30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
انیسواں ، امام اسبیجابی اور امام سمعانی نے خزانہ میں اور برجندی نے شرح النقایہ میں اس کی مثال زعفران کو قرار دیا ہے جبکہ آپ نے ضابطہ پر مدار رکھتے ہوئے مائع کے ساتھ مختص کیا ہے۔ (ت)
بیسواں ، آپ کا قول ہے کہ اگر اس کا رنگ پانی جیسا ہو تو اعتبار ذائقہ کا ہوگا۔ (ت)
میں کہتا ہوں ، ہاں یہ مثال جلد اثر کرنے والی بُو والی شیئ کو بھی شامل ہوجائے گی تو یہ مثال ضابطہ کے مطابق کیونکر ہوگی (حالانکہ اعتبار تو مطلقًا ذائقہ کا ہے) (ت)
اکیسواں ، اس نے رنگ کی موافقت کی شرط کیوں لگائی ہے؟ کیونکہ ضابطہ میں مطلقًا اعتبار ذائقہ کا ہے رنگ اگرچہ مخالف بھی ہو جبکہ شیئ بو والی نہ ہو اور اس کا ذائقہ جلد اثر کرنے والا ہو۔ (ت)
بائیسواں ، امام اسبیجابی اور زاد الفقہاء ، پھر بدر محمود اور شمس قہستانی نے اس کی مثال نبیذیں قرار دی ہیں جبکہ زاد اور عینی نے سورج سے گرم پانی کا بھی اضافہ کیا ہے تو مائع کے ساتھ تخصیص کس چیز کی ہوگی؟
تئیسواں ، تمہارا قول ہے کہ جب ملنے والی شے ، رنگ ذائقہ اور بُو میں سے کسی میں مخالف نہ ہو تو اعتبار اجزاء کا ہوگا۔
میں کہتا ہوں کہ امام برہان نے ہدایہ میں
الھدایۃ فی الماء الذی اختلط بہ الزعفران او الصابون اوالاشنان الخلط القلیل لایعتبر بہ لعدم امکان الاحتراز عنہ کما فی اجزاء الارض فیعتبر الغالب والغلبۃ بالاجزاء لابتغیر اللون ھو الصحیح[1] اھ ۔ فاین ذھب تخصیص المائع۔
(۱) الرابع والعشرون : ذکرالریح لااثر لہ فی کلامھم وانما زید رعایۃ للضابطۃ کماعلمت فاذن انما صریح نصوصھم انہ ان لم یخالفہ فی اللون والطعم فالعبرۃ للاجزاء وھذا خلاف الضابطۃ۔
الخامس والعشرون : مما یسلك فی السلك ان البحر نقل عبارۃ عن المجمع واستصعب ردھا الی الضابطۃ ثم ابدی شےا ردہ علیہ الشامی فی حاشےتہ وعندی فی الکل نظر قال فی المجمع ونجیزہ بغالب علی طاھر کزعفران تغیر بہ بعض اوصافہ اھ۔ قال البحر تفید ان المتغیر لوکان وصفین یجوز اوکلھا لا[2] قال ولایمکن حملہ علی شیئ کمالایخفی [3] اھ۔
اس پانی کے بارے میں کہا جس میں صابن ، اشنان اور زعفران کی معمولی سی ملاوٹ ہوجائے چونکہ اس ملاوٹ سے بچنا ممکن نہیں لہٰذا اس کا کوئی اعتبار نہیں ، جیسا کہ اجزاءِ زمین کا حکم ہے اور اعتبار غالب کا ہوگا اور صحیح قول کے مطابق غلبہ اجزاء کے اعتبار سے ہوگا نہ کہ رنگ کی تبدیلی سے تو مائع کی تخصیص کہاں چلی گئی! (ت)
چوبیسواں ، بُو کا ذکر محض ضابطہ کی رعایت کیلئے کیا گیا ورنہ اس کے اضافہ سے آپ کو معلوم ہے کہ کوئی اور مقصد نہیں ہے بس اس صورت میں ان کی صریح نصوص یہ ہوں گی کہ اگر وہ ملنے والی شے پانی کے رنگ اور ذائقہ میں مخالف نہ ہو تو اعتبار اجزاء کا ہوگا اور یہ ضابطہ کے خلاف ہے۔ (ت)
پچیسواں ، بحرالرائق نے مجمع سے ایك روایت نقل کی ہے جسے ضابطہ پر منطبق کرنا مشکل ہوا تو اس نے وہ محمل بیان کیا جو شامی نے اپنے حاشےہ میں بیان کرنے کی کوشش کی تھی جبکہ میرے نزدیك ہر ایك محلِ نظر ہے ، صاحبِ مجمع نے کہا ہم اس پانی سے وضو جائز کہتے ہیں جس کے بعض اوصاف زعفران ایسی پاك شیئ کے ساتھ ملنے سے بدل جائیں مگر وہ پانی غالب رہے۔ بحرالرائق نے کہا اس سے یہ فائدہ حاصل ہُوا کہ اگر دو صفتیں بدلیں تو وضو جائز
ای علی شیئ من المحامل الاربعۃ وذلك لانہ لیس فی الضابطۃ قسم یمنع بتغیر الثلثۃ دون الاثنین قال والذی یظھر ان مرادہ من البعض البعض الاقل وھو الواحد کماھی عبارۃ القدوری تصحیحا لکلامہ ویدل علیہ قولہ فی شرحۃ فغیر بعض اوصافہ من طعم او ریح اولون ذکرہ باوالتی ھی لاحد الاشےاء بعد من التی اوقعھا بیانا للبعض ولایظھر لتغییر عبارۃ القدوری فائدۃ [4] اھ۔
اقول : (۱) قدمنا فی الضابطۃ الخامسۃ تحقیق ان بعضا ھھنا یشمل الکل فماغیر الکل فقد غیر البعض فان اخترنا الضابطۃ قلنا قولہ تغیر بہ بعض اوصافہ صفۃ للزعفران لالطاھر حتی یکون قیدا فی الحکم بالغلبۃ وھی فی کل قسم بحسبہ اما بسلامۃ الاوصاف جمیعا اواکثرھا او
ہوگا یا سب بدل جائیں تو وضو جائز نہ ہوگا ، اور یہ بھی کہا کہ یہ ایسی عبارت ہے جس کو کسی شے پر محمول نہیں کیا جاسکتا کمالایخفی۔ یعنی چار محامل میں سے کسی پر بھی یہ محمول نہیں ہے کیونکہ ضابطہ میں کوئی ایسی شق نہیں ہے جو اس بات پر دال ہو کہ تمام اوصاف بدلنے پر تو وضو کرنا منع ہے اور دو کے بدلنے پر منع نہ ہو ، فرمایا جو بات ظاہر ہوتی ہے وہ یہ ہے کہ بعض اوصاف سے اس کی مراد بعض کا کم تر حصّہ ہے جو تین میں سے ایك وصف ہوتا ہے جیسا کہ قدوری کی عبارت اس کلام کی تصحیح میں وارد ہے اور اس کی شرح میں اس کا قول اس پر دلالت بھی کرتا ہے جو یہ ہے ، پس اس نے بعض اوصاف کو بدل دیا ہو ، یعنی ذائقہ یا رنگ یا بُو کو تو اس نے انہیں کلمہ اَوْ کے ساتھ ذکر کیا ہے جو دو اشےاء میں سے ایك کیلئے ہوتا ہے اور کلمہ اَوْ کو مِنْ کے بعد ذکر کیا ہے جس نے ان مذکورہ اشےاء کو بعض کا بیان دیا ہے اور قدوری کی عبارت کی تبدیلی کا کوئی فائدہ بھی ظاہر نہیں ہوتا۔ (ت)
میں کہتا ہوں کہ پانچویں ضابطہ میں ہم تحقیق کرچکے ہیں کہ یہاں بعض کل کو بھی شامل ہے ، تو جو شَے جملہ اوصاف کو تبدیل کرے گی وہ بعض کو بھی تبدیل کرے گی ، اگر ہم ضابطہ ہی اختیار کرلیں تو میں کہتا ہوں کہ اس کا قول تغیر بہ بعض اوصافہ “ زعفران “ کی صفت ہے نہ کہ “ طاہر “ کی حتی کہ بعض اوصاف کا بدلنا حکم کیلئے قید ہو۔ پس حکم غلبہ کے اعتبار سے ہوگا اور غلبہ ہر قسم میں مختلف نوعیت
الرقۃ وحدھا وان تغیرت وھذا فی الجامد ومنہ الزعفران فالماء الغالب وان تغیر بہ بعد اوصافہ ولو فی ضمن الکل مادامت الرقۃ باقیۃ ولاحاجۃ الی التقیید لان الکلام فی الماء وماثخن لیس بماء فھذا توفیق عبارۃ المجمع بالضابطۃ ولاصعوبۃ فیہ اماعلی المذھب فنقول تغیر بہ صفۃ لطاھر والمعنی نجیزہ بماء خالطہ طاھر فغیر بعض اوصافہ حتی الکل مادام الماء غالبا قدرا وطبعا و اسما (۱) فالکلام وجیہ صحیح لایحتاج الی تمحل للتصحیح فلیکن۔
السادس والعشرون : وقال العلامۃ الشامی فی المنحۃ اقول قول المجمع ونجیزہ بغالب علی طاھر لایخلو اما ان یحمل علی الاعم من الجامد والمائع اوعلی الجامد فقط ولاسبیل الی حملہ علی الماء فقط لقولہ کزعفران فان حمل علی الاعم لایصح حمل البعض علی الواحد لان غلبۃ المخالط الجامد تعتبر بانتفاء الرقۃ لابالاوصاف فضلا
کا ہوگا یا توتمام اوصاف سلامت رہیں یا زیادہ اوصاف یا صرف پتلاپن اگرچہ اوصاف بدل جائیں ، اور یہ حکم جامد میں ہوگا جس میں زعفران بھی ہے ، تو پانی اُس وقت تك غالب ہوگا جب تك اس کا پتلاپن باقی رہے اگرچہ اس کے بعض اوصاف بدل جائیں۔ چاہے کل اوصاف کے ضمن میں ہی تبدیل ہوئے ہوں ، تو اب قید لگانے کی ضرورت نہیں ، کیونکہ گفتگو پانی میں ہو رہی ہے اور جو سخت ہوجائے وہ پانی ہی نہیں رہتا تو مجمع کی عبارت کی ضابطہ کے ساتھ تطبیق یوں ہے ، اور اس میں کوئی مشکل بھی نہیں ہے۔ اگر مذہب کو ہی ملحوظ رکھیں اور کہیں کہ تَغیر بَہ بَعض اَوْصَافہ “ طاھر “ کی صفت ہے تو پھر معنی یہ ہوگا ہم اس پانی سے وضو کی اجازت دیتے ہیں جس کے ساتھ کوئی
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع