دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 3 | فتاوی رضویہ جلد ۳

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۳

الجواب :

طاہر ہے مطلقًا اگرچہ گل گیا ہو ،

فی التنویر شعرالمیتۃ وعظمھا وعصبھا طاھر[1]  اھ ملتقطا

اقول :  وھذا فی العصب علی المشھورکما فی الدروکذا علی خلافہ اعنی روایۃ نجاسۃ عصب المیتۃ اذلا علم بان الواقع فی البئر ھو عصب المیتۃ دون المذبوح والیقین لایزول بالشك [2] والله تعالی اعلم۔                                                                                                                       

تنویر میں ہے کہ مردار کی ہڈی ، بال اور پٹھّے پاك ہیں اھ ملتقطا۔ میں کہتا ہوں کہ یہ حکم مردار کے پٹھوں کے بارے میں مشہور قول پر مبنی ہے جیسا کہ دُر میں ہے اور اگر اس کے خلاف کا لحاظ کیا جائے یعنی مردار کے پٹھوں کو نجس والی روایت ، تو بھی حکم یہی ہوگا (کہ پانی پاك ہوگا) کیونکہ کنویں سے نکلنے والے پٹھے کے بارے میں معلوم نہیں کہ مردار کا ہے یا ذبح شدہ جانور کا ہے تو یہ شك یقین کو زائل نہیں کرے گا ، والله تعالٰی اعلم (ت)

مسئلہ ۶۹ : چہ میفر مایند علمائے دین ومفتیان شرع متین ایك ہندو نے ایك چیز ناپاك سے کنویں کو ناپاك کردیا یعنی نال بچّہ آدمی کا کنویں میں ڈال دیا اور بدون معلوم ناپاکی کے دو تین روز مسلمانوں اور ہندؤوں نے پانی اُس کنویں کا پیا اور کھانے پکانے کے صرف میں لائے تو اس صورت میں اُن لوگوں کے ایمان میں کچھ خلل ہوا یا نہیں اور ڈالنے والے کے واسطے کیا سزا ہے اور پینے والے لوگ کس طرح طاہر ہوں اور کنواں کس طرح پر پاك کیا جائے۔ بینوا توجروا۔

الجواب :

صورتِ مسئولہ میں بعد نکالنے نجاست کے سب پانی اُس کنویں کا نکال ڈالیں اور اگر نال کے کنویں میں گرنے کا وقت معلوم ہوکہ اُس نے فلاں روز فلاں وقت ڈالا تو اُس وقت سے کنواں ناپاك قرار پائے گا اور اس مدت میں جن شخصوں نے اُس سے وضو کیا وہ اپنے اعضائے وضو اور جو نہائے ہوں وہ تمام بدن پاك کریں اور اتنے دنوں کی نمازیں پھیریں اور جن کپڑوں کو وضو کرتے میں یا کسی طرح وہ پانی درم برابر جگہ میں لگ گیا ہو وہ پاك کئے جائیں اور اُس پانی سے جو کھانا پکایا گیا اس کا بقیہ کتّوں کو ڈال دیں اور برتن پاك کریں اور جن لوگوں نے اتنے دنوں نادانستہ وہ پانی پیا اور اُس سے کھانا پکا کر کھایا اُن پر کوئی گناہ نہیں ، نہ ان کے ایمان میں خلل آیا۔ یہ سب باتیں اُس صورت میں ہیں کہ اُس کے گرنے کا دن اور وقت معلوم ہو اور جو یہ امر متحقق نہ ہوسکے تو کُنواں اُسی وقت سے ناپاك ٹھہرے گا جب سے وہ نال اس میں دیکھا گیا اس سے پہلے کے وضو اور غسل اور نمازیں سب درست اور بدن اور برتن اور کپڑے سب پاك ہاں بعد نکلنے کے اگر کسی نے بے خبری میں وضو یا غسل کیا اور اس سے نماز پڑھی یا اس کے کپڑوں یا برتنوں کو وہ پانی لگا تو وہ اپنے بدن برتن کپڑے پاك کرے اور اُس نماز کو پھیرے اور ڈالنے والا شرعًا قابل سزا وتعزیر ہے والله تعالٰی اعلم۔

مسئلہ ۷۰ :     یکم رجب ۱۳۱۱ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك کُنویں میں پُھکنا گر گیا اُس وقت اُس میں پیشاب نہ تھا بلالکہ بچّے اُس میں پھُونك رہے تھے اُن کے ہاتھ سے گر گیا یہ معلوم نہیں کہ گائے کا ہے یا بھینس کا پھکنا نکال لیا گیا اب کُنویں کی نسبت کیا حکم ہے۔ بینوا توجروا۔

الجواب :

کنواں پاك ہے کہ مذبوح جانور ماکول اللحم کا پھکنا بالاتفاق اپنی ذات میں تو کوئی نجاست نہیں رکھتا ،

فی الدرالمختار کل اھاب ومثلہ المثانۃ والکرش دبغ طھر وفی التنویر وماطھر بہ طھر بذ کا ۃ [3]۔

درمختار میں ہے ہر چمڑہ اور ایسے ہی مثانہ اور گُردے جب رنگ دیے جائیں تو پاك ہوجاتے ہیں اور تنویر میں ہے جو اس طرح پاك ہوجاتے وہ ذبح سے بھی پاك ہوجاتے ہیں۔ (ت)

یہاں اگر ذبح ہونا معلوم نہیں تو مُردار سے ہونا بھی معلوم نہیں ،

والیقین لایزول بالشك [4]  اقول والمحل محل الطھارۃ والنجاسۃ دون الحل والحرمۃ فافھم۔

اور یقین ، شك کی وجہ سے زائل جنہیں ہوتا ، میں کہتا ہوں اور یہ محلِ طہارت ہے اور نجاست حلال وحرام کا محل نہیں ہے فافہم (ت)

رہا یہ کہ اس میں پیشاب ہوتا ہے اور عادۃً اُسے پاك کرنے کے طور پر دھویا نہیں جاتا تو اس کے باطن میں وہ رطوبت بدستور لگی رہی یہ یہاں کچھ مضر نہیں کہ پھکنا معدنِ بول ہے اور نجاست جب تك اپنے معدن میں ہو اُسے حکمِ نجاست نہیں دیا جاتا اُس کے جوف میں کوئی ناپاك شے نہ تھی۔ غنیہ میں ہے :

(۱) السخلۃ اذا وقعت من امھا ،  رطبۃ فی الماء لاتفسدہ کذا فی کتب الفتاوٰی

بکری کا بچّہ اگر پیدا ہوتے ہی پانی میں گِر جائے تو پانی نجس نہ ہوگا۔ کتبِ فتاوٰی میں ایسے ہی ہے

وھذا لان الرطوبۃ التی علیھا لیست بنجسۃ لکونھا فی محلھا [5]  اھ اقول مقصودنا الاستشھاد بما فی التعلیل افاد اما المسألۃ فمبنیۃ علی قولھما بنجاسۃ رطوبۃ الفرج اما (۱) عندہ رضی الله تعالٰی عنہ وعنھما فطاھرۃ۔

ثم اقول :  (۲) ولی فیہ نظر فان جلد السخلۃ لیس محل تلك الرطوبۃ بل رحم امھا ومنھا اصابتہ ثم (۳) یعکر علی حکم ھذہ المسألۃ ومسألۃ المثانۃ وامثالھما انھا لیست نجسۃ مادامت فیھا فاذا انتقلت صارت نجسۃ والماء اذا اصابھا اودخلھا فلاشك ان الرطوبۃ تنتقل منھا الیہ فکیف لایحکم بنجاسۃ لاختلاطہ بماھو نجس الاٰن وان لم یکن محکوما بالنجاسۃ قبل الاتری ان (۴) دم الشھید طاھر مادام علیہ فتجوز صلاۃ حاملہ لکن ان اصابہ اوثوبہ قدر مانع من دمہ لم تجز لحصول الانفصال والانتقال کذا ھذا فھذا مایقتضیہ النظر ولکن الحکم دوار فی الفتاوٰی ولم ارمن تعرض لہ فتأمل وحرر لعل الله یحدث بعد ذلك امرا۔  والله تعالی اعلم۔                                         

یہ اس لئے کہ بچّے پر جو رطوبت ہے وہ ناپاك نہیں کیونکہ ابھی تك یہ نجاست اپنے محل میں ہے اھ میں کہتا ہوں کہ اس عبارت کا مقصد صرف علّت کیلئے مفید امر پر استشہاد پیش کرنا ہے لیکن اصل مسئلہ صاحبین کے اس قول پر مبنی ہے کہ فَرج (شرمگاہ) کی رطوبت نجس ہے مگر امام صاحب اور ایك روایت میں صاحبین کے نزدیك یہ رطوبت پاك ہے۔ (ت)

پھر میں کہتا ہوں کہ مجھے یہاں اعتراض ہے کیونکہ بکری کے بچّے کی کھال اس رطوبت کا محل نہیں ہے بلالکہ اس کا محل تو اس کی ماں کا رحم ہے وہاں سے بچّے کو رطوبت لگی ہے پھر دوبارہ اعتراض اس مسئلہ سمیت مثانہ وغیرہ کے مسئلہ پر ہے کہ یہ اُس وقت تك نجس نہ ہوں گے جب تك یہ اپنے مقام میں ہیں لیکن جب وہاں سے منتقل ہوجائیں تو نجس ہوجائینگے اور ان کو پانی لگے یا اس میں پانی داخل ہو تو لازمًا ان کی رطوبت پانی میں منتقل ہوگی تو پھر کیسے پانی



[1]   الدرالمختار باب المیاہ  مجتبائی دہلی ۱ / ۳۸

[2]   غنیۃ المستملی  فصل فی البئر  سہیل اکیڈمی لاہور  ص۱۶۰

[3]   الدرالمختار باب المیاہ  مجتبائی دہلی ۱ / ۳۸

[4]   غنیۃ المستملی  فصلی فی البئر  سہیل اکیڈمی لاہور  ص۱۶۰

[5]   غنیۃ المستملی باب الانجاس سہیل اکیڈمی لاہور  ص۱۵۰

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن