دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 3 | فتاوی رضویہ جلد ۳

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۳

اقول : مگر حقیقۃً وہ کلیہ ہے بلاشبہ غلبہ ممتزج وکمال امتزاج بلالکہ صرف غلبہ ممتزج سے باہر کوئی سبب نہیں ،

(۲)وانماجعلھاجزئیۃتفسیرھماببعض صورھما فلوجعل التفسیر تصویر الاستقام٭

اس کو ان کی بعض صورتوں کی تفسیر کا جزو قرار دیا ہے حالانکہ اگر اسے تفسیر بنانے کے بجائے تصویر بناتا

وتم الکلام٭ وھھنا مباحث کثیرۃ لاتخفی علی من احاط بماقدمنامن النقض والابرام٭والله سبحٰنہ ولی الالھام٭

تو درست ہوتا یہاں بہت سی ایسی مباحث ہیں کہ جو ان اعتراضات وجوابات کو مکمل پڑھنے سے مخفی نہیں رہ سکتیں جو ہم پہلے ذکر کرچکے ہیں الله  الہام کرنے والا ہے۔ (ت)

ششم ضابطہ رضویہ: سبحٰن الله  فقیر بھی کوئی شیئ ہے کہ احکام میں زبان کھول سکے حاشا ضابطہ وہی ضابطہ امام ابویوسف رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُہے۔ باتباع علماء اس کے اجمال کو مفصل کردیا ہے۔ تفاصیل میں خدمت گاری کلام اکابر کے صدقہ سے جن تحقیقات کاافاضہ ہوا اُن پر ابتنائے شقوق کیا ہے جملہ ضوابط صحیحہ مذکورہ کو ایك دائرے کے احاطہ میں لیا ہے اس نے بیان کو اظہر واجمع وانور وانفع کرکے ضابطہ کے لئے خلعت جدت سیا ہے۔

فاقول : وبالله التوفیق(۱)دریانہر چشمےچاہ باران کا پانی حتی کہ شبنم اپنی حد ذات میں آب مطلق ہے جو کچھ ان کی جنس سے نہیں اگرچہ ان کی شکل ان کے اوصاف ان کے نام پر ہوپانی نہیں اُس سے وضو وغسل نہیں ہوسکتا جیسے ماء الجبن دہی کا پانی درختوں پتھروں کامد مٹی کا تیل سیندھی تاڑی ناریل کدو تربوز کا پانی اگرچہ اس میں صرف پانی ہی ہو یوہیں جو کچھ پتّوں شاخوں پھلوں پھُولوں سے نکالا جائے یا کافور کے درخت انگور کی بیل کی طرح کاٹے سے یا آپ ہی ٹپکے یا نمك نوشادر کا فور وغیرہا کے پگھلنے یا سونے چاندی رانگ وغیرہا کے گلنے سے حاصل ہو ۔

(۲) جو کچھ حقیقۃً پانی ہے (اگرچہ بیچ میں پانی نہ رہا تھا جیسے اولے یاآسمانی برف یا کل کا جب پگھل جائے) یا تو اُس میں کوئی اور چیز (اگرچہ اُسی کی جنس سے ہو) داخل ہوگی یا نہیں ، اگر نہیں تو وہ مطلقًا آب مطلق ہے لیکن اگر مائے مستعمل ہے جس کا بیان الطرس المعدل میں مفصل گزرا تو اُس سے وضو وغسل جائز نہیں ورنہ مطلقًا صحیح ہے اگرچہ بوجہ ملك غیر یا وقف یا کسی حاجت ضرور یہ کی طرف مصروف ہونے یا اور عوارض کے سبب جن کا بیان فصل اول میں گزرا اس سے وضو حرام یا مکروہ ہو اگرچہ بچّوں کا ہاتھ پڑنے یا کافر کے چھونے یا کسی مشکوك شے کے گرنے سے اس کی طہارت میں اوہام پیدا ہوں جب تك نجاست ثابت نہ ہوجائے اگرچہ دیر تك بند رہنے سے اُس کا رنگ بُو مزہ بدل جائے یا ابتداء ہی سے بدلا ہوا ہو اگرچہ کسی تیز خوشبو یا بدبو شیئ کے قرب سے اس میں کتنی ہی بُوئے خوش یا ناخوش پیدا ہوجائے ، ہاں اگر سردی سے جم جائے یا رقیق نہ رہے جیسے اولے برف اس سے وضو ناجائز ہوگا جب تك پگھل کر پھر اصلی رقت پر نہ آجائے۔

(۳) اگر داخل ہوگی تو دو صورتیں ہیں یا تو پانی سے جُدا رہے گی یعنی اس میں سرایت نہ کرے گی یا خلط ہوجائےگی اگر جدا رہے (اور یہ نہ ہوگا کہ شیئ جامد میں جیسے کنکر وغیرہ پانی میں ڈال دئے جائیں) تو اگر وہ شیئ نجس نہیں یا پانی دہ در دہ ہے مطلقًا مطلق وقابل وضو عــہ ہے اور اگر نجس ہے اور پانی کم تو مطلق ہے مگر لائقِ استعمال نہ رہے گا۔

(۴) اگرپانی میں خلط ہوگی تو دو صورتیں ہیں وہ ملنے والی شیئ بھی اصل میں صرف پانی ہے یا اس کا غیر اگر صرف پانی ہے تو پھر دو صورتیں ہیں اب بھی پانی ہی ہے یا نہیں اگر اب بھی پانی ہی ہے تو اس کے ملنے سے پانی مطلق تو مطلقًا رہے گا ہی اُس سے وضو بھی روا ہوگا مگر دو صورتوں میں ایك یہ کہ آب مستعمل اس میں مل جائے اور یہ مقدار میں اس سے زائد نہ ہو ، دوسرے یہ کہ نجس پانی پڑ جائے اور یہ دہ در دہ نہ ہو اور یہ وہیں ہوگا کہ وہ پانی بے کسی دوسری شیئ کے مختلط ہوجانے کے ناپاك ہوگیا جیسے آب قلیل میں خنزیر کا پاؤں یا بال پڑ گیا اور نکل گیا کہ پانی خالص ہی رہا خلط نہ ہوا اور ناپاك ہوگیا ورنہ جو خلط نجس سے نجس ہو اُس کا ملنا اس قسم سے خارج ہوگا کہ یہ صرف پانی کا ملنا نہ ہوا۔

(۵) اگر وہ ملنے والی شیئ اب پانی نہیں (اور یہ نہ ہوگا مگر اولے یا برف میں کل کاہو خواہ آسمانی کہ یہی وہ صورت ہے کہ پانی بے خلط غیر پانی نہ رہے) تو اگر پانی کی رقت زائل کردے قابلِ وضو نہ رہے گا جب تك وہ شیئ پگھل کر پھر پانی نہ ہوجائے اور اگر رقت باقی ہے نہ یوں کہ اولے برف ابھی گھل کر پانی میں مخلوط نہ ہوئے پتھر کنکر کی طرح تہ میں پڑے ہیں کہ یہ تو تیسرا نمبر تھا بلالکہ یوں کہ مقدار میں اتنے کم تھے جن کے خلط سے رقت آب میں فرق نہ آیا تو اُس سے وضو جائز ہے۔

(۶) اگر وہ شیئ غیر آب ہے اور پانی میں اتنی خلط ہوگئی کہ پانی اُس سے مقدار میں زائد نہیں تو مطلقًا قابلِ وضو نہیں۔
(
۷) اگر پانی مقدار میں زیادہ ہے تو وہ شیئ نجس ہے یا طاہر اگر نجس ہے اور پانی دہ در دہ نہیں یا ہے تو نجاست سے اس کے رنگ یا مزے یا بُو میں فرق آگیا تو پانی اگرچہ مطلق رہے قابلِ وضو درکنار بدن میں جائز الاستعمال رہا۔

(۸) اگر وہ دہ در دہ ہے اور کسی وصف میں تغیر نہ آیا تو نجاست کا حکم ساقط اور احکام بعض احکام آئندہ ہوں گے۔

(۹) اگر طاہر ہے تو پھر دو صورتیں ہیں اس کا خلط آگ پر ہوا یا الگ۔ اگر آگ سے الگ ہوا اور وہ شیئ جامد ہے تو ہمارے ائمہ کرام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمکے اجماع سے اور مائع ہے تو مذہب صحیح معتمد میں پانی مطلقًا آب مطلق ولائق وضو رہے گا اگرچہ رنگ ، مزہ ، بُو سب بدل جائیں گے مگر دو صورتوں میں ، ایك یہ کہ پانی رقیق ترہے ، اور ہم تحقیق کر آئے ہیں کہ یہ کچھ جامد ہی سے خاص نہیں بہت مائعات بھی مانعاتِ رقّت آب ہوتے ہیں دوسرے یہ کہ شربتِ شہد یا شربتِ شکر یا نبیذ و رنگ کی طرح مقصد دیگر کیلئے شیئ دیگر ہوجائے۔

عــہ :  آبِ کثیر نجاست کے پڑنے سے ناپاك نہیں ہوتا جب تك اُس کا کوئی وصف نہ بدلے اور ظاہر ہے کہ رنگ یا مزہ اُسی وقت بدلیں گے جب اُس نجس کے اجزاء پانی میں خلط ہوں اور یہاں وہ صورت مفروض ہے کہ خلط نہ ہو ، ہاں اگر کوئی نجس چیز اس درجہ قوی الرائحہ ہو کہ صرف اس کی مجاورت بلاخلط سے آبِ کثیر کی بُو بدل جائے تو نجس ہونا چاہئے۔ والله  تعالٰی اعلم منہ غفرلہ۔ (م)

(۱۰) اگر خلط آگ پر ہوا تو دو صُورتیں ہیں اگر ہنوز وہ چیز پکنے نہ پائی کہ مقصد دیگر کیلئے شے دیگر کردے پانی سے امتزاج کامل نہ ہونے پایا کہ سرد ہونے پر گاڑھا کردے اس حالت کے قبل اتارلی تو پانی مطلقًا

آبِ مطلق وقابلِ وضو ہے۔

(۱۱) اگر وہ شے پك گئی تو تین صورتیں ہیں پکانے میں صرف پانی مقصود ہے یا صرف وہ شے یا دونوں ، پہلی دو صورتوں میں آب مطلق رہے گا جب تك اس قابل نہ ہوجائے کہ سرد ہو کر زوال رقّت ہو ، صورت دوم کی مثالیں بحث اول طبخ میں شنجرف ونشاستہ وآش جو سے گزریں اور صورت اول کا بیان فصل خامس میں آتا ہے اِن شاء الله  تعالٰی۔

(۱۲) صورت سوم میں اگر پانی اس قدر کثرت سے ڈال دیا کہ نہ مقصود دیگر کیلئے ہوسکے گا نہ اُس سے دَلدار ہوگا تو مطلقًا مطلق ولائق طہارت ہے۔

(۱۳) اگر اتنا کثیر نہ تھا مگر دَلدار نہ ہوسکے گا تو جب مقصود دیگر کیلئے ہوجائےگا قابلِ وضو نہ رہے گا۔

(۱۴) اگر پانی دَلدار ہوسکتا ہے تو اگر بالفعل گاڑھا ہوگیا کہ بہانے میں پُورا نہ پھیلے گا مطلقًا لائق وضو نہ رہا اگرچہ اس میں صابون ہی پکایا ہو جس سے زیادت نظافت مقصود ہوتی ہے۔

(۱۵) اگر بالفعل گاڑھا نہ ہوا مگر ٹھنڈا ہوکر ہوجائے گا تو دو صورتیں ہیں اگر وہ شے مثل صابون وغیرہ زیادت نظافت کیلئے ہے فی الحال اُس سے وضو جائز ٹھنڈا ہونے کے بعد صحیح نہیں۔

(۱۶) اگر زیادت نظافت کیلئے نہیں تو اس سے فی الحال بھی وضو جائز نہیں۔

یہ ہے وہ تحقیق انیق کہ جمیع نصوص صحاح کو متناول اور جملہ ارشادات متون کو حاوی وشامل اور تمام تحقیقات سابقہ پر مشتمل اور سب فروع ممکنہ کے حکم صحیح کو بعونہٖ تعالٰی کافی وکافل والحمدلله رب العٰلمین ،  وافضل الصلوۃ واکمل السلام علی خاتم النبیین ،  سید المرسلین ،  وعلیھم جمیعا وعلی اٰلہ وصحبہ وابنہ وحزبہ اجمعین ،  اٰمین والحمدلله رب العٰلمین (حمد الله  رب العالمین کیلئے ہے اور افضل الصلٰوۃ واکمل السلام خاتم النبیین سید المرسلین پر اور تمام انبیاء پر ، اور آپ کے آل واصحاب ، اولاد اور گروہ سب پر ، آمین ، والحمدلله رب العٰلمین)

 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن