30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
نکل آئے کنواں پاك رہے گا اگرچہ اُن کے کُھر اور رانوں کا پیشاب وغیرہ میں ملوث نہ ہونا بعید ازقیاس ہے یہاں تك کہ فاسقوں بے نمازیوں بلالکہ کافروں کے پاجا مے پر بھی حکمِ نجاست نہیں دیتے صرف کراہت مانتے ہیں۔ سقّاوں کے بھرے ہوئے پانی میں تو ایسے ظنون بھی نہیں جس وقت وہ پانی لاکر برتنوں میں ڈالتے ہیں اُس وقت تو اُن کا ہاتھ پانی کی گزرگاہ پر ہوتا ہی نہیں ورنہ پانی کو برتن میں جانے سے روکے اور ادھر اُدھر بہائے دہانے سے پانی نکلتا ہے اور اُن کا ہاتھ مشك کے گلے پر ہوتا ہے مشک۲ بھرتے وقت جو بائیں ہاتھ سے اُس کا مُنہ کھولتے اور ڈول سے پانی ڈالتے ہیں اُس وقت وہ پانی جریان کی حالت میں ہوتا ہے جب تك مشك میں داخل ہو اس حالت میں تو اگر نجاست پر گزرے تو اُسے بھی پاك کرتا ہوا جائےگا۔ رہا داہنا ہاتھ اکثر تو ڈول کے نیچے دیکھا گیا ہے اور ڈول نکالتے ہیں تو اُس کی لکڑی پر ہاتھ رکھ کر اور بالفرض یہی ہو کہ اُس کے اندر ہاتھ ڈالا کرتے ہوں تو پہلے ڈول میں کہ ہاتھ ڈالا وہ ضرور مستعمل ہوگیا اگر اُس وقت بے وضو ہو نہ ہاتھ اس سے پہلے دُھلا ہو مگر ساتھ ہی دُھل گیا اب جو دُوسرے ڈول میں ڈالا وہ مستعمل نہ ہوا مشك تین ڈول سے کم کی نہیں ہوتی ایك ڈول مستعمل اس میں پہنچا اور دو یا زائد غیر مستعمل تو ساری مشك کا پانی طاہر ومطہر ہوگیا اور یہ احتمال کہ ممکن ہے کہ پہلے ڈول کے بعد دوسرے ڈول میں ہاتھ ڈالنے سے پہلے اُسے حدث واقع ہوا ہو ناقابلِ قبول ہے ایسے شاید ومحتمل پر عمل کیا جائے تو دین ودنیا دونوں کی عافیت تنگ ہوجائے غرض بہشتیوں کے ہاتھ کا بھرا ہوا پانی ضرور طاہر ومطہر ہے۔ رہیں عوام کی حرکات شریعت اُن پر اور سب پر حاکم ہے اُن کی بے پروائیں یا جہالتیں شرع پر حاکم نہیں ہوسکتیں یہ تو ایك سہل مسئلہ ہے جس میں بعض متأخرین علما کا خلاف بھی ملے گا۳ اجماعی فرائض وہ کہاں تك پُورا کرتے ہیں وضو میں کُہنیاں ، ایڑیاں ، کلائیوں کے بعض بالوں کی نوکیں اکثر خشك رہ جاتی ہیں اور یہ تو عام بلا ہے کہ منہ دھونے میں پانی ماتھے کے حصّہ زیریں پر ڈالتے ہیں اور اوپر بھیگا ہاتھ چڑھا کر لے جاتے ہیں کہ ماتھے کے بالائی حصّہ کا مسح ہوا نہ غسل اور فرض غَسل ہے نہ وضو ہوا نہ نماز غسل میں فرض ہے کہ پانی سونگھ کر ناك کے نرم بانسے تك چڑھایا جائے دریافت کر دیکھئے کتنے ایسا کرتے ہیں چُلّو میں پانی لیا اور ناك کی نوك کو لگایا استنشاق ہوگیا تو ہر وقت جُنب رہتے ہیں اُنہیں مسجد میں جانا تك حرام ہے نماز درکنار سجدے میں فرض ہے کہ کم ازکم پاؤں کی ایك انگلی کا پیٹ زمین پر لگا ہو اور ہر پاؤں کی اکثر انگلیوں کا پیٹ زمین پر جما ہونا واجب ہے۔ یوں ہی ناك کی ہڈی زمین پر لگنا واجب ہے بہتیروں کی ناك زمین سے لگتی ہی نہیں اور اگر لگی تو وہی ناك کی نوك یہاں تك تو ترك واجب گناہ اور عادت کے سبب فسق ہی ہُوا پاؤں کو دیکھیے اُنگلیوں کے سرے زمین پر ہوتے ہیں کسی انگلی کا پیٹ بچھا نہیں ہوتا سجدہ باطل نماز باطل اور مصلّی صاحب پڑھ کر گھر کو چل دیے قرأت۱ دیکھیے اتنی تجوید کہ حرف دوسرے سے صحیح ممتاز ہو فرض عین ہے بغیر اس کے نماز قطعًا باطل ہے عوام بےچاروں کو جانے دیجئے خواص کہلانے والوں کو دیکھیے کتنے اس فرض پر عامل ہیں میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا اور اپنے کانوں سے سُنا کن کو علماء کو مفتیوں کو مدرسوں کو مصنفوں کو قل ھو الله احد کی جگہ اھد پڑھتے ہوئے جمعہ میں یحسبون کل صیحۃ علیھم کی جگہ یعسبون ، ھُم العدو فاحذرھم کی جگہ فاعذرھم ، وھو العزیز الحکیم کی جگہ ھو العذیذ بلالکہ ایك صاحب کو الحمد شریف میں صراط الذین کی جگہ صراط اللظین۔ کس کس کی شکایت کیجئے یہ حال اکابر کا ہے پھر عوام بےچاروں کی کیا گنتی اب کیا شریعت ان کی بے پروائیوں کے سبب اپنے احکام منسوخ فرمادے گی نہیں نہیں ان الحکم الا لله ولاحول ولاقوۃ الا بالله العلی العظیم والله سبحنہ وتعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۶۰ : مرسلہ مولوی عبدالله صاحب از دوحد ضلع پنچ محال ملك گجرات مسجد غزنوی ۷صفر۳۵ہجری
تالاب کبیر میں اگر بُوٹی یا زراعت کثرت سے ہو جیسا کہ ایك جگہ کے پانی کی حرکت سے دوسری جگہ کا پانی حرکت نہ کرے تو اُس تالاب میں مقدار شرعی سے تھوڑی سی جگہ خالی کرکے کپڑے دھوئے جائیں تو پاك ہوسکتے ہیں یا نہیں بینوا توجروا۔
الجواب :
تالاب جبکہ کبیر ہے تو اس میں زراعت کا اتصال پانی کو قلیل نہ کرےگا تھوڑی جگہ اگر زراعت سے صاف کرلی گئی تو وہ بھی اسی کبیر کا ٹکڑا ہے اور اُسی کے حکم میں ہے جب تك نجاست سے رنگ یا مزہ یا بُو نہ بدلے ناپاك نہ ہوگا [1] نص علیہ فی الھندیۃ وغیرھا والله تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۶۱ : از سرونج مسئولہ عبدالرشید خان صاحب ۱۹ محرم الحرام ۳۱ ھ
جنب مرد یا حیض والی عورت کا ہاتھ سیر بھر پانی یا سیر سے کم میں سہوًا یا عمدًا ڈوبے تو وہ پانی غسل ووضو کے قابل ہے یا نہیں؟
الجواب :
کسی حدثِ اکبر یا اصغر والے کا ہاتھ بغیر دھوئے جب کسی دَہ در دَہ پانی سے کم میں پڑ جائے گا اُس سب کو قابلِ وضو وغسل نہ رکھے گا اور اگر ہاتھ دھو لینے کے بعد پڑا تو کچھ حرج نہیں۔ عورت حیض کی وجہ سے اُس وقت حدث والی ہوگی جب حیض منقطع ہوجائے اس سے پہلے نہ اُسے حدث ہے نہ حکمِ غسل اُس کا ہاتھ پڑنے سے قابلِ وضو وغسل رہے گا والله تعالٰی اعلم۔
سوال۶۲دوم : اکثر بلادِ ہند میں چاہ دَہ در دَہ سے کم ہیں اور جاہل مسلمان اُن چاہ پر کھڑے ہو کر غسل کرتے ہیں اور اُن کا آب غسل چاہ میں گرتا جاتا ہے اور اُسی چاہ کے پانی سے اور مسلمان غسل کرتے ہیں غسل اُن کا درست ہوا یا نہیں؟
الجواب : درست ہے کہ مستعمل پانی اگر غیر مستعمل میں پڑے تو اُسی وقت اُسے مستعمل کرے گا کہ مقدار میں اُس کی برابر یا اُس سے زائد ہوجا ئے چھینٹیں کُنویں کے پانی سے کیا نسبت رکھتی ہیں ہاں اگر بدن پر کوئی نجاست حقیقیہ تھی اور اُس کے پانی کی کوئی چھینٹ کنویں کے اندر پانی میں گری تو آپ ہی سارا کنواں ناپاك ہوجائےگا والله تعالٰی اعلم۔
سوال۶۳سوم : کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید وعمرو واسطے غسل کے چاہ پر گئے اور دونوں حالتِ جنابت میں ہیں زید نے چاہ سے آب نکال کر عمرو کو دیا عمرو نے غسل کیا لیکن زید کا ناپاك ہاتھ کئی بار آب اور ڈول سے لگا اس حالت میں پانی ناپاك ہوا یا نہیں اور غسل عمرو کا درست ہوا یا نہیں؟
الجواب : نجاست حکمیہ کہ جنابت سے ہوتی ہے اس حالت میں ڈول کو ہاتھ لگنے سے کوئی حرج نہیں البتہ اگر ہاتھ بغیر دھوئے انگلی یا ناخن یا کوئی حصہ ہاتھ کا پانی سے مس کرے گا تو وہ پانی اگرچہ ناپاك نہ ہوگا مگر غسل ووضو کے قابل نہ رہے گا پھر ہر بار اگر وہی حصہ ہاتھوں کا پانی میں ڈوبا جو اول بار ڈوبا تھا تو صرف پہلا پانی خراب ہوا تھا بعد کے پانی طاہر ومطہر قابلِ غسل ووضو ہیں اگر عمرو کے سارے بدن پر بعد کا پانی بَہ گیا تو غسل اُتر جائےگا اور اگر کچھ حصّہ بدن پر صرف پہلی دفعہ کا پانی بہا ، یا ہر بار زید کے بے دُھلے ہاتھ کا نیا حصہ پانی میں ڈوبا تو سب پانی خراب ہوئے تو عمرو کا غسل نہ اُترے گا والله تعالٰی اعلم۔
سوال۶۴چہارم : بلادِ ہند میں مسلمانوں کے گھروں میں ہندو کہارنیں پانی بھرتی ہیں ہندو کہاروں کے ہاتھ کے بھرے ہوئے سے غسل وضو درست ہے یا نہیں؟
الجواب :
درست ہے جبکہ اُن کے ہاتھ ناپاك نہ ہوں بے دھوئے پانی میں نہ ڈوبیں ورنہ جائز نہیں والله تعالٰی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم۔
مسئلہ ۶۵ : از مہندرگنج سکول ہیڈ مولوی ضلع گار وہیلس تورا ملك آسام مرسلہ نجم الدین احمد صاحب ۱۸ ربیع الاول شریف ۳۱اھ
حضرت قبلہ مولانا فاضل صاحب لطف بیکران بر غریب بادچہ ارشاد فرما یند دریں مسئلہ کہ درعلاقہ فقیر درگار ہے بنام شاہ کمال ازمدت درازست مردمان ازدور دور برائے تعمیل نذر ونیاز بزوبقرہ آوردہ بسم الله گفتہ ذبح مینمایندو خادم درگاہ بتعجیل تمام پوست آن ذبیحہ راکشیدہ بعدیا قبل دباغت میفروشند اوقاتش ازیں شغل بسر مےشود علمائے چند دریں دیار گویند کہ انتفاع ازچرم غیر الله جائز نیست اگرچہ بروقتِ ذبح بسم الله خواندہ شود وبعضے گویند کہ بلاشبہ جائز ست زیراکہ غیر الله مثل
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع