30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
فصل رابع ضوابط کلیہ: الحمدلله ہمارے بیانات سابقہ نے واضح کردیا کہ دونوں مذہب امامین مذہب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَادو۲ ضابطہ کلیہ ہیں :
اوّل ضابطہ یوسفیہ: کہ جب پانی کا سیلان زائل ہوجائے یا رقت نہ رہے اگرچہ بے کسی چیز کے ملنے یا اُس میں اس کا غیر کہ مقدار میں برابر یا پانی سے زائد ہو مل جائے یا دوسری شے سے مل کر ایك مرکب جداگانہ مقصد آخر کیلئے ہوجائے اگرچہ وہ دوسری شے پانی سے مقدار میں کتنی ہی کم ہو ان صورتوں میں پانی مقید ہوگیا اور قابلِ وضو نہ رہا ورنہ مطلقًا مائے مطلق ہے اگرچہ رنگ مزہ بُو سب بدل جائیں اور یہی صحیح ومعتمد اور یہی مفاد متون مستند ہے۔
دوم ضابطہ شیبانیہ: کہ اگر سیلان یا رقت نہ رہے تو مقید ہے اگرچہ بے خلط چیزسے ہو اور کسی چیز کے خلط سے مقصد دیگر کیلئے چیز دیگر ہوجائے تو مقید ہے اگرچہ مخلوط جامد ہو اور اگر یہ صورتیں نہیں اور مخلوط شے جامد ہے تو مطلقًا مائے مطلق ہے اگرچہ اوصاف بدل جائیں اور اگر مخلوط شے مائع ہے تو اوّلا رنگ دیکھیں گے اگر پانی پر اُس کا رنگ اس درجہ غالب آیا کہ ناظر کو اُس کے پانی ہونے میں اشتباہ پڑے مائع دیگر کا شبہ گزرے تو مقید ہوگیا اور اگر رنگ اتنا نہ بدلا تو مزے پر نظر ہوگی اگر مزہ اُس حدِّ التباس تك بدل گیا تو مقید ہے اور اگر رنگ ومزہ اس حد تك نہ بدلے تو بُو کا لحاظ نہیں صرف یہ دیکھیں گے کہ وہ دوسرا مائع اگر مقدار میں پانی سے زائد یا برابر ہے مقید ہوگیا ورنہ مطلق ہے۔
سوم ضابطہ برجندیہ: کہ پاك چیز جو پانی میں ملے اگر جنس ارض سے ہے جیسے مٹی ہرتال چُونا یا اُس سے زیادت نظافت مقصود ہوتی ہے جیسے صابون وغیرہ اگرچہ پکنے میں ملے ان دونوں صورتوں میں جب تك پانی اپنی رقّت پر باقی ہے وضو جائز ہے ورنہ نہیں اور اگر نہ جنس زمین سے ہے نہ اُس سے زیادت نظافت مقصود تو اس کا خلط اگر پکتے میں ہوا اور اُس سے پانی میں کچھ بھی تغیر آیا وضو جائز نہیں اگرچہ رقّت باقی رہے مگر ظہیریہ نے اس میں بھی اعتبار رقّت کیا اور اگر خلط بلاطبخ ہوا تو اس صورت میں امام محمد مطلقًا اعتبار رنگ فرماتے ہیں اور امام ابویوسف کے نزدیك اگر وہ بہتی ہوئی چیز ہے تو کثرت اجزا کا اعتبار ہے اگر پانی زیادہ ہے وضو جائز ورنہ نہیں اور غیر مائع میں وہی اعتبار رقت ہونا چاہئے کہ پانی اپنی رقت پر نہ رہے تو وضو ناجائز ورنہ جائز۔
قال رحمہ الله تعالٰی تفصیلہ ان الطاھر المخالط اما۱ من جنس الارض کالتراب والزرنیخ والنو رۃ اومن غیر جنس الارض وھو۲ اما ان لم یختلط بہ بالطبخ او۳اختلط بہ بالطبخ وحینئذ اما ان یقصد بہ النظافۃ کالاشنان اولا۴فھذہ اربعۃ اقسام ، وحکم الاقسام الثلثۃ الاول
(علامہ برجندی) رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِتعالٰی نے کہا کہ پانی میں پاك چیز ملنے کی تفصیل یوں ہے کہ وہ مٹّی ، ہڑتال ، چونا جیسی جنس زمین سے ہوگی یا غیر جنس زمین سے ، پھر خواہ وہ پانی میں پکانے سے نہ ملے یا پکانے سے مل گئی اور ملانے سے مقصود طہارت میں مبالغہ ہے جیسے اشنان یا نہیں تو یہ کل چار(۴) صورتیں ہوئیں ، پہلی تین صورتوں میں تو یہ حکم ہے کہ اگر پانی غالب ہو تو وضو
انہ ان غلب الماء جاز التوضی وان غلب ذلك المخالط لا ، ومعنی غلبۃ المخالط فی الاول والثالث ان تزول الرقۃ وفی الثانی ان یغلب لون المخالط علٰی لون الماء عند محمد والاجزاء علی الاجزاء عند ابی یوسف رحمہما الله تعالٰی واذا اعتبر غلبۃ الاجزاء ففی غیر المائعات ینبغی ان یکون بحیث یخرج الماء عن الرقۃ وفی روایۃ عن ابی یوسف فی ھذا القسم ان کان مما لایقصد بہ النظافۃ کالصابون فھو غیر طھور مطلقًا سواء غلبت الاجزاء اولا ھذا ھو المفھوم من الفتاوی الظھیریۃ وشروح الھدایۃ ، وذکر فی الھدایۃ انہ یعتبر فی الغلبۃ اولا اللون ثم الطعم ثم الاجزاء[1] ، واما حکم القسم الرابع فاشار الیہ بقولہ (اوغیرہ طبخا وھو ممالایقصد بہ النظافۃ) واطلاق التغیر وجعلہ قسیما للاخراج عن طبع الماء مما یتبادر منہ ان مطلق التغیر بالطبخ مانع سواء اخرجہ عن طبع الماء اولا ، وھذا ھو المفھوم من الھدایۃ ویؤیدہ مافی الخزانۃ وفتاوی قاضی خان انہ اذاطبخ فیہ الباقلی وریح الباقلی یوجد منہ لایجوز بہ التوضی ھذا وقد ذکر فی الفتاوی الظھیریۃ انہ اذاطبخ الحمص
جائز ہوگا ورنہ وضو جائز نہ ہوگا ، پہلی اور تیسری صورت میں ملنے والی شے کا غلبہ تب ہوگا جب پانی کا پتلا پن جاتا رہے اور دوسری صورت میں امام محمد کے ہاں جب ملنے والی شے کا رنگ پانی پر غالب آجائے غلبہ ہوگا ، اور امام ابویوسف کے ہاں جب اس کے اجزاء غالب ہوجائیں تو غلبہ ہوگا ، چونکہ امام ابویوسف غلبہ بالاجزاء کے قائل ہیں بنابریں غیر مائع اشےاء کا غلبہ پانی کے پتلے پن کے زوال سے ہونا چاہے۔ امام ابویوسف سے ایك اور روایت بھی ہے کہ اگر ملنے والی شے سے طہارت میں مبالغہ مقصود نہ ہو مثلًا صابن ، تو پانی وضو کے قابل مطلق نہ رہے گا چاہے اجزاء کا غلبہ ہو یا نہ ہو فتاوٰی ظہیریہ اور شرح ہدایہ کا مفہوم یہی ہے ، اور ہدایہ میں یہ مذکور ہے کہ اوّلًا رنگ پھر ذائقہ پھر اجزاء کے غلبہ کا اعتبار ہوگا۔ رہا چوتھی صورت کا حکم جس کی طرف برجندی نے “ یا غیر جنس الارض پکانے سے ملے جس سے مبالغہ طہارت مقصود نہ ہو “ کے الفاظ سے اشارہ کیا ہے۔ تغیر کو مطلق رکھنے اور پانی کے طبعی حالت سے اخراج کے مقابل ذکر کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ دوسری شے کے پانی میں پکنے سے آنے والی تبدیلی وضو سے مانع ہے چاہے پانی کو طبعی حالت سے نکالے یا نہ نکالے ، یہ ہدایہ سے مفہوم ہے ، جبکہ خزانہ سے اس کی تائید ہوتی ہے۔ اور فتاوٰی قاضی خان میں ہے کہ جب پانی میں لوبیا پکایا جائے اور اس کی بُو محسوس ہونے لگے تو اس سے
او الباقلی فی الماء و صار بحیث اذا برد ثخن لایجوز بہ التوضی وان لم یثخن ورقۃ الماء باقیۃ جاز [2] اھ۔ وسقناہ تماما وان تقدم اٰخرہ لجمع کلامہ فی محل واحد۔
وضو جائز نہ ہوگا ، فتاوٰی ظہیریہ میں ہے کہ چنے یا لوبیا پانی میں ابالے گئے اور ساکن ہونے پر پانی گاڑھا ہوگیا تو وضو جائز نہ ہوگا ، اور اگر پتلا پن برقرار رہا تو جائز ہوگا۔ یہاں تمام عبارات کو محض یکجا کرنے کی خاطر ذکر کردیا گیا ورنہ اس کا آخری حصہ تو پہلے بھی ذکر ہوچکا ہے۔ (ت)
اقول : اس کا خلاصہ یہ کہ امام ابویوسف کے نزدیك مطلقًا رقت آب پر مدار ہے مگر دو صورتوں میں ایك یہ کہ کوئی بہتی چیز بغیر طبخ پانی میں ملے کہ اس میں کثرت اجزاء پر لحاظ ہے دوسرے یہ کہ جس چیز سے زیادت نظافت نہ مطلوب ہو طبخ میں ملے اس میں مطلق تغیر مانع ہے اور امام محمد کے نزدیك مطلقًا اوصاف کا اعتبار ہے مگر دو صورتوں میں ، ایك یہ کہ ملنے والی چیز جنس زمین سے ہو دوسری یہ کہ اُس سے زیادت نظافت مطلوب ہو ان دونوں میں رقت پر نظر ہے ، ہماری تحقیقات وتنقیحات مذکورہ اور ائمہ کے نصوص وتصریحات مسطورہ پر نظر کرنے والا جانے گا جن جن وجوہ سے اس میں کلام ہے مثلًا
اوّل مذہب۱ امام ابویوسف میں مقصد آخر کیلئے شیئ دیگر ہوجانے کا ذکر باقی رہ گیا اس میں رقّت وکثرت اجزا کسی کا لحاظ نہیں۔
فان قلت الیس قال باعتبار الاجزاء علی قولہ وقد تقدم لك ان معناھا الثالث التھیؤ لمقصد اٰخر۔
اقول : لکن کلامہ بمعزل عنہ الاتری انہ خصھا فی الجامدات بانسلاب الرقۃ۔
اعتراض : کیا برجندی نے باعتبار الاجزاء کے الفاظ قد تقدم لك ان معناھا الثالث التھیؤ لمقصد اٰخر کے تحت نہیں کہے؟
جواب : برجندی کے کلام کا مقصد ہرگز وہ نہیں جو بیان کیا جارہا ہے کیونکہ اس نے اس صورت کو جامدات کے ملنے پر پانی کی رقت ختم ہوجانے کے ساتھ مخصوص قرار دیا ہے۔ (ت)
ثانی : یوہیں ۲ مذہب امام محمد میں اس کا ذکر نہ آیا حالانکہ وہ مجمع علیہ ہے جیسا کہ مسائل نبیذ و زعفران وغیرہا میں گزرا۔
ثالث۳ نمبر ۲۱۷ و بحث دوم ابحاث طبخ میں۳۱ کتابوں سے تصریح وتحقیق گزری کہ طبخ میں بھی رقت ہی مدار ہے مجرد تغیر وصف کا فی نہیں۔
رابع۱ وہیں گزرا کہ منظف وغیر منظف میں کیا فرق ہے۔
خامس۲ نیز یہ کہ صاحبین رَحِمَہُمُ اللہُ تَعَالٰیسے مذہب منقول میں دونوں کا ایك حکم ہے۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع