30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اللون قبل اللون والضابطۃ الشیبانیۃ اصابت فی صورھا فی الحکم فانھا لاتسلم تقید الماء فیھا وان کان بناء علی انھا لاتقع وعلی ھذا التحقیق والتنقیر یبتنی کلام الفقیر فی التطفلات علی الضابطۃ الزیلعیۃ وعلی البحر وفی ابداء المخالفات بینھا وبین الحکم المنقول ، علی ضابطۃ محمد سید الاکابر الفحول ، فاعلم ذلک ، والحمدلله خیر مالک۔ (۵) بمابینا ان تغیر اللون یسبق مساواۃ القدر یندفع مایتوھم علی ضابطۃ البرجندی اذ قال فی المخالط بلاطبخ معنی غلبتہ ان یغلب لونہ لون الماء عند محمد والاجزاء
ہوئے بغیر کسی وصف کی تبدیلی مراد لیتے ہو تو یہ تسلیم نہیں ہے جیسا کہ معلوم ہوچکا ہے یا وصف کی تبدیلی سے پانی کے نام کی تبدیلی بھی مراد ہے تو یہ تسلیم ہے ، لیکن پھر رنگ کی تبدیلی کو مقدم کیوں کہتے ہو حالانکہ نام کی تبدیلی جس وصف سے ہوجائے وہی مؤثّر ہوگا (اور رنگ کے اعتبار کو مفہوم قرار دینے کی وجہ میں) آپ کا یہ کہنا کہ چونکہ رنگ ایك کمزور وصف ہے اس لئے وہ ذائقہ کی نسبت پہلے متغیر ہوجاتا ہے اس لئے ذائقہ کی تبدیلی اس سے پہلے نہیں ہوتی ، تو اس کے جواب میں ہم یہ کہتے ہیں کہ جس طرح اثر کو قبول کرنے والی چیز کی کمزوری کے سبب فعل کی تاثیر جلدی ہوتی ہے کیونکہ وہ چیز رکاوٹ نہیں بنتی اسی طرح اگر فاعل قوی ہو تو بھی تاثیر جلدی ہوسکتی ہے کیونکہ فاعل کو روکا نہیں جاسکتا اور یوں ہوسکتا ہے کہ کسی چیز کا ذائقہ اتنا شدید ہو کہ وہ رنگ کے مقابلہ میں پانی پر پہلے اثر انداز ہو جائے اسی وجہ سے میں کہتا ہوں کہ ضابطہ زیلعیہ رنگ سے قبل دوسرے کسی وصف کے موثر ہونے کو جائز قرار دینے میں درست ہے ، اور ضابطہ شیبانیہ حکم کے بارے میں تبدیلی کی صورتوں میں درست ہے کیونکہ یہ ضابطہ ان اوصاف کی تبدیلی کی صورتوں میں پانی کو مقید تسلیم نہیں کرتا خواہ یہ صورتیں واقع نہ ہوں ، تطفلات میں اس فقیر کے کلام کی یہ تحقیق ضابطہ زیلعیہ اور بحر کے بیان پر مبنی ہے ، اور حکم اور ضابطوں کے درمیان مخالفت کا اظہار امام محمدکے ضابطہ پر مبنی ہے کیونکہ عظیم اکابر کے سردار ہیں ، اس کو سمجھو اور الله تعالٰی کی حمد تیرا بہترین مال ہے۔ (ت)(۵) رنگ کی تبدیلی ، اجزاء اور مقدار کے لحاظ سے تبدیلی اور غلبہ پر مقدم ہے۔ ہمارے اس بیان سے علامہ برجندی کے ضابطہ پر ایك اعتراض ختم ہوجاتا ہے ، علامہ برجندی نے کہا ہے کہ پانی میں ملی ہُوئی چیز جو
عند ابی یوسف[1] اھ۔ ان محمدا لا یعتبر الاجزاء وھو باطل قطعا کمانبھنا علیہ فی الفصل الثالث اول ابحاث غلبۃ الغیر وذلك لان من اعتبر اللون فقد ضیق لان تغیرہ اسبق ولمثل ھذا لم اذکر کثرۃ الاجزاء فی الضابطۃ الشیبانیۃ الا فی جھۃ المائع واطلقت القول بالجواز فی الجامد مادامت الرقۃ باقیۃ ولم یصرشیئا اٰخر لمقصد اٰخر وذلك لان الرقۃ تزول بالجامد قطعا بل تساوی القدر بکثیر وھذا ملحظ مامر فی البحث المذکور عن البحر عن الحدادی ان غلبۃ الاجزاء فی الجامد [2] بالثلث کماقدمت ثمہ۔
پکائے بغیر ملی ہو ، اس کے پانی پر غالب ہونے کا معیار امام محمد رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِکے نزدیك رنگ کی تبدیلی ہے ، اور امام یوسف رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِکے نزدیك اجزاء کا غالب ہونا ہے۔ اس سے بعض نے یہ اعتراض اٹھایا کہ امام محمدرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِاجزاء کے غلبہ کا اعتبار نہیں کرتے ، اور یہ اعتراض غلط ہے جیسا کہ ہم نے تیسری فصل میں پانی پر غیر چیز کے غلبہ کی اول بحث میں واضح کردیا ہے وہ یہ کہ جس نے رنگ کی تبدیلی کو غلبہ کا معیار بنایا ہے اس نے یہ پابندی لگائی ہے کہ رنگ کی تبدیلی پہلے ہو۔ اسی طرح میں نے ضابطہ شیبانیہ میں اجزاء کی کثرت اور غلبہ کو صرف بہنے والی چیز کے بارے میں کہا ہے اور جامد کے بارے میں جب تك پانی کی رقت باقی ہو تو اس سے وضو کے جواز کو میں نے مطلق ذکر کیا ہے اور رقّت کی بقاء کے ساتھ یہ بھی ملحوظ ہے کہ کسی دوسرے مقصد کیلئے دوسری چیز نہ بن چکی ہو ، اور یہ اس لئے ہے کہ جامد کی وجہ سے پانی کی رقّت اجزاء کے مساوی ہونے سے بہت پہلے ختم ہوجاتی ہے ، اور بحر سے حدادی سے مذکور بحث میں جو گزرا کہ جامد کی وجہ سے پانی کی رقت تہائی مقدار سے بھی قبل ختم ہوجاتی ہے یہ اس کا خلاصہ ہے جیسا کہ میں نے وہاں بیان کردیا ہے۔ (ت)
(۶) بعض۱ علماء کا خیال ہے کہ پانی بے لَون ہے خود کوئی رنگ نہیں رکھتا ،
حتی عرفہ الفاضل احمد بن ترکی المالکی فی الجواھر الزکیۃ شرح المقدمۃ العشماویۃ بقولہ الماء جوھر لطیف سیال لالون لہ یتلون بلون انائہ [3] اھ ۔
حتی کہ فاضل احمد بن ترکی المالکی نے مقدمہ عشماویہ کی شرح جواہر زکیہ میں اس کی یہ تعریف کی ہے کہ پانی ایسا لطیف بہنے والا جوہر ہے جس کا اپنا کوئی رنگ نہیں بلالکہ برتن کے رنگ سے رنگدار دکھائی دیتا ہے اھ۔ (ت)
اقول : کان (۱) علیہ ان یقول یتلون بلون ما یخالطہ فان بعد الجملۃ الاخیرۃ غنی عن البیان ولذا قال محشیہ السفطی المالکی انہ لکونہ شفافا یظھر فیہ لون انائہ فاذا وضع فی اناء اخضر فالخضرۃ لم تقم بالماء و انما ھو لرقتہ لا یحجب لون الاناء ١ج[4] اھ۔
اقول : و (۲) وقع فی صدر شرح المواقف بحث العلم بالحس الثلج مرکب من اجزاء شفافۃ لالون لھا وھی الاجزاء المائیۃ الرشیۃ [5] اھ۔ وھو ظاھر فی نفی اللون عن الماء فان قلت منشأ النفی کونھا صغیرۃ جدا فلا یظھر لھا لون۔ اقول : کلا الا تری ان البخار یری لہ لون وما ھو الا لون الاجزاء المائیۃ وھی فیہ الطف منھا فی الثلج ولذا ینزل ذاك وھذا یعلو والصغیر جدا اذا انفرد لایری فلا یری لونہ واذا اجتمعت الصغار بنت ورئ لونھا کمافی البخار والد خان بل والھباء کماذکرناہ فی بعض حواشی اواخر الفصل الاول من رسالتنا النمیقۃ الانقی۔
میں کہتا ہوں کہ ان پر لازم تھا کہ وہ یوں تعریف کرتے کہ اس میں ملنے والی چیز سے رنگدار ہوتا ہے کیونکہ آخری جملہ بیان کا محتاج رہتا ہے اسی لئے اس کے محشی سفطی مالکی نے کہا ہے کہ شفاف ہونے کی وجہ سے برتن کا رنگ اس میں ظاہر ہوتا ہے جب سبز برتن میں ڈالیں اور سبزی پانی کو نہیں لگتی بلالکہ وہ رقت کی بنا پر برتن کے رنگ کیلئے حاجب نہیں بنتا اھ۔ (ت)
میں کہتا ہوں کہ شرح مواقف میں علم بالحس کی بحث میں موجود ہے کہ برف شفاف اجزاء سے مرکب ہے اس کا کوئی رنگ نہیں ہے بلالکہ وہ پانی کے باریك اجزا ہیں اھ۔ پانی کے رنگ کی نفی میں یہ عبارت ظاہر ہے۔ اگر تو کہے ہوسکتا ہے کہ اجزاء باریك ہونے کی وجہ سے رنگ ظاہر نہ ہوتا ہو۔ میں کہتا ہوں کہ ایسے ہرگز نہیں ، کیونکہ آپ دیکھتے ہیں کہ بادل کے بخارات میں رنگ ظاہر ہوتا ہے اور یہ رنگ پانی کے اجزاء کا رنگ ہیں حالانکہ یہ اجزاء برف کے اجزاء سے زیادہ باریك ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ برف اوپر سے گرتی ہے اور بخارات اوپر کو اُٹھتے ہیں اور باریك اگر علیحدہ ہو تو وہ نظر نہیں آتا تو اس کا رنگ کیسے نظر آئےگا اور چھوٹے اجزاء جب جمع ہوں تو نظر آتے ہیں تو ان کا رنگ بھی نظر آئےگا جیسا کہ بخارات اور دھوئیں میں بلالکہ ذرات میں ایسا ہے جیسا کہ ہم نے اپنے رسالہ النمیقۃ الانقی کی پہلی فصل کے اواخر کے حواشی میں ذکر کیا ہے۔ (ت)
اور صحیح یہ کہ وہ ذی لون ہے ، یہی امام فخر رازی وغیرہ کا مختار ہے جو کلام فقہا مسائل آب کثیر و آب مطلق وغیرہمامیں ذکر لون متواتر ہے اور ابن ماجہ نے ابو امامہ باہلی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت کی رسول الله صَلَّی اللہُ تَعَالٰی علیہ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمفرماتے ہیں :
ان الماء طھور لاینجسہ الا ماغلب علی ریحہ وطعمہ ولونہ[6]۔
بےشك پانی پاك ہے اسے کوئی چیز نجس نہیں بناتی مگر وہ چیز جو پانی کی بُو اور ذائقہ اور رنگ پر غالب ہوجائے۔ (ت)
سنن دار قطنی میں ثوبان رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے ہے نبی صَلَّی اللہُ تَعَالٰی علیہ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمفرماتے ہیں :
الماء طھور الاماغلب علی طعمہ او ریحہ اولونہ [7] ۔
[1] شرح النقایۃ للبرجندی ابحاث الماء نولکشور لکھنؤ ۱ / ۳۲
[2] بحرالرائق ابحاث الماء سعید کمپنی کراچی ۱ / ۷۰
[3] جواہر زکیۃ
[4] حاشیہ سفطی علی مقدمۃ عشماویۃ
[5] شرح المواقف المرصد الرابع فی علوم الضروریۃ مطبعۃ السعادۃ مصر ۱ / ۱۴۳
[6] سنن ابن ماجہ باب الماء الذی لاینجس ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۴۰
[7] سنن الدار قطنی باب الماء المتغیر مدینہ منورہ حجاز ۱ / ۲۸
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع