30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
تخصیص ولاتقیید بل ھو تصویر للمغلوب والغلبۃ لاتقال الا حیث للمرجوع ایضا شیئ من العمل اذلولم یعمل اصلا کان مضمحلا کالمعدوم لامغلوبا والعمل فی الرقۃ ینفی غلبۃ الماء فلم یبق الا الاوصاف غیر ان الجامد مغلوب وان عمل فی جمیع اوصاف الماء مادام رقیقا فلو ارادہ خاصۃ کفی ان یقول غیر اوصافہ ولم یحتج الی زیادۃ بعض فعلم انہ اراد التصویر بھما معا والعمل فی الماء الذی تتأتی معہ المغلوبیۃ فی الجامد والمائع معا لیس الا عملا فی وصف واحد فان
آں حضرت صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے فرمایا حسن وحسین جنت کے نوجوانوں کے سردار ہیں ، کیونکہ بزرگوں میں خلفاءِ اربعہ جیسے لوگ دونوں سے افضل موجود تھے۔ یہ قید درحقیقت غالب کیلئے قید نہیں ہے تو معنیٰ یہ ہوگا کہ ہم اس پانی سے وضو کی اجازت دیتے ہیں جو اس شیئ پر غالب ہو جس نے پانی کے بعض اوصاف کو تبدیل کیا ہو ، نہ اس پانی سے جس نے اس شیئ پر غلبہ حاصل کیا ہو جس نے پانی کے جملہ اوصاف میں تبدیل کردئے ہوں نہ ہی مغلوب کیلئے یہ قید ہے تو معنیٰ یہ ہوا کہ ہم اس پانی سے وضو کو جائز رکھتے ہیں جس میں کوئی مغلوب شے مل کر اس کے بعض اوصاف کو تبدیل کردے نہ اس پانی کے ساتھ جس میں مغلوب ملے اور اس کے جملہ اوصاف کو بدل دے کیونکہ ان دونوں کا فساد ظاہر ہے۔ وجہ یہ ہے کہ جب دونوں صورتوں میں پانی غالب اور مخالط مغلوب ہے ، تو بغیر کسی قید کے اس سے وضو جائز ہوگا تو یہ دراصل مغلوب کی وضاحت ہوگی اور غلبہ کا اطلاق ہوتا ہی تب ہے جب مرجوع کا عمل بھی کسی حد تك باقی ہو کیونکہ بالکل عمل نہ ہونے کی صورت میں وہ نہ ہونے کے برابر ہوگا جو مضمحل کہلائے گا مغلوب نہیں کہلائے گا اور پتلے پن میں عمل پانی کے غلبہ کی نفی کردیتاہے تو پانی کے صرف اوصاف ہی رہ جائیں گے مگر یہ کہ جامد چاہے پانی کے تمام اوصاف میں بھی عمل کرے
الجامد وان کان مغلوبا مع العمل فی الکل لکن المائع اذاعمل فی وصفین غلب فوجب ان یراد بالبعض الواحد لیصح تصویر المغلوبیۃ العامۃ للصنفین وذلك فی الجامد مطلقًا وفی المائع اذا خالف فی الاوصاف جمیعا ولایرد النقض بمائع غیرہ کماعلمت انہ المھیع الذی سلکاہ وقبلتموہ انتم والناس فی کل مقام علا انہ تصویر والتصویر انما یستدعی وجود صورۃ یصدق فیھا المصور لااستغراقہ جمیع الافراد ھذا ماعندی فی توجیہ کلام البحر۔
ورابعًا : بہ (۱) علم ان ارادۃ الواحد لایقوی الاشکال بل علی ھذا التقدیر بہ لہ الانحلال ، ولو (۲) ارید الاعم لقوی الاعضال ، فانہ یکون منطوق الکلام غلبۃ الماء اذاتغیر بالمائع لہ وصفان وھذا لاصحۃ لہ علی الضابطۃ اصلا۔
وخامسًا : ان بنینا الکلام (۳) علی ماسبق
مغلوب ہی رہتا ہے جب تك پانی پتلا رہے گا ، تو اگر یہی جامد خصوصی طور پر اس کی مراد تھا ، تو اتنا کہنا ہی کافی تھا کہ اوصاف کو بدل دے۔ بعض کی قید لگانے کی ضرورت نہیں تھی۔ تو معلوم ہوا کہ صاحبِ مجمع دونوں کی اکٹھی تصویر بتانا چاہتے ہیں اور اس پانی میں عمل جس میں مغلوب جامد اور مائع دونوں کے ساتھ آئے۔ ایك وصف میں عمل کے سوا کچھ نہیں کہ جامد تمام اوصاف میں بھی عمل کرکے مغلوب رہتا ہے جبکہ مائع دو اوصاف میں عمل کرکے غالب ہوجاتا ہے تو یہ ضروری ہوا کہ واحد سے مراد بعض ہوتا کہ مغلوبیت عامۃ للصنفین کی تصویر درست ہو ، اور یہ مغلوبیت عامہ جامد میں مطلقًا ہوتی ہے جبکہ مائع میں جملہ اوصاف میں مخالف ہونے پر ہوتی ہے تو اس پر غیر موافق مائع کا اعتراض وارد نہیں ہوگا۔ جیسا کہ آپ کو معلوم ہے ، کیونکہ اُن کی متعین کردہ راہ کے مخالف ہے۔ اور خود تم نے اور دیگر لوگوں نے بھی اس کو ہر جگہ قبول کیا ہے۔ علاوہ ازیں یہ تصویر ہے جہاں وجودِ صورت ضروری ہے تاکہ جہاں جس کی تصویر بیان کی گئی ہے وہ صادق آسکے وہ تمام افراد کے احاطہ کو نہیں چاہتی ، بحرالرائق کے کلام کی میرے نزدیك یہی توجیہ ہے۔ (ت)
رابعًا : (۴) اس سے معلوم ہوا کہ ایك کے ارادہ سے اشکال قوی نہیں ہوتا بلالکہ اعتراض کا دفاع ہوتا ہے اور عام مراد ہونے کی صورت میں تنگی بڑھ جاتی ہے کہ بایں صورت کلام کے لفظ یہ ہونگے کہ پانی کا غلبہ تب ہوگا جب اس سے دو وصفوں والے مائع میں تبدیلی ہو اور یہ ضابطہ کے اعتبار سے کسی طرح درست نہیں ہے۔ (ت)خامسًا : (۵) اگر ہم اعتراض کی بنیاد صاحبِ بحر
الی ذھنہ رحمہ الله تعالٰی منقلبا ان الکلام فی غلبۃ المخالط لم یظھر لقوۃ الاشکال وجہ فانك اذاقلت کل مائع غیر للماء وصفا او وصفین فقد غلبہ ورد علیہ عــہ مایخالف الماء فی الاوصاف الثلثۃ کماورد علی ارادۃ الواحد ولوقلت کل مائع غیر وصفا واحدا غالب لم یرد ایضا الا ھذا فھما متساویان فی الاشکال۔
وسادسًا : (۱) تأویلکم الاٰخران عند تغیر الاوصاف جمیعا بنحو الزعفران یزول اسم الماء غالبا خلاف المشاھد۔
وسابعًا : (۲) خلاف النصوص کماتقدم فی حکم الانبذۃ وغیرھا۔
وثامنًا : (۳) مبنی تأویلکم الاول الحمل علی الجامد خاصۃ اذھو الذی تدیرون فیہ الامر علی الرقۃ وعدمھا ومعلوم ان حدیث الرقۃ یعم فیہ المنطوق والمفھوم فکما ان جامدا غیر جمیع الاوصاف لایمنع مالم تنتف الرقۃ کذلك ماغیر بعضھا لایصلح مالم تبق الرقۃ فانتفی
کے ذہن میں موجود مفہوم کو اُلٹتے ہوئے اس پر رکھیں کہ یہ کلام ملنے والی چیز کے غلبہ کے بارہ میں ہے ، تو اعتراض کی قوت کی کوئی وجہ نہیں ، کیونکہ جب آپ یہ کہیں کہ ہر وہ مائع جو پانی کی ایك یا دوصفتیں بدل دے تو وہ پانی پر غالب آجائےگا تو اس پر تین اوصاف میں مخالف کا اعتراض لازم آتا ہے جیسے کہ ایك وصف مراد لینے کی صورت میں وارد ہوتا ہے اگرآپ کہیں کہ ہر مائع جو ایك وصف کو بدل دے وہ غالب ہے تو بھی یہی اعتراض وارد ہوگا تو یہ دونوں اشکال میں برابر ہیں۔ (ت)
سادسًا(۶) ، تمہاری دوسری تاویل کہ زعفران ایسی شے کے ساتھ پانی کی جملہ صفات بدل جانے سے اکثر طور پر پانی کا نام سلب ہوتا ہے یہ مشاہدہ کے خلاف ہے۔ (ت)
سابعًا(۷) نصوص کے بھی خلاف ہے ، جیسا کہ نبیذوں کے حکم میں گزرا۔
ثامنًا(۸) ، تمہاری پہلی تاویل کی بنیاد علی الخصوص جامد پر ہے کیونکہ آپ کے ہاں پتلے پن کے وجود اور عدمِ وجود پر معاملہ کا مدار ہے اور یہ بات تو معلوم ہے کہ پتلے پن کی بات ظاہری اور ضمنی دونوں صورتوں کو شامل ہے ، تو جیسے پانی کے تمام اوصاف کو بدلنے کے باوجود جب تك رقت باقی رہے جامد وضو سے مانع نہیں ہے۔ یونہی جب وہ بعض
عــہ : لان الحکم یعم تغییر وصف واحد وذو الثلثۃ لایغلب بہ ۱۲ منہ غفرلہ (م)
کیونکہ حکم وصف واحد کی تغییر کو عام ہے اور تین وصفوں والا اس سے مغلوب نہیں ہوتا ۱۲ منہ غفرلہ (ت)
الفرق بین البعض والکل وبقی القید ضائعا والمفھوم باطلا وبالجملۃ لوارادہ بالخصوص لماکان وجہ لزیادۃ البعض الموھمۃ خلاف الحکم المراد والمنصوص۔
وتاسعا : (۹) بون(۱) بین بین ماء نقع فیہ الحمص والباقلاء وماء خلط بزعفران فارادۃ الامر فی الاول علی الرقۃ صحیحۃ وفی الثانی لاکماعلمت تحقیقہ مرارا ولله الحمد فھذہ ستون بحثا فاخرا حمد الربی اولًا اٰخرًا وقد تقدمت کثیر غیرھا ولیس یخفی خیرھا ومیرھا (۲) وکل خیر من عطاء المصطفٰی صلی علیہ الله مع من یصطفیٰ الله یعطی والجیب القاسم صلی علیہ القادۃ الاکارم ما نال خیرا من سواہ نائل کلا لایرجی لغیرنائل منہ الرجا منہ العطامنہ المدد فی الدین والدنیا والاخری للابد
اوصاف کو بدلے تو رقت کے معدوم ہونے پر طہارت کی صلاحیت نہیں رکھے گا ، تو بعض اور کل کا فرق باقی نہ رہا قید ضائع گئی اور مفہوم باطل ہوگیا حاصل یہ کہ خاص کر جامد مراد لینے پر حکم منصوص ومنطوق کے خلاف وہم میں مبتلا کردینے والی بعض کی قید لگانے کی کوئی وجہ نہیں ہے۔ (ت)
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع