخر یسمی جاریا وان قل الداخل وبہ یظھر الحکم فی برك المساجد ومغطس الحمام مع انہ لایذھب بتبنۃ [6] ۔

رد محتار میں ہے اور اب عرف یہ ہے کہ اگر پانی ایك جانب سے داخل ہو اور دوسری جانب سے خارج ہو تو اس کو جاری کہتے ہیں اگرچہ داخل ہونے والا قلیل ہو ، اس سے مسجد کی نالی اور حمام سے نکاسی کا حکم معلوم ہوا اس کے باوجود کہ وہ تنکے کو بہا کر نہیں لے جاتا۔ (ت)

اور پانی میں ٹھہرنے سے بھی بُو آجاتی ہے یہ خواہی نخواہی مستلزم نجاست نہیں جب تك نجس چیز کے سبب بُو میں تغیر نہ آیا ہو۔ غرض اس چہ بچہ میں اکثر اوقات زیادہ احتمالات طہارت کے ہیں اور بعض وقت ایك احتمال نجاست کا پس اگر ثابت ومتحقق ہو کہ جس وقت پیچك اُس میں گری اُس سے پہلے کسی شخص نے کوئی نجاست حقیقیہ دھوئی تھی اور تنہا اُسی کا پانی چہ بچہ میں آیا ہوا تھا اور اس کے بعد پاك پانی نے آکر اُسے بہانہ دیا تھا جب تو اس صورت خاص میں کنویں کی نجاست اور کُل پانی نکالنے کا حکم دیا جائے گا اور اگر اُس کا ثبوت تحقیقی طور پر نہیں تو چہ بچہ پیچك کنواں سب پاك ہیں احتمال سے کچھ نہیں ہوتا بلالکہ پاکی کیلئے ایك احتمال طہارت کافی ہے نہ کہ جہاں غالب وہی ہو۔

فی ردالمحتار قال فی البحر وقیدنا بالعلم لانھم قالوا فی البقر ونحوہ یخرج حیا لایجب نزح شیئ وان کان الظاھر اشتمال بولھا علی افخاذھا لکن یحتمل طھارتھا بان سقطت عقب دخولھا ماء کثیرا مع ان الاصل الطھارۃ اھ۔  ومثلہ فی الفتح [7] اھ۔  والله تعالٰی اعلم۔                                                 

 



[1]   حلیہ

[2]   فتح القدیر ۔ فصل فی الاستنجاء  مکتبہ نوریہ رضویہ سکھّر  ۱ / ۱۸۹

[3]   المعجم الکبیر عن خزیمۃ بن ثابت  حدیث ۳۷۲۹  المکتبۃ الفیصلیۃ بیروت  ۴ / ۸۷

[4]   غنیۃ المستملی شرح منیۃ المصلی  الثامن تعدیل الارکان  سہیل اکیڈمی لاہور  ص۲۹۵

[5]   ردالمحتار  باب المیاہ  مصطفی البابی مصر  ۱ / ۱۳۸

[6]   ردالمحتار  باب المیاہ  مصطفی البابی مصر  ۱ / ۱۳۸

[7]   ردالمحتار  فصل فی البئر  البابی مصر  ۱ / ۱۵۶

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن