30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
(۳۲۹ ، ۳۳۰) اقول : بعینہ اسی دلیل سے نطول وپاشویہ کا پانی بھی بحکم اصول معتمدہ قابل طہارت ہے یہاں تك کہ پاشویہ کے بعد پاؤں یا نطول کے بعد غسل میں سر یا اُس موضع کا جہاں وہ پانی دھار نے میں پہنچا دوسرے پانی سے دھونا ضرور نہ رہا والله تعالٰی اعلم یہ صورتیں بھی وہی ہیں کہ مقصود صرف پانی ہے دھار نے امالہ میں تنہا گرم پانی بھی کام دیتا ہے دوائیں زیادت قوت کیلئے ہیں۔
اقول : یہ دونوں۶ بھی ضابطہ برجندیہ پر ظاہر الورود۔
(۳۳۱) حُقّے کا پانی اگرچہ دھوئیں کے سبب اُس کا رنگ ، مزہ ، بُو سب بدل جائیں قابل طہارت ہے اُس کے ہوتے تمیم کی اجازت نہیں ہوسکتی کمابیناہ فی فتاوٰنا (جیسا کہ ہم نے اپنے فتاوٰی میں بیان کیا ہے۔ ت) اگر کہئے اس میں اور سوڈا واٹر میں کہ صرف گیس کی ہوا سے بنایا گیا کیا فرق ہے وہاں ہوا اور یہاں دُھوئیں نے اوصاف بدل دیے اور پانی میں باقی دونوں نہ رہے۔
اقول : فرق وہی ہے کہ بارہا گزرا وہاں زوال اسم ہوگیا کہ اب اسے نرا پانی نہیں کہہ سکتے کہ مقصد دیگر کیلئے شیئ دیگر ہوگیا بخلاف اس کے کہ پانی ہی ہے کوئی دوسری چیز نہ ہوگیا۔ اعتبار مقاصد کا بیان بقدر کافی گزرا اور اس کی نظیر آبِ زردج وآبِ زعفران ہے کہ تغیر دونوں میں یکساں اور اوّل سے وضو روا جب تك رقّت باقی رہے یہی صحیح ہے ھدایہ وغیرھا وقد مر فی ۸۱ (ہدایہ وغیرہ اور ہدایہ ۸۱ میں گزرا ہے۔ ت) اور دوم سے ناروا جبکہ رنگنے کے قابل ہوجائے اگرچہ رقّت باقی رہے کماتقدم تحقیقہ فی ۱۲۲ (جیسا کہ اس کی تحقیق ۱۲۲ میں گزر گئی ہے۔ ت)
اقول : وبالله التوفیق اسے روشن تر کرے گا یہ کہ شوربا دار گوشت پکایا اگر قسم کھائی کہ گوشت نہ کھائےگا اس گوشت کے کھانے سے حانث ہوگا کہ اس امتزاجِ آب سے گوشت اپنی ذات میں نہ بدلا کہ اس کا مقصود بحالہ باقی لیکن اگر قسم کھائی پانی نہ پئے گا تو شوربا پینے سے حانث نہ ہوگا کہ اس امتزاج گوشت سے پانی بدل گیا کہ مقصود جدید کیلئے ہوگیا۔ یونہی دُودھ میں شکر شہد بقدر شیرینی ملائی وہ دودھ ہی رہے گا سب اُسے دودھ ہی کہیں گے لیکن پانی میں اس قدر ملائی اب اُسے پانی کوئی نہ کہے گا شربت کہیں گے الی غیر ذلك مما یعلمہ المتفطن بالمقایسۃ (اس کے علاوہ دوسری چیزیں جن کو ایك ذہین آدمی قیاس کے ذریعے سمجھ سکتا ہے۔ ت)
(۳۳۲) زمین حبش میں ایك درخت ہے کہ جب ہوائیں چلتی ہیں اُس سے دُھواں سا نکلتا ہے اور مینہ کی طرح برس جاتا ہے بعینہ مثل پانی کے ہوتا ہے امام ابن حجر مکی نے فرمایا کہ اُس سے وضو جائز نہیں کہ وہ پانی نہیں بلالکہ درختوں کی اور رطوبتوں کے مثل ہے کماتقدم
اقول : وقواعدنا لا تأباہ حتی عند من یجوز بقاطر الکرم فانہ عندہ ماء تشربہ حتی اذا ارتوی رد الفضل بخلاف ھذا والله تعالٰی اعلم۔
میں کہتا ہوں کہ ہمارے قواعد اس حقیقت کے خلاف نہیں ہیں کیونکہ جن لوگوں نے انگور کے پودے سے ٹپکنے والے پانی سے وضو کو جائز قرار دیا ہے انہوں نے خیال ظاہر کیا ہے کہ یہ پودا خود پانی پیتا ہے اور جب وہ سیر ہوجاتا ہے تو وہ زائد پانی کو واپس پھینکتا ہے بخلاف اس کے۔ (ت)
(۳۳۳) نیز صحرائے حبش میں جہاں پانی نہیں ملتا اہلِ قافلہ زمین میں گڑھا کھودتے اور بعض درختوں کی شاخوں سے اُسے چھپا دیتے ہیں کچھ دیر بعد اُس غار کے اندر سے بخارات اُٹھ کر اُن شاخوں سے لپٹتے اور پانی ہو کر ٹپك جاتے ہیں جس سے گڑھے میں اتنا پانی جمع ہوجاتا ہے کہ قافلے کو کفایت کرتا ہے فسبحٰن الرحمٰن الرحیم الرزاق ذی القوۃ المتین (مہربان رحم کرنے والا ، رزق دینے والا ، مضبوط قوۃ والا پاك ہے۔ ت) امام موصوف فرماتے ہیں اس سے بھی وضو جائز نہیں کہ درخت کا عرق ہے نہ پانی۔
قال بعد مامر و بلغنی ان القوافل بارض الحبشۃ اذا عدموا الماء حفر واحفرۃ ثم ستروھا بشیئ من الشجر وترکوھا مدۃ ثم یصعد بخار من الحفرۃ یعلق بالشجرۃ ثم یرشح مائعا علی ھیاۃ الماء ویجتمع منہ فی الحفرۃ مایکفیھم وھو غیر طھور کماھو ظاھر اذ ھو ماء شجر ایضا[1] اھ۔
اس کے بعد انہوں نے فرمایا کہ مجھے اطلاع ملی ہے کہ صحرائے حبش میں جہاں پانی نہیں ملتا قافلہ والے زمین میں ایك گڑھا کھودتے ہیں اور بعض درختوں کی شاخوں سے گڑھے کو ڈھانپ دیتے ہیں اور کچھ مدّت کے بعد گڑھے سے اُٹھنے والے بخارات اٹھ کر ان شاخوں کو مرطوب کردیتے ہیں جن سے پانی ٹپکنے لگتا ہے اور وہ گڑھا پانی سے بھرجاتا ہے جس سے قافلے والے اپنی ضرورت کو پُورا کرتے ہیں یہ پانی بھی پاك کرنے والا نہیں کیونکہ ظاہر یہی ہے کہ یہ بھی درخت کا پانی ہے اھ (ت)
اقول : ظاہرًا یہ محل نظر ہے وہ بخارات درخت کے نہیں زمین ہی سے اُٹھے اگر اُن شاخوں کا اثر اُن کو سردی پہنچاکر ٹپکا دینے میں ہے تو بظاہر وہ پانی ہی ہوئے شاخوں نے صرف وہ کام دیا جو آبِ باراں میں کرہ زمہریر کی ہوا دیتی ہے یا آب چاہ میں زمین کی سردی ، ہاں اگر ان کے لپٹنے سے ان شاخوں سے کوئی رطوبت نکل کر ٹپکتی ہے تو بیشك اُس سے وضو جائز نہیں کہ وہ درخت کی تری ہے اور جب تك امر مشکوك رہے حکم عدم جواز ہی ہونا چاہئے کہ مامور بہ پانی سے طہارت ہے اور شك سے ماموربہ ادا نہیں ہوتا والله تعالٰی اعلم۔
(۳۳۴) ماء القطر پانی کی مٹی کے برتن سے رسے محمود ومصفّٰی پانیوں میں ہے۔
(۳۳۵) یوں ہی پانی کہ ہڈّیوں ، گولوں ، ریتے پر گزار کر ٹپکایا صاف کیا جاتا ہے۔
(۳۳۶) نشاستہ کا پانی جس کا بیان اواخر رسالہ الرقۃ والتبیان میں گزرا جب اجزائے گندم تہ نشین ہوکر نتھرا پانی رہ جائے یا خلط رہے تو اتنا کہ پانی کو دلدار نہ کرے وہ آبِ مطلق ہے اُس سے وضو جائز ہے جبکہ بے وضو ہاتھ نہ لگاہو۔
(۳۳۷) آش جو کا پانی کہ بار بار بدلا جاتا ہے اگر ٹھنڈا ہوکر دلدار ہونے کے قابل نہ ہو آب مطلق ہے ورنہ نہیں۔
(۳۳۸) ماء العسل کہ شہد میں دو چند پانی ملاکر جوش دیں یہاں تك کہ دو ثلث جل جائے پانی نہ رہا۔
(۳۳۹) یوں ہی ماء الشعیر کہ جَو جوش دیں یہاں تك کہ کھل کر مہرا ہوجائیں صاف کرکے مستعمل ہوتا ہے بوجہ کمال امتزاج پانی نہ رہا۔
(۳۴۰ ، ۳۴۱) یوں ہی ماء الاصول وماء البزور جڑوں اور تخموں کے جوشاندے۔
(۳۴۲) یوں ہی ماء الرماد کہ پانی میں بار بار راکھ ڈال کر ہر بار جوش دیتے ہیں پھر صاف کرتے ہیں مثل جوشاندہ دوا ہے۔
(۳۴۳) ماء النون کہ ماہی نمکسود سے پانی سا ٹپکتا ہے۔
(۳۴۴) ماء الجُمّہ بضم جیم وتشدید میم مفتوح کہ فارسی میں آبکُمہ بسکون باوضم کاف وفتح میم مخفف کہتے ہیں دریائے چین وہرموز میں ایك قسم کی مچھلی کے پیٹ سے خاکستری رنگ پانی نکلتا ہے یہ دونوں سرے سے پانی نہیں۔
(۳۴۵ تا ۳۵۰) سونے ، چاندی ، تانبے ، رانگ ، لوہے ، سیسے کے پانی کہ ماء الذہب ، ماء الفضہ ، ماء النحاس ، ماء الرصاص ، ماء الحدید ، ماء الاسرب اور سب کو ماء المعدن کہتے ہیں ، اس کے تین معنی ہیں :
ایك یہ کہ انہیں آگ میں سُرخ کرکے پانی میں بجھائیں جسے زرتاب ، آہن تاب وغیرہ کہتے ہیں۔ یہ ۱۳۶ میں گزرا۔
دوم : ان کا گداختہ جسے محلول زر وغیرہ کہتے ہیں ظاہر ہے کہ یہ جنس آب ہی سے نہیں اس کا اشارہ فصل ثانی صدر بیان اضافات میں اور جزئیہ حاشیہ ۱۹۰ میں ازہری و وافی سے گزرا۔
سوم : وہ پانی کہ ان کی معاون میں ملتا ہے۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع