30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
میں کہتا ہوں کہ یہاں جس درہم کا ذکر کیا گیا ہے وہ شرعی درہم نہیں جس میں سات کا وزن معتبر ہے (یعنی دس درہم بمقابلالہ سات مثقال) اس کی دلیل یہ ہے کہ انہوں نے اِستار کے حساب میں ساڑھے چار (۲ / ۱ -۴) مثقال کو ساڑھے چھ (۲ / ۱ -۶) دراہم کے برابر ذکر کیا ہے اور اگر سات کا وزن مراد ہوتا تو پھر ساڑھے چار (۲ / ۱ -۴) مثقال کے برابر ساڑھے چھ (۲ / ۱ -۶) کی بجائے چھ دراہم اور ایك درہم کے تین ساتویں حصے (۷ / ۳ -۶) کہا جاتا نیز اگر من دوسوساٹھ۲۶۰ دراہم کا سات کے وزن پر ہوتا تو ایك سو بیاسی۱۸۲ مثقال مَن کی مقدار میں بیان کیا جاتا حالانکہ انہوں نے ایك سو بیاسی۱۸۲ مثقال کی بجائے ایك سو اسّی۱۸۰ مثقال کہا جو کہ حساب دان پر مخفی نہیں۔ (ت)
وبہ علم بحمدالله تعالی (۱) ان ماوقع من العلامۃ الشامی حیث قال بعد مامر ثم اعلم ان الدرھم الشرعی اربعۃ عشر قیراطا والمتعارف الاٰن ستۃ عشر فاذا کان الصاع الفا واربعین درھما شرعیا یکون بالدرھم المتعارف تسعمائۃ وعشرۃ [1] الخ خلط بین اصطلاحین فان الصاع انما یکون الفا واربعین بالدرھم المذکور ھنا لان الصاع ثمانیۃ ارطال والرطل عشرون استارا والاستار بھذہ الدراھم ستۃ ونصف فاذا ضربت عشرین فی ستۃ ونصف کان الرطل مائۃ وثلثین درھما بضربھا فی ثمانیۃ یحصل الف واربعون والدرھم الذی ھو اربعۃ عشر قیراطا انما ھو الدرھم الشرعی المعتبر بوزن سبعۃ کما فی الدرالمختار وغیرہ فتنبہ لھذا واترك الدراھم وحاسب بمالایختلف وھو المثقال فانہ اربع ونصف (۲) ماسۃ فالاستار طولجۃ وثمان ماسات وربع ای حبتان فالرطل ثلث وثلثون طولجۃ وتسع ماسات کماذکرنا وبالله التوفیق۔
مذکور وضاحت سے معلوم ہوا کہ علامہ شامی نے اپنی مذکورہ بالا عبارت کے بعد جہاں یہ فرمایا کہ “ جاننا چاہئے کہ شرعی درہم چودہ قیراط کا ہوتا ہے حالانکہ اب سولہ قیراط والا متعارف ہوا پس جب صاع کو ایك ہزار چالیس (۱۰۴۰) شرعی دراہم کا قرار دیا جائے تو متعارف درہم کے حساب سے صاع نوسودس (۹۱۰) دراہم کا ہوگا “ الخ۔ اس میں علامہ نے دونوں اصطلاحوں میں خلط کردیا ہے کیونکہ صاع کا حساب ایك ہزار چالیس (۱۰۴۰) دراہم اس وزن سے بنتا ہے جس کو علامہ شامی نے خود اوپر یہاں ذکر کیا ہے کیونکہ جب صاع آٹھ رطل ، اور رطل بیس۲۰ استار ، اور اِستار اس درہم کے حساب سے ساڑھے چھ (۲ / ۱ -۶) درہم بنتا ہے تو جب بیس۲۰ کو ساڑھے چھ (۲ / ۱ -۶) میں ضرب دیں تو رطل ایك سو تیس(۱۳۰) درہم کا ہوگا جب اس کو آٹھ سے ضرب دیں تو ایك ہزار چالیس(۱۰۴۰) بنے ، اور جو درہم چودہ قیراط ہے وہ شرعی ہے جس میں سات والا وزن معتبر ہے جیسا کہ درمختار وغیرہ میں ہے۔ لہذا تم سمجھو اور دراہم کا حساب چھوڑ کر مثاقیل کے حساب کا اعتبار کرو جو مختلف نہیں ہوتا۔ پس مثقال ساڑھے چار (۲ / ۱ -۴) ماشہ جبکہ اِستار ایك تولہ آٹھ ماشے دو۲ رتی ہوگا۔ اس طرح رطل تینتیس (۳۳) تولہ نوماشہ ہوگا جیسا کہ ہم$&'); container.innerHTML = innerHTML; }
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع