دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 3 | فتاوی رضویہ جلد ۳

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۳

سادسًا : بعد انجماد۲  کوئی نیا رنگ پیدا ہونا اس پر دلیل نہیں کہ یہ اُس کا اصلی رنگ ہے خشك ہونے پر خُون سیاہ ہوجاتا ہے اور مچھلی کی سرخ رطوبت سپید۔ اسی سے اُس پر استدلال کیا گیا کہ وہ خون نہیں۔

سابعًا : ۳ ہوا کہ ضیا سے۴  مستنیر ہورہی ہے جب جسم شفاف کے اندر داخل ہوتی ہے اُس کے شفاف اور اس کے چمکدار ہونے سے وہاں ایك ہلکی روشنی پیدا ہوتی ہے جس سے سپیدی نظر آتی ہے جیسے موتی یا شیشے یا بلور کو خوب پیسیں تو اجزاء باریك ہوجانے سے ضیاء اُن کے مابین داخل ہوگی اور دقّتِ فصل کے باعث اُن باریك باریك اجزاء اور اُن میں ہر دو کے بیچ میں اجزائے ضیا کا امتیاز نہ ہوگا اور ایك رنگ کہ دھوپ سے میلا اور اُن کے اصلی رنگ سے اُجلا ہے محسوس ہوگا یہ وہ سپیدی وبراقی ہے کہ اُن میں نظر آتی ہے یوں ہی۵  دریا کے جھاگ بلالکہ پیشاب کے بھی حالانکہ وہ یقینا سپید نہیں اس کی سپیدی تو مرض ہے بلالکہ آئینہ۱  میں اگر درز پڑ جائے وہاں سپیدی معلوم ہوگی کہ اب تابندہ ہوا عمق میں داخل ہوئی یہی وجہ۲  جمی ہُوئی اوس کے سپید نظر آنے کی ہے کہ شفاف ہے اور اجزاء باریك اور چمکدار ہوا داخل۔

ثامنًا : ۳ شفیف۴ اجرام کا قاعدہ ہے کہ شعاعیں اُن پر پڑ کر واپس ہوتی ہیں ولہذا آئینہ میں اپنی اور اپنے پس پشت چیزوں کی صورت نظر آتی ہے کہ اس نے اشعہ بصر کو واپس پلٹایا واپسی میں نگاہ جس جس چیز پر پڑی نظر آئی گمان ہوتا ہے کہ وہ صورتیں آئینے میں ہیں حالانکہ وہ اپنی جگہ ہیں نگاہ نے پلٹتے میں انہیں دیکھا ہے ولہذا۵  آئینے میں دہنی جانب بائیں معلوم ہوتی ہے اور بائیں دہنی۶ ولہذا شے آئینے سے جتنی دُور ہو اُسی قدر دُور دکھائی دیتی ہے اگرچہ سوگز فاصلہ ہو حالانکہ آئینہ کا دَل جَو بھر ہے سبب وہی ہے کہ پلٹتی نگاہ اُتنا ہی فاصلہ طے کرکے اُس تك پہنچتی ہے اب برف۷ کے یہ باریك باریك متصل اجزا کہ شفاف ہیں نظر کی شعاعوں کو انہوں نے واپس دیا پلٹتی شعاعوں کی کرنیں اُن پر چمکیں اور دھوپ کی سی حالت پیدا کی جیسے پانی یا آئینے پر آفتاب چمکے اُس کا عکس دیوار پر کیسا سفید براق نظر آتا ہے زمین۸ شور میں دُھوپ کی شدت میں دُور سے سراب نظر آنے کا بھی یہی باعث ہے خوب چمکتا جنبش کرتا پانی دکھائی دیتا ہے کہ اُس زمین میں اجزائے صقیلہ شفافہ دُور تك پھیلے ہوتے ہیں نگاہ کی شعاعیں اُن پر پڑ کر واپس ہوئیں اور شعاع۹  کا قاعدہ ہے کہ واپسی میں لرزتی ہے جیسے آئینے پر آفتاب چمکے دیوار پر اُس کا عکس جھل جھل کرتا نظر آتا ہے اور شعاعوں کے زاویے یہاں چھوٹے تھے کہ اُن کی ساقیں طویل ہیں کہ سراب دور ہی سے متخیل ہوتا ہے اور وتر اُسی قدر ہے جو ناظر کے قدم سے آنکھ تك ہے اور چھوٹے وتر پر ساقیں جتنی زیادہ دُور جاکر ملیں گی زاویہ عــہ خورد تر  بنے گا اور زوایائے۱۰ انعکاس ہمیشہ زوایائے شعاع کی برابر ہوتے ہیں اشعہ بصریہ اُتنے ہی زاویوں پر پلٹتی ہیں جتنوں پر گئی تھیں ان دونوں امر کے اجتماع سے نگاہیں کہ اجزائے بعیدہ صقیلہ پر پڑی تھیں لرزتی جھل جھل کرتی چھوٹے زاویوں پر زمین سے ملی ملی پلٹیں لہذا وہاں چمکدار پانی جنبش کرتا متخیل ہوا والله  تعالٰی اعلم۔

اقول :   ھذا طریق وانشرط۱۲ شرط ١٢ اخترنا طریق

میں کہتا ہوں یہ ایك راستہ ہے ، اور اگر

عــــہ : مثلًا ا ح ب۔  ا ع ب۔  ا ہ ب۔  ا ر ب مثلثوں میں زاویہ قائمہ اور سب میں مشترك ہے تو ہر ایك کے باقی دو زاویے ایك قائمہ کے برابر ہیں لیکن زوایائے ح ا ب۔  ع ا ب۔  ح ا ب۔  ر ا ب علی الترتیب بڑھتے گئے ہیں کہ ہر پہلا دوسرے کا جز ہے تو واجب کہ زوایائے ح۔  ع۔  ہ۔ ر اُسی قدر چھوٹے ہوتے جائیں کہ ہر ایك اپنے زاویہ کا قائم تك تمام ہے چھوٹے کا تمام بڑا ہوگا بڑے کا چھوٹا ۱۲ منہ غفرلہ (م)

العضد الذی قال انہ الحق واقرہ السید وھو منع ان لابیاض فی الثلج وماذکر معہ والقول بان اختلاط الھواء المضیئ بالاجزاء الشفافۃ احد اسباب حدوث البیاض وان لم یکن ھناك مزاج یتبعہ حدوث اللون قالا ولیس ذلك ابعد مما یقولہ الحکماء۔

(اقول :  ای السفھاء من بعض القدماء کماقدّم وتبعھم ابناسینا والھیثم کمافی طوالع الانوار وشرح التجرید) فی کون الضوء شرطا لحد وث الالوان کلھا فاذا اخرج المصباح مثلا عن البیت المظلم انتفی الوان الاشیئاء التی فیھا واذا اعیدت صارت ملونۃ بامثالھا لاستحالۃ اعادۃ المعدوم عندھم ولاشك ان ھذا ابعد من حدوث البیاض فی الاجزاء الشفافۃ بمخالطۃ الھواء من غیر مزاج[1]  اھ۔  

اقول :  (۱) وقولھم مردود (۲) بحدیث البزار والحاکم وصححہ عن انس رضی الله  تعالی عنہ عن (۳) النبی صلی الله  علیہ وسلم                                             

عضد صاحب کا راستہ اختیار کریں جنہوں نے کہا کہ یہ حق ہے اور سید صاحب نے بھی اس کی تائید کی وہ یہ کہ برف میں سفیدی نہ ہونے کا انکار ہے اور اس کے ساتھ مزید یہ قول کہ ہوا کی روشنی شفاف اجزاء میں سفیدی پیدا کرنے کا ایك سبب ہے اگرچہ یہاں کوئی ایسا مزاج نہیں جس کے بعد رنگ پیدا ہوتا ہو ان دونوں نے کہا کہ یہ بات حکماء کے قول سے بعید نہیں ہے۔ (ت)

(میں کہتا ہوں کہ حکماء سے مراد قدماء میں سے بعض بیوقوف ہیں جیسا کہ پہلے گزر چکا ہے جن کی پیروی ابن سینا اور ابن ہیثم نے کی ہے ، جیسا کہ طوالع الانوار اور شرح تجرید ہے) یہ پیروی حکماء کے اس قول میں ہے جس میں حکماء نے تمام رنگوں کے پیدا ہونے میں روشنی کو شرط قرار دیا ہے مثلًا اگر رات کو اندھیرے میں کمرے سے چراغ کو نکال لیا جائے تو کمرے میں موجود تمام رنگ دار چیزوں کا رنگ ختم ہوجائےگا اور جب دوبارہ چراغ کو کمرے میں داخل کیا جائے تو کمرے کی چیزیں پہلے رنگوں کی ہم مثل رنگ دار ہوں گی ، یہ اس لئے کہ ان کے نزدیك معدوم ہونے کے بعد کسی چیز کا اعادہ محال ہے (لہذا پہلا رنگ دوبارہ عود نہیں کرے گا بلالکہ اس کی مثل نیا رنگ پیدا ہوگا) اور بےشك یہ بات شفاف اجزاء میں ہوا کے ملنے سے کسی مزاج کے بغیر سپید پیدا ہونے سے بھی زیادہ بعید ہے اھ۔ (ت)

میں کہتا ہوں کہ اُن کا یہ قول مردود ہے ایك حدیث کی بنا پر جس کو بزار اور حاکم نے صحیح طور پر روایت کیا ہے وہ یہ کہ حضرت انس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے

قال نار جہنم عــہ سوداء مظلمۃ [2] وروی البیھقی فی البعث وابو القاسم الاصبھانی عنہ قال تلا رسول الله صلی الله  تعالٰی علیہ وسلم ھذہ الاٰیۃ وقودھا الناس والحجارۃ فقال اوقد علیھا الف عام حتی احمرت والف عام حتی ابیضت والف عام حتی اسودت فھی سوداء مظلمۃ لایضیئ لھبھا [3]  و روی الترمذی وابن ماجۃ والبیھقی عن ابی ھریرۃ رضی الله  تعالٰی عنہ عن النبی صلی الله  تعالٰی علیہ وسلم مثلہ وفی اٰخرہ فھی سوداء مظلمۃ کاللیل المظلم [4] جعل الترمذی وقفہ اصح۔

اقول :  والوقف فیہ کالرفع اذا لم یکن اٰخذ عن الاسرائیلیات فقد اثبت لھا اللون مع الظلمۃ وعدم الضوء (۲) فاذن جوابنا خبر             

حضور عَلَيْهِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام  سے روایت کیا ہے کہ آپ نے فرمایا کہ جہنم کی آگ انتہائی سیاہ ہے۔ اور بیہقی نے بعث میں روایت کیا جس کو ابو القاسم اصبہانی نے ان سے روایت کیا کہ حضور عَلَيْهِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام  نے آیہ کریمہ وَ قُوْدُهَا النَّاسُ وَ الْحِجَارَةُ ۚۖ- (جہنم کا ایندھن کافر لوگ اور پتّھر ہیں) تلاوت فرمائی اور اس پر آپ نے فرمایا کہ جہنم میں ایك ہزار سال آگ جلائی گئی تو سُرخ ہوئی پھر ایك ہزار سال حتی کہ سفید ہوئی پھر ایك ہزار سال حتی کہ سیاہ ہوگئی۔ پس جہنم کی آگ انتہائی سیاہ ہے جس کا شعلہ روشن نہ ہوگا۔ اسی حدیث کو ترمذی ، ابنِ ماجہ اور بیہقی نے ابوھریرۃ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت کیا لیکن اس کے آخری جُملے میں ہے کہ وہ آگ انتہائی سیاہ جیسے اندھیری رات ہے ترمذی نے اس حدیث کے موقوف ہونے کو اصح کہا ہے۔ (ت)

میں کہتا ہوں کہ اس معاملہ میں یہ حدیث موقوف بھی مرفوع کی طرح ہے بشرطیکہ اسرائیلیات سے ماخوذ نہ ہو۔ اس حدیث میں حضور عَلَيْهِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام  نے

 



[1]   شرح التجرید و طوالع الانوار 

[2]   کشف الاستار عن زوائد البزار  کتاب صفۃ جہنم  موسسۃ الرسالۃ بیروت  ۴ / ۱۸۰

[3]   شعب الایمان حدیث ۷۹۹  دار الکتب العلمیہ بیروت  ۱ / ۴۸۹

[4]   جامع للترمذی ابواب صفۃ جہنم  امین کمپنی کتب خانہ رشیدیہ دہلی  ۲ / ۸۳ ، سنن ابن ماجہ باب صفۃ النار  ایچ ایم سعید کمپنی کراچی  ص۳۳۰

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن