30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
حبیب الیہ ، صلی الله تعالٰی علیہ وسلم ، ومجد وشرف وعظم وکرم ، وعلی الہ الکرام ، وصحبہ العظام ، وابنہ الکریم وامتہ الکریمۃ خیر الامم ، وعلینا بھم ولھم وفیھم ومعھم یامن من علینا بارسالہ وانعم ، والحمد لله رب العٰلمین حمدا یدوم بدوامہ الادوم ، والله سبحٰنہ وتعالٰی اعلم ، وعلمہ جل مجدہ اتم ، وحکمہ عزشانہ احکم۔
آخرت کا پانی ہے اور آخرت کا درجہ اور فضیلت بڑی ہے ، نیز کوثر کا پانی جنّت سے نکلتا ہے۔ حضور عَلَيْهِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام نے فرمایا کوثر میں دو میزاب (نالے)گرتے ہیں دونوں جنّت سے آکر گرتے ہیں ایك سونے کا اور دوسرا چاندی کا ہے۔ اس حدیث کو حضرت ثوبان رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے مسلم نے روایت کیا ہے ، اور حضور عَلَيْهِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام نے فرمایا غور کرو الله تعالٰی کا سامان گراں قیمت والا ہے اور الله تعالٰی کا سامان جنّت ہے پھر کوثر حضور عَلَيْهِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام کی اُمت کیلئے وہاں زیادہ نفع مند ہے جو بھی اسے نوش کرے گا کبھی پیاسا نہ ہوگا اور نہ ہی اس کا چہرہ کبھی سیاہ ہوگا ، اور الله تعالٰی نے کوثر حضور افضل الانبیا صَلَّی اللہُ تَعَالٰی علیہ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمپر احسان فرمایا ہے لہذا کوثر ہی سب سے افضل ہے۔ دعا ہے ہمیں الله تعالٰی اپنے حبیب عَلَيْهِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام کے دستِ مبارك سے پلائے اور اس کوثر پر ورود ہمیں نصیب فرمائے۔ حضور پر الله تعالٰی کی رحمتیں ، سلامتی ، بزرگی ، شرف وکرم نازل ہو اور آپ کی برگزیدہ آل پر اور بزرگو ارصحابہ پر اور آپ کے سخی صاحبزادے اور آپ کی بہترین اُمّت پر اور اُن کی معیت اور صدقے اور سبب سے ہم پر بھی ، اے ہم پر اُن کو بھیج کر احسان فرمانے والے ، الحمدلله رب العٰلمین۔ (ت)
مسئلہ ۵۶ : ۶ شوال ۲۰ھ مسئولہ مولوی عبدالشکور صاحب ارکانی
کیا فرماتے ہیں علماء دین اس مسئلہ میں کہ وضو کرتے وقت جس لوٹے سے وضو کرے اُس میں اگر ہاتھ منہ
کے مستعملہ قطرے گرے تو اس لوٹے کا پانی طاہر ہے یا نہیں اور اُس سے بقیہ عضو کا دھونا درست ہے یا نہیں؟
الجواب : طاہر تو مطلقًا ہے علی مذھب محمد المصحح المعتمد (امام محمد کے صحیح ومعتمد مذہب پر۔ ت) اور بقیہ اعضا کا اُس سے دھونا بھی درست ہے جبکہ مستعمل پانی اس قدر کثرت سے نہ گرا ہو کہ غیر مستعمل پانی سے زائد ہوجائے فان المعتبر ھھنا الغلبۃ بالاجزاء [1] کما فی التبیین والدر المختار وغیرھما والله تعالٰی اعلم (کیونکہ یہاں اجزاء کے اعتبار سے غلبہ معتبر ہے جیسا کہ تبیین اور درمختار میں ہے) والله تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۵۷ : از شہر بریلی بروز شنبہ ۲۵ شعبان ۱۳۳۴ھ
کیا فر ماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ حوض کا پانی بسبب گرمی یا پُرانا ہونے سے جس میں بُو اور رنگ تغیر ہوجائے اُس میں وضو کرنا چاہئے یا نہیں ، اور اسی مسئلہ میں گاؤں کے چاہ وغیرہ ان کا پانی اور رنگ اور بُو آجاتی ہے اس سے وضو کرنا چاہئے یا نہیں اور زید کہتا ہے اگر اُس میں کوئی چیز کُتّا یا بلّی وغیرہ گر جائے جس سے بُو آجائے اور مزہ تبدیل ہوجائے تو ناپاك ہوجائے تو ناپاك ہوتا ہے اور آپ ہی خود مزہ اور رنگ تبدیل ہوجائے تو پانی ناپاك نہیں ہوتا ہے؟
الجواب :
رنگ یا بُو یا مزہ اگر کسی پاك چیز کے گرنے یا زیادہ دیر ٹھہرنے سے بدلے تو پانی خراب نہیں ہوتا ہاں نجاست کی وجہ سے تغیر آجائے تو نجس ہوگا اگرچہ کتنا ہی کثیر کیوں نہ ہو۔ والله تعالٰی اعلم
مسئلہ ۵۸ : مقام کنپ ڈیسہ گجرات محلہ محمد پورہ معرفت پیش امام مولوی نظام الدین صاحب مرسلہ نثار احمد صاحب ۲۰ رمضان شریف ۳۴ ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتان شرع متین اس مسئلہ میں کہ فقہاء حوض کی چاراقسام لکھتے ہیں : (۱) مدوّر (۲) مربع (۳) مثلث (۴) طول بلاعرض۔ آیا یہ چاروں قسمیں بلا اختلاف درست اور جائز ہیں یا ان میں سے کسی قسم میں اختلاف ہے اور جو قسم ان اقسام میں سے افضلیت رکھتی ہو استثناء کی جائے جواب سے بہت جلد تشفی فرمائیں۔
الجواب :
مدوّر مثلث مربع تو صرف اختلاف ہیات ہے اقسام جداگانہ نہیں جن کے احکام مختلف ہوں طول بلاعرض میں البتہ اختلاف ہے بعض کے نزدیك وہ مطلقًا آبِ کثیر نہیں اگرچہ سمرقند سے بخارا تك ہو اور صحیح ورجیح تریہ ہے کہ سو۱۰۰ ہاتھ مساحت درکار ہے جس طرح بھی حاصل ہو کماحققناہ فی فتاوٰنا بمالامزید علیہ (اس کی تحقیق ہم نے اپنے فتاوٰی میں کی ہے جس پر زیادہ کی ضرورت نہیں۔ ت) اسی اختلاف کی بنا پر مدوّر ومثلّث کی مساحتوں میں بھی اختلاف پڑے گا جن کے نزدیك دس۱۰ ہاتھ طول دس۱۰ ہاتھ عرض دونوں کا ہونا ضرور ہے مدوّر کا رقبہ ۱۸۳ ہاتھ سے بھی زیادہ ہونا چاہے اور مثلث کی ہر ضلع ساڑھے اکیس ہاتھ ۸ / ۳ گرہ اور قول مختار پر مدوّر کا قطر پانچ گز دس۱۰ گرہ ایك اُنگل یا گیارہ ہاتھ دو گرہ ایك انگل کہیے اور مثلث کی ہر ضلع پندرہ ہاتھ اور ۵ / ۱ ہاتھ کمابینا فی رسالتنا الھنیئ المنیر فی الماء المستدیر وھو من رسائل فتاوٰنا (جیسا کہ ہم نے اپنے رسالے “ الھنیہ المنیر فی الماء المستدیر “ میں جو کہ ہمارے فتاوٰی کے رسائل میں سے ہے ، میں ذکر کیا ہے۔ ت) افضل بے شك یہی ہے کہ مربع مثلث مدوّر کیسا بھی ہو اُس کے اندر ایك مربع واقع ہوسکے جس کی ہر ضلع پانچ ہاتھ یا پندرہ فٹ ہو لان الخروج عن الخلاف احوط واحسن بالاتفاق والله تعالٰی اعلم(کیونکہ بالاتفاق اختلاف سے بچنا بہتر اور بااحتیاط ہے۔ ت)
مسئلہ ۵۹ : مسئولہ مولوی چودھری عبدالحمید خان صاحب رئیس سہاور مصنف کنز الآخرۃ ۷ محرم الحرام ۱۳۳۵ ہجری۔
آبِ مستعمل طاہر ہے غیر مطہر اور فقہ کے دیکھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ جو پانی دَہ در دَہ سے کم ہو خواہ وہ دیگ میں ہو خواہ مٹکے یا لوٹے میں ، اگر اُس میں محدث یا جُنب کا ایك پورا بھی چھُو جائے گا تو وہ مستعمل ہوجائےگا اور پھر وہ قابلِ طہارت نہ رہے گا کہ آبِ مستعمل مطہر نہیں۔ ایسی صورت میں بڑی مشکل یہ پڑتی ہے کہ ایك گروہ کثیر در کثیر مسلمانوں کا خاص کر گروہ اناث کا بالکل دارمدار سقّوں کے پانی پر وضو وغسل کرنے کا ہے کہ سقّے پانی لے کر گھروں میں بھرتے ہیں اور اُسی پانی سے تمام گھر والے وضو وطہارت کرتے ہیں اور سقّوں کی یہ حالت ہے کہ اوّل تو وہ بے نمازی ہوتے ہیں جن کو طہارت ونجاست کا کچھ امتیاز نہیں اس کے سوا یہ کہ وہ سقّے نمازی ہی کیوں نہ ہوں لیکن ہمہ وقت باوضو نہیں ہوتے اور پانی کُنویں سے جب کھنیچتے ہیں تو ڈول کی رسّی کو دانتوں سے پکڑ کر ایك ہاتھ کی انگلیوں کو ڈول میں ڈال کر دوسرے ہاتھ کی انگلیوں کے مشك کے منہ پر رکھ کر پانی مشك میں بھرتے ہیں اور پھر جب وہ گھروں میں آکر پانی بھرتے ہیں تو مشك کا منہ کھول کر اور مشك کے منہ کے قریب اپنا ہاتھ رکھ کر گھڑے مٹکوں میں پانی بھرتے ہیں کہ وہ سب پانی اُن کے ہاتھ کی کف دست پر ہو کر ظرف میں پہنچتا ہے اور ایسی حالت میں یقینی دو دو تین تین بار پانی مستعمل ہو کر گھڑے مٹکوں میں پہنچتا ہے اور اُسی سے سب طہارت و وضو ہوتا ہے اس کے سوا عام نمازی مسلمان جس طریق سے مسجدوں میں کُنویں سے پانی کھینچ کر لوٹوں اور مٹکوں میں بھرتے ہیں وہ بھی قریب قریب اُنہیں سقّوں کی ترکیب کے عمل کرتے ہیں اور اُسی سے وضو وطہارت کرتے ہیں تو ایسی صورت میں اس طہارت کا کیا حکم ہے مسجد کے نمازیوں کی بد احتیاطی سے قطع نظر کرکے سقّوں کی بداحتیاطی کا کیا مضر ہے کہ جن کے پانی پر تمام مسلمانوں کا دارومدار ہے اور سقّوں کی بداحتیاطی جس پر بلوائے عام ہے کسی ترکیب سے کسی تدبیر سے رفع نہیں ہوسکتی تو پھر اب کیا کیا جائے۔ والسلام
الجواب :
فی الواقع مذہب صحیح یہی ہے کہ بے وضو آدمی کا ناخن بھی اگر بغیر دُھلا ہُوا اُس پانی میں کہ وہ دہ در دہ نہیں پڑ جائے تو وہ سب پانی مستعمل ہوجائےگا تصانیف امام محمد رحمۃ الله تعالٰی علیہ سے فتح القدیر امام ابن الہمام تك تمام کتابوں میں بالاتفاق یہی حکم ہے مگر شریعت۱ مطہرہ کا قاعدہ کلیہ ہے کہ استعمال درک
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع