30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
مردار ست چوں پوست مردار ازدباغت پاك شودچرم غیر الله نیز ازدباغت شود ایں چنین بحث وتکرار ہنوزپایان نرسید لہذا بخدمت اقدس حضرت عرض اینست کہ خریدوفروخت قبل یابعد دباغت پوست ذبیحہ غیر الله درست ست یانہ مع دلیل بحوالہ کتاب رقم درزیدہ ودستخط بالمہر عنایت سازند وعندالله اجر جزیل وصول نمایند۔
حضرت قبلہ مولانا فاضل مجھ پر آپ کی مہربانی ہوگی آپ کا کیا ارشاد ہے اس مسئلہ میں کہ میرے علاقہ میں شاہ کمال کے نام سے ایك درگاہ شریف ہے وہاں دُور دُور سے لوگ آکر نذر ونیاز کے طور پر گائے یا بکری لاکر بسم الله پڑھ کر ذبح کرتے ہیں وہاں کے خادم ذبح کرنے کے فورًا بعد اس کا چمڑا اتارتے ہیں اور رنگنے سے قبل یا بعد فروخت کرتے ہیں اورر اس سے ان کی گزراوقات ہوتی ہے۔ اس علاقہ کے کچھ مولوی حضرات کہتے ہیں کہ غیر الله کے جانور کے چمڑے سے نفع جائز نہیں ہے اگرچہ ذبح کے وقت الله تعالٰی کا نام پڑھا جائے ، اور بعض علماء کرام فرماتے ہیں کہ بلاشبہ جائز ہے کیونکہ اگر یہ جانور مردار کی طرح حرام بھی ہو تو اس کا چمڑا (دباغت) رنگنے سے پاك ہوجاتا ہے۔ یہی بحث وتکرار جاری ہے لہذا آپ کی خدمت میں عرض ہے کہ غیر الله کے ذبیحہ کا چمڑا رنگنے سے پہلے یا بعد فروخت کرنا جائز ہے یا نہیں دلیل اور حوالہ کتاب لکھیں اور دستخط ومہُر لگائیں اور الله کے ہاں بھاری اجر حاصل کریں۔
الجواب :
آں چرمہا بنفس ذبح پاك میشودہیچ حاجت دباغت ندار د خرید وفروخت واستعمال آنہما مطلقًا رواست مسلمانان۱ جانوران کہ برائے اولیائے کرام قدست اسرار ہم ذبح میکنندز نہار عبادت غیر نمی خواہند ایں بدگما نی شدید ست وبدگمانی
ازطریق اسلامی بعید قال الله تعالیٰ یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اجْتَنِبُوْا كَثِیْرًا مِّنَ الظَّنِّ٘-اِنَّ بَعْضَ الظَّنِّ اِثْمٌ[1]وقال رسول الله صلی الله تعالٰی علیہ وسلم ایاکم والظن فان الظن اکذب الحدیث[2] درمختار فرمود انالانسی الظن بالمسلم انہ یتقرب الی الاٰدمی بھذا النحر [3] و ردالمحتار ست ای علی وجہ العبادۃ لانہ المکفر وھذا بعید من حال المسلم[4]۔
باز اگر گیرم کہ بعض آرند گانِ جہاں ، ہمچنان خواشند اگر ذابح برائے۲ خدا ذبح کردونام اوعزو علاگرفت حلال شد کہ اعتبار نیت وقول ذابح راست کما حققناہ فی رسالتنا الصغیرۃ حجما الکبیرۃ یہ چمڑے صرف ذبح کرنے سے ہی پاك ہوجاتے ہیں خریدوفروخت یا دیگر استعمال کیلئے رنگنا ضروری نہیں ہے مسلمان جن جانوروں کو اولیاء الله کیلئے ذبح کرتے ہیں اس سے ان کا مقصد یانیت ہرگز غیر الله کی عبادت نہیں ہوتی یہ بہت بڑا بہتان ہے جو مسلمانوں پر لگایا جاتا ہے اور اسلام میں بدگمانی ناجائز ہے۔ الله تعالٰی نے فرمایا اے مومنو! بدگمانی سے بچو اور بدگمانی گناہ ہے۔ اور رسول الله صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے فرمایا کہ بدگمانی سے بچو کیونکہ یہ جھوٹی بات ہے۔ اور درمختار میں فرمایا ہے کہ ہم مسلمانوں کے بارے میں بدگمانی نہیں کرسکتے وہ اس ذبح سے غیر الله کے تقرب اور عبادت کی نیت کرتا ہے۔ اور ردالمحتار میں ہے کہ عبادت کے بارے میں گمان نہیں ہوسکتا کیونکہ اس گمان سے مسلمانوں کو کافر بنانا ہے اور مسلمان سے یہ بات بعید ہے۔ اور اگر فرض بھی کرلیا جائے کہ دنیا میں کوئی ایسا واقعہ ہے تو بھی جب ذبح کرنے والے نے اس پر الله تعالٰی کا نام پڑھ لیا تو وہ جانور حلال ہوجاتا ہے کیونکہ ذبح کرنے والے کی نیت اور قول کا اعتبار ہوتا ہے ، جیسا کہ ہم نے نفعا ان شاء الله تعالٰی سیل الاصفیاء فی حکم الذبح للاولیاء ومولٰی سبحنہ وتعالٰی در قرآن عظیم فرماید وَ مَا لَكُمْ اَلَّا تَاْكُلُوْا مِمَّا ذُكِرَ اسْمُ اللّٰهِ[5] شمارا چیست کہ نخورید
ازانچہ برآں نام خدا گرفتہ شدہ است۔ واگرازیں ہم گزریم وفرض کنیم کہ ذابح معاذ الله بہ نیت عبادت غیر کشت ومرتد گشت تاازینہم آنچہ لازم آید حرمت ذبیحہ است نہ نجاست پوست کہ نزد امام قاضی خان مذہب(۱) ارجح آنست کہ ذبح مطلقًا تطہیر جلد میکند اگرچہ ذابح مرتد یا مجوسی باشد۔ دربحرالرائق ست قد قدمنا عن معراج الدرایۃ معزیا المجتبی ان ذبیحۃ المجوسی وتارك التسمیۃ عمدا توجب الطھارۃ علی الاصح وان لم یکن ماکولا وکذا نقل صاحب المعراج فی ھذہ المسئلۃ الطھارۃ عن القنیۃ ایضا ھنا ویدل علی ان ھذا ھو الاصح ان صاحب النھایۃ ذکر ھذا الشرط بقیل معزیا الی فتاوی قاضی خان[6]
درفتاوائے امام اجل قاضی خان فخرالدین او زجندی ست مایطھر جلدہ بالدباغ یطھر لحمہ بالذکاۃ ذکرہ شمس الائمۃ الحلوانی رحمہ الله تعالٰی وقیل یجوز بشرط ان تکون الذکاۃ من اھلھا فی محلھا
اس کو ایك چھوٹے رسالے میں ثابت کیا ہے اگرچہ وہ رسالہ فائدہ میں اِن شاء الله بڑا ہے اس کا نام “ سیل الاصفیاء فی حکم الذبح للاولیاء “ ہے الله تعالٰی نے قرآن پاك میں فرمایا ہے تمہیں کیا ہوا کہ جس پر الله تعالٰی کا نام ذکر کیا گیا تم اس کو نہیں کھاتے۔ اس کو بھی اگر چھوڑیں اور ہم فرض کرلیں کہ معاذالله کہ ذبح کرنے والے نے غیر الله کی عبادت کی نیت سے جانور کو کاٹا اور وہ مرتد ہوگیا تب بھی جانور حرام ہوگا مگر اس کا چمڑا نجس نہ ہوگا ، امام قاضی خان کے نزدیك راجح بات یہی ہے کہ ذبح مطلقًا چمڑے کو پاك کردیتا ہے خواہ ذبح کرنے والا مرتد یا مجوسی ہو۔ بحرالرائق میں ہے کہ مجتبیٰ کی طرف منسوب کرتے ہوئے ہم نے معراج الدرایہ سے پہلے نقل کیا ہے کہ مجوسی یا قصدًا بسم الله نہ پڑھنے والے کا ذبیحہ بھی پاك ہے اگرچہ وہ کھانے کیلئے حرام ہے ، یہی صحیح ہے نیز صاحبِ معراج نے بھی اس مسئلہ کو قنیہ سے نقل کیا اور کہا کہ پاك ہے۔ اس کے اصح ہونے پر یہ بات بھی دلالت کرتی ہے کہ صاحبِ نہایہ نے اس شرط کو قیل کے ساتھ ذکر کیا اور اس کو قاضی خان کی طرف منسوب کیا ہے۔ اور امام اجل قاضی خان فخرالدین اوزجندی کے فتاوٰی میں ہے کہ وہ جانور جس کا چمڑا رنگنے سے پاك ہوجاتا ہے ذبح کرنے سے اس کا گوشت پاك ہوجاتا ہے اس کو
وقد سمی [7] اھ
اقول : فافادبحکم المقابلۃ ان الذکاۃ فی القول الاول مطلقۃ ولوغیر شرعیۃ والمسألۃ فی اللحم تدل علی حکم الجلد بالاولی ففیہ ترجیحان لعدم اشتراط الشرعیۃ الاول ماذکر من ذکرہ القول الثانی بقیل والثانی انہ قدم الاول وھو انما یقدم الاظھر الاشھر کمانص علیہ فی خطبتہ فیکون ھو المعتمد کمافی الطحطاوی والشامی۔ اماقول الدر ھل یشترط لطھارۃ جلدہ کون ذکاتہ شرعیۃ قیل نعم وقیل لا والاول اظھر لان ذبح المجوسی وتارك التسمیۃ عمدا کلا ذبح [8] اھ فاقول نعم ذلك فی حق الحل اماطھارۃ الجلد فلا تتوقف علیہ وانما ھی لان الذبح یعمل عمل الدباغ فی ازالۃ الرطوبات النجسۃ [9] کما فی الھدایۃ بل لانہ یمنع من اتصالھا بہ والدباغ مزیل بعد الاتصال ولما کان الدباغ بعد الاتصال مزیلا ومطھرا
شمس الدین حلوانی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِتعالٰی نے ذکر کیا ہے اور یہ بھی کہا گیا بشرطیکہ ذبح کا عمل اپنے محل میں اہلیت والے شخص سے صادر ہو اور بسم الله بھی پڑھی ہو۔ (ت)
میں کہتا ہوں کہ حکم مقابلالہ سے یہ فائدہ حاصل ہوا کہ پہلے قول میں ذبح عام ہے خواہ غیر شرعی ہو ، اور گوشت کے حکم سے چمڑے کا حکم بطریق اولیٰ معلوم ہوا ، یہاں ذبح کیلئے شرع کی شرط نہ ہونے پر دو ترجیحات ہیں اوّل یہ کہ دوسرے قول کو قیل کے ساتھ ذکر کرنا ، اور دوسری یہ کہ پہلے قول کو مقدم ذکر کرنا کیونکہ وہ مشہور اور واضح قول کو پہلے لاتے ہیں جیسا کہ انہوں نے خود یہ بات اپنے خطبہ میں کہی ہے لہٰذا یہ پہلا قول قابلِ اعتماد ہے جیسا کہ طحطاوی اور شامی میں ہے۔ (ت)لیکن درمختار کا یہ قول کہ کیا چمڑے کے پاك ہونے کیلئے شرعی ذبح شرط ہے ، بعض نے کہا کہ ہاں اور بعض نے کہا نہیں۔ اور اول زیادہ ظاہر ہے کیونکہ مجوسی اور بسم الله کو قصدًا چھوڑنے والے کا ذبح کالعدم ہوتا ہے ، میں کہتا ہوں کہ ہاں حلال ہونے
[1] القرآن ۴۹ / ۱۲
[2] جامع للبخاری باب قول الله عزوجل من بعد وصیۃ یوصی من الوصایا قدیمی کتب خانہ کراچی۱ / ۳۸۴
[3] الدرالمختار کتاب الذبائح مجتبائی دہلی ۲ / ۲۳۰
[4] ردالمحتار کتاب الذبائح مصطفی البابی مصر ۵ / ۲۱۸
[5] القرآن ۶ / ۱۱۹
[6] بحرالرائق کتاب الطہارۃ سعید کمپنی کراچی ۱ / ۱۰۶
[7] فتاوٰی قاضی خان فصل فی النجاسۃ نولکشور لکھنؤ ۱ / ۱۰
[8] الدرالمختار باب المیاہ مجتبائی دہلی ۱ / ۳۸
[9] العنایۃ مع الفتح القدیر مطبوعہ سکھّر ۱ / ۸۳
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع