30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
فصل خامس بعض جزئیات جدیدہ میں۔ بحمدہ تعالٰی کتاب میں تین سو سات (۳۰۷) جزئیات مذکور ہوئے۔
(۳۰۸) آب مقطر یعنی قرع انبیق میں ٹپکایا ہوا پانی کہ اجزائے ارضیہ وغیرہا کثافتوں سے صاف کرنے کیلئے سادہ پانی رکھ کر آنچ کریں کہ بخارات اُٹھ کر اوپر کے پانی کی سردی پاکر پھر پانی ہو کر ٹپك جائیں یہ پانی کہ محض پانی کی بھاپ سے حاصل ہُوا اس کا صریح جزئیہ اپنی کتب میں نظر فقیر سے نہ گزرا ،
اسم الماء علی تھیؤہ لمقصد اٰخر فمن ھھنا حصل الفرق بین الجامد والمائع وظھر مذھب محمد باجزائہ الاربعۃ۔ الا ماقدمنا فی ۱۹۰عن ھذا الفاضل المتأخر محشی الدرر الخادمی فی بحث وجدل اذقال فی الدرر معللا لعدم جواز الطہارۃ بماء حصل بذوبان الملح انہ انقلب الی طبیعۃ اخری فقال اورد الجمد والبخار واجیب المراد طبیعۃ غیر ملائمۃ للمائیۃ [1] اھ فافاد السؤال والجواب الجواز بماء یتکون من البخار ولایبعدان المراد ماء المطر والبئر فماھما الاابخرۃ تستحیل ماء۔
مگر صرف وہی جو ہم نے نمبر ۱۹۰ میں بیان کیا اور وہ الدرر کے ایك فاضل محشی خادمی صاحب کے اس قول سے حاصل ہوا جس کو انہوں نے ایك بحث مباحثہ میں ذکر کیا جبکہ دُرر میں کہا نمك کے پگھلنے سے جو پانی بنا اس سے طہارت کے ناجائز ہونے کی دلیل بیان کرتے ہوئے کہا کہ یہ پانی ایك طبیعت کے انقلاب سے حاصل ہوا ہے ، تو اس پر علامہ خادمی نے اعتراض کرتے ہو ئے برف اور بخار کا حوالہ دیا (کہ اس سے جو پانی بنتا ہے وہ بھی تو طبیعت بدلا ہوا ہوتا ہے حالانکہ اس سے وضو جائز ہے)اس کے جواب میں کہا گیا کہ طبیعت سے مراد ایسی طبیعت ہے جو پانی کے مناسب نہ ہو اھ تو اس سوال وجواب نے بخار سے بنے ہوئے پانی سے وضو کاجواز بیان کردیا۔ کوئی بعید نہیں کہ اس سے مراد بارش اور کُنویں کا پانی ہو کیونکہ یہ دونوں پانی بخارات کی تبدیلی سے بنتے ہیں۔ (ت)
اقول : مگر بعونہ تعالٰی حکم ظاہر ہے کہ وہ مائے مطلق اور اس سے طہارت جائز ہے کہ سمندر کے سوا آسمان وزمین کے عام پانی بخارات ہی سے بنتے ہیں اور گلاب وعرق گاؤ زبان وغیرہ وارد نہ ہوں گے کہ وہ بھی اگرچہ پانی ہی کے بخار ہیں مگر وہ سادہ پانی سے نہ اُٹھے بلالکہ جس میں دوسری شے بھگوئی گئی ہے جس نے ان بخارات مستحیلہ کو مقصد دیگر کیلئے چیز دیگر کردیا لہٰذا زوال اسم ہوگیا انہیں پانی نہیں کہا جاتا بلالکہ گلاب وعرق بخلاف آب تقطیر کہ پانی ہی ہے اور پانی ہی کہا جائےگا نہ مقصود بدلا نہ نام۔
اقول : (۱) البتہ ضابطہ امام زیلعی پر گلاب اور سب عرق وارد ہوں گے کہ جامد ہی چیزیں ملیں تو مدار بقائے رقّت پر ہُوا اور وہ باقی ہے تو یہ بخارات ازروئے ضابطہ آبِ مطلق ہی سے اُٹھے اور پانی ہی ہوکر ٹپکے اس کے بعد کوئی بات انہیں وہ عارض نہ ہوئی جو بربنائے ضابطہ اُنہیں آب مقید کردے کہ مقصد دیگر کیلئے چیز دیگر ہوجانا ضابطہ میں نہیں تو بحکم ضابطہ گلاب وہر عرق سے وضو ہوسکنا چاہئے حالانکہ بالاجماع جائز نہیں۔
ثم رأیت التصریح بھذا الفرع فی کتب السادۃ الشافعیۃ قال العلامۃ زین
پھر میں نے اس فرع کی تصریح شافعی مسلك کے علماء کی کتب میں دیکھی ، امام ابن حجر مکی کے شاگرد علامہ زین
المیلباری تلمیذ الامام ابن حجر المکی فی فتح المعین الماء المطلق مایقع علیہ اسم الماء بلاقید وان رشح من بخار الماء الطھور المغلی [2] اھ وفی الفتاوٰی الکبری الفقھیۃ لشیخہ الامام رحمھما الله تعالٰی سئل عن شجر بارض الحبشۃ یخرج منہ عند انتشار الریاح بخار کالدخان ویرشح مائعاکالماء سواء بسواء فھل لہ حکم الماء فی الطھوریۃ فاجاب لیس حکمہ حکمہ بل ھو کالمائع جزماوفارق بخار الطھور المغلی بان ذلك من الماء بخلاف ھذا اذھو کماء الشجر وھو لیس بطھور قطعا[3]۔
ملیباری نے فتح المعین میں کہا کہ مطلق پانی وہ ہوتا ہے جس کو کسی قید کے بغیر پانی کہا جاسکے اگرچہ وہ اُبلالنے والے پاك پانی کی بھاپ سے بنا ہو اھ اور ان کے استاد وشیخ کے فتاوی کبرٰی فقہیہ میں ہے کہ ان سے پوچھا گیا کہ افریقہ میں ایك ایسا درخت ہے جو ہواؤں کے چلنے پر دُھوئیں کی طرح ایك گیس چھوڑتا ہے اور وہ گیس بعد میں پانی کی طرح بہنے والی صورت اختیار کرلیتی ہے جو بالکل پانی معلوم ہوتی ہے۔ تو کیا درخت کی اس گیس کے پانی سے طہارت حاصل کرنا جائز ہے تو انہوں نے جواب دیا کہ اس کا حکم پانی والا نہیں ہے بلکہ وہ بہنے والا مادہ ہے جو ابلنے والے پانی کے بخارات سے مختلف ہے کیونکہ یہ تو پانی سے بنتا ہے۔ اور وہ درخت کے پانی کی طرح ہے جس سے طہارت کا حصول بالکل جائز نہیں۔ (ت)
اقول : یہ اگر آب مطلق طاہر کے بخارات سے ہے قابلِ طہارت ہے۔
(۳۰۹) کبھی حمام کی چھت اور دیواروں سے پانی ٹپکتا ہے۔
(۳۱۰) آب غطا پانی گرم کیا بھاپ اُٹھ کر سرپوش پر اندر کی جانب پانی کے کچھ قطرے بنے ہوئے ملتے ہیں۔ اقول وہ بدستور آبِ طہور ہے اُس سے سریا موزوں کا مسح جائز ہے ،
لماعلمت انہ لیس الا من اجزاء الماء المطلق وتخلل الاستحالۃ الی البخار لایمنع کمیاہ الابأر والامطار۔
کیونکہ تمہیں معلوم ہے کہ یہ مطلق پانی کے اجزاء سے بنا ہے اور درمیان میں بخارات کی صورت اختیار کرنا ، اس کیلئے مانع نہیں ہے جس طرح کنوؤں اور بارشوں کے پانی کہ وہ بھی پہلے بخارات کی صورت میں تھے۔ (ت)
(۳۱۱) کوئی اور چیز پکانے میں جو قطراتِ بخار چپن (ڈھکنا) پر ملیں۔
اقول : اس کا حکم مسائل طبخ کی طرف رجوع سے واضح ہوگا اگر وہ شے زیادت نظافت کیلئے ہے اور پانی بالفعل گاڑھا نہ ہوگیا یا اور کوئی چیز ہے اور پانی ابھی اس قابل نہ ہوا کہ سرد ہوکر رقیق نہ رہے نہ وہ مقصود دیگر کیلئے چیز دیگر ہوگیا اس حالت میں جو بخار اُٹھے آبِ مطلق ہیں کہ آبِ مطلق کے اجزاء سے ہیں ورنہ مقید کہ مقید سے ہیں۔
(۳۱۲) اصطبل وغیرہ محل نجاسات سے بخارات اُٹھ کر ٹپکے پاك تو مطلقًا ہیں جب تك ان میں اثرِ نجاست ظاہر نہ ہو ،
فی ردالمحتار فی الخانیۃ ماء الطابق عــہ نجس قیاسالا استحسانا وصورتہ اذا احرقت العذرۃ فی بیت فاصاب ماء الطابق ثوب انسان لایفسدہ استحسانا مالم یظھر اثر النجاسۃ فیہ وکذا الاصطبل اذا کان حارا وعلی کوتہ طابق اوکان فیہ کوز معلق فیہ ماء فترشح وکذا الحمام فیھا نجاسات فعرق حیطانھا وکواتھا وتقاطر قال فی الحلیۃ والظاھر العمل بالاستحسان ولذا اقتصر علیہ فی الخلاصۃ والطابق الغطاء العظیم من الزجاج اواللبن[4] اھ
ردالمحتار میں خانیہ سے ہے ڈھکنے (سرپوش) کا پانی قیاس کے طور پر نجس ہے استحسان کے طور پر نجس نہیں ، اس کی صورت یوں ہوگی کہ کسی کمرے میں نجاست کو آگ سے جلانے کی بنا پر حرارت (سے مرطوب بخارات بن کر ڈھکنے پر جمع ہوکر ٹپکنے) پر وہ قطرے کسی کے کپڑوں کو لگے تو استحسان کے طور پر کپڑے ناپاك نہ ہوں گے جب تك ان قطرات میں نجاست کے اثرات ظاہر نہ ہوں ، اسی طرح اصطبل میں حرارت اور چھت پر ڈھکنا ہونے کی صورت میں یا وہاں کوئی پانی کا مٹکا ہونے کی صورت میں پانی ٹپکنا شروع کردے۔ اسی طرح کسی حمام میں اگر مختلف نجاستیں ہوں تو وہاں دیواروں اور چھت پر قطرے بن کر ٹپکنے لگیں حلیہ میں کہا تو ظاہر یہی ہے کہ استحسان پر عمل کیا جائےگا اسی لئے خلاصہ میں صرف استحسان والے حکم (طہارت) کو ذکر کیا گیا ہے اور طابق شیشے یا مٹی کے بڑے ڈھکنے کو کہتے ہیں۔ (ت)
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع