30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
حیث قال بعد نقل الضابطۃ والوجہ ان یخرج من الاقسام ماخالط جامدا فسلب رقتہ لان ھذا لیس بماء مقید والکلام فیہ بل لیس بماء اصلا کمایشےر الیہ قول المصنف الا ان یغلب فیصیر کالسویق لزوال اسم الماء عنہ [1] اھ ونقلہ فی منحۃ الخالق واقرہ۔
اقول : (۱) وما ھو الاشبہ الاخذ علی اللفظ اذلا اثرلہ علی الاحکام ومامثلہ فی الفقہ بنادر۔
ابن ہمام نے ضابطہ نقل کرنے کے بعد کہا بہتر یہ ہے کہ ان صورتوں میں سے جامد شے کے ملنے سے پانی کی رقت زائل ہوجانے کی صورت نکال دی جاتی ، کیونکہ یہ مقید پانی نہیں ہے جس میں کہ بات ہو رہی ہے بلالکہ یہ سرے سے پانی ہی نہیں جس کی طرف خود مصنف نے یوں اشارہ کیا کہ مگر یہ کہ غالب ہوکر ستّو جیسی شے بن جائے کیونکہ اسے پانی نہیں کہا جاتا اس کو منحۃ الخالق میں نقل کیا ہے اور ثابت کیا ہے (ت)میں کہتا ہوں ، حالانکہ یہ مناسب نہیں ، لفظی گرفت سے احکام پر کوئی اثر نہیں پڑتا اور فقہ میں ایسی چیز نادر نہیں ہے۔ (ت)
پنجم : خرما جا مد ہے تو بحکم ضابطہ نبیذ سے وضو جائز ہونا چاہئے جب تك پانی رقیق رہے حالانکہ یہ خلاف صحیح ہے اور روایت جواز سے امام نے رجوع فرمائی۔
اقول : ۲ خر مے کی کیا تخصیص ہے کہ صحیح ومرجوح ومختار ومرجوع سے فرق کرنا پڑے کشمش مشمش انجیر وغیرہا سب جامد ہیں اور ان کی نبیذ سے وضو بالاجماع باطل اور بحکم ضابطہ جواز چاہئے۔
ششم : یوہیں زعفران جامد ہے تو اگرچہ تینوں وصف بدل دے بروئے ضابطہ جواز رہے جب تك رقت باقی ہو حالانکہ حکم منصوص عدم جواز ہے جبکہ رنگنے کے قابل ہوجائے یہ دونوں اعتراض علامہ صاحب بحرالرائق کے ہیں ان کا ذکر ۲۸۷ ، ۲۹۵ میں گزرا
مع ماحاول البحر من توجیھہ و رد النھر علیہ وتحقیق الرد بما لامزید علیہ وقدمنا ایضا فی ١٢٤ ماورد فی مسألۃ الزعفران من عبارات ظواھرھا
اس کے ساتھ ہی صاحبِ بحرالرائق کی توجیہ اور صاحبِ نہر کے رَد اور رَد کی ایسی تحقیق کی ہے جس پر اضافہ کی گنجائش نہیں ہے اور ہم نے پہلے بھی نمبر ۱۲۴ میں مسئلہ زعفران سے متعلق وہ روایات
متنافیۃ وردھا بتوفیق الله تعالٰی الی جادۃ واحدۃ صافیۃ۔
اقول : وبہ ظھر ولله الحمد محمل مافی البحر اذقال بعد ماذکر تبعا للھدایۃ ان ماء الزعفران ماء مطلق عندنا ومقید عند الشافعی رضی الله تعالٰی عنہ مانصہ فان قیل (۱) لو حلف لایشرب ماء فشرب ھذا الماء المتغیر لم یحنث (۲) ولو استعمل المحرم الماء المختلط بالزعفران لزمتہ الفدیۃ (۳) ولو وکل وکیلا بان یشتری لہ ماء فاشتری ھذا الماء لایجوز فعلم بھذا ان الماء المتغیر لیس بماء مطلق قلنا لانسلم ذلك ھکذا ذکر السراج الھندی اقول ولئن سلمنا فالجواب امافی مسألۃ الیمین والوکالۃ فالعبرۃ فیھما للعرف وفی العرف ان ھذا الماء لایشرب واما فی مسألۃ المحرم فانما لزمتہ الفدیۃ لکونہ استعمل عین الطیب وان کان مغلوبا [2] اھ۔ فالکلام فی ماء خالطہ زعفران قلیل فغیر لونہ ولم یجعلہ صالحا للصبغ فھذا ھو الباقی علی اطلاقہ الصالح للطھارۃ بہ وفیہ یستقیم قول العلامۃ السراج لانسلم
بھی ذکرکی ہیں جو بظاہر متنافی ہیں اور ان کا ایسا مطلب بھی بیان کیا ہے جو انہیں بے غبار بنادیتا ہے۔ (ت)
میں کہتا ہوں بحمدہٖ تعالٰی اس تقریر سے بحر کی وہ عبارت بھی واضح ہوگئی جو اس نے ہدایہ کی اتباع میں کہی کہ زعفران والا پانی ہمارے نزدیك مطلق پانی ہے اور امام شافعی کے ہاں مقید ہے ان کی عبارت یہ ہے کہ اگر اعتراض کیا جائے کہ اگر کسی نے پانی نہ پینے کی قسم کھائی پھر زعفران ملا پانی پی لیا تو قسم نہیں ٹوٹے گی ، یونہی حالت احرام میں زعفران کے پانی سے غسل کرلیا تو فدیہ لازم آئےگا ، اور کسی کو پانی خریدنے کیلئے وکیل بنایا گیا ہو اور وہ زعفران ملا پانی خریدے تو یہ جائز نہ ہوگا تو ثابت ہوا کہ زعفران ملاپانی مطلق پانی نہیں ہوتا (جو آپ کے مسلك کے خلاف ہے) تو ہم جواب دینگے کہ ہم ان باتوں کو تسلیم نہیں کرتے جیسا کہ سراج ہندی نے کہا ، میں کہتا ہوں کہ اگر ہم آپ کے اعتراضات کو درست تسلیم کر بھی لیں (تو بھی ہمارے مسلك کے خلاف لازم نہیں آتا) کیونکہ قسم اور وکالت کی صورتوں میں تو عرف کا اعتبار ہوتا ہے اور عرف میں ہے کہ ایسا پانی پیا نہیں جاتا اور احرام والے مسئلہ میں فدیہ لازم ہونے کی وجہ خوشبو کا استعمال ہے اگرچہ یہاں خوشبو مغلوب ہے پانی کا مقید ہونا نہیں ہے ، پس کلام اس
ان شاربہ لایحنث وان المحرم یفدی باستعمالہ وان الوکیل ان شراہ لایلزم الموکل کیف وھو ماء مطلق وقلیل التغیر ھدر شرعا وعرفا۔
اقول : والالم یحنث بشرب ماء المد ولم یجز شراء الوکیل ممن احرزہ وھو کماتری وقد (۱) صرحوا ان الطیب ان طبخ فی طعام سقط حکمہ والا فالحکم للغالب فان غلب الطیب وجب الدم وان لم تطھر رائحتہ کما فی الفتح والا فلاشیئ علیہ غیر انہ اذا وجدت معہ الرائحۃ کرہ [3] (۲)وان خلط بما یستعمل فی البدن کاشنان ونحوہ ففی ردالمحتار عن المسلك الملتقسط عن المنتقی ان کان اذانظر الیہ قالوا ھذا اشنان فعلیہ صدقۃ وان قالوا ھذا طیب علیہ دم[4] اھ ، ۔ (۳) وماقالوا فیما خلط بمشروب ان الحکم فیہ للطیب مطلقًا فان غلب وجب الدم والا فالصدقۃ الا ان یشرب مرارا فالدم فقد بحث فیہ فی البحر انہ ینبغی التسویۃ بین
زعفران ملے پانی میں ہوگا جس میں ا تنی تھوڑی مقدار میں زعفران ملا ہو جس سے پانی کا رنگ تو بدل گیا مگر وہ رنگنے کے قابل نہ ہو ، تو ایسا پانی خالص پانی شمار ہوگا ، اور علامہ سراج کا قول لانسلم الخ بھی درست رہے گا کہ ہم نہیں مانتے کہ زعفران والا پانی پینے سے قسم نہیں ٹوٹے گی اور یہ کہ مُحرِم پر فدیہ لازم آجائےگا۔ اس پانی کو استعمال کرنے کی وجہ سے اور وکیل بالشراء زعفران والا پانی خریدنے کا مجاز نہ ہوگا کیونکہ یہ مطلق پانی ہے اور معمولی تبدیلی کا عرفًا اور شرعًا کوئی اعتبار نہیں ہوتا۔ (ت)
میں کہتا ہوں ، اور اگر معمولی تغیر کا اعتبار ہو تو قسم اٹھانے والے کی قسم سیلاب کا گدلا پانی پینے سے نہ ٹوٹے گی اور وکیل بالشراء گدلا پانی خریدنے کا مجاز نہ ہوگا حالانکہ اس کے غلط ہونے پر آپ بخوبی واقف ہیں پھر یہ کہ علماء نے تصریح کی ہے کہ اگر خوشبو کو کھانے میں پکایا جائے تو خوشبو کا حکم ساقط ہوجاتا ہے ورنہ بغیر پکائے حکم غالب اجزا پر لگایا جائے گا ، جیسا کہ فتح القدیر میں ہے ، اگر خوشبو غالب ہوئی توقربانی دینا لازم ہوگا اگرچہ بُو ظاہر نہ ہو ، ورنہ اس پر کچھ بھی لازم نہیں آئےگا البتہ اگر مغلوب ہونے پر بھی بُو محسوس ہوتی ہو تو اس کھانے کا استعمال مکروہ ہے اگر اشنان جیسی بدن پر استعمال ہونے والی شے میں خوشبو ملی ہو تو ردالمحتار میں بحوالہ مسلك الملتقسط المنتقی سے منقول ہے کہ اگر لوگ اسے
المأکول والمشروب المخلوط کل منھما بطیب مغلوب اما عدم وجوب شیئ اصلا ای کما قالوا فی الطعام او وجوب الصدقۃ [5] ای کما قالوا فی الشراب ویؤید بحث البحر مافی التبیین (۱) لو اکل زعفرانا مخلوطا بطعام ولم تمسہ النار یلزمہ دم وان مستہ فلاشیئ علیہ وعلی ھذا التفصیل فی المشروب [6] اھ۔ وفی البحر عن مناسك الامام ابن امیر الحاج بحثا ان کان الطیب غالبا واکل منہ اوشرب کثیرا فعلیہ الکفارۃ والا فصدقۃ وان کان مغلوبا واکل منہ اوشرب کثیرا فصدقۃ والا فلاشیئ علیہ [7] اھ۔ فقد سویا بین المأکول والمشروب۔
[1] فتح القدیر الماء الذی یجوزبہ الوضوء نوریہ رضویہ سکھر ۱ / ۶۵
[2] بحرالرائق الماء الذی یجوزبہ الوضوء سعید کمپنی کراچی ۱ / ۶۸
[3] فتح القدیر باب الجنایات نوریہ رضویہ سکھر ۲ / ۴۴۱
[4] ردالمحتار باب الجنایات مصطفی البابی مصر ۲ / ۲۲۰
[5] ردالمحتار باب الجنایات مصطفی البابی مصر ۲ / ۲۱۹
[6] تبیین الحقائق باب الجنایات مطبعہ امیریہ بولاق مصر ۲ / ۵۳
[7] بحرالرائق باب الجنایات سعید کمپنی کراچی ۳ / ۶
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع