30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اقول : مگر طہور وقابلِ طہارت نہیں اگر آب مطلق کے سوا اور رطوبتوں سے ہوں کمالایخفی۔
(۳۱۳) سونٹھ کا پانی جنجریٹ۔
(۳۱۴) میٹھا پانی لیمینیڈ ان کا آب مطلق تو نہ ہونا صاف ظاہر۔
عــہ طابق شیشے یا مٹی کے بڑے ڈھکنے کو کہتے ہیں۔ (م)
(۳۱۵) کھاری پانی سوڈا واٹر بھی قابلِ طہارت نہیں اگرچہ اُس میں کوئی جُز نہ ڈالا صرف گیس کی ہوا سے بنایا ہو ،
فانہ لاشك فی سرایۃ الھواء المذکور فی الماء عند فورانہ وتغییرہ طعمہ وجعلہ شیئا اٰخر لمقصود اٰخر۔
کیونکہ بلاشبہ مذکور ہوا (گیس سوڈا) پانی میں سرایت کرتی ہے جس سے پانی ابلتا ہے اور ذائقہ تبدیل ہوجاتا ہے اور یہ (سوڈا گیس) پانی کو کسی اور مقصد کیلئے دوسری چیزبنادیتا ہے۔ (ت)
اقول : یہ تینوں(۱)پانی بھی ضابطہ پر وارد ہیں جبکہ ان کا اصطناع جامدات سے ہوکہ رقّت ضرور باقی ہے ،
الا ان یدعی فی الثالث ان الھواء من المائعات لجریانہ منبسطاعلی ھینۃ بل ھو ابلغ فیہ من الماء لکونہ الطف منہ فھذا مائع یخالف الماء فی الطعم وقد غیرہ فتقید فلایخرج الفرع عن الضابطۃ۔
مگر تیسرے میں یہ دعوی کیا جائے کہ ہوا پُرسکون طور پر پھیلتی چلی جاتی ہے لہٰذا ہوا بھی بہنے والی چیزوں میں سے ہے ب بلکہ یوں کہا جائے کہ ہوا زیادہ لطیف ہونے کی وجہ سے زیادہ پھیلتی ہے تو پھر ہوا پانی سے علیحدہ ایك بہنے والی چیز ہے جو اس سے ذائقہ میں مختلف ہے یوں ہوا نے پانی کو متغیر کردیا اور پانی مقید ہوگیا لہذا یہ فرع ضابطہ سے خارج نہ ہوگی۔ (ت)
(۳۱۶ ، ۳۱۷)یونہی آبِ افیون وبھنگ اگرچہ رقیق رہیں ناقابلِ وضو ہیں لغلبۃ الاجزاء بالمعنی الثالث (تیسرے معنیٰ کے اعتبار سے اجزاء کا غلبہ ہے۔ ت) ضابطہ پر۲ وارد کہ جامدات ہیں اور رقّت باقی۔
(۳۱۸) اقول : بلالکہ رقیق۳ چائے بھی خصوصًا اُس صورت میں کہ پانی کے جوش میں نہ ڈالیں بلالکہ آگ سے اُتار کر اور رہنے دیں یہاں تك کہ اپنا عمل کرے اور اب وہ پانی چائے کہلائے کہ یہ صورت طبخ سے جُدا اور اب بنصِ ضابطہ محض رقت پر مدار بلالکہ اگر اسے معنیً طبخ میں داخل کریں کہ حرارتِ آب نے اُس میں عمل کیا جب بھی ضابطہ پر وارد رہے گی کہ بتصریح امام ضابط وغیرہ ائمہ طبخ میں وجہ منع کمال امتزاج ہے اور ہم تحقیق کر آئے کہ مانع وہی ہے کہ موجب زوال رقت ہو اگرچہ سرد ہو کر توجب رقت باقی بروئے ضابطہ ہر طرح جواز چاہئے حالانکہ بلاشبہ بالاتفاق ناجائز ہے ،
لزوال الاسم وھو المعتبر فی الباب بتصریح الامام الضابط وسائر الائمۃ کیف وقد صار شیئا اٰخر لمقصود اٰخر۔
کیونکہ نام ختم ہوگیا ہے جو اس باب میں معتبر ہے اس کی تصریح امامِ ضابط اور باقی ائمہ نے کی ہے ، ایسا کیوں نہ ہوگا حالانکہ دوسرے مقصد کیلئے شَے تبدیل ہوچکی ہے۔ (ت)
(۳۱۹ ، ۳۲۰)شلجم گاجر کے اچار کا تہ نشین پانی کہ گاڑھا ہوتا ہے وہ تو ظاہر اوپر کا رقیق پانی بھی اُسی وجہ سے ہرگزقابل طہارت نہیں اور ضابطہ(۱) پر وارد۔
(۳۲۱) گلاسوں میں زیادہ مقدار تك پانی بھر کر اوپر سے تیل ڈال کر روشن کرتے ہیں اقول ظاہر ہے کہ یہاں اسباب ثلٰثہ سے کوئی سبب مانع نہ پایا گیا ، جب تیل جل جائے یا نکل جائے آبِ خالص کے سوا کچھ نہ رہے گا تو اُس سے طہارت جائز ہے۔
(۳۲۲) کبھی خوب صورتی کیلئے وہ پانی رنگین کرکے بھرتے ہیں اگر تغیرِ لَون اتنا ہوا کہ رنگ ہوگیا تو اس سے وضوناجائز ہونا ظاہر اقول : وھو عندی محمل مایاتی عن العلامۃ السید ط (میں کہتا ہوں کہ میرے نزدیك یہ علّامہ سید طحطاوی کے آئندہ بیان کا محمل ہے۔ ت) اور اب(۲) ضابطہ پر وارد جبکہ یہ رنگ جامدات سے ہوا ہو ، ہاں اگر یہ حالت نہیں تو قضیہ اصولِ معتمدہ یوسفیہ جواز ہے والله تعالٰی اعلم۔
(۳۲۳) قدس شریف ملك شام میں بعض لکڑیوں کے ریشے زمین سے نکال کر پانی میں بھگوتے ہیں جس سے پانی سرخ ہوجاتا ہے اور دباغت یعنی چمڑا پکانے کے کام آتا ہے اُس سے وضو جائز نہ ہونا چاہے اگرچہ رقیق رہے لصیرورتہ شیئا اٰخر لمقصد اٰخر (کیونکہ اب یہ دوسری چیز کسی اور مقصد کیلئے ہوچکی ہے۔ ت) اقول مگر اس۳ صورت میں ضابطہ پر وارد درمختار میں تھا کذا ماء الدابوغۃ (دباغت کا پانی بھی ایسے ہے۔ ت) علّامہ سید طحطاوی نے فرمایا :
ای مثل ماء الکرم فی ان الاظھر عدم جواز رفع الحدث بہ واخبر بعض من یسکن بلد الخلیل علیہ الصلاۃ والسلام انھم یخرجون عروق حطب من الارض یضعونھا فی الماء فیحمّر فیدبغون بہ الجلد ویسمونہ ھذا الاسم ونحوہ ماء الدبغۃ الاحمر الذی یضعونہ فی القنادیل بمصر للزینۃ[1]۔
یعنی انگور کے درخت کے پانی کی طرح اظہر ، اس سے طہارت کے بارے میں عدم جواز ہے۔ خلیل عَلَيْهِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام کے شہر میں رہنے والے ایك شخص نے بتایا کہ ہم زمین سے ایك لکڑی کی جڑیں نکال کر پانی میں ڈالتے ہیں جس سے وہ پانی سرخ ہوجاتا ہے پھر اس سے چمڑے کو رنگتے ہیں اس کا نام ماء الدابوغہ ہے ، اور اسی طرح مصر میں خوبصورتی کیلئے قندیلوں میں سُرخ پانی رکھتے ہیں جس کو ماء الدبغہ کہتے ہیں۔ (ت)
(۳۲۴) تتہڑے میں دو چار پان خصوصًا بنے ہوئے اگر پڑ جاتے ہیں سارا پانی رنگین کردیتے ہیں اقول : اُس سے وضو میں حرج نہیں کہ طبخ میں وہ امتزاج مانع جو اُسے گاڑھا ہونے کے قابل کردے۔ ہاں ضابطہ۱ برجندیہ پر یہ ضرور وارد کہ تغیر تو ہوگیا۔
(۳۲۵) پان کھایا اور مُنہ میں اس کا معتدبہ اثر باقی ہے کُلّیاں کرکے منہ صاف کیا مشاہدہ ہے کہ ان کلّیوں کا پانی اتنا رنگین ہوجاتا ہے کہ اس کے بعد اسی لگن میں پُورا وضو کیا جائے تو سارا پانی رنگ جاتا ہے اگر یہ وضو طاہر نے نہ بہ نیت قربت بلالکہ مثلًا محض تبرید کیلئے کیا پانی قابلِ وضو رہے گا کہ اسباب ثلٰثہ منع سے کوئی سبب نہیں۔
اقول : اور ضابطہ۲ پر وارد جبکہ پان خوشبودار نہ ہو کہ ان کُلّیوں کا پان وہ مائع ہے کہ آب مطلق سے رنگ ومزہ دو وصفوں میں مخالف ہے اور ایك بدل دیا۔
(۳۲۶) جس گھڑے میں گنّے کا رس تھا رس نکال کر پانی بھرا جائے بلاشُبہ اس کا مزہ وبُو بدل جاتے ہیں اور اُس سے جوازِ وضو میں شك نہیں کہ وہ یقینا پانی ہی ہے۔
اقول : مگر ضابطہ۳ پر وارد کہ رس کے جو اجزاء گھڑے کی سطح اندرونی میں لگے رہ گئے تھے ضرور اجزائے مائع ہیں اور اُن سے دو وصف بدل گئے۔
(۳۲۷) اسی گھڑے میں اگر پانی گرم کیا تو تغیر اور زیادہ ہوجائےگا اور ضابطہ۴ برجندیہ پر ناقض آئےگا۔
(۳۲۸) زخم دھونے کیلئے پانی میں نیم کے پتّے ڈال کر جوش دیتے ہیں ان سے اس کا رنگ ، مزہ ، بُو سب بدل جاتا ہے مگر رقّت میں فرق نہیں آتا۔
اقول : مقتضائے اصول معتمدہ یوسفیہ اُس سے وضو کا جواز ہے یہاں تك کہ اگر زخم اعضائے وضو پر تھا اُس پانی سے دھونے کے بعد اُسے دوسرے پانی سے دھونے یا مسح کی حاجت نہیں کہ یہاں غلبہ اجزا وغلبہ طبع نہ ہونا تو بدیہی اور زوال اسم بھی نہیں کہ وہ پانی ہی ہے اور پانی ہی کہا جائےگا کوئی دوسری چیز دوسرے مقصد کیلئے نہ ہوگیا مقصود زخم دھونا ہے اور یہ کام خود پانی کا ہے نیم کے پتے اس کے رفع غائلہ ودفع ضررکیلئے شامل کئے گئے تھے کہ سادے پانی کو زخم چرالے تو نقصان پہنچے ولہذا پتوں کے پکنے نہ پکنے پر یہاں نظر نہیں ہوتی کہ مقصود پانی ہے نہ پتّے مگر ضابطہ برجندیہ پر صراحت۵ وارد کہ پانی طبخ میں متغیر ہوگیا۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع