30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اور ۲۷۹ پر گزرا ہے اور وہاں ہم نے اشارۃً یہ بھی بتایا تھا کہ علامہ رملی کی مراد خربوزے کا وہ پانی ہے جس کی رنگت نہ ہو ، اگرچہ علامہ کی اس گفتگو کا ظاہر سیاق یہ ہے کہ اس نے دودھ کو پانی سے رنگ اور ذائقہ میں مخالف بتایا ہے اور تربوز کے پانی کے متعلق کہا کہ پانی سے صرف ذائقہ میں مختلف ہوتا ہے تو اس میں غلبہ کا اعتبار بذریعہ ذائقہ ہوگا اھ۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ علامہ نے تربوز کی وہ قسم مراد لی ہے جو پانی سے صرف ذائقہ میں مختلف ہو (رنگ اور بو میں نہیں)جیسا کہ علامہ شرنبلالی نے اپنی مراقی الفلاح میں کہا کہ بعض تربوزوں کے لئے ایك ہی وصف ہوتا ہے اھ۔ شرنبلالی کی اتباع ابو السعود اور طحطاوی نے بھی کی اور شامی نے بھی یہی بات کہی ہے ، جہاں اس نے کہا کہ تربوز کا پانی یعنی اس کی بعض اقسام رنگ اور بُو نہ ہونے میں پانی کے موافق اور ذائقہ میں مخالف ہوتی ہیں۔ (ت)
میں کہتا ہوں تربوز کا ایسا پانی جو بُو میں پانی کے موافق ہو نادر ہوتا ہے بخلاف اس تربوز کے جس کا پانی رنگ میں پانی کے موافق ہو جیسا کہ علامہ رملی کی بات اس پر دال ہے اور وہ تربوز جو رنگ اور خوشبو دونوں میں پانی کے موافق ہو نادر تر ہوتا ہے اور ضرورت کثیر الوجود پر محمول کرنے سے پوری ہوجاتی ہے
الا فی وصفین کفی الضابطۃ تغیر احدھما وطعمہ اقوی من ریحہ فاجتزأبہ وبہ یخرج الجواب عن المخالفۃ المذکورۃ فی ۳۰۲ فتنبہ۔
وہ جب صرف دو صفتوں میں مخالف ہے تو یہ ضابطہ کافی ہوگا کہ دو اوصاف میں سے ایك بدل گیا ہو درانحا لیکہ ذائقہ بُو سے زیادہ قوی ہو تو اس کے اعتبار سے فیصلہ کیا جائےگا اور اسی سے ۳۰۲ میں مذکور مخالفت سے جواب حاصل ہوجائےگا۔ (ت)
یہ ہیں وہ ایرادات کہ کلام علماء میں تقریر ضابطہ پر نظر سے گزرے۔
وانا اقول : وبالله التوفیق ان کے سوا وہ محل ایرادات کثیرہ ہے اجمالًا بھی اور تفصیلًا بھی ، تفریعًا بھی اور تاصیلًا بھی۔ مثلًا :
نہم : غیر تمر۱ کی نبیذ سے بھی وضو جائز ہو جب تك رقیق رہے حالانکہ خلافِ اجماع ہے وقد ذکرناہ اٰنفا (اور اس کو ہم ابھی ذکر کرچکے ہیں۔ت)
دہم : ہر شربت۲ سے جائز ہو حالانکہ خلاف نصوص متواترہ ہے دیکھو ۱۸۵ ، ۲۸۸۔
یاز دہم دو اخیساندہ۳ سے جائز ہو حالانکہ خلاف اصل مجمع علیہ ہے۔
دواز دہم : کسیس۴ مازو روشنائی مل کر لکھنے کے قابل کردے جب بھی جائز ہو اگر رقت نہ جائے یہ بھی اصل اجماعی کے خلاف ہے۔
سیز دہم تا پانزدہم۵ پینے کا پانی خوشبو کرنے کو گھڑے بھر میں قلیل کیوڑا گلاب بید مشك ڈالتے ہیں وہ یقینا وہی رہتا ہے جو مطلق آب کے نام سے مفہوم ہوتا ہے مگر بروئے ضابطہ پانی نہ رہا۔
شانز دہم و ہفدہم : زعفران۶ یا شہاب حل کیا ہوا پانی اگر پانی میں مل کر صرف رنگ بدلے اگر رنگنے کے قابل کردیا تو بالاجماع ورنہ امام محمد کے نزدیك اُس سے وضو ناجائز ہے اور حکم ضابطہ سب کے خلاف جواز۔
ہیجدہم : یوں۷ ہی بُودار پُڑیا کا حل کیا ہوا پانی جبکہ بُو غالب نہ ہو کہ بے اس کے بدلے رنگ بدل جائے۔
نوزدہم : سفید۸ انگور کا سرکہ جب صرف بُو بدلے باتفاق ارشادات ائمہ جواز ہے اور حکم ضابطہ ممانعت۔
بستم وبست ویکم رنگین۹ سرکے جن کا مزہ یا بواقوی الاوصاف ہو جب صرف مزہ وبو تبدیل کریں حکم منصوص ائمہ جواز ہے اور ضابطہ مخالف ان کا ذکر ۲۸۷ سے ۳۰۵ تك گزرا اور وہ ترك کردئے جن میں صرف امام محمد سے خلاف ہے۔ یہ برطبق بحرالرائق بعض جزئیات سے کلام تھا اب اصول پرسُنیے۔
فاقول : وبالله التوفیق ،
بست و دوم : جامد۱ زوال رقت پر قصر صحیح نہیں اس کا بیان ۲۸۷ میں گزرا۔
بست وسوم : زوال۲ رقت کا جامد پر قصر صحیح نہیں اس کا بیان رسالہ الدقۃ والتبیان میں گزرا
بست وچہارم : اول۳ ابحاث غلبہ غیر میں گزرا کہ قول صحیح ومعتمد ومذہب وظاہر الروایۃ قول امام ابویوسف ہے اور ضابطہ صراحۃً اُس کے خلاف کہ اس میں اوصاف ساقط النظر اور اس میں اعتبار اوصاف۔
بست وپنجم : ضابطہ۴ ششم میں تحقیق وتنقیح قول امام محمد گزری کہ اولًا صرف رنگ معتبر ہے اُس میں خلاف نہ ہو تو صرف مزہ ، اس میں بھی خلاف نہ ہو تو اجزاء۔ ضابطہ کا حرف اس ترتیب کے خلاف ہے تو اُسے دونوں امام مذہب سے صریح اختلاف ہے۔
اقول : (۵) والعجب ان الامام الفخر رحمہ الله تعالٰی ورحمنا بہ فی الدنیا والاٰخرۃ حاول ھھنا التوفیق بین ماجاء فی الباب عن الاصحاب مماظاھرہ الاضطراب وقدعد فیھا ھذا القول قول محمد ایضا لکن حیث اتی علی التوفیق لم یلم بہ اصلا وماکان لہ ان یلتئم مع صریح نقیضہ وھذا کلامہ رحمہ الله تعالٰی اعلم ان عبارات اصحابنا مختلفۃ فی ھذا الباب مع اتفاقھم ان الماء المطلق یجوز الوضو بہ ومالیس بمطلق لایجوز ، فعن۱ ابی یوسف ماء الصابون اذا کان ثخینا قد غلب علی الماء لایتوضأ بہ وانکان رقیقا
میں کہتا ہوں تعجب خیز امر یہ ہے کہ یہاں سے امام الفخر رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِتعالٰی پر اور ان کے ذریعہ ہم پر دنیا وعقبیٰ میں رحم فرمائے اس باب میں اصحاب احناف کے بظاہر مضطرب اقوال میں تطبیق دینا چاہتے ہیں اور امام محمد کے اس قول کو بھی ان مضطرب اقوال میں شمار کیا ہے حالانکہ وہ تطبیق کی پُوری گہرائی تك نہیں گئے اور صراحۃً ضد کی موجودگی میں گہرائی تك جانا ممکن بھی نہیں تھا ان کا کلام یہ ہے جان لو کہ اصحاب احناف کے مطلق پانی سے وضو کے جواز اور مقید کے ساتھ عدمِ جواز پر اتفاق کے باوجود اس باب میں عبارات کا اختلاف ہے۔ پس امام ابویوسف کے مطابق جب صابن کا پانی سخت ہوجائے کہ صابن پانی پر غالب ہوجائے تو وضو جائز نہ ہوگا ، پتلا ہونے کی
یجوز وکذا ماء الاشنان ذکرہ فی الغایۃ وفیہ۲ اذا کان الطین غالبا علیہ لایجوز الوضو بہ وفی۳الفتاوی الظھیریۃ اذاطرح الزاج فی الماء حتی اسود جاز الوضو بہ وکذا العفص اذا کان الماء غالبا وفیہ۴ان محمدا اعتبر بلون الماء وابا یوسف بالاجزاء وفی المحیط عکسہ وفی۵ الھدایۃ الغلبۃ بالاجزاء لابتغیر اللون و ۶ذکر الاسبیجابی ان الغلبۃ تعتبر اولا من حیث اللون ثم من حیث الطعم ثم من حیث الاجزاء وفی ۷الینابیع لونقع الحمص والباقلاء وتغیر لونہ وطعمہ وریحہ یجوز الوضو بہ ۸واشار القدوری الی انہ اذا غیر وصفین لایجوز الوضو بہ وھکذا جاء الاختلاف فی ھذا الباب کماتری فلابد من ضابط وتوفیق بین الروایات [1] اھ۔ ثم ذکر الضابطۃ ورد الاقوال الی محاملھا کما نقلنا فی ٢٨٧ وتلك ثمانیۃ نصوص واربعۃ محامل الاول المخالط الجامد وعلیہ الثلثۃ الاول والسابع الثانی مائع یخالف فی الثلثۃ وعلیہ الثامن الثالث یخالف فی البعض وعلیہ الرابع فیما حکی عن محمد الرابع الموافق وعلیہ الخامس
صورت میں وضو جائز رہے گا ، اشنان کے پانی کا بھی یہی حکم ہے اس کو غایۃ میں ذکر کیا ہے ، اور غایہ میں یہ بھی ہے کہ جب پانی پر مٹی غالب آجائے تو وضو جائز نہ رہے گا اور فتاوٰی ظہیریہ میں ہے جب تك پانی غالب رہے پھٹکڑی ڈالنے سے پانی سیاہ ہوجائے وضو جائز رہے گا ، اور یہی حکم مازُوکا ہے۔ اسی میں ہے کہ امام محمد تو پانی کے رنگ کا اعتبار کرتے ہیں ، اور امام ابویوسف اجزاء کا ، جبکہ محیط میں ان کا مسلك برعکس بیان ہوا ہے۔ ہدایہ میں ہے کہ غلبہ اجزاء کے اعتبار سے ہوگا نہ کہ رنگ کی تبدیلی سے ، اسبیجابی نے کہا کہ غلبہ میں پہلے رنگ کا اعتبار ہوگا پھر ذائقہ پھر اجزاء کا ینابیع میں ہے کہ اگر چنے اور لوبیا پانی میں بھگویا جائے اور ذائقہ ، رنگ اور خوشبو بدل بھی جائے تو بھی وضو جائز رہے گا اور قدوری نے اس جانب اشارہ کیا ہے کہ دو صفتیں بدل جانے کے بعد وضو جائز نہیں رہتا۔ اس باب میں جیسا کہ تم دیکھ رہے ہو اسی نوعیت کا اختلاف ہے ، تو کسی ایك تطبیق اور ضابطہ کی ضرورت سے انکار نہیں کیا جاسکتا تاکہ روایات کے درمیان تطبیق ہوجائے ، پھر انہوں نے ضابطہ ذکر کیا اور تمام اقوال کا مناسب موقع اور محل بیان کیا جیسا کہ ہم ۲۸۷ میں نقل کر آئے ہیں جو آٹھ نصیں اور چار محمل ہیں :
(۱) ملنے والی جامد شے ہو اور اس محمل پر پہلی تین اور
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع