دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 3 | فتاوی رضویہ جلد ۳

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۳

لونہ وطعمہ لایرتاب المستعمل فی کونہ ماء بمجرد تغیر فی ریحہ فانکان فیہ امتزاج غیرہ مساویا اوغالبا لایقف علیہ المستعمل الا بالاخبار من خارج وحینئذ یعرف انہ لیس بماء فالمائیۃ لم یتوقف ادراکھا علی الخارج بل عدمھا ،  ومعلوم ان ھذا الارتیاب والالتباس انما یکون بالمائع فالماء مھما اخذ لون جامد اوطعمہ لایلتبس بہ وانما یتوقف فیہ انسلاب                               

امام محمدرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُگویا یوں فرماتے ہیں کہ رفع حدث کیلئے شرعًا مطلق پانی کا استعمال ضروری ہے ، اور مطلق پانی وہ ہے جو پانی کا لفظ بولنے پر ذہن میں آئے ، اور اس میں شك نہیں کہ یہ ایك ایسی حقیقت ہے جو مشہور ومعروف اور ہر ایك کو معلوم ہے اس کو جاننے کیلئے کسی کو غیر سے سمجھنے کی ضرورت پیش نہیں آتی کہ وہ یہ بتائے کہ پانی یہ ہے۔ لہٰذا مطلق پانی سے مراد یہی عام فہم حقیقت ہے۔ لہٰذا جب کسی دوسری بہنے والی چیز کا رنگ پانی میں ظاہر ہوتا ہے تو دیکھنے والے کو ضرور تردّد ہوتا ہے کہ کیا یہ پانی ہے یا کیا ہے تو جب کوئی دوسرا باخبر شخص بتائے تو اس کا تردّد ہوتا ہے ورنہ نہیں ، پانی میں سب سے پہلے رنگ کا علم ہوتا ہے اور اگر رنگ پانی پر غالب نہ ہو تو پھر جب کُلی کرنے کیلئے پانی منہ میں ڈالا جائے تو اس وقت دوسری مائع چیز کا ذائقہ محسوس ہونے لگتا ہے پھر اس کو تردّد ہوتا ہے جو کہ دیکھنے پر رنگت کی تبدیلی سے نہ ہوا تھا ، پس یہ رنگ کی وجہ سے تردّد اور ذائقہ کی وجہ سے تردّد والا پانی ، مطلق پانی سے خارج ہوگا ، جہاں تك بُو کا تعلق ہے تو وہ قُرب وجوار میں پڑی ہوئی چیز کی خوشبو کا اثر ہوسکتا ہے ضروری نہیں کہ پانی میں مخلوط کسی چیز کی وجہ سے بُو آرہی ہو ، رنگ اور ذائقہ اگر درست ہو تو استعمال کرنے والے کو کوئی تردّد پیدا نہیں ہوتا کہ یہ خالص پانی ہے ، پس اگر پانی میں ریح کے بغیر کسی دوسری شیئ کی ملاوٹ ہو برابر یا غالب طور پر ہو تو استعمال کرنے والے کو تردد ہوگا مگر جب اسے کوئی خارج سے خبر دے

اسم الماء علی تھیؤہ لمقصد آخر فمن ھھنا حصل الفرق بین الجامد و المائع و ظھر مذھب محمد باجزائہ الاربعۃ

وبعبارۃ اخری اجمعنا ان ماصار شےا اٰخر لمقصد اٰخر لاتجوز بہ الطھارۃ وان لم تزل رقتہ ولابلغ الممازج الماء قدرا فاذن لیس الا لتغیر فی اوصافہ اذلوسلمت مع بقاء الطبع وغلبۃ القدر استحال ان یسلب عنہ اسم الماء من دون موجب فعلم ان التغیر فی الاوصاف ھھنا مقدم علی زوال الطبع ومغلوبیۃ القدر ،  ثُمَّ  ثَمَّ شےاٰن زوال اسم الماء وتجدد اسم اٰخر وھذا یتوقف علی تھیؤہ لمقصد اٰخر والمنع منوط بالاول وان لم یوجد الاٰخر لان الشرع المطھر انما امر بالماء فاذا انسلب عنہ اسم الماء خرج المامور بہ وان لم یدخل فی مقصد اٰخر غیر ان الجامد یتبع فیہ الاول الاٰخر فلاینسلب اسم الماء بہ مالم یتھیاۃ لمقصد اٰخر کما تری فی السیل وماء القی فیہ قلیل سکر اونقع فیہ حمص اوتمر بخلاف المائع فانہ

 تو اس وقت وہ جانے گا یہ پانی نہیں ہے تو معلوم ہوا کہ نفیس پانی کا ادراك کسی خارجی امداد کے بغیر ہوتا ہے اور یہ بات بھی واضح کہ پانی میں تردّد پیدا کرنے میں کسی مائع چیز کا دخل ہوتا ہے اس کے برخلاف کسی جامد چیز کے ملنے سے پانی کے رنگ یا ذائقہ کی تبدیلی کی وجہ سے استعمال کرنے والے کو اس وقت تك تردّد نہیں ہوتا جب تك کسی دوسرے مقصد کیلئے تیاری سے پانی کے نام کو تبدیل نہ قرار دیا جائے۔ اس بات سے پانی میں جامد چیز اور مائع کے ملنے کا فرق واضح ہوجاتا ہے ، اور یوں امام محمد کے مذہب کے چاروں اجزاء واضح ہوئے۔ (ت)اور امام محمد کے مسلك کی ایك دوسرے انداز سے تقریر ، یہ ہے کہ ہم سب کا اس بات پر اجماع ہے کہ پانی میں مخلوط چیز کے سبب کوئی اور مقصد مطلوب ہو اور کوئی اور چیز بن گئی ہو تو اگرچہ اس صورت میں پانی کی رقت باقی ہو اور پانی کی مقدار بھی ملی ہوئی چیز سے زیادہ ہو تو پھر بھی اس سے وضو جائز نہیں ہے اس کی وجہ صرف پانی کے اوصاف کی تبدیلی ہوسکتی ہے کیونکہ پانی کی رقت باقی اور اس کی مقدار غالب ہونے پر اوصاف میں بھی تبدیلی نہ ہو تو اس کو پانی نہ کہنا اور اس کو کوئی دوسرا نام دینا محال ہوگا۔ اس حقیقت کے اعتراف پر یہ کہ امر واضح ہوگیا کہ اس صورت میں پانی کی طبع کے زوال (رقت کے ختم ہونے) اور پانی کی مقدار کے مغلوب ہونے سے قبل اس کے اوصاف کی تبدیلی ہوگی۔

 پھر یہاں دو۲ اور چیزیں ہیں ، ایك پانی کے اطلاق کا نہ ہونا ، دوسرا نئے نام سے موسوم ہونا ، پانی کو نئے نام سے تب موسوم کیا جاتا ہے جب اس کو کسی دوسرے مقصد کیلئے تیار کیا گیا ہو ، لیکن طہارت کی ممانعت کا تعلق

اذاغلب علی اوصاف الماء اشتبہ الماء بہ فلم یبق مما یتبادر الیہ الفھم باطلاق لفظ الماء فقدزال الاسم وان لم یتجدد لہ اسم اٰخرلان بالارتیاب والالتباس لا ھذا الاسم یبقی ولاغیرہ یثبت وھذا ھو المعنی عندی بزوال الاسم المذکورھنا فی کلام الامام ملك العلماء الماشے علی قول محمد بخلاف المعتبر فی الجامد فانہ الذی یعقبہ حدوث اسم اٰخر کما تقدم تحقیقہ وبالله التوفیق ولہ الحمد۔

وبہ انکشف مایترا اٰی ورودہ من ان ھذا یوجب اعتبار الاوصاف فی الجامدات ایضا وان لم یحصل التھیؤ لمقصد اٰخر ولانعنی القلیل حتی تقولوا ان القلیل مغلوب والمغلوب ھدر اجماعا بل الحد الذی یعتبر فیما یجعلہ شیئا                

پہلی صورت یعنی پانی کے اطلاق کے زوال سے ہے اگرچہ وہاں دوسرا نام نہ بھی دیا گیا ہو ، اس کی وجہ یہ ہے کہ شریعت مطہرہ نے طہارت کیلئے پانی کے استعمال کا حکم دیا ہے اور جس چیز پر پانی کا نام اور اطلاق نہ رہا تو وہ مامور بہ (پانی) سے خارج ہوگی خواہ کسی دوسرے مقصد کیلئے ہو یا نہ ہو اور اس کو نئے نام سے موسوم کیا گیا ہو یا نہ کیا گیا ہو ، لیکن جامد چیز کے مخلوط ہونے پر یہ ضروری ہے کہ پہلی صورت (پانی کے اطلاق کی نفی) کے بعد دوسری صورت (نئے مقصد کیلئے تیاری کی وجہ سے نیا نام) کو ضرور لاحق ہوگی ، جیسا کہ آپ سیلابی پانی ، معمولی اور قلیل شکّر والا پانی ، جس پانی میں چنے ڈالے ہوں یا جس پانی میں کھجور ڈال دی گئی ہو ، کو دیکھ سکتے ہیں (کہ ان صورتوں میں نہ صرف یہ کہ پانی کا اطلاق باقی ہے بلالکہ نئے مقصد کے لئے نیا نام بھی نہیں دیا گیا ، لہٰذا اس سے وضو جائز ہے)اس کے برخلاف وہ پانی جس میں کوئی مائع چیز ملائی گئی ہو تو اگر پانی کے اوصاف اس سے تبدیل ہوجائیں تو اس کو پانی کہنے اور اس پر پانی کا اطلاق کرنے میں تردّد پیدا ہوتا ہے اور اس کا پانی ہونا ذہن میں نہیں آتا ، تو نام اور اطلاق پانی کیلئے نہ رہا ، لیکن نیا نام بھی اس کو نہ دیا گیا ، کیونکہ تردّد کی وجہ سے پہلا نام ختم ہوگیا اور نیا نام ثابت نہ ہوسکا ، میرے نزدیك امام ملك العلماء کے کلام میں زوال اسم ماء سے یہی مراد ہے جہاں انہوں نے امام محمد کے قول کو بیان کرتے ہوئے کہا ہے۔ جامد چیز میں اس کے برخلاف طہارت ممنوع ہوگی جبکہ اس کو نیا نام دیا گیا ہو جیسا کہ پہلے تحقیق ہوچکی ہے ، الله  تعالٰی سے توفیق اور اسی کیلئے حمد ہے۔ (ت)

اس تحقیق سے اس اعتراض کی حقیقت بھی منکشف ہوگئی جس میں یہ کہا گیا تھا کہ مائع کی طرح جامد میں بھی اوصاف کی تبدیلی کا اعتبار کیا جاتا ہے اگرچہ جامد کو پانی میں ملا کر کسی دوسرے مقصد کیلئے تیار نہ کیا گیا ہو ، یہ شُبہ اس لئے ختم ہوجاتا ہے کہ بالاجماع ہم جامد کی وہ قلیل مدار مراد نہیں لے رہے

اذاصار لمقصود اٰخر فاذا بلغ التغیر ذلك الحدلم لاینسلب اسم الماء وان لم یتجدد اسم اٰخر لعدم التھیؤ المذکور ، وذلك کماء الزردج فانہ یطرح ولایصبغ بہ فلا یصیر لمقصود اٰخر بخلاف ماء الزعفران لکن اذا کان ماء الزردج بحیث یصلح للصبغ لوکان یصبغ بہ فقد تغیر وای فرق بین المائین اذا بلغا ھذا الحد فی تغیر الماء وکون ھذا یقصد للصبغ لاذاك شیئ اٰخر واراء التغیر فالماء مغلوب فیھما علی السواء وعلیہ تدور رحی المنع وعلیك بتلطیف القریحۃ فان الانسلاب بالتجدد اوالارتیاب لاغیر۔

وبہ ظھر الجواب عن قولھم المار فی البحث الاول من ابحاث غلبۃ الغیر عن العنایۃ ومجمع الانھر ان الغلبۃ بالاجزاء غلبۃ حقیقیۃ اذوجود المرکب باجزائہ فکان اعتبارہ اولی بخلاف الغلبۃ باللون فانھا راجعۃ الی الوصف

جو صرف مغلوب ہو کر کالعدم ہوجائے بلالکہ پانی میں شامل ہونے والے جامد کی اتنی مقدار مراد ہے جو کسی دوسرے مقصد کیلئے پانی کو دوسری چیز بنانے کیلئے معتبر ہوسکے تو جب جامد کی وجہ سے پانی میں اس حد تك تغیر پیدا ہوجائے تو لازمی طور پر وہاں پانی کا نام سلب ہوجائے گا خواہ نئے مقصد کیلئے نیا نام اس کو نہ بھی دیا گیا ہو ، اس کی مثال زردج (زردہ) والا پانی ہوسکتا ہے کہ جب پانی میں اتنا زردہ ڈالا جائے جس سے کسی چیز کو رنگ نہ دیا جاسکے تو اس صورت میں وہاں دوسرا مقصد تو حاصل نہیں مگر اس کو پانی نہیں کہا جاتا ، اس کے برخلاف زعفران والا پانی ہے لیکن جب زردہ کی اتنی مقدار ہو جس سے کسی چیز کو رنگا جاسکتا ہو ، تو یہ بھی ایك تغیر ہے جو دوسرے مقصد کیلئے تیار کیا گیا ہے ، مگر دونوں صورتوں میں اس حد کا تغیر ہے کہ وہاں پانی کا نام سلب ہوجاتا ہے فرق صرف یہ ہے پہلے میں نئے مقصد کیلئے نیا نام نہیں ہے جبکہ دوسری صورت میں نئے مقصد کیلئے نیا نام ہے ، جب دونوں صورتوں میں پانی مغلوب ہوکر اپنا نام کھوبیٹھا ہے تو ان دونوں صورتوں میں اس سے وضو ناجائز ہوگا کیونکہ وضو کے منع ہونے کیلئے پانی کا مغلوب ہوجانا ہی معیار ہے۔ آپ غور کریں تو معلوم ہوگا کہ پانی سے اس کے نام کو سلب کرنے والے دو سبب ہیں ایك نئے مقصد کیلئے تیار ہونا اور دوسرا اس کے پانی ہونے میں تردّد پایا جانا۔ (ت)گزشتہ تحقیق سے علماء کے اس قول کا بھی جواب واضح ہوگیا جس کو انہوں نے غیر چیز کے غلبہ کی پہلی بحث میں عنایہ اور مجمع الانہر سے نقل کیا ہے کہ حقیقی غلبہ اجزاء کی وجہ سے ہوتا ہے کیونکہ مرکب چیز کا وجود اجزاء کی وجہ سے ہوتا ہے لہٰذا اجزاء کے غلبہ کا

کیف وقد اجمعنا ونص الحدیث علی اعتبار الغلبۃ بالاوصاف فی کثیر یخالطہ نجس ،  

 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن