دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 3 | فتاوی رضویہ جلد ۳

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۳

الامام ابا الحسن قید باحد فاخذ مفھومہ فدل علی عبرۃ الاوصاف فظن انہ اختار قول محمد وقد نص ان تغیر واحد لایضر فحسب ان ھذا المفھوم من منطوقہ والمفھوم ھو مذھب محمد ولیس کذلك ولاھو مقصود القدوری کماعلمت ،  ثم قدعلمت ان الجمہورقدنفعوا الاعتبار بالرائحۃ فذکرھا فی الخانیۃ لایکون من زیادۃ ثقۃ بل مخالفۃ ثقۃ السائر الثقات فیکون شذو ذاینا فی الصحۃ

وستعلم بعون الله تعالٰی ان محمدا لم لم یعتبر الریح ثم اقتصارالاولین علی اللون لاینافی اعتبار غیرہ فان التنصیص علی شیئ لاینفی ماعداہ لاسیما واللون ھو الملحوظ اولا فان لم یکن فغیرہ وکذلك التردید فی اللون والطعم عدم تنصیص

ایك شذوذ ہے عنقریب آپ کو بعون الله  یہ معلوم ہوجائے گا کہ امام محمد نے بُو کا اعتبار کیوں نہیں کیا ، پھر یہ کہ پہلے حضرات کا صرف رنگ کو ذکر کرنا باقی اوصاف کی نفی نہیں ہے کیونکہ ایك چیز کا ذکر دوسری چیز کی نفی نہیں کرتا خصوصًا جبکہ اوصاف میں سے رنگ کا اعتبار پہلے کیا جاتا ہو کہ اگر رنگ تبدیل نہ ہو پھر دوسرے اوصاف کی تبدیلی کا لحاظ کیا جائے گا یوں ہی رنگ اور ذائقہ میں سے کسی ایك کا بیان اگرچہ یہ ترتیب پر نص نہیں ہے لیکن یہ عدمِ ترتیب پر بھی نص نہیں ہے اس لئے ان دونوں کی ترتیب جس کو ایك جِم غفیر نے ذکر کیا ہے قبول کرنا ضروری ہے ، رہی یہ بحث کہ (پانی میں ملنے والی چیز جس سے اوصاف تبدیل ہوتے ہیں) اس غلبہ کا حکم جامد چیز کو بھی شامل ہے جیسا کہ امام اسبیجابی کے اطلاق اور اس کی مثال میں زعفران کے ذکر سے ظاہر ہوتا ہے یا یہ حکم صرف مائع چیز کو ہی خاص ہے جیسا کہ امام ملك العلماء کی نص سے ظاہر ہے ۔

میری رائے میں دونوں احتمالات کی تائید میں دلائل ہیں ، جامد اور مائع دونوں کا حکم میں شامل ہونا پس اس پر میں کہتا ہوں ، اوّلًا ، اس لئے کہ اس بحث کی ابتدا میں فتح اور حلیہ کی الاجناس سے نقل کردہ روایت گزر چکی ہے جس میں ریحان اور اشنان کے پکے ہوئے پانی میں ان کے رنگوں کے اعتبار کے بارے میں محمد کی نص کو بیان کیا گیا ہے حالانکہ وہ دونوں صرف جامد چیزیں ہیں۔ ثانیا اس لئے نمبر ۱۲۲ میں تجنیس کے حوالہ سے حلیہ اور فتح کی روایت گزر چکی ہے کہ جرجانی کا زاج اور عفص (گھاس) میں نقش کی صلاحیت کا اعتبار کرنا یہ اجزاء کے لحاظ سے غلبہ کے اعتبار پر تفریع ہے ، یہاں قابلِ فہم یہ بات ہے کہ ان میں اوصاف کے اعتبار

علی الترتیب بینھما لاتنصیص علی عدم الترتیب فروایۃ الجم الغفیر بالترتیب زیادۃ ثقات واجبۃ القبول بقی النظر فی ان الحکم ھل یشمل الجامد کما ھو مقتضی اطلاق الامام الاسبیجابی وتمثیلہ بالزعفران ام یختص بالماء کما ھو نص الامام ملك العلماء ۔ واری لکل منھما مؤیدات اما الشمول

فاقول اولا :  تقدم فی صدر ھذا البحث عن الفتح والحلیۃ عن الاجناس عن نص محمد اعتبار الالوان فی طبیخ الریحان والاشنان وماھما الا من الجامدات وثانیا :  مرفی ١٢٢ عن الحلیۃ والفتح عن التجنیس ان اعتبار الجرجانی فی الزاج والعفص صلوح النقش تفریع علی اعتبار الغلبۃ بالاجزاء فافھم ان علی اعتبارھا بالاوصاف یتقید بمجرد التلون وان لم یصلح النقش وثالثا :  خص البدائع بالمائع ثم ذکران قیاسہ عدم الجواز نبیذ التمر لغلبۃ طعمہ فاعتبرہ فی الجامد و رابعا کذلك اجاب من قبل ابی طاھر فی مطبوخہ واحتج بغلبۃ اللون والطعم وقد عبّرھھنا ایضا فی کلامی الکرخی والدباس بالمائع مع ان الکلام فی الجامد۔

اقول : ویظھرلی والله تعالی اعلم ان تغیرالطعم اواللون انمایکون بالامتزاج ولا یمتزج الجامدبالمائع الاان ینماع شیئ منہ فتسری الاجزاء فی الاجزاء الا تری ان السکر اذاخلط بالماء لایبقی منہ ممتازاعنہ الا شیئ قلیل وکذلك الاصباغ ولو وضعت حجرا اسوداحمراخضراصفر فی الماء لایتلون الماء بلونہ فظھران الامتزاج لایحصل فی مائع الا لمائع وان کان اصلہ جامدا فلعل ھذا ھو سرالتعبیر بالمائع مع الکلام فی الجامدا تقنہ فانہ ان شاء الله تعالٰی بحث نفیس۔

واما الخصوص فاقول اولا اجمعت الامۃ المرحومۃ واجماعھا حجۃمعصومۃعلی جواز الوضو بماء السیل مع العلم القطعی بتغیر لونہ بل ربما یتغیر الطعم والریح ایضا فثبت ان مجرد تغیر الاوصاف    

کا تعلق صرف رنگ دار ہونے پر ہے نقش کی صلاحیت کا اس میں دخل نہیں ہے۔ ثالثًا ، اس لئے کہ بدائع نے اس حکم کو مائع چیز کے ساتھ خاص کرنے کے بعد ذکر کیا کہ اس قاعدہ کے مطابق نبیذِتمر سے وضو جائز نہیں ہوگا کیونکہ اس کے ذائقہ کا غلبہ ہوتا ہے جبکہ یہ ذائقہ والی چیز تمر (کھجور) ہے جو کہ جامد ہے۔ رابعًا ، یوں ہی بدائع نے ابوطاہر کی طرف سے پکے ہوئے نبیذ کے بارے میں جواب دیا اور یہاں بھی انہوں نے رنگ اور ذائقہ کے لحاظ سے غلبہ کو دلیل بنایا ہے یہاں بھی امام کرخی اور دباس کے کلام میں اس کو مائع سے تعبیر کیا گیا ہے حالانکہ بات جامد میں ہورہی ہے۔ ت)

میں کہتا ہوں کہ جامد کو مائع سے تعبیر کرنے کی وجہ یہ ہوسکتی ہے کہ ذائقہ اور رنگ کی تبدیلی امتزاج کے بعد پائی جاتی ہے جبکہ جامد چیز کا مائع (بہنے والی) چیز کے ساتھ امتزاج نہیں ہوسکتا تاوقتیکہ جامد چیز میں بہاؤ پیدا نہ ہو جس کی وجہ سے ایك کے اجزاء دوسرے کے اجزاء میں گرتے ہیں ، مثلًا شکر جب پانی میں ملائی جائے تواس کا امتزاج ختم ہوجاتاہے صرف کچھ معمولی اجزاء جدا رہتے ہیں ، اسی طرح رنگ کامادہ بھی پانی میں گھُل جاتا ہے لیکن اگر آپ کالا ، سرخ ، سبز اور زرد پتھر پانی میں رکھ دیں تو اس کی رنگت میں پانی متاثر نہ ہوگا تو واضح ہوگیاکہ امتزاج کیلئے مائع کامائع سے ملنا ضروری ہوتا ہے اگرچہ وہ اصلًا جامد ہی ہو ، ہوسکتاہے کہ جامد میں گفتگو کے دوران اس کو مائع سے تعبیر کرنے کی وجہ یہی راز ہو ، اس کو یاد رکھیں یہ نفیس بحث ہے اِن شاء الله  تعالٰی۔ (ت)اور اوصاف کی تبدیلی میں صرف مائع چیز کو خاص کرنے کی وجہ ، پس میں کہتا ہوں ، اوّلًا اس لئے کہ اس اُمت کا اس بات پر اجماع ہے جبکہ یہ اجماعِ اُمت خطا سے محفوظ ہے کہ سیلابی پانی سے وضو جائز ہے حالانکہ یہ قطعی طور پر معلوم ہےکہ

بالجامد لایفید التقییدبالاجماع ،

 وثانیا : ھذا اجماع ائمتنارضی الله تعالٰی عنھم ومنھم محمد ان التمراوالزبیب اوالتین مثلا اذا نقع فی الماء فانتقلت حلاوۃ منھا الیہ فحلا لم یبلغ الی ان یصیر نبیذا فانہ لایتقید ویجوز الوضو بہ اجماعا فمحمد لم یعتبر فیہ الطعم وقال بالجواز مع الاعتراف بتغیرہ بل وتغیر اللون والریح ایضا فمن المعلوم المشھودان اللون اسبق تغیرابھا من الطعم واذاتغیر یوجد لھاریح ایضا قطعا فقد تغیرت الاوصاف الثلثۃ بالجامدات ولم یضر بالاجماع مالم یغلب اجزاء بالمعنی الثالث اعنی صیرورتہ شیئا اٰخرلمقصد اٰخر وھذا ھو الفارق بین النبیذ والسیل فانہ لم یصرشیئا  اخر ولازال عنہ اسم الماء وھذا ھو مذھب ابی یوسف فعلم ان مذھبہ مجمع علیہ فی الجامد وانما الخلف فی المائع۔

اقول :  وبہ خرج الجواب عن الشاھدین الاخیرین فان الکلام فیھمافی الانبذۃ فالمرادتغیر الطعم الی حدیزیل عنہ اسم الماء ویجعلہ نبیذا

اس کا رنگ بلالکہ ذائقہ اور بُو تبدیل ہوئے ہوتے ہیں ، تومعلوم ہوا کہ جامد چیز کے ملنے سے صرف اوصاف کی تبدیلی کی بنا پر پانی کو مقید قرار نہیں دیاجاسکتا بالاجماع۔

 ثانیًا اس لئے کہ کھجور ، خشك انگور (میوہ) اور خشك انجیر کو پانی میں ڈالنے پر ان کی مٹھاس پانی میں منتقل ہوجائے اور ابھی نبیذ کی حد تك یہ تبدیلی پیدا نہ ہو تو اس شربت سے وضو کے جائز ہونے پر ہمارے تمام ائمہ کرام جن میں امام محمد بھی شامل ہیں کااجماع ہے(تو یہاں امام محمد نے تینوں اوصاف تبدیل ہوجانے کے باوجود ان کی تبدیلی کا لحاظ نہیں کیا) اور وضو کو جائز قرار دیاہے اجتماعی طور پر۔ پس امام محمد نے نبیذ میں طعم کا اعتبار نہیں کیا اور تغیر طعم کے باوجود جواز کا قول کیا ہے بلکہ تغیر لون اور ریح سے بھی جواز کا قول کیا ہے۔ اور یہ بات معلوم ہے کہ ان چیزوں کا رنگ ذائقہ سے جلد اثر انداز ہوتا ہے اور جب ذائقہ متغیر ہوگا تو بُو بھی پائی جائے گی ، تو معلوم ہُواکہ جامد سے تینوں وصف تبدیل ہونے کے باوجود اس شربت سے بالاتفاق وضو جائز ہے بشرطیکہ غلبہ اجزاء کا تیسرا معنی نہ پایا جائے یعنی کسی دوسرے مقصد کیلئے نئی چیز بن جانا ، نہ پایا جائے۔ نبیذ اور سیلاب میں یہی فرق ہے پس سیلاب کی طرح اس شربت نے پانی کا نام تبدیل نہیں کیا اور نہ ہی کوئی دوسری چیز بنا ہے جبکہ جامد چیز کے بارے میں امام ابویوسف کے مذہب کے موافق سب کا اتفاق ہے اختلاف صرف مائع چیز میں ہے۔

میں کہتا ہوں اس بحث سے زبیب اور تین کی نبیذوں کے متعلق جواب معلوم ہوگیا کہ جب ان کا نبیذ بن جائے تو ذائقہ تبدیل ہو کر وہ اپنا نیا نام لے لیتا ہے جس کے مقید ہونے میں کوئی اختلاف

ولانزاع فیہ۔

 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن