30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اقول : علی ان ایجاب الصدقۃ فی المشروب بالطیب المغلوب لایوجب
اشنان قرار دیں تو صدقہ اور اگر خوشبو قرار دیں تو قربانی دینا لازم ہوگا ، پینے والی شے میں خوشبو ملنے کے بارے میں علماء نے کہا ہے کہ اگر خوشبو غالب ہو اور مُحرِم ایسی شیئ پئے تو قربانی ورنہ صدقہ لازم ہوگا ، مگر مغلوب خوشبو والا پانی بار بار پئے تو قربانی لازم ہوجائے گی ، تو اس پر بحرالرائق نے بحث کرتے ہوئے کہا کہ جب کھانے اور پینے والی اشےاء میں خوشبو ملے اور وہ غالب نہ ہو تو ان اشےاء کا حکم یکساں ہونا چاہئے کہ یا تو دونوں صورتوں میں کھانے کی اشےاء کی طرح کچھ بھی لازم نہ ہو یا پینے والی اشےاء کی طرح دونوں میں صدقہ لازم ہو بحرالرائق کی تائید تبیین الحقائق کی اس عبارت سے بھی ہوتی ہے کہ اگر ایك شخص نے کچا زعفران ملا کھانا کھایا تو قربانی لازم ہوگی ورنہ نہیں اور یہی حکم پینے کی اشےاء کا بھی ہے۔ اور بحرالرائق میں امام ابن امیر الحاج کی کتاب المناسك سے ایك بحث منقول ہے کہ اگر غالب خوشبو والی کوئی شَے زیادہ مقدار میں کھاپی لی ہو تو کفارہ لازم ہوگا بصورت دیگر صرف صدقہ ہے ، اور اگر خوشبو کے بجائے غلبہ کھانے پینے کی شیئ کا تھا اور زیادہ مقدار میں استعمال کرلی تو صدقہ لازم ہوگا ورنہ کچھ بھی نہیں ، تو ان دونوں فقہاء نے کھانے اور پینے کی اشےاء کو حکم میں یکساں قرار دیا ہے۔ (ت)میں کہتا ہوں مغلوب خوشبو والے مشروبات پینے سے صدقہ کا لزوم اس کے مطلق پانی ہونے کے
ان الاطلاق بہ مسلوب الا تری ان قطرات من ماء الورد تطیب ارطالا من الماء ولایصح لعاقل ان یقول انہ خرج من کونہ ماء کلبن خلط بنزر من عنبر اومسك لایسوغ لاحد ان یقول لم یبق لبنا ، وبالجملۃ فالاجوبۃ انما تستقیم فیما لم یصلح للصبغ وعلیہ یدل قول الھدایۃ لنا ان اسم الماء باق علی الاطلاق الاتری انہ لم یتجدد لہ اسم علیحدۃ [1]اھ۔ فان ماصلح للصبغ قد تجددلہ اسم بحیالہ فیقال لہ صبغ لاماء فکیف یحنث شاربہ ولم لایخالف شاریہ فقد بان الذی سلکہ البحر مھیع واضح وھو محمل کلام العلامۃ السید الازھری اذقال اعلم ان اعتبار بقاء الرقۃ والسیلان دون تغیر الاوصاف فیما اذاکان المخالط جامدا کزعفران یقتضی جواز الاستعمال و ان غیر الزعفران لون الماء لاطلاق اسم الماء علیہ ، ومنع بان المحرم لواستعملہ لزمتہ الفدیۃ [2] فذکر الاسئلۃ الثلاثۃ واجوبۃالھندی والبحر فانما اراد التغیر القلیل المغتفر وحینئذ جواز الاستعمال صحیح مقرر ولم یرد بہ تقریرا یراد
منافی نہیں ہے۔ کیا یہ بات مشاہدہ میں نہیں کہ ایك دو قطرے عرق گلاب کے کئی رطل پانی کو خوشبودار بنادیتے ہیں مگر کوئی بھی عقلمند یہ نہیں کہتا کہ یہ پانی نہیں رہا ، جیسے کہ دودھ کو عنبر یا کستوری کی معمولی سی مقدار خوشبودار بنادیتی ہے ، مگر کوئی ذی ہوش نہیں کہتا کہ یہ دودھ نہیں ہے۔
حاصل کلام یہ کہ جملہ جوابات زعفران کے ملنے سے رنگنے کے قابل نہ ہونے کی صورت میں درست ہوسکتے ہیں۔ ہدایہ کا قول بھی اسی بات پر دال ہے جو یوں ہے کہ ہماری دلیل یہ ہے کہ یہ تاحال مطلق پانی ہی کہلاتا ہے۔ کیا تمہیں یہ معلوم نہیں کہ اسے نیا نام نہیں دیا گیا اھ۔ پس جو پانی رنگنے کے قابل ہوجائے اسے بالکل علیحدہ نام دیا جاتا ہے کہ اسے رنگ کہا جاتا ہے پانی نہیں کہا جاتا ہے ، تو اسے پینے والا کیونکر حانث ہوگا اور اس کا خریدار وکیل کیونکر حکم عدولی کا مرتکب نہ ہوگا تو اس سے واضح ہوگیا کہ بحرالرائق کی اختیار کردہ راہ نہایت واضح اور درست ہے۔ علّامہ سید الازہری کے اس قول کا محمل بھی یہی ہے جہاں انہوں نے کہا جان لو کہ زعفران جیسی جامد شے کے پانی میں ملنے کے بعد رقت اور سیلان کی بقاء کا اعتبار کرنا اور اوصاف میں تبدیلی کا اعتبار نہ کرنا استعمال کے جائز ہونے کو چاہتا ہے اگرچہ زعفران پانی کے رنگ کو بدل ڈالے کیونکہ اس پر ابھی پانی کا اطلاق ہوتا ہے اس پر علامہ ازہری نے یہ اعتراض کرنے کے بعد کہ اس پانی کا استعمال منع ہے
البحر علی الضابطۃ فانہ فیما صلح للصبغ وعندئذ جواز الاستعمال باطل منکر دل علیہ قولہ لاطلاق اسم الماء علیہ وقد افصح بالمراد قال عقیب مامر وھذا اذا کان بحال لایصبغ بہ فان امکن الصبغ بہ لم یجز کنبیذ تمر در عن البحر[3] اھ۔ فاعرف وتثبت۔
کیونکہ مُحرِم جب ایسا پانی استعمال کرے تو اس پر فدیہ لازم ہوگا۔ تینوں سوال اور ہندی اور بحر کے جوابات بھی ذکر کیے تو علامہ ازہری کی مراد زعفران سے ہونے والا قابلِ معافی معمولی تغیر ہے جس میں استعمال کا جائز اور درست ہونا یقینی امر ہے۔ اس سے علامہ کی مراد ضابطہ پر بحرالرائق کے اعتراض کو تقویت دینا نہیں ہے کیونکہ یہ اعتراض صرف رنگنے کے قابل ہوجانے کی صورت میں وارد ہوتا ہے جس کے بعد استعمال کا جائز قرار دینا بے اصل ہے علامہ کے اس خیال پر ان کا قول لاطلاق اسم الماء علیہ دلالت کرتا ہے بلالکہ انہوں نے اپنا مقصد کھل کر اس وقت بھی بیان کردیا جب انہوں نے گزشتہ قول کے کچھ ہی بعد یہ کہا کہ یہ ساری بحث اس صورت میں ہے کہ جب پانی رنگ دینے کے قابل نہ ہوا ہو۔ اگر اس سے رنگ دینا ممکن ہوجائے تو نبیذتمر کی طرح اس کا استعمال جائز نہ ہوگا۔ یہ بحث بحرالرائق کی ہے اسے پوری طرح پہچانو اور پختہ کرو۔ (ت)
ہفتم : دودھ کو اقسام غلبہ کی قسم دوم میں شمار فرمانا محل کلام ہے بلالکہ وہ قسم اول میں ہے کہ بلاشُبہ ایك جدا خُوشبو رکھتا ہے جو پانی میں نہیں یہ اعتراض علّامہ خیر رملی کا ہے ،
وقد تقدم فی ۱۳۴ وانہ تبعہ فیہ ش ووقع فی حاشےۃ مراقی الفلاح للعلامۃ ط تحت قول المتن مائع لہ وصفان فقط کاللبن لہ اللون والطعم ولارائحۃ لہ فیہ انہ یشم من بعضہ رائحۃ الدسومۃ[4] اھ ۔
اقول : (۱) بل من کلہ وان خفی فی بعضہ الی ان یغلی کماقدمت۔
اور ۱۳۴ میں گزر چکا ہے کہ علامہ شامی نے اس اعتراض میں رملی کی اتباع کی ہے اور حاشےہ مراقی الفلاح میں جو علامہ طحطاوی کا ہے۔ متن کے اس قول کے تحت کہ “ وہ مائع چیز جس کے دو وصف ہوں ، جیسے دودھ ہے جس کا ذائقہ اور رنگ تو ہے مگر خوشبو نہیں ہے “ یہ اعتراض کیا ہے کہ بعض سے چونکہ چکناہٹ کی خوشبو محسوس ہوتی ہے ، تو یہ کہنا درست نہیں کہ اس کی خوشبو نہیں اور یہ دو صفتوں والا مائع ہے۔ (ت)میں کہتا ہوں بلالکہ ہر دودھ کی خوشبو ہوتی ہے اگرچہ بعض کی اُبالنے تك مخفی رہتی ہے (ت)
ہشتم : آب بطیخ کو قسم سوم میں شمار فرمانا بھی محل نظر ہے کہ یقینا اس کی بُو پانی کے خلاف ہے۔ اور بعض کا رنگ بھی سُرخ یا زرد یہ اعتراض بھی علّامہ رملی کا ہے ،
وقدمر فی ۲۷۹ واشرنا ثمہ ان مرادہ مالالون لہ وان کان ظاھر سیاقہ حیث جعل اللبن مخالفا لماء فی وصفین اللون والطعم وقال فی ماء البطیخ یخالفہ فی الطعم فتعتبر الغلبۃ فیہ بالطعم [5] اھ۔ انہ اراد مالایخالف منہ الماء الا فی الطعم کما قال العلامۃ الشرنبلالی فی مراقیہ ان بعض البطیخ لیس لہ الاوصف واحد[6] اھ وتبعہ ابو السعود ثم ط وکذلك ش اذقال ماء البطیخ ای بعض انواعہ موافق للماء فی عدم اللون والرائحۃ مباین لہ فی الطعم [7] اھ۔
اقول : وذلك لان مالایخالف منہ الماء فی الرائحۃ نادر بخلاف مایوافقہ فی اللون کمادل علیہ کلام العلامۃ الخیر ومالایخالف فی لون ولارائحۃ اندر والحاجۃ مندفعۃ بالحمل علی کثیر الوجود لانہ اذالم یخالفہ
[1] الہدایۃ ، باب الماء الذی یجوزبہ الوضوء ، المکتبۃ العربیہ کراچی ، ۱ / ۱۷
[2] فتح المعین کتاب الطہارۃ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۶۲
[3] فتح المعین کتاب الطہارۃ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۶۲
[4] طحطاوی علی مراقی الفلاح کتاب الطہارۃ مطبعہ ازہریۃ مصریۃ مصر ص۱۶
[5] طحطاوی علی الدر المختار باب المیاہ مطبوعہ بیروت ۱ / ۱۰۳
[6] مراقی الفلاح مع الطحطاوی کتاب الطہارۃ مطبوعہ بولاق مصر ص۱۶
[7] ردالمحتار باب المیاہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۱۳۴
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع