30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
معیار اجزاء کے اعتبار سے ہوگا(یعنی ملنے والی چیز کی مقدار پانی کے برابر یا زیادہ ہوجانے کو معیار قرار دیا جائےگا)۔ (ت)الحاصل جب رنگ اور ذائقہ کو تبدیل کرنے والی چیز پانی میں ملے گی تو پہلے رنگ دوسرے نمبر پر ذائقہ کو معیارِ غلبہ قرار دیا جائےگا ایسی صورت میں غلبہ کا معیار اجزاء کی مقدار کو نہیں بنایا جائے گا ، یہ مطلب ہرگز نہیں کہ رنگ اور ذائقہ میں مخالف چیز اگر مقدار کے لحاظ سے پانی کے مساوی یا زیادہ ہوجائے تب بھی غلبہ نہیں مانا جائےگا کیونکہ یہ واضح طور پر غلط ہے اس لئے کہ اجزاء کے غلبہ سے پانی مغلوب ہوکر اپنی طبع سے خارج ہوجاتا ہے اور وہ پانی نہیں رہتا بلالکہ وہ ایك مرکّب چیز بن جاتا ہے بلالکہ ابھی اس معیار کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ غلبہ کی پہچان ابھی اس سے کم درجہ کی تبدیلی سے ہوسکتی ہے ، رنگ کے لحاظ سے مخالف چیز کی موجودگی میں ذائقہ کے معتبر نہ ہونے کا بھی یہی مقصد ہے
اللون ثم الطعم ثم الاجزاء فانکان لونہ مخالف لون الماء کاللبن والعصیر والخل وماء الزعفران فالعبرۃ باللون فان توافقا لونا لکن تفاوتا طعما کماء البطیخ والشمس والانبذۃ فالعبرۃ للطعم وان توافقا لونا وطعما کماء الکرم فالعبرۃ للاجزاء[1] اھ۔ وعبارۃ ملك العلماء ان کان یخالف لونہ لون الماء کاللبن وماء العصفر والزعفران تعتبر الغلبۃ فی اللون وان کان لایخالف الماء فی اللون ویخالفہ فی الطعم کعصیر العنب الابیض وخلہ تعتبر فی الطعم وان کان لایخالفہ فیھما تعتبر فی الاجزاء [2] اھ۔ وعبارۃ خزانۃ المفتین ینظر ان کان یخالف لونہ لون الماء کاللبن والعصیر والخل والزعفران فالعبرۃ باللون وان کان یوافق لونہ لون الماء نحو ماء الثمار والاشجار والبطیخ فالعبرۃ للطعم ان کان شیئا یظھرلہ طعم فی الماء وذلك نحونقیع الزبیب وسائر الانبذۃ وان کان شیئا لایظھر طعمہ فی الماء فالعبرۃ لکثرۃ الاجزاء [3] اھ۔ وعبارۃ الحلیۃ ان کان المخالط شیئا لونہ یخالف لون الماء مثل اللبن والخل وماء الزعفران ثم قال وان کان لایخالف فی اللون ویخالف فی الطعم نحو
(یعنی تبدیلی کی پہچان کے لئے پہلے معیار کی موجودگی میں دوسرے نمبر کے معیار کی ضرورت نہیں ، لیکن بعد کے نمبر والے معیار کے پائے جانے پر نچلے معیار کا پایا جانا ضروری ہوتا ہے) ثقہ راویوں نے جو بیان کیا ہے اس کا یہی مطلب ہے کہ پانی میں ملنے والی چیز اگر رنگ میں موافق ہو تو ذائقہ اور اگر ذائقہ میں بھی موافق ہو تو پھر غلبہ کیلئے اجزاء اور مقدار کا اعتبار ہوگا۔ اور انہوں نے معیار کی ہر صورت کی مثال علیحدہ دی ہے۔ چنانچہ زاد الفقہاء اور بنایہ وغیرہا کتب میں مذکورہ بیان کی وضاحت یوں کی کہ غلبہ پہلے رنگ کے اعتبار سے ہوگا پھر ذائقہ پھر اجزاء کے اعتبار سے ہوگا اس کے ساتھ صرف رنگ میں تبدیلی ظاہر کرنے والی چیزوں کی مثال دُودھ ، پھلوں کا جوس ، سرکہ اور زعفران کا پانی ، ذکر کی ہے۔ اور کہا کہ ان چیزوں کی وجہ سے جب پانی کا رنگ بدل جائے تو پانی کو مغلوب اور ان چیزوں کو غالب قرار دیا جائےگا اور انہوں نے رنگ میں موافق اور ذائقہ میں مخالف چیز جو پانی میں مل کر پانی کے ذائقہ کی تبدیلی کو ظاہر کردے کے بارے میں فرمایا اس میں ذائقہ معیار ہوگا ، اس کی مثال میں انہوں نے تربوز کا پانی ، دھوپ والا پانی اور نبیذ وں کو ذکر کیا ہے ، اور انہوں نے رنگ اور ذائقہ دونوں میں موافق چیزوں کی مثال میں انگور کے پودے کا پانی ذکر کیا ہے
ماء البطیخ وعصیر العنب الابیض وخلہ ثم قال وانکان لایخالفہ فیھما تعتبر الغلبۃ فی الاجزاء[4] اھ۔ وعبارۃ البرجندی ان خالف لونہ لون الماء کاللبن والزعفران فالعبرۃ لغلبۃ اللون وان توافقا فیہ فللطعم وان لم یکن لہ طعم ایضا فللا جزاء [5] اھ۔ وھکذا لخصہ البحر کمامر و ان زاد الریح من عند نفسہ اذقال مرادہ ان المخالط المائع ان کان لونہ مخالفا تعتبر اللون وان کان لونہ لون الماء فالطعم وان کان لایخالفہ فی اللون والطعم فالاجزاء [6] اھ۔ فماقدمنا من عبارۃ الامام الاسبیجابی ان غیر لونہ فالعبرۃ لللون وان لم یغیر لونہ بل طعمہ فللطعم وان لم یغیر لونہ وطعمہ فللاجزاء اھ۔ علی الصلوح دون الفعلیۃ ای ماصلح لتغیر اللون وھو الذی یخالفہ لونا فالعبرۃ فیہ لللون وان لم یصلح لہ بل لتغیر طعمہ بان وافقہ لونا وخالفہ طعما فللطعم وھکذا لا ان المخالط ان غیر اللون فذاك والاینظر الی تغییرہ طعمہ فان حصل والا عدل الی الاجزاء وذلك لماعلمت ان ما
جو پانی میں مل جائے تو پانی پر غلبہ کا اعتبار اجزاء کے لحاظ سے ہوگا (یعنی پانی کی مقدار کے مساوی یا زیادہ ہونے پر پانی کو مغلوب اور انگور کے پودے کے پانی کو غالب قرار دیا جائےگا) اسی طرح ملك العلماء ، خزانۃ المفتین ، حلیہ ، برجندی کی عبارتوں میں یہی مضمون مثالوں میں جزوی اختلاف کے ساتھ ذکر کیا گیا ہے۔ بحرالرائق نے اگرچہ اپنی طرف سے بُو کو بھی ذکر کیا ہے لیکن اس کے باوجود انہوں نے سب کا خلاصہ بیان کردیا ہے۔ اور ہم نے قبل ازیں امام اسبیجابی کا جو کلام نقل کیا ہے کہ وہ چیز رنگ تبدیل کردے تو رنگ کا اعتبار اور رنگ کو تبدیل نہ کرے تو پھر ذائقہ کا اعتبار اور اگر رنگ اور ذائقہ دونوں کو تبدیل نہ کرے تو پھر اجزاء اور مقدار کا اعتبار ہوگا اھ تو اس ترتیب کا مطلب یہ ہے کہ اس چیز میں تبدیلی مذکورہ کی صلاحیت ہو ، ورنہ فعلیت کے لحاظ سے پانی میں ملی ہوئی چیز میں اگر اوپر والا معیار پایا جائے گا تو نیچے والا ضرور پایا جائے گا۔ یہ ممکن نہیں اوپر والا معیار پایا جائے اور نیچے والا نہ پایا جائے۔ مثلًا جب پانی میں ملنے والی
صلح لتغییر اللون والطعم جمیعا ان لم یغیر اللون لم یغیر الطعم ایضا وما صلح لتغییر ھما اواحدھما لایمکن ان یکون مغلوبا فیھما غالبا اومساویا فی القدر وان امکن ھذا بطل الحکم بالترتیب و وجب القول باعتبار الثلثۃ مجملا ایھا حصل حصلت الغلبۃ اذا عرفت ھذا فاعلم ان اھل الضابطۃ لم یراعوا ھذا الترتیب بل قالوا ما خالف فی وصفین فایھما تغیر غیر وما خالف فی الثلثۃ فایّ اثنین تبدلا بدّلا وبھذا الوجہ اوردنا علیھم مافیہ سبق الطعم اللون وان کان غیر واقع علی مسلك الضابطۃ الشیبانیۃ کما اوردنا علیھم مافیہ تغیرالریح وان کان ساقط النظر عندھا وحکما بخلاف الضابطۃ الزیلعیۃ ظاھر فی ذوات الریح واما فی سبقۃ الطعم فالقصرھا الحکم علی اللون فی ذی اللون فان وقع سبق الطعم ثبت الحکم وان لم یکن واقعا فی نظرھا۔
واقول : من قبل الامام ابی یوسف ان اردتم تغیر وصف بدون زوال الاسم
چیز اپنی مقدار میں پانی کی مقدار کے برابر یا زیادہ ہوگی تو نچلے دونوں معیار یعنی ذائقہ اور رنگ والا معیار ضرور تبدیل ہوگا ، اور یوں ہی اگر وہ چیز ذائقہ والا معیار رکھتی ہے تو اس کے پائے جانے پر رنگ والا معیار ضرور پایا جائےگا ، یہ اس صورت میں جبکہ اوپر والے اور نیچے والے معیار میں موافقت ہو ، ورنہ اگر موافقت نہ ہوگی تو پھر تینوں معیاروں میں ترتیب لازمی نہ ہوگی بلکہ پھر مجمل طور تینوں کو معیار قرار دیں گے اور کہیں گے کہ جو بھی پایا جائےگا غلبہ پایا جائےگا۔ اس وضاحت کے بعد معلوم ہونا چاہئے کہ ضابطہ کو بیان کرنے والوں میں سے بعض نے ان معیاروں کی ترتیب کی رعایت نہیں کی اور انہوں نے یوں کہا کہ جو چیز پانی سے دو وصفوں میں مختلف ہے ان دو میں سے جو بھی تبدیل ہوگا تو پانی متغیر ہوجائےگا ، اور جو چیز تین اوصاف یعنی رنگ ، بُو اور ذائقہ میں پانی سے مختلف ہو ان میں سے دو وصفوں میں تبدیلی ہوجانے سے پانی کو متغیر قرار دیں گے تو ان کی اس انداز کی تقریر پر میں نے ترتیب کو بیان کیا اور کہا تھا سب سے پہلے رنگ کی تبدیلی ہوگی ، اگرچہ ضابطہ شیبانیہ پر یہ اعتراض نہیں ہوتا جیسا کہ بُو کی تبدیلی کے بارے میں ہم نے ان پر اعتراض کیا اگرچہ وہ ضابطہ شیبانیہ پر وارد نہیں ہوتا ، اس ضابطہ کا حکم زیلعیہ کے برخلاف بُو والی چیزوں میں ظاہر ہے لیکن ذائقہ والی صورت کا پہلے ہونا اس لئے ہے کہ ضابطہ زیلعیہ نے رنگ والی چیز میں حکم کو رنگ کے ساتھ خاص کردیا تاہم اگر ذائقہ پہلے ہو تو حکم ثابت ہوگا اگرچہ اس ضابطہ کے تحت ذائقہ پہلے نہیں ہوگا۔ (ت)
میں کہتا ہوں ، کہ امام ابویوسف رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِتعالٰی کی طرف سے یہ اعتراض کرتا ہوں اگر پانی کا نام تبدیل
فممنوع کماعلم او ما یزیلہ فنعم ولم قلتم یقدم اللون فان الاسم بای شیئ زال زال اما قولکم ھو اضعف فیسبق فی التغیر الطعم ولاعکس قلنا سبقۃالفعل کما یکون بضعف المنفعل فلایقاوِم بالکسر کذلك یکون بقوۃ الفاعل فلایقاوَم بالفتح وما المانع ان یکون شیئ طعمہ اقوی شدیدا من لونہ فیعمل فی طعم الماء القوی قبل ان یعمل لونہ فی لونہ الضعیف وعن ھذا اقول : ان الضابطۃ الزیلعیۃ اصابت فی تجویزھا غلبۃ غیر
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع