دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 3 | فتاوی رضویہ جلد ۳

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۳

امام کرخی اس سے وضو جائز کہتے ہیں اور ابوطاہر کے قول پر ناجائز ہے۔ امام کرخی کے قول کی وجہ یہ ہے کہ نبیذ کا نام کچّے اور پکّے دونوں پر بولا جاتا ہے لہٰذا یہ دونوں صورتیں نص (حدیث) کے حکم میں داخل ہیں ، کیونکہ جب مطلق پانی میں کوئی پاك چیز بہنے والی مل جائے تو ہمارے اصحاب کے ہاں بلااختلاف اس سے وضو جائز ہے بشرطیکہ پانی غالب رہے ، تو یہاں چونکہ کھجور کے اجزاء پر پانی کے اجزاء غالب ہیں لہٰذا اس سے وضو جائز ہوگا۔ اور ابوطاہر کے قول کی وجہ یہ ہے کہ نبیذ سے وضو کا جواز صرف حدیث سے ثابت ہے اور وہ حدیث کچے نبیذ کے بارے میں وارد ہوئی ہے امام کرخی کے اس قول کہ پانی میں بہنے والی پاك چیز کے ملنے سے وضو ناجائز نہیں ہوتا الخ ، کا جواب یہ ہے کہ ہاں یہ درست ہے لیکن اس صورت میں جبکہ کسی طرح بھی پانی پر غلبہ نہ پائے اور اگر ملنے والی چیز نے کسی طرح پانی پر غلبہ پالیا  تو پھر وضو جائز نہیں ہے جبکہ یہاں مذکورہ صورت میں کھجور نے رنگ اور ذائقہ کے اعتبار سے پانی پر غلبہ حاصل کرلیا ہے اگرچہ اجزاء کے لحاظ سے اس کا غلبہ نہیں ہوا ، اس لئے اس سے وضو ناجائز ہوگا ، اور یہ ابوطاہر کا قول زیادہ درست ہے اھ امام ملك العلماء رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِتعالٰی کے اس کلام کو ہم نے پورا کردیا ہے یہ بتانے کیلئے کہ اس میں بہت فوائد ہیں جو آپ کو آئندہ معلوم ہوں گے ، اگرچہ متفرق طور پر ان کا اکثر کلام

 

عــہ لعلہ کالماء المستعمل فسقط من قلم الناسخ ۱۲ منہ غفرلہ (م)

کالماء (جیسے پانی) ہوسکتا ہے یہ لفظ کالماء المستعمل (جیسے مستعمل پانی) ہو ، جس کو کاتب کے قلم نے پورانہ لکھا ہو ۱۲ منہ غفرلہ۔ (ت)

اقول :  وھو سبق قلم فلا اثر منہ فی الفتح ففی ھذا التنصیص وعلی التخصیص بالمائع۔

خامسا :  تراھم جمیعا لم یذکروا الرائحۃ بل نصوص عــہ (۱) النوادر والامام (۲) الاسبیجابی والامام ملك (۳)العلماء والمحیط (۴) الرضوی وزاد (۵) الفقہاء والامام (۶) الزیلعی  (۷) وخزانۃالمفتین و (۸) العنایۃ (۹) والبنایۃ (۱۰) والزاھدی (۱۱)  والبرجندی (۱۲) والقھستانی  (۱۳)ویحییٰ  وابن (۱۴) الشلبی وغیرھم ناطقۃ بنفی اعتبارھا حیث احالو الامر بعد اللون والطعم علی الاجزاء لاجرم ان قال بحرالعلوم فی رسائل الارکان لم اراعتبار الغلبۃ بالریح فی کتاب [1]  اھ۔                                

پہلے ذکر ہوچکا ہے ، اور رسائل الارکان میں فرمایا ہے کہ مطلق پانی میں جب کوئی بہنی والی چیز مل کر غالب ہوجائے تو وضو ناجائز ہے ورنہ وضو جائز ہے  اور غلبہ کی پہچان یہ ہے کہ پانی میں ملنے والی مائع چیز اگر رنگ میں پانی کے مخالف ہو تو رنگ کو غلبہ کا معیار قرار دیا جائےگا ، جیسے دودھ ، زعفران اور عصفر کا پانی اور اگر وہ رنگ میں موافق اور ذائقہ میں مخالف ہو تو غلبہ میں ذائقہ کا اعتبار کیا جائےگا ، جیسے عرقِ گلاب ، سفید انگور کا جوس اور اگر ان دونوں وصفوں میں پانی کے مخالف نہ ہو جیسے پانی تو پھر غلبہ میں کثرت کا اعتبار ہوگا ، کنز کی بعض شروح سے فتح القدیر میں یوں بیان کیاگیا ہے اھ (ت) میں کہتا ہوں کہ فتح القدیر میں اس عبارت کا کوئی نشان نہیں ہے یہ کاتب کے قلم کی غلطی ہے ، تاہم رسائل الارکان کی اس عبارت میں پانی میں ملنے والی چیز کے بارے میں مائع ہونے کی نص ہے جس سے یہ مذکور حکم خاص ہے۔ (ت)خامسًا ، آپ دیکھ رہے ہیں کہ فقہاء میں سے کسی نے بھی غلبہ میں بُو والے وصف کو ذکر نہیں کیا بلالکہ درج ذیل کتب النوادر۱ ، الامام الاسبیجابی۲ ، الامام ملك العلماء۳ ، المحیط الرضوی۴ ، زاد الفقہاء۵ ، الامام الزیلعی۶ ، خزانۃ  المفتین۷ ، العنایۃ۸ ، البنایۃ۹ الزاہدی۱۰ ، البرجندی۱۱ ، القہستانی۱۲ ، یحییٰ۱۳ ، اور ابن شلبی ۱۴ وغیرہم کی نصوص بُو کے اعتبار کی نفی پر ناطق ہیں جہاں انہوں نے رنگ اور زائقہ کے بعد ذائقہ کی بجائے اجزاء کے غلبہ کو ذکر کیا ہے اسی لئے مجبورًا بحرالعلوم کو رسائل الارکان میں کہنا پڑا کہ میں نے کسی کتاب میں غلبہ کیلئے بُو کا اعتبار نہیں جدیکھا اھ (ت)

 

عــہ الاضافۃ للعھدای التی تقدمت ۱۲ منہ غفرلہ۔  (م)

نصوص کی کتب مذکورہ کی طرف ، اضافت عہدی ہے یعنی گزشتہ ۱۲ منہ غفرلہ (ت)

اقول  :  بللی (۱) قال الامام فقیہ النفس فی الخانیۃ عند ابی یوسف تعتبر الغلبۃ من حیث الاجزاء لا من حیث اللون ھو الصحیح وعلی قول محمد اعتبر الغلبۃ بتغیر الطعم واللون والریح [2]  اھ وقد نقلہ عنھا فی النھایۃ والبنایۃ والحلیۃ والشلبیۃ وقال فی الحلیۃ بعد نقلہ فزاد فی قول محمد الطعم والریح [3] اھ وتقدم فی ۲۱۷ قول الخانیۃ ایضا لوطبخ وریح الباقلاء یوجد منہ لایجوز ۔

وسادسا :  اغرب جدا فی الجوھرۃ فزعم بعد تصحیح قول ابی یوسف ومحمد اعتبر الاوصاف ان غیر الثلثۃ لایجوز وان غیر واحدا جاز وان غیراثنین لایجوز والشیخ ای القدوری اختارقول محمد حیث قال فغیر احد اوصافہ[4]  اھ ھکذا جاء الاختلاف والمسئول من الله تعالی التنقیح التطبیق اوالترجیح۔         

میں کہتا ہوں کہ ہاں امام فقیہ النفس نے خانیہ میں کہا ہے کہ امام یوسف کے نزدیك غلبہ میں رنگ کے بجائے اجزاء کا اعتبار ہے اور یہی صحیح ہے ، اور امام محمد کے قول پر غلبہ میں رنگ ، ذائقہ اور بُو کے متغیر ہونے کا اعتبار کیا جائے گا اھ خانیہ کی اس عبارت کو نہایہ ، بنایہ ، حلیہ اور شلبیہ میں نقل کیا گیا ہے اور حلیہ میں اس کو نقل کرنے کے بعد زائد یہ کہا کہ امام محمد کے قول میں ذائقہ اور بُو کا اعتبار ہے اھ اور نمبر ۲۱۷ میں خانیہ کا بھی قول گزرا ہے کہ اگر پانی میں باقلاء پکایا جائے اور اس کی بُو پانی میں پائی جائے تو اس سے وضو  جائز نہیں ہے۔ (ت)

سادسًا ، جوہرہ میں غریب ترین بات ہے انہوں نے امام یوسف کے قول کو صحیح قرار دینے کے بعد خیال ظاہر کیا کہ امام محمد اوصاف کا اعتبار کرتے ہیں کہ اگر تینوں وصف تبدیل ہوجائیں تو وضوجائز نہیں ہے ، اور اگر ایك وصف تبدیل ہوجائے تو وضو جائز  ہے۔ اور شیخ قدوری نے امام محمد کے قول کو ترجیح دی ہے جہاں انہوں نے یہ کہا کہ ایك وصف متغیر ہوجائے اھ یوں مذکورہ بالا عبارات میں پانی پر غلبہ کے معیار میں اختلاف واقع ہوا ہے اور اب الله  تعالٰی سے تنقیح میں تطبیق یا ترجیح کا سوال ہے۔ (ت)

پس میں الله  تعالٰی کی توفیق سے کہتا ہوں کہ جوہرہ میں جو مذکور ہے وہ تمام راویوں کے اجماع کے خلاف ہے تیرہ۱۳ راوی جو پانچویں بحث (خامسًا) میں مذکور ہیں اور ان سے پہلے نویہ ہیں اجناس۱۴ ، ذخیرہ۱۵ ، تتمہ۱۶ ، ظہیریہ۱۷ ، محیط۱۸ ، فتح۱۹ ، حلیہ۲۰ ، مجمع الانہر۲۱ حتی کہ خود جوہرہ۲۲ ان سب نے یہ اجماع کیا ہے کہ امام محمد کے نزدیك صرف رنگ کے غلبہ سے پانی مقید ہوجاتا ہے اور یہ (جوہرہ) کہہ رہے ہیں کہ امام محمد کے نزدیك ایك وصف کی تبدیلی سے وضو جائز ہے والله  اعلم میرا گمان ہے کہ جوہرہ کے دل میں تھا کہ امام محمد اوصاف کا اعتبار کرتے ہیں۔ پھر اس نے امام ابو الحسن کو ایك وصف کو قید بناتے ہوئے دیکھا تو اس سے مفہوم اخذ کرتے ہوئے اوصاف کے اعتبار پر دلالت پائی تو جوہرہ نے گمان کیا کہ انہوں نے امام محمد کے قول کو ترجیح دی ہے اور ایك وصف کے بارے میں نص کردی کہ اس کی تبدیلی سے کوئی مضائقہ نہیں ہے یوں اس کو خیال ہوا کہ امام ابو الحسن قدوری کے منطوق سے جو مفہوم اخذ کیا ہے وہ امام محمد کا قول ہے جس کو انہوں نے ترجیح دی ہے حالانکہ معاملہ یوں نہیں ہے اور نہ ہی یہ قدوری کا مقصد ہے جیسا کہ آپ معلوم کرچکے ہیں۔ پھر اس بحث سے معلوم ہوگیا ہے کہ جمہور نے غلبہ میں بُو کی تبدیلی کے اعتبار کی نفی کی ہے ، خانیہ میں بُو کا ذکر کسی ثقہ شخص کی طرف سے زائد چیز کا اثبات نہیں ہے بلالکہ یہ ایك ثقہ شخص کی طرف باقی تمام ثقہ لوگوں کی مخالفت ہے۔ لہٰذا یہ صحت کے منافی   

فاقول :  وبالله التوفیق (۱) ماذکر فی الجوھرۃ مخالف لاجماع الرواۃ عن اٰخرھم الثلثۃ عشر المذکورین فی الخامس والتسعۃ السابقین (۱۴) الاجناس (۱۵) والذخیرۃ (۱۶) والتتمۃ (۱۷) والظہیریۃ (۱۸) والمحیط (۱۹) والفتح (۲۰) والحلیۃ ومجمع  (۲۱) الانھر (۲) حتی (۲۲) الجوھرۃ نفسھا فانھم اجمعوا ان مجرد الغلبۃ باللون یقید الماء عند محمد وھذا یقول ان غیر واحدا جاز  واظن والله ت

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن