دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 3 | فتاوی رضویہ جلد ۳

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۳

مانصہ ھذا اذاخرج من نفس الفم وان خرج من الجوف فقد ذکرنا تفاصیلہ [1]  اھ ای ان کان علقا اعتبر ملء الفم والا نقض وان قل ، قال العلامۃ الشامی فی منحۃ الخالق الخارج من الجوف لایخالطہ البزاق الابعد وصولہ الی الفم لان                                                                       

حکم کی بنیاد ایسے اوصاف پر ہوسکتی ہے جن کی تبدیلی سے پانی کی ذات تبدیل نہ ہو لیکن پانی میں پاك چیز ملنے کی وجہ سے تغیر کا حکم اس کے خلاف ہے کیونکہ یہاں اوصاف کی تبدیلی سے مطلق پانی کی ذات قابل استعمال ہونے میں سالم رہتی ہے۔ اور وضو کے فساد میں بدن سے نجاست کا اپنی قوت سے بہنا معتبر ہوتا ہے اس کے بعد اس نجاست کا پاك چیز سے امتزاج قلیل مقدار میں ہو یا کثیر مقدار میں اس کا کوئی لحاظ نہیں ہوگا تو تھوك کی سرخی سے منہ سے

نکلنے والے خون کی کثرت اور قوت سے خارج کی دلیل ہوگی اور تھوك کی زردی خون کے قلیل اور مغلوب ہونے کی دلیل ہوگی۔

امام زیلعی نے فرمایا ہے کہ منہ سے نکلنے والے خون میں غلبہ کا اعتبار ہوگا اور خون اور تھوك مساوی ہوں تو بھی وضو فاسد ہوگا کیونکہ اس صورت میں تھوك اور خون مساوی قوت سے خارج ہوئے ہیں ، مغلوب کا معاملہ اس کے برخلاف ہے کیونکہ وہ غالب کے تابع ہوتا ہے اور غلبہ کا اعتبار رنگ سے کیا جائے گا الخ پھر انہوں نے اس کے بعد فرمایا اگر خون کی قے آئے تو معلوم کیا جائے کہ یہ خُون سر سے اترا ہے یا پیٹ سے اُبھرا ہے اگر سر سے نازل ہُوا ہو تو اس سے وضو فاسد ہوجائےگا خواہ وہ خون قلیل ہو یا کثیر ہو اس پر ہمارے اصحاب کا اجماع ہے

البزاق محلہ الفم لاالجوف وبھذا یظھر الفرق بین الخارج من القسم والخارج من الجوف فان الخارج من الفم انما کان سیلانہ بسبب البزاق وجعل غلبتہ علی البزاق دلیل سیلانہ بنفسہ بخلاف الخارج من الجوف فانہ لایصل الی الفم الا اذاکان سائلا بنفسہ فالفرق بینھما واضح [2] اھ  والمناط فی الصوم دخول شیئ من الخارج فی الجوف الاماتعذر التحرز عنہ ولذا (۱) عفی عن بلۃ تبقی بعد المضمضۃ (۲) وعن  قلیل اثر یبقی فی الفم من المأکول (۳) وما وجد طعمہ غیر قلیل کما حققہ فی الفتح قال لنا ان القلیل تابع لاسنانہ بمنزلۃ ریقہ فلایفسد کالریق وانما اعتبر تابعا لانہ لایمکن الامتناع عن بقاء اثر مامن المأکل حوالی الاسنان وان قل ثم یجری مع الریق النابع من محلہ الی الحلق فامتنع تعلیق الافطار بعینہ فیعلق بالکثیر ومن المشائخ من (۴) جعل الفاصل کون ذلك مما یحتاج فی ابتلاعہ الی الاستعانۃ بالریق اولا الاول قلیل والثانی کثیر وھو حسن لان المانع من الافطار بعد تحقق الوصول                               

اور اگر وہ پیٹ کا خون بستہ ہو تو پھر منہ بھر کر قَے ہونے پر وضو فاسد ہوگا یہی مختار مسلك ہے کیونکہ حقیقت میں وہ خون نہیں ہے بلالکہ وہ سوداء کا جلا ہوا مادہ ہے اور اگر وہ پیٹ سے اُبھرا ہوا خون رقیق ہو تو پھر قلیل قے سے بھی وضو فاسد ہوجائےگا کیونکہ وہ پیٹ میں کسی زخم کا خون ہے جو ایسے مرحلہ میں پہنچ گیا یعنی خارج ہوکر ایسی جگہ پہنچ گیا جس جگہ کو پاك رکھنے کا حکم ہے اھ۔ اس کے بعد انہوں نے کنز کے اس قول لابلغمًا اودما غلب علیہ البصاق (یعنی جب بلغم کی یا ایسے خون کی قے ہو جس پر تھوك غالب ہو تو وضو فاسد نہ ہوگا) کے تحت کہا یہ حکم جب ہے کہ وہ خون منہ کا ہو اور اور اگر وہ پیٹ کا ہو تو پھر اس کی تفصیل ہم بیان کرچکے ہیں اھ یعنی یہی کہ اگر خون بستہ ہو تو منہ بھر قے ہونے پر وضو فاسد ہوگا ورنہ نہیں اور اگر خون رقیق ہو تو پھر قلیل قے سے بھی وضو فاسد ہوگا ، علامہ شامی نے منحۃ الخالق میں فرمایا کہ پیٹ سے آنے والے خون میں تھوك کی ملاوٹ منہ میں ہوتی ہے کیونکہ تھوك کا مقام منہ ہے پیٹ نہیں ، اس سے منہ سے نکلنے والے خون اور پیٹ سے آنے والے خون کا فرق واضح ہوگیا کیونکہ منہ سے نکلنے والے خون کا سبب تھوك ہے اور تھوك پر اس کا غلبہ اس کے خود بہہ نکلنے کی دلیل ہے لیکن پیٹ سے

کونہ لایسھل الاحتراز عنہ وذلك فیما یجری بنفسہ مع الریق الی الجوف لاما یعتمد فی ادخالہ لانہ غیر مضطر[3]  فیہ  ، (۱) وفی  الکافی فی السمسمۃ ان مضغھا لایفسد الا ان یجد طعمہ فی حلقہ وھذا حسن جدا فلیکن الاصل فی کل قلیل مضغۃ [4] اھ۔ فتبین ان اعتبار اللون والطعم فی الوضو والصوم لیس من جھۃ اعتبار الغلبۃ بالاوصاف بل لان بھما ھھنا تحقق المناط وقد نصوا (۲) فی خمر قُبّلت ان کان الماء قلیلا اومساویا یحد اذاوصل الی جوفہ وان غلب الماء لاالا ان یسکر کما فی البزازیۃ [5] فاعبتروا الغلبۃ بالاجزاء والا فالخبیثۃ تغلب ضعفھا بل اضعافھا من الماء فی الاوصاف اما مسألۃ الرضاع فالمعتمد فیھا ایضا اعتبار الاجزاء باحد المعانی الثلثۃ کما ھو قول محمد دون الاوصاف کمابینتہ فیما علقتہ علی ردالمحتار علا ان المناط ھھنا شرب مایغذی وینبت اللحم و ینشز العظم فظن الامام الثانی ان الدواء اذا اذھب لونہ وطعمہ کسرقوتہ (۳)کالمخلوط                                      

آنے والے خون کا معاملہ اس کے خلاف ہے کیونکہ اس کا منہ تك آنا خود بہہ نکلنے کی دلیل ہے اس لئے کہ وہ بہہ کر یہاں پہنچا ، یوں فرق واضح ہوا اھ۔ اور روزہ فاسد ہونے کا معیار یہ ہے کہ خارج سے کسی ایسی چیز کا پیٹ میں داخل ہونا جس سے بچاؤ مشکل ہو تو وہ معاف ہے اسی وجہ سے کُلی کرنے کے بعد منہ میں باقی رہنے والی تری روزہ دار کو معاف ہے اور کوئی چیز کھانے کے بعد اگر اس کا قلیل اثر منہ میں باقی رہ جائے تو وہ بھی معاف ہے اور اگر کوئی ذائقہ والی چیز ہو تو وہ قلیل نہ ہوگی اس سے روزہ فاسد ہوگا۔ اس کی تحقیق فتح القدیر میں ہے ، انہوں نے فرمایا ہماری دلیل یہ کہ قلیل چیز دانتوں کے تابع ہو کر تھوك کی طرح ہوجائے گی لہٰذا اس سے روزہ فاسد نہ ہوگا اس کو دانتوں کے تابع اس لئے قرار دیا ہے کہ کھائی ہوئی چیز کے اس اثر سے جو دانتوں کے اردگرد باقی ہوتا ہے سے بچنا مشکل ہوتا ہے کیونکہ وہ لعاب کے ساتھ مل کر حلق میں منتقل ہوجاتا ہے اس لئے روزہ کے فساد کا تعلق اس قلیل اثر سے نہ ہوگا بلالکہ کثیر اثر سے ہوگا ، روزہ کے لئے مفسد اور غیر مفسد اثر کے بارے میں مشائخ میں سے بعض نے

بالطعام والله تعالٰی اعلم فانکشف الحجاب-وزھر الصواب-والحمدلله الکریم الوھاب- وصلی الله تعالٰی علی السید الاواب-واٰلہ وصحبہ خیر اٰل واصحاب الٰی یوم الحساب- اٰمین۔

یہ فرق بیان فرمایا ہے کہ اگر وہ اثر ایسا ہو جس کو حلق سے اتارنے کیلئے لعاب کی مدد ضروری ہو تو وہ قلیل اور غیر مفسد ہے اور اگر لعاب کے بغیر اس کو حلق سے اتارا جاسکے تو کثیر اور مفسد ہے ، یہ فرق خوب ہے کیونکہ حلق تك وصول کے باوجود روزے کا فاسد نہ ہونا اس بنا پر ہے کہ اس سے بچنا مشکل ہے کیونکہ لعاب سے مل کر خودبخود وہ اثر حلق سے بغیر قصد اترجاتا ہے اور جو اثر قصدًا اتارنا پڑا وہ معاف نہیں ہے کیونکہ اس میں کوئی مجبوری نہیں ہے ، اور کافی میں ہے کہ اگر تِل کا دانہ چبایا تو روزہ فاسد نہ ہوگا لیکن اگر اس کا ذائقہ حلق میں پایا جائے تو فاسد ہوگا۔ یہ فرق بہت خوب ہے اھ۔ اس بحث سے یہ واضح ہوا کہ روزہ اور وضو کے فساد میں رنگ اور ذائقہ کا اعتبار غلبہ کی وجہ سے نہیں لکہ اس لئے کہ ان دونوں وصفوں کی وجہ ان کے فساد کا معیار پایا جاتا ہے ، یہی وجہ ہے کہ فقہاء نے شراب کے بارے میں یہ فرمایا ہے کہ شراب میں پانی قلیل یا مساوی ہو تو پینے والے کو حد لگے گی بشرطیکہ یہ شراب اس کے حلق سے نیچے اتر گئی اور اس میں پانی کثیر اور زیادہ تھا توحد نافذ نہ ہوگی بشرطیکہ نشہ نہ ہوا ہو ، اس کو بزازیہ میں ذکر کیا ہے ، یہاں فقہاء نے اجزاء کے لحاظ سے غلبہ کا اعتبار کیا ہے ، ورنہ خبیث شراب تو اپنے سے کئی گنا زیادہ پانی میں مل کر بھی اوصاف میں غالب رہتی ہے لیکن رضاع کے مسئلہ میں بھی اجزاء کے لحاظ سے غلبہ کا اعتبار ہوتا ہے خواہ وہ غلبہ اپنے تین معانی میں سے کسی معنیٰ میں پایا جائے ، یہاں اوصاف کے لحاظ سے غلبہ کا اعتبار نہیں ہے یہ امام محمد کا قول ہے جیسا کہ میں نے اس کو ردالمحتار کی تعلیقات میں ذکر کیا ہے اس کے علاوہ یہاں رضاع میں حکم کا معیار ، غذا ، گوشت پیدا کرنا اور ہڈی بنانے والی چیز کو پینا ہے تو دوسرے امام (امام ابویوسف) نے یہ گمان فرمایا کہ جب دوا عورت کے دُودھ میں مل کر اس کے رنگ اور ذائقہ کو ختم کردے گی تو وہ دودھ کی قوت کو بھی ختم کردے گی جیسے طعام میں مل کر دُودھ کی قوت ختم ہوجاتی ہے والله  تعالٰی اعلم ، حجاب اُٹھ گیا ، درستی کھل گئی ، الحمدلله والصلوٰۃ علٰی رسول الله  وآلہٖ وصحبہ اجمعین ،  آمین۔ (ت)

 



[1]   تبیین الحقائق  نواقض الوضوء  مطبعہ امیریہ بولاق مصر ۱ / ۹

[2]   منحۃ الخالق علی حاشےۃ البحرالرائق ، نواقض الوضوء ، ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ، ۱ / ۳۶

[3]   فتح القدیر باب مایوجب القضاء والکفارۃ  نوریہ رضویہ سکھر ۲ / ۲۵۸

[4]   فتح القدیر باب مایوجب القضاء والکفارۃ  نوریہ رضویہ سکھر ۲ / ۲۵۹

[5]   فتاوٰی بزازیۃ علی حاشےۃ الفتاوٰی الہندیۃ کتاب الاشربہ نورانی کتب خانہ پشاور  ۶ / ۱۲۵

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن