30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
کی دلیل ہے۔ زمزم کا حضرت اسمٰعیل علیہ السلام کو اور کوثر کا ہمارے نبی پاك صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکو الله تعالٰی کی طرف سے عطیہ ہونا اس کو معارض نہیں کیونکہ کلام دنیاوی فضیلت میں ہے اور آخرت کے لحاظ سے بلاشبہ کوثر کو بہت بڑا اعزاز ہے جو ہمارے نبی پاك صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکو ملے گا اسی لئے الله تعالٰی نے انا اعطینٰك الکوثر کو اپنے لئے منسوب فرمایا جس پر نون متکلم دلالت کرتا ہے اور یہ بڑی عظمت ہے ، اور میری تقریر سے بلقینی پر وارد ہونے والے اعتراض کا جواب بھی معلوم ہوگیا اھ (ت)
اس وقت اس مسئلہ پر کلام اپنے علما سے نظر فقیر میں نہیں اور وہ کہ فقیر کو ظاہر ہوا تفضیل کوثر ہے۔
فاقول : وبالله التوفیق الافضل معنیان الاکثر ثوابا وھو فی المکلفین من یثاب اکثر وفی الاعمال ماالثواب علیہ اکبر ولامدخل لھذین فی زمزم والکوثر وان اول بالتعاطی ای ماتعاطیہ اکثر ثوابا فالکوثر غیر مقدور لنا فلایتأتی التفاضل من ھذا الوجہ ایضا ولا معنی لان یقال ان ثوابہ صلی الله تعالی علیہ وسلم کان اکثر فی غسل الملٰئکۃ قلبہ الکریم باحدھما۔ فاذن لاکلام فیہ الابمعنی الاعظم شانا والارفع مکانا عندالله تعالٰی و
پس میں کہتا ہوں اور الله تعالٰی سے ہی توفیق حاصل ہے۔ افضل کے دو معنی ہیں ، ایك ثواب کے لحاظ کثرت ہے یہ معنی انسانوں میں جس کو ثواب حاصل ہو ، اور اعمال میں وہ عمل جس پر ثواب زیادہ مرتب ہو ، اس معنی کی دونوں مذکورہ صورتیں زمزم اور کوثر میں نہیں پائی جاسکتیں اور اگر اس معنی کی یہاں یہ تاویل کی جائے کہ ان کے لین دین میں زیادہ ثواب ہے تو پھر کوثر میں یہ معنی نہیں ہوسکتا کیونکہ وہ ہماری قدرت سے باہر ہے اسلئے دونوں میں افضلیت کا تقابل نہیں پایا جاسکتا اور یہ نہیں کہا جاسکتا کہ ان دونوں میں سے ایك کے ساتھ فرشتوں کا حضور عَلَيْهِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام کے قلب مبارك کو دھونا حضور عَلَيْهِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام کے لئے زیادہ ثواب ہے۔ (ت) اب صرف افضل کے دوسرے معنی میں بات ہوسکتی ہے اور وہ عندالله عظمتِ شان اور رفعتِ
(۱)حینئذ لایتم استدلال الامام البلقینی رحمہ الله تعالٰی الا اذا احطنا بالحکم الا لٰھیۃ فی غسل قلبہ الکریم علیہ افضل الصلاۃ والتسلیم وعلمنا انھما کان سواء فی تحصیلھا ثم الله سبحنہ اختار ھذا فکان افضل اما ان یکون شیئ اوفق واصلح العمل من غیرہ فلایستلزم کونہ اجل قدرا واعظم فخرا منہ بالفضل الکلی علی (۲) انہ صلی الله تعالی (۳) علیہ وسلم لایتشرف بغیرہ بل الکل انما یتشرفون بہ (۴) والله تعالی یصیب برحمتہ صلی الله تعالی علیہ وسلم مایشاء من خلقہ لیرزقہ فضلا کما اختار لولادتہ صلی الله تعالی علیہ وسلم شھر ربیع الاول دون شھر رمضان ویوم الاثنین دون الجمعۃ ومکان مولدہ صلی الله تعالی علیہ وسلم دون الکعبۃ وَ اَنَّ الْفَضْلَ بِیَدِ اللّٰهِ یُؤْتِیْهِ مَنْ یَّشَآءُؕ-وَ اللّٰهُ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِیْمِ۠[1] اما جواب الامام ابن حجر فغایۃ مایظھر فی توجیھہ ان زمزم افضل فی الدنیا لانہ مقدورلنا فنثاب علیہ فیترتب علیہ الفضل لنا بخلاف الکوثر ان رزق الله تعالٰی منہ احدنا فی الدنیا فلفضل فیہ
مقام ہے اور اس معنی پر امام بلقینی کا استدلال تب ہی صحیح ہوسکتا ہے جب ہم حضور عَلَيْهِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام کے قلب مبارك دھونے کے بارے میں الله تعالٰی کی حکمتوں کو پیشِ نظر رکھیں اور یہ معلوم کرلیں کہ ان کے حاصل کرنے میں دونوں پانی زمزم اور کوثر مساوی ہیں اس کے باوجود الله تعالٰی نے زمزم کو پسند فرمایا لہٰذا افضل ہوا ، اس لئے کہ یہ اس کارروائی کیلئے زیادہ موافق اور زیادہ صلاحیت والا تھا ، اس لحاظ سے زمزم کا قدر ومنزلت کے اعتبار سے کلی طور پر اعظم ہونا لازم نہیں آتا۔ علاوہ ازیں حضور عَلَيْهِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام کو کسی دوسرے سے شرف حاصل نہیں ہُوا بلکہ دوسروں نے حضور عَلَيْهِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام سے شرف پایا ہے الله تعالٰی اپنی مخلوق میں سے جسے چاہتا ہے حضور عَلَيْهِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام کی رحمت سے نوازتا ہے تاکہ اس کو فضیلت دے جیسا کہ آپ کی ولادت پاك کیلئے رمضان کی بجائے ربیع الاول کو اور جمعہ کی بجائے سوموار کے دن کو اور کعبہ کی بجائے آپ کی جائے ولادت کو مشرف فرمایا۔ فضیلت کا مالك الله تعالٰی ہے جسے چاہتا ہے دیتا ہے وہ بڑے فضل والا ہے۔ لیکن امام ابنِ حجر کا جواب فضیلت کی توجیہ میں بہت واضح ہے کہ زمزم دنیا میں افضل ہے کیونکہ وہ ہمارے زیر تصرف ہے اور ہمیں اس پر
اولتفضل من المولی سبحنہ وتعالٰی فھو یترتب علی الفضل ومایورث الفضل افضل اما الاٰخرۃ فلیست دار عمل فیذھب ھنالك ھذا الوجہ ویظھر فضل الکوثر لانہ من اعظم مامن الله تعالٰی بہ علی نبیہ صلی الله تعالٰی علیہ وسلم۔
اقول : لو تم ھذا لکان کل ماء فی الدنیا افضل من الکوثر بعین الدلیل وھو کما تری بل الکلام (۱)کما علمت فی الارفع قدرا والاعظم فخرا وھذا لایختلف باختلاف الدار حتی یکون شیئ اجل قدرا عند الله تعالٰی من اٰخر فی الدنیا فاذا جاء ت الاٰخرۃ انعکس الامر کلا بل (۲)لا یظھر فی الاٰخرۃ الا ماھو عندہ تعالٰی ھھنا فما کان افضل فی الاٰخرۃ کان افضل فی نفسہ وماکان افضل فی نفسہ کان افضل حیث کان وقد اعترفتم ان الکوثر افضل فی الاٰخرۃ فوجب ان یکون لہ الفضل دنیا واخری کیف و (۳) زمزم من میاہ الدنیا وھو من میاہ الاٰخرۃ وَ لَلْاٰخِرَةُ اَكْبَرُ دَرَجٰتٍ وَّ اَكْبَرُ تَفْضِیْلًا [2] وایضا (۴) ماؤہ من الجنۃ ۔ قال صلی الله تعالٰی علیہ وسلم یغثُّ فیہ میزابان
ثواب ملتا ہے جس سے ہمیں فضیلت میسر ہوتی ہے اور کوثر کا معاملہ اس کے خلاف ہے اگر دنیا میں کسی کو وہ نصیب ہوجائے تو وہ پانے والے کی فضیلت ہوگی یا الله تعالٰی کی طرف سے فضل ہوگا لامحالہ کوثر کسی فضیلت پر مرتب ہوگا ، اور فضیلت دینے والا (زمزم) افضل ہوتا ہے ، اور آخرت دارالعمل نہیں ہے تاکہ وہاں یہ وجہ پائی جائے اور وہاں کوثر کی فضیلت ظاہر ہوگی کیونکہ وہاں حضور عَلَيْهِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام پر انعامات سے یہ بڑا انعام ہوگا۔ (ت)
میں کہتا ہوں کہ اگر امام ابن حجر کی دلیل درست ہو تو اس سے لازم آئےگا کہ دنیا کے تمام پانی کوثر سے افضل ہوجائیں کیونکہ وہی دلیل یہاں پائی جاتی ہے حالانکہ یہ درست نہیں ہے بلالکہ یہاں فضیلت قدر و فخر کی عظمت وبلالندی مراد ہے اور فضیلت کا یہ معنی دنیا یا آخرت کے لحاظ سے نہیں بدلتا تاکہ دنیا میں ایك چیز دوسری کے مقابلالہ میں عندالله بڑی قدر والی ہو اور جب آخرت برپا ہو تو معاملہ الٹ ہوجائے ایسا ہرگز نہیں ہے بلالکہ آخرت میں عندالله وہی چیز قدر ومنزلت والی ظاہر ہوگی جو یہاں دنیا میں بھی ایسی ہوگی۔ اور جو چیز آخرت میں افضل ہوگی وہ ہر جگہ افضل ہوگی اور جب آپ نے آخرت میں کوثر کے افضل ہونے کا اعتراف کرلیا تو ضروری ہے کہ وہ دنیا وآخرت دونوں میں افضل ہو ، اور کیوں نہ ہو کہ زمزم دنیا کا پانی ہے اور کوثر
یمد انہ من الجنۃ احدھما من ذھب والاٰخر من ورق[3] رواہ مسلم عن ثوبان رضی الله تعالی عنہ وقال صلی الله تعالٰی علیہ وسلم الا ان سلعۃ الله غالیۃ الا ان سلعۃ الله الجنۃ [4] ثم ھو (۱) انفع لامتہ صلی الله تعالٰی علیہ وسلم من شرب منہ لم یظمأ ابدا ولم یسود وجہہ ابدا (۲) وقد امتن الله سبحنہ بہ علی افضل انبیائہ صلی الله تعالی علیہ وسلم فکان افضل رزقنا المولی سبحنہ وتعالی الورود علیہ ، والشرب منہ بید احب
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع