30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ہر پانی پاك کرنے والا ہے ماسوائے اس کے جس کے ذائقہ ، بُو اور رنگ مغلوب ہوچکے ہوں۔ (ت)
امام طحاوی مرسل راشد بن سعدسے راوی نبی صَلَّی اللہُ تَعَالٰی علیہ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا :
الماء لاینجسہ شیئ الا ماغلب علی ریحہ اوطعمہ اولونہ [1] ۔
پانی کو کوئی چیز نجس نہیں بناتی مگر وہ چیز جو پانی کے رنگ ، بُو یا ذائقہ پر غالب ہوجائے۔ (ت)
اقول : اور اصل حقیقت ہے فلا ترد الریح (تو ریح کا ورود نہ ہوگا۔ ت) معہذا مقرر ہو چکا کہ ابصار عادی دنیاوی کیلئے مرئی کا ذی لون ہونا شرط ہے بلالکہ مرئی نہیں مگر لون وضیا تو پانی بے لون کیونکر ہوسکتا ہے ولہذا ابن کمال پاشانے اُس کے حقیقۃً ذی لون ہونے پر جزم کیا کمامر اٰنفا (جیسا کہ ابھی گزرا۔ ت) پھر اُس(۱) کے رنگ میں اختلاف ہوا بعض نے کہا سپید ہے فاضل یوسف بن سعید اسمٰعیل مالکی نےحاشیہ عشماویہ میں یہی اختیار کیا اور اس پر تین دلیلیں لائے :
اول : مشاہدہ۔
دوم : حدیث کہ پانی کو دُودھ سے زیادہ سپید فرمایا۔
سوم : برف جم کر کیسا سپید نظر آتا ہے۔
حیث قال فان قلت ما لون الماء الذی ھو قائم بذاتہ قلت المشاھد فیہ البیاض ویشھد لہ ماورد فی بعض الاحادیث فی وصف
جب کہا اگر تو کہے کہ پانی کا رنگ جو پانی میں پایا جاتا ہے وہ کیا ہے ، تو میں کہتا ہوں کہ جو رنگ نظر آتا ہے وہ سفید ہے اور اس کی شہادت اس ایك حدیث
الماء من کونہ اشدبیاضا من اللبن ومما یدل علی ان الماء لونہ ابیض مشاھدۃ البیاض فی الثلج حین جمودہ وانعقادہ علی وجہ الارض[2] اھ۔
سے بھی ملتی ہے جس میں پانی کی صفت میں کہا گیا ہے کہ وہ دُودھ سے زیادہ سفید ہے اور اس حقیقت پر یہ بات بھی دلالت کرتی ہے کہ پانی جم کر جب برف کی صورت زمین پر گرتا ہے تو اس کا رنگ انتہائی سفید نظر آتا ہے اھ۔ (ت)
اقول ، اوّلًا : بلالکہ(۱) مشاہدہ شاہد کہ وہ سپید نہیں ولہذا آبی اُس رنگ کو کہتے ہیں کہ نیلگونی کی طرف مائل ہو۔
ثانیًا : سپید(۲) کپڑے کا کوئی حصہ دھویا جائے جب تك خشك نہ ہو اس کا رنگ سیاہی مائل رہے گا ، یہ پانی کا رنگ نہیں تو کیا ہے۔
ثالثًا : دُودھ(۳) جس میں پانی زیادہ ملا ہو سپید نہیں رہتا نیلا ہٹ لے آتا ہے۔
رابعًا : بحرِ(۴) اسود واخضر واحمر مشہور ، اور اسی طرح ان کے رنگ مشہور ہیں اسود تو سیاہی ہے اور سبزی بھی ہلکی سیاہی ولہذا آسمان کو خَضرا اور چرخِ اخضر کہتے ہیں اور خط کو سبزہ۔ سانولی رنگت کو حسن سبز اور سرخی بھی قریب سواد ہے اگر حرارت زیادہ عمل کرے سیاہ ہوجائے جس طرح بعد خشکی خون۔ گہری سرخی میں بالفعل سیاہی کی جھلك ہوتی ہے انگور سبز پھر سُرخ پھر سیاہ ہوجاتا ہے۔
خامسًا : حدیث۵ مبارك دربارہ کوثر اطہر ہے۔
سقانا الله تعالٰی منہ بمنہ ورأفتہ ، وکرم حبیبہ وقاسم نعمتہ ، صلی الله تعالٰی علیہ وسلم وعلی اٰلہ وصحبہ وامتہ ، اٰمین۔
الله تعالٰی اپنے احسان اور مہربانی اور اپنے حبیب اور قاسمِ نعمت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی علیہ وَاٰلِہٖ وَسَلَّماور آپ کے آل واصحاب اور اُمت پر کرم سے ہمیں حوضِ کوثر سے سیراب فرمائے۔ آمین ۔ (ت)
اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ مطلق پانی کا رنگ سپید ہو ، اُسی حدیث۶ میں اس کی خوشبو مشك سے بہتر فرمائی ۔ صحیحین میں عبدالله بن عمرو بن عاص رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَاسے ہے رسول الله صَلَّی اللہُ تَعَالٰی علیہ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمفرماتے ہیں :
حوضی مسیرۃ شھر ماؤہ ابیض من اللبن و ریحہ اطیب من المسك [3] ۔
میرا حوض ایك مہینے کی راہ تك ہے اُس کا پانی دُودھ سے زیادہ سپید ہے اور اس کی خوشبو مشك سے بہتر۔
اور دوسری روایت میں فرمایا :
ابیض من الورق
چاندی سے بڑھ کر اُجلا۔
حالانکہ پانی اصلًا بُو نہیں رکھتا ، خود حاشیہ فاضل سفطی میں دو ورق بعد ہے :
قولہ او ریحہ قال ابن کمال باشا لابد من التجوز فی قولھم تغیر ریح الماء لان الماء لیس لہ رائحۃ ذاتیۃ فالمراد طرأفیہ ریح لم یکن افادہ شیخنا الامیر[4] اھ۔ وقد اسمعناك نص العلامۃ الوزیر۔
ابن کمال پاشا نے کہا ، پانی کی بُو بدلنے والے قول میں مجاز ماننا ضروری ہے کیونکہ اس کی اپنی کوئی بُو نہیں ہے لہٰذا اس قول سے وہ بُو مراد ہوتی ہے جو پانی پر طاری ہوتی ہے۔ ہمارے شیخ امیر صاحب نے یہ نہیں بتایا حالانکہ ہم نے آپ کو علّامہ وزیر صاحب کی تصریح بتادی ہے۔ (ت)
اس کی ضد جہنّم ہے والعیاذ۱ بالله تعالٰی منہا جس کی آگ اندھیری رات کی طرح کالی ہے مالك وبیہقی ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے راوی رسول الله صَلَّی اللہُ تَعَالٰی علیہ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمفرماتے ہیں :
ا ترونھا حمراء کنارکم ھذہ لھی اشد سواد من القار [5]۔
کیا تم اُسے اپنی اس آگ کی طرح سرخ سمجھتے ہو بےشك وہ تو تار کول سے بڑھ کر سیاہ ہے۔
اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ آگ کا اصل رنگ سیاہ ہو یا ہر آگ ایسی ہی ہو خود حدیث کا ارشاد ہے کہ اُسے اس آگ سا سُرخ نہ جانو۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع