دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 3 | فتاوی رضویہ جلد ۳

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۳

بقی ھذا السادس الذی ھو قول محمد تماما ولامحمل لہ فان الضابطۃ وزعت والنص رتب واین الترتیب من التوزیع غیر ان البحر فی البحر اراد ایرادہ ھذا المو رد فاورد مالایحصلہ ھذا للعبد حیث قال واما قول من قال العبرۃ لللون ثم الطعم ثم الاجزاء فمرادہ ان المخالط المائع انکان لونہ مخالفا للون الماء فالغلبۃ تعتبر من حیث اللون وانکان لونہ لون الماء فالعبرۃ للطعم ان غلب طعمہ علی الماء لایجوز وان کان لایخالف فی اللون والطعم والریح فالعبرۃ للاجزاء [1] اھ۔

اقول : اولا(۱) اذاکان العبرۃ باللون فیما یخالفہ فیہ وحدہ اومع وصف اٰخر لافی الاوصاف جمیعا وکذا الطعم فکلام الامام الاسبیجابی امافیما لایخالف الا فی ذلك الوصف وحدہ اوفیما یخالف فی وصفین اواعم لاسبیل الی الاخیرین

ساتویں نص منطبق ہوتی ہے۔ (۲) ملنے والی شیئ مائع (سیال) ہو جو تین اوصاف میں مخالف ہو اس پر آٹھویں نص منطبق ہوتی ہے۔ (۳) ملنے والی شیئ مائع (سیال) ہو جو بعض اوصاف میں مخالف ہو اس پر امام محمد کی روایت کے مطابق چوتھی نص منطبق ہوتی ہے۔ (۴) جو مائع (سیال) جملہ اوصاف میں پانی کے موافق ہو اس پر پانچویں نص کا انطباق ہوتا ہے۔ باقی رہ گئی چھٹی جو مکمل طور پر امام محمد کا قول ہے تو اس کا محمل کوئی نہیں ، کیونکہ ضابطہ میں تفریق ہے اور نص میں ترتیب میں توترتیب  اور عدم ترتیب کا کیا جوڑ؟ البتہ بحرالرائق نے اس کو ایسے محمل پر لانے کی کوشش کی ہے جس کی اس فقیر کو کچھ سمجھ نہیں آتی بایں طور کہ اس نے کہا باقی رہا قول اس آدمی کا جس نے یہ کہا کہ اعتبار پہلے رنگ پھر ذائقہ پھر اجزاء کا ہے ، تو اس کی مراد یہ ہے کہ جب ملنے والی مائع چیز کا رنگ پانی کے رنگ کے مخالف ہو تو غلبہ رنگ کے اعتبار سے ہوگا ، اور اگر اس کا رنگ موافق ہو تو اعتبار ذائقہ کا ہوگا ، اگر ملنے والی شیئ کا ذائقہ پانی پر غالب آگیا تو وضو جائز نہ ہوگا ، اور اگر ملنے والی شیئ کا رنگ ذائقہ اور بو کسی میں پانی سے مختلف نہ ہو تو اعتبار اجزاء کا ہوگا (جس کے اجزاء زائد ہوں گے غلبہ بھی اسی کا ہوگا) (ت)

میں کہتا ہوں اوّلًا جب غلبہ میں اعتبار صرف رنگ کا ہے اس صورت میں کہ ملنے والی شے صرف ایك وصف (رنگ) کے اعتبار سے پانی کے مخالف ہو یا دونوں وصفوں میں نہ کہ جملہ اوصاف میں یونہی ذائقہ کا حکم ہے۔ تو علامہ اسبیجابی کا کلام یا تو اس شے میں ہوگا جو اسی ایك وصف (رنگ)

لانہ اذا خالف فی وصفین فایھما تغیر غیر ففیم القصر علی احدھما۔ وایضا لیکن الوصفان اللون والطعم فمن ذا الذی قدم اللون واخر الطعم وعلی الاول کان المعنی مالایخالف الا فی اللون کان المعتبر فیہ اللون ومالایخالف الا فی الطعم کان المعتبر فیہ الطعم وما لایخالف فی شیئ فالعبرۃ فیہ بالاجزاء فمن این جاء الترتیب ولم لم یقل العبرۃ اولا بالطعم ثم اللون ثم الاجزاء اوبالاجزاء ثم الطعم ثم اللون الی غیر ذلك من التقلیبات اذکلھا ح متساویۃ الاقدام فی البطلان والاھمال۔

وایضا تبقی علیہ خمسۃ من سبعۃ فان المخالفۃ فی لون اوطعم او ریح اولون وطعم اولون وریح اوطعم و ریح اوفی الکل فکیف قصر الحکم علی اثنین۔ وثانیا :  ھل (۱) ھو یعتبر الریح ام لا الثانی یرد الضابطۃ وعلی الاول

میں پانی کے مخالف ہو یا دو اوصاف میں یا جملہ اوصاف میں ، تو آخری دو صورتوں میں تو کسی طور گفتگو نہیں ہوسکتی کیونکہ جب وہ شے دو اوصاف میں پانی کے مخالف ہو تو جو وصف بھی تبدیلی کا باعث بنے گا پانی میں تغیر ہوجائے گا (اور معتبر ہوگا) تو پھر ایك وصف میں تغیر کو کیونکر منحصر کیا جاسکے گا؟ (ت)نیز یہ کہ جب ایك شے کے رنگ اور ذائقہ دو اوصاف ہوں تو رنگ کو کس داعیہ کی وجہ سے مقدم کیا جائے گا اور ذائقہ کو مؤخر کیا جائےگا؟ پہلی صورت میں(جب دو وصف نہ ہوں) معنی یہ ہوگا کہ جب ملنے والی شے کی مخالفت صرف رنگ میں ہو تو اعتبار بھی رنگ کا ہوگا۔ جب صرف ذائقہ میں مخالف ہو تو ذائقہ کا ، اور کسی وصف میں مخالف نہ ہونے کی صورت میں اجزاء کا اعتبار ہوگا ، تو سوال یہ ہے کہ یہ ترتیب کہاں سے آئی اور یوں ترتیب کیوں نہیں رکھی کہ پہلے اعتبار ذائقہ کا ہوگا پھر رنگ کا اور پھر اجزاء کا۔ یا یوں کہ پہلے اجزاء کا اعتبار ہو پھر ذائقہ پھر رنگ کا ، یا کسی اور طرح سے الٹ پلٹ ہو جبکہ یہ سب صورتیں باطل اور مہمل ہونے میں برابر تھیں۔ (ت)نیز یہ کہ اس ضابطہ کے مطابق پانی میں ملنے والی شے کی سات صورتوں میں سے صرف دو کا حکم معلوم ہوگا پانچ کا حکم باقی رہے گا وجہ حصریہ ہے مخالفت صرف رنگ میں یا صرف ذائقہ میں یا صرف بُو میں یا رنگ وبُو میں یا رنگ وذائقہ میں یا ذائقہ وبُو میں یا تینوں میں ہوگی تو حکم کے بیان میں صرف دو پر کیوں اکتفا کیا گیا؟ (ت)ثانیا یہ کہ اس کے ہاں بُو کا اعتبار ہے یا نہیں؟ عدمِ اعتبار کی صورت ضابطہ کو مسترد

لم حذفھا وکیف استقام لہ نقل الحکم بعد الطعم الی الاجزاء۔

وثالثا :  (۱) عبارۃ الامام الاسبیجابی قدمناھا مع کثیر من موافقتھا صدر البحث الاول من الضابطۃ السادسۃ وھی بکل جملۃ منھا تخالف الضابطۃ وتأبی محملھا الموزع المبدد لاحکامھا اذیقول ان غیر لونہ فالعبرۃ لللون مثل اللبن وقدمنا ان اللبن یخالف فی الثلث فکیف اجتزء بواحد ۔

و رابعا :  (۲) لم عین اللون وانتم القائلون کالامام الضابط ان کان لون اللبن اوطعمہ ھو الغالب لم یجز الوضوء۔

وخامسا :  قال (۳) والخل وھذا فی کونہ ذا الثلاثۃ ابین من اللبن فمعلوم قطعا انہ یخالف الماء طعما وریحا وقد اعتبر اللون مخالف فی الثلاث ولم یعتبر وصفین بل واحدا۔

وسادسًا :   قال (۴) والزعفران وھذا             

کرتی ہے اور اعتبار کی صورت میں اسے حذف کیا تو کیوں؟ اور پھر حکم کو ذائقہ سے اجزاء کی طرف منتقل کرنا کیونکر درست ہوگا (جبکہ بُو بھی اجرائے حکم کیلئے معتبر ہے)۔ (ت)

ثالثا امام اسبیجابی کی عبارت بہت سے موافقات کے ساتھ ہم نے چھٹے ضابطہ کی بحث اول کے شروع میں ذکر کی ہے اور اس کے ہر جملہ میں سے کچھ ضابطہ کے خلاف ہے اور اس کا نیا محمل اس کے احکامات کے اجراء سے عاری ہے (جو قدیم محمل پر جاری ہوتے ہیں) بایں طور کہ وہ کہتے ہیں اگر ملنے والی مائع چیز پانی کا رنگ تبدیل کردے تو اعتبار بھی رنگ کا ہوگا ، جیسا کہ دودھ ہے حالانکہ ہم کچھ ہی پہلے بیان کرچکے ہیں کہ دُودھ تو تینوں اوصاف میں پانی کا مخالف ہوتا ہے تو ایك وصف کی تبدیلی کو اس نے وضو سے مخالفت کیلئے کیوں کافی قرار دیا ہے؟ (ت)

رابعًا انہوں نے دودھ میں صرف رنگ کو ہی کیوں متعین کیا ہے؟ حالانکہ تمہارا بھی ضابطہ بنانے والے امام کی طرح یہ کہنا ہے کہ اگر دودھ کا رنگ یا ذائقہ غالب ہو تو وضو جائز نہ ہوگا۔ (ت)

خامسًا اس نے وَالْخَلّ (اور سرکہ بھی) کہا ہے جس کا دودھ کی نسبت تین اوصاف والا ہونا زیادہ واضح ہے تو قطعی طور پر معلوم ہوگیا کہ دودھ پانی سے ذائقہ اور بُو میں مخالف ہوتا ہے جبکہ رنگ کے اعتبار سے مخالفت پہلے ہی تسلیم کرچکے ہو ، پس وہ تینوں وصفوں میں مخالف ہے اور انہوں نے دو وصفوں کا اعتبار نہیں کیا بلالکہ ایك کا اعتبار کیا ہے۔ (ت)

سادسا اس نے غلبہ رنگ کی مثال

اظھر من اللبن فی جمع الثلاث وازھر من الخل فی الاجتزاء بواحد لکون لونہ اسبق عملا والخل ماکان منہ کذاك فذاك والا فمطمح نظرہ ھو اللون نفسہ لالکونہ دلیلا علی تغیر غیرہ قبلہ لکونہ اضعف منہ۔

وسابعًا :  قال وان لم یغیر لونہ بل طعمہ فالعبرۃ للطعم (۱) نفی توز یعکم وراعی ترتیبہ وارشد انہ ان خالف لونہ فلاعبرۃ للطعم۔

وثامنا :  قال مثل ماء البطیخ والاشجار والثمار والانبذۃ ھذا فیما لایلون (۲) ولاشك ان فیھا ذوات الرائحۃ ولربما کان ریحھا اغلب فلم یعتبرھا وقصر الحکم علی الطعم۔

وتاسعا :  قال وان لم یغیر لونہ وطعمہ فالعبرۃ للاجزاء (۳) اسقط الریح رأسا وھو الحق الناصع کماقدمنا فی ٢٩٨۔

وعاشرًا  :  قال فان غلب اجزاؤہ علی اجزاء الماء لایجوز الوضوء                                     

 



[1]   بحرالرائق ابحاث الماء  ایچ ایم سعید کمپنی کراچی  ۱ / ۷۰

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن