30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
پاکیزہ چیز مل کر اس کے بعض اوصاف کو بھی بدل دے یہاں تك کہ کل کو بھی جب تك پانی مقدار ، طبیعت اور نام کے اعتبار سے غالب رہے تو کلام بالکل صحیح اور بے غبار ہے۔ اس کی تصحیح کیلئے کسی تکلیف کی ضرورت نہیں کہ اس کا ارتکاب کیا جائے۔ (ت)
چھبیسواں ، علامہ شامی نے منحہ میں کہا ہے میں کہتا ہوں کہ مجمع کا قول نجیزہ بغالب علی طاھر خالی نہیں ، یا تو جامد اور مائع دونوں پر محمول کیا جائےگا یا فقط جامد پر اور فقط مائع پر محمول کرنا درست نہیں بوجہ اس کے قول کزعفران کے ، پس اگر عام مراد ہو تو بعض کو وصفِ واحد پر محمول کرنا درست نہیں کیونکہ جامد ملنے والی شیئ کا غلبہ پتلا پن ختم ہوجانے سے ہوگا تمام اوصاف کی تبدیلی سے نہیں چہ جائیکہ ایك وصف کی تبدیلی سے
عن وصف واحد وایضا بالنظر الی المخالط المائع لاتثبت الغلبۃ فیہ بوصف واحد مطلقًا فانہ اذا کان مخالفا للماء فی کل الاوصاف یعتبر ظھورھا کلھا او اکثرھا وان حمل علی الجامد فقط فقد علمت مما قررناہ مایرد علیہ من انہ یعتبر فیہ انتفاء الرقۃ والسیلان وان تغیرت الاوصاف کلھا مالم یزل عنہ اسم الماء کما یاتی التقیید بہ فلافرق بین الزعفران وبین ماء الباقلاء والمجاز الذی فی الینابیع والظھیریۃ فکما اعتبر فیہ انتفاء الرقۃ فلیعتبر فی الزعفران نعم فی عبارۃ المجمع تأمل من حیث افھامھا انہ لوتغیر الاوصاف کلھا لایجوز الوضو بہ فانہ لیس علی اطلاقہ فیقید بانتفاء الرقۃ اویقال اذاتغیرت الاوصاف کلھا بنحو الزعفران یزول اسم الماء عنہ غالبا فقد ظھرلك امکان حملھا علی ماقررہ وان حملھا علی ان المراد بالبعض الواحد کما ھو ظاھر عبارۃ شرحہ یقوی الاشکال فیجب تأویل مافی شرحہ علی انہ لیس المراد تغییر واحد فقط اوعلی ان اوبمعنی الواو فینتطم الکلام والله تعالٰی ولی الالھام[1] اھ۔
غلبہ ہو ، تیز ملنے والی مائع شے کو دیکھتے ہوئے تو ایك وصف کے ظاہر ہونے سے کسی صورت میں غلبہ ثابت نہیں ہوتا ، کیونکہ جب وہ شے تمام اوصاف میں پانی کے مخالف ہو ، تو تمام یا اکثر اوصاف کا ظہور غلبہ کیلئے معتبر ہوگا ، اور اگر اسے فقط جامد پر محمول کریں تو آپ کو ہماری گفتگو کے ذریعہ اس پر وارد ہونے والا اعتراض معلوم ہے کہ اس میں غلبہ کا اعتبار پتلے پن کے زوال اور بہنے کی صلاحیت ختم ہونے سے ہوتا ہے اگرچہ تمام اوصاف بدل جائیں جب تك اس سے پانی کا نام سلب نہ ہوجائے جیسا کہ قید آرہی ہے تو اب زعفران اور لوبیا کے پانی میں کوئی فرق نہ ہوگا پس وہ مجاز جو ینابیع اور ظہیریہ میں ہے کہ جیسے اس میں پتلا پن کے نہ ہونے کا اعتبار کیا ہے یونہی زعفران میں بھی ہونا چاہئے ہاں سمجھانے کے اعتبار سے مجمع کی عبارت قابل غور ہے کہ اگر تمام اوصاف بدل جائیں تو اس پانی سے وضو جائز نہ ہوگا کیونکہ یہ اپنے اطلاق پر نہیں رہا تو اسے پتلاپن کے نہ ہونے سے مقید کرنا ضروری ہے یا یہ کہا جائے کہ جب زعفران جیسی شے سے جملہ اوصاف بدل جائیں تو اس سے اکثر اوقات پانی کا نام زائل ہوجاتا ہے تو بحر والے کی عبارت کے بیان کردہ مفہوم پر محمول کرنا ممکن ہوجائےگا ، اور اگر اس کو اس پر محمول کیا جائے کہ بعض سے مراد ایك وصف ہے جیسا کہ شرح کی عبارت اعتراض کو قوی بناتی ہے تو پھر شرح کی عبارت کی یہ تاویل ضروری ہے کہ
اقول : اولا(۱) حدیث الافھام افھمناك حالہ۔
وثانیا : (۲)اشتبہ علیہ رحمہ الله تعالٰی غلبۃ الماء الذی فیہ کلام المجمع فان غالبا فی کلامہ صفۃ الماء بغلبۃ المخالط فقال بالنظر الی المخالط المائع لاتثبت الغلبۃ فیہ بوصف واحد مطلقًا الخ۔ ۔ ۔ وانما حقہ ان یقول بالنظر الی المخالط المائع لاتبقی غلبۃ الماء بعد تغیر وصف واحد مطلقًا فانہ اذالم یخالف الماء الا فی وصفین فغیر واحدا فقد غلب علی الماء۔
وثالثا(۳) حاصل مااطال بہ رحمہ الله تعالٰی بعد تصحیحہ بماذکرنا ان مفاد العبارۃ علی ھذا الحمل غلبۃ المخالط اذاغیر اکثر من وصف والماء اذاغیر وصفا واحدا ھذا بالمنطوق وذاك بالمفھوم والاول باطل فی الجامد مطلقًا ولابد من ارادتہ ولو فی ضمن العموم لقولہ کزعفران فان المناط فیہ الرقۃ وان غیر الاوصاف طرا والثانی باطل فی مائع لایخالف الا
مراد فقط ایك وصف کی تبدیلی نہیں یا اَوْ بمعنی واؤ کے ہے تو کلام درست ہوجائےگا ، اور الله تعالٰی الہام کرنے والا ہے۔ (ت)
میں کہتا ہوں اولًا (۱) تو سمجھانے کی بات کا حال تو ہم نے آپ کو سمجھادیا۔ ثانیا (۲)جس پانی کے غلبہ میں مجمع والا گفتگو کررہا ہے شامی علیہ الرحمۃ پر غلبہ کی نوعیت مشتبہ رہی کیونکہ اس کے ہاں اکثر وہ پانی مراد ہوتا ہے جس پر کوئی مائع چیز ملنے کے بعد غالب آجائے اور اس کے متعلق کہا ہے کہ ملنے والی مائع شے کے پیشِ نظر مطلقًا ایك وصف کی وجہ سے غلبہ ثابت نہیں ہوتا الخ... اصل میں تو اسے یوں کہنا چاہئے تھا کہ ملنے والی مائع شیئ کو دیکھتے ہوئے پانی کا غلبہ ایك وصف کی تبدیلی سے قطعًا باقی نہیں رہتا کیونکہ اگر شے پانی کے صرف دو وصفوں میں مخالف ہو اور ایك وصف کو تبدیل کردے تو پانی کا غلبہ جاتا رہے گا۔ ثالثًا(۳) عبارت کی وہ تصحیح جو ہم نے ذکر کی ہے اس کے بعد بھی اس کی طویل گفتگو کا ماحصل یہ ہے کہ اس صورت پر محمول کریں تو عبارت کا مطلب یہ ہے کہ ملنے والی شیئ کا غلبہ تب ہوگا جب پانی کے اکثر اوصاف بدل جائیں اور پانی کا غلبہ تب شمار ہوگا جب ایك وصف بدلے ثانی الفاظ سے اول مفہوم سے معلوم ہوتا ہے۔ پہلا جامد میں مطلقًا باطل ہے اگرچہ عموم کے ضمن میں ہو مگر اس کا مراد لینا ضروری ہے کیونکہ اس نے کزعفران کہا ہے جس میں مدار پتلے پن پر ہے اگرچہ تمام اوصاف کو ہی بدل ڈالے
فی وصفین فانہ یغلب اذاغیر وصفا۔
اقول : الاعتراض بالمائع ذھول عن سنن سلکہ ھھنا الامام الضابط واقتفی اثرہ البحر فانھما حملا کل مطلق فی النصوص علی صورۃ خاصۃ فکما حملا النوط بالرقۃ علی الجامد ولم یرد علیہ ان المائعات تمنع مع بقاء الرقۃ وحملا الغلبۃ بالاجزاء علی المائع الموافق ولم یرد علیہ انہ منقوض بغیرہ وحملا المنع بتغیر وصف واحد علی مائع یخالف فی وصف او وصفین ولم یرد علیہ النقض بمایخالف فی الثلاث فکذا اذاحملا المنع باکثر من وصف علی مایخالف فی الثلاث کیف یرد علیہ النقض بالمخالف فی وصفین (۱) وقد قبلتموہ فی عبارۃ القدوری والکنز والمختار ولم تمنعونہ فی عبارۃ المجمع۔
بقی حدیث الخصوص والعموم فاقول (۲) للبحر ان یختار العموم ولا یرد الایرادان (۳) فان التقیید ربما یکون حفظا للعلوم لالنفی ماعداہ کقولہ صلی الله تعالٰی علیہ وسلم الحسن والحسین
اور دوسرا اُس مائع میں باطل ہے جو صرف دو اوصاف میں مخالف ہو کیونکہ اس میں ایك بھی وصف بدل جانے سے وہ پانی پر غالب آجاتا ہے۔ (ت)
میں کہتا ہوں کہ مائع کے ذریعے یہاں اعتراض امام ضابطہ کے طریق سلوك سے غفلت کی بناء پر ہے اور صاحبِ بحر نے بھی اس کی پیروی کی ہے کیونکہ یہ دونوں ہر مطلق کو نصوص میں ایك خاص صورت پر محمول کرتے ہیں جیسا کہ یہ پتلے پن سے مقید کو جامد پر محمول کرتے ہیں حالانکہ اس پر یہ اعتراض نہیں کیا کہ مائع اشیئاء تو پتلا پن باقی رہنے کے باوجود بھی مانع ہوجاتی ہیں ، اور جیسا کہ انہوں نے مائع موافق میں غلبہ کو اجزاء کے غلبہ پر محمول کیا ہے اور اس پر یہ اعتراض نہیں کیا کہ یہ قاعدہ ٹوٹ جاتا ہے جب مائع غیر موافق ہو اور انہوں نے اس مائع میں جو پانی سے ایك یا دو اوصاف میں مخالف ہو وضو سے ممانعت کو ایك وصف کی تبدیلی پر محمول کیا ہے اور اس پر تین اوصاف کے مخالف ہونے کا اعتراض نہیں کیا ، یونہی جب انہوں نے تین اوصاف میں مخالف ہونے کی صورت میں ممانعت کو ایك سے زیادہ وصف کی تبدیلی پر محمول کیا ہے تو اس پر دو اوصاف میں مخالف مائع والا اعتراض کیونکر وارد ہوگا باوجودیکہ آپ قدوری ، کنز اور مختار کی عبارات میں اسے قبول کرچکے ہیں تو مجمع کی عبارت میں اسے کیوں منع کردیا؟ (ت)رہی خصوص وعموم کی بات ، تو میں کہتا ہوں کہ صاحبِ بحر کیلئے یہ گنجائش ہے کہ وہ عموم کو اختیار کریں تو اب دونوں اعتراض وارد نہ
ہوں گے کیونکہ بعض اوقات قید کو عموم کے برقرار رکھنے کیلئے ذکر کیا جاتا ہے ماعدا کی نفی کیلئے نہیں جیسا کہ
سیدا شباب اھل الجنۃ [2] اذکان فی الکھول من ھو افضل منھما کالخلفاء الاربعۃ رضی الله تعالٰی عنھم اجمعین ، و التقیید لیس قیدا فی الغالب فیکون المعنی نجیزہ بالغالب علی ماغیر بعض اوصافہ لابالغالب علی ماغیر کلھا ولافی المغلوب فیکون المعنی نجیزہ بماء خالطہ مغلوب غیر بعض اوصافہ لابماء خالطہ مغلوب غیر الکل فان فسادھما ظاھر لان الماء مھما کان غالبا والمخالط مغلوبا جاز ال وضو بہ قطعا من دون
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع