30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
سےاس میں اعتراض ہے ، بلالکہ بکری کا دودھ بعض پانیوں کے اعتبار سےزائد رقیق ہوتا ہے اگر مان بھی لیا جائے تو ہم یہ نہیں مانتے کہ ہر وہ چیز جو پانی کی طرح بہتی ہو وہ نچڑتی بھی ہو کیونکہ یہ جائز ہے کہ اس میں کوئی ایسی چیز ہو جو اس کے نچڑ نے سےمانع ہو نہ کہ بہنے سےجیسےچکناہٹ ، تو اگر ہر نچڑ نے والی چیز اس کی طرح بہنے والی ہو تو رقت اخص مطلق ہوجائے گی ورنہ من وجہ ہوگی اور بہرصورت محذور لوٹ آئےگا۔ اور ثانیا علامہ شرنبلالی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِتعالٰی نے فرمایا کہ ہر وہ چیز جو نچڑ تی نہیں وہ رقیق نہیں ہے ، تو اس کا عکس یہ ہوگا کہ ہر رقیق چیز نچڑتی ہے ، اور اس میں ظاہری نظر ہے کہ تیل رقیق ہے مگر نچڑتا نہیں اور دودھ کا معاملہ زیادہ ظاہر ہے اور تیل کی رقت توجیسا کہ فقہاء نے تصریح کی ہے کہ معتبر وہ مقدار جو نجاست غلیظہ کے مانع ہے ، گاڑھی چیز میں ایك درہم کا وزن ہے ، اور رقیق میں ایك درہم کی پیمائش معتبر ہے ، کُتب مذہب اِس سےپُر ہیں اور بحر اور ہندوا نی میں ہے کہ مساحت کی روایت رقیق میں اور گاڑھی میں وزن کی ہے ، اور اس توفیق کو بہت سےمشائخ نے پسند کیاہے اور بدائع میں ہے کہ ماوراء النہر کے مشائخ کے نزدیك یہی مختار ہے اور اس کو زیلعی اور صاحبِ مجتبیٰ نے صحیح قرار دیا ہے اور اس کو فتح القدیر میں برقرار رکھا ہے اھ اور غنیہ میں ہے فقیہ ابو جعفر نے کہا ہے جو نجاستیں جسم والی ہیں ان میں وزن سےاندازہ
بالوزن فی المستجسدۃ ذات الجرم وبالبسط فی الرقیقۃ کالدم المائع ووافقہ علی ذلك من بعدہ وقالواھو الصحیح [1] اھ
ثم (۱)اختلفوا فی دھن متنجس اصاب الثوب اقل من درھم ثم انبسط فزاد قال الاکثرون یمنع الصلاۃ لانہ الاٰن اکثر قال فی المنیۃ بہ یؤخذ وقال جمع انما العبرۃ بوقت الاصابۃ المسألۃ دوارۃ [2] فی الکتب کالفتح والبحر والدر وغیرہا وھوصریح دلیل علی ان الدھن من الرقیق والالم یتصورالاختلاف لان البسط لایزیدہ وزنا وقال فی الغنیۃ اصابہ دھن نجس اقل من قدرالدرھم ثم انبسط یمنع الصلاۃ لان مساحۃ النجاسۃ وقت الصلوۃ اکثرمن قدرالدرھم وتحقیقہ ان المعتبر فی المقدارمن النجاسۃ الرقیقۃ لیس جوھر النجاسۃ بل جوھر المتنجس عکس الکثیفۃ [3] اھ فثبت ان من الرقیق مالاینعصر۔
لگایا جائے گا ، اور رقیق میں پھیلاؤ کا اعتبار کیا جائےگا ، جیسےمائع خون اور ان کی موافقت کی ان کے بعد والوں نے ، اور کہا کہ وہی صحیح ہے اھ پھر فقہاء کا اختلاف ہے ناپاك تیل میں جو کسی کپڑے کو ایك درہم سےکم مقدار میں لگ جائے پھر پھیل جائے اور زائد ہوجائے اکثر نے فرمایا یہ مانع صلوٰۃ ہے کیونکہ یہ اب زائد ہے ، منیہ میں فرمایا اسےکو لیا جائے گا ، اور ایك جماعت نے فرمایا اس وقت کا اعتبار ہوگا جبکہ یہ لگا ہو ، یہ مسئلہ عام طور پر کتب میں موجود ہے ، جیسےفتح ، بحر اور دُر وغیرہ اور یہ صریح دلیل ہے اس امر کی کہ تیل رقیق ہے ورنہ تو اختلاف ہی متصور نہ تھا ، کیونکہ پھیلنے سےاس کا وزن زائد نہ ہوگا ، اور غنیہ میں فرمایا اگر اس کو نجس تیل لگا ایك درہم سےکم پھر پھیل گیا تو نماز نہ ہوگی ، کیونکہ نجاست کی پیمائش نماز کے وقت درہم کی مقدار سےزائد ہوگئی ہے اور اس کی تحقیق یہ ہے کہ رقیق نجاست میں معتبر جوہرِ نجاست نہیں بلکہ نجس ہو نے والی چیز کاجوہر ہے یہ کثیفہ نجاست کا عکس ہے اھ تو ثابت ہوا کہ بعض رقیق چیزیں وہ ہیں جو نُچڑتی نہیں۔ (ت)
وانا اقول : (۲) وبالله التوفیق وبہ الوصول الی ذری التحقیق (میں کہتا ہوں اور الله تعالٰی کی توفیق سےتحقیق کی گہرائی تك پہنچا جاسکتا ہے۔ ت) اہل سنت(۳) حفظہم الله تعالٰی کے نزدیك ترکیب اجسام اگرچہ جواہر فردہ متجاورہ غیر متلاصقہ سےہے اور یہی حق ہے فقیر نے بحمدلله تعالٰی اپنے فتاوٰی کلامیہ میں اسے قرآن عظیم سےثابت کیا ہے جس کی طرف علماءمتکلمین کی نظر اب تك نہ گئی تھی فیمااعلم والله اعلم اذلم اقف علیہ فی کلامھم (اس میں جو میں جانتا ہوں اور الله زیادہ جانتا ہے کہ اس معاملہ میں ان کے کلام میں واقفیت حاصل نہ کرسکا۔ ت) مگر اتصال حسی ضرور ہے کما بیناہ فی رسالتناالنمیقۃ الانقی (جیسا کہ ہم نے اسےاپنے رسالہ النمیقۃ الانقی میں بیان کیا ہے۔ ت) تمام احکامِ دین ودنیا اسی اتصال مرئی پر مبنی ہیں ، یہ اتصال دو قسم ہے : قوی وضعیف۔ قوی یہ کہ جب تك خارج سےکوئی سبب نہ پیدا ہوا نفکاك نہیں ہوتا ، ایسی ہی شی کا نام جامد ہے۔ پھر یہ خود قوت وضعف میں بریان پاپڑ سےلے کر سنگ خاراکی چٹان اور فولاد تك مختلف ہے مگر یہ نہ ہوگا کہ خودبخود اس کے اجزا بکھر جائیں یا بہ کر اُتر جائیں۔ ضعیف یہ کہ محض مجاورت کے سوااجزا میں عام بستگی وگرفتگی نہ ہو دَل پیدا کر نے والا ترا کم کہ اجزا ی کے بالائے دیگرے ہیں جگہ نپانے کی باعث ہو گنجائش ملتی ہی اجزا اُتر کر پھیلنے لگیں ایسی ہی شی کا نام مائع وسائل ہے اور ازاں جاکہ اجزاء میں تماسك یعنی جامدات کی مانند بستگی وگرفتگی نہیں اور میل طبعی ہرثقیل کاجانب تحت ہے تونشیب پاتے ہی جو حرکت ثقیل اشیاء میں پیدا ہوتی ہے جبکہ کوئی مانع نہ ہو جامد میں سارے جسم کو معًا متحرك کرتی تھی کہ اجزا اول سےآخر تك ایك دوسرے کو پکڑے ہوئے ہیں یہاں ایسا نہ ہوگا بلالکہ جانب نشیب کے پہلے اجزاء حرکت میں پچھلوں کا انتظار کریں گے ان کے آگے بڑھتے ہی ان کے متصل جو اجزاء تھے جگہ پائیں گے اور وہ اپنے پچھلوں کے منتظر نہ رہ کر جنبش کریں گے یوں ہی یہ سلسلہ اخیر اجزاء تك پہنچے گا تواس جسم کی حرکت حرکتِ واحدہ نہ ہوگی بلالکہ حرکات عدیدہ متوالیہ اور ازانجا کہ اگلوں کا بڑھنا اور پچھلوں کا اُن سےآملنا مسلسل ہے کہیں انفکاك محسوس نہ ہوگا جسم واحد کے اجزا میں اسی سلسلہ وار حرکت متوالی کا نام سیلان ہے پھر جس طرح جامدات قوت وضعف میں اُس درجہ مختلف تھے یوں ہی ان مائعات میں یہ اختلاف ہے کہ جہاں بوجہ مانع انفکاك حسی کے محتاج ہوں بعض بہت باریك ذروں پر منقسم ہو سکیں گے اور بعض زیادہ حجم کے اجزاء پر کہ ایك نوع تماسُك سےخالی نہیں اگرچہ جامدات کی طرح عام تماسُك نہیں چھاننے میں اختلاف مائعات کی یہی وجہ ہی ظاہر ہے کہ کپڑا یا چھلنی جس چیز میں چھانیے اُس میں کچھ تو منافذومسام ہوں گے کہ اجزائے مائع کو نکلنے کی جگہ دیں گے اورکچھ کپڑے یا لوہے وغیرہ کی تار ہوں گے کہ اپنے محاذی اجزاء کو روکیں گے ناچار مائع اپنے اجزاء کی تفریق کا محتاج ہوگا پھر جو جس قدر باریك اجزا پر منقسم ہو سکے گا اُتنے ہی تنگ منفذسےنفوذ کرجائے گا اور دوسرا اس پر قادر نہ ہوگا یہی سبب ہے کہ بعض مائعات چھاننی میں سنگین کپڑے سےنفوذ کر جاتے ہیں کہ اُس کپڑے کی باریك مسام سےبھی زیادہ باریك اجزاء پر متفرق ہوسکتے ہیں اور بعض باریك کپڑے سےنکل سکیں گے جو زیادہ گھنا نہ بُنا ہو بعض چھلنی کی وسیع منفذ چا ہیں گے وعلٰی ہذا القیاس اسی منشاء اختلاف کا نام مائع کی رقت وغلظت ہے ورنہ جامدات(۱) میں بھی رقیق وغلیظ ہوتے ہیں پتلے کپڑے کو ثوبِ رقیق کہتے ہیں پتلی چپاتی کو خبزرُقاق ، استخوان زمان پیری کو عظمِ رقیق ، حدیث امیر المومنین عثمانِ غنی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ میں ہے :
اللھم کبر سنی و رق عظمی فاقبضنی الیك غیرعاجزولاملوم۔
اے الله میری عمر بڑی ہوگئی اور میری ہڈی پتلی ہوگئی پس مجھے عاجز اور شرمسار کئے بغیر اپنے دربار میں حاضر کرلے۔ (ت)
شیشہ کہ باریك دَل کا ہو زجاج رقیق۔ قال قائلھم ع :
رق الزجاج ورق الخمر فاشتبھا
(ترجمہ : شیشہ پتلا(باریک)ہوا ، اورشراب پتلی ہوئی ، یوں دونوں آپس میں مشابہ ہوئے۔ ت)
بالجملہ(۱) رقت ودقت متقارب ہیں رقیق پتلا دقیق باریک۔
اقول : مگردقت میں کمی عرض کی طرف لحاظ ہے ولہٰذا خط کو دقیق کہیں گے اور رقت میں کمی عمق کی جانب تو سطح رقیق ہے یہ وہ ہے جو نظر بمحاورت خیال فقیر میں آیا پھر تاج العروس میں اس کی تصریح پائی۔
حیث قال قال المناوی فی التوقیف الرقۃ کالدقۃ لکن الدقۃ یقال اعتبار المراعاۃ جوانب الشیئ والرقۃ اعتبارا بعمقہ[4]۔
فرمایا کہ مناوی نے توقیف میں فرمایا رقت مثل دقت ہے لیکن دقۃ میں کسی چیز کے کناروں کا اعتبار ہوتا ہے اور رقت میں اس کی گہرائی کا۔ (ت)
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع