30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
احدمن المشرکین استجارك واتیتم احدھن قنطاراوجاء احد منکم من الغائط فانہ لاینفھم منہ عدم الحکم عندالتعدد حتی عنداصحاب المفاھیم بل لوکان مثلہ فی کلام الناس لم یدل علی المفھوم قطعاللعلم بان الانفراد لادخل لہ فی الحکم وان علم ان لہ مدخلا فیہ ثبت المفھوم کقولہ لاتکرموا من یکرم احدکم فمن المعلوم ان الحکم للاقتصار علی اکرام واحدفمن اکرمھم جمیعالایدخل تحت النھی واذا قیل من طلق ثنتین فلہ ان یراجع فھم منہ ان من طلق ثلثا لارجعۃ لہ ولم یفھم منہ ان من طلق واحدۃ لارجعۃ لہ فاجتمع فیہ الانفھام وعدمہ فاذاکان الامر یتلف ھکذا ویبتنی علی العلم بالعلۃ
مفہوم کا حکم مختلف ہوتا ہے کیونکہ اگر یقین کر لیا جائے کہ انفرادی وصف کا حکم میں کوئی دخل نہیں ہوتا تو پھر جب کوئی شخص اپنے بیٹوں کو یہ کہے کہ جو تم میں سے ایك کی عزت کرے تم اس کی عزت کرو ، تو اس کلام سے یہ نہ سمجھنا چاہئے کہ جو تم سب کی عزت کرے تم اس کی عزت نہ کرو (حالانکہ اس بات سے یہ مفہوم نہیں سمجھتا) اس طرح کسی حنفی کا یہ قول کہ جس نے قرآن کی آیات میں سے ایك آیت پڑھی اس کی نماز درست ہے۔ اور کسی شافعی کا یہ قول کہ جس نے اپنے سر کے بالوں میں سے ایك بال کا مسح کرلیا اس کا وضو درست ہے۔ ان میں زیادہ آیات پڑھنے میں نماز کی اور زیادہ بالوں کے مسح سے وضو کی عدمِ صحت نہیں سمجھی جاتی ، فتاوٰی خیریہ کی مذکورہ صورت اسی باب سے ہے کیونکہ زیادہ کرنے پر حکم بھی زیادہ ہوجاتا ہے اسی طرح حکم ایك پر موقوف نہیں ہوگا۔
اسی قبیل سے الله تعالٰی کا یہ قول ہے کہ اگر مشرکین میں ایك مشرك پناہ طلب کرنے اور یہ قول کہ عورتوں میں سے ایك کو وافر دو ، اور یہ قول بھی کہ تم میں سے کوئی ایك بیت الخلاء سے فارغ ہو ، کیونکہ ان اقوال میں عدد زیادہ ہونے پر عدم حکم کا فہم نہیں ہوتا حتی کہ وہ لوگ جو عبارات میں مفہوم اخذ کرنے کے قائل ہیں وہ بھی زیادہ سے حکم کی نفی نہیں کرتے بلکہ عوام الناس کے کلام میں بھی اگر ایك کا عدد ذکر ہو تو اس سے مفہوم مخالف نہیں لیا اتاکیونکہ انفراد کا حکم میں دخل نہیں ہے۔ اور اگر انفراد کا حکم میں دخل ہو تو پھر مفہوم مخالف ثابت ہوجاتاہے ، جیسے کوئی
من خارج لم یصح الحکم باحد الطرفین من مجرد الکلام فھھنا ان علم ان للتوحداوالبعضیۃ مدخلا فی جواز الوضو ثبت المفھوم وان علم عدمہ انعدم فالحکم بکونہ قیدااحترازیامتوقف علی اثبات اعتبار التغیر بالاوصاف ولم یثبت بل ثبت خلافہ فلا مفھوم (۱)وبالجملۃ ھو احتمال قام البرھان علی بطلانہ فلایعتبر۔
وخامسا : (۲) تمثیلھم بماء المد والماء الذی خالطہ الصابون من اجلی قرینۃ علی عدم ارادتھم المفھوم فان ماء السیل یکون متغیراللون والطعم معابل ربمایکون متغیرالثلاثۃ وکذلك الماء اذا خالطہ الصابون لایقتصرعلی تغییر وصف واحد قط و الزعفران ربما یتغیر بہ وصفان والثلثۃ واقتصارہ علی واحدنادر فی المعتاد وقد ارسلوہ ارسالا٭ وجعلوہ لما یغیراحد الاوصاف مثالا٭ وھذا وانکان فیہ مجال مقال٭ فماء المد والصابون
یہ کہے تم میں سے ایك کی عزت کرنے والے کی عزت نہ کرو ، اس جملہ سے واضح ہے کہ یہاں عزت نہ کرنے کا حکم صرف ایك کی عزت سے متعلق ہے اور اگر وہ سب کی عزّت کرے تو عزت کرنے میں ممانعت نہ ہوگی اور اگر کسی نے یہ کہا جو شخص دو طلاقیں دے گاتواس کو رجوع کاحق ہو گا ، اس سے تین طلاقیں دینے والے کیلئے رجعت کا حق ثابت نہیں ہوتاجبکہ ایك طلاق دینے والے کیلئے رجعت کا حق ثابت ہوتاہے ، اس طرح دو طلاقوں کے حکم میں مفہوم کا فہم اور عدمِ فہم دونوں پائے جاتے ہیں پس اگر معاملہ واضح نہ ہو اور حکم کا فیصلہ کسی خارجی علّت کے علم پر موقوف ہو توکسی پہلو پرحکم نفسِ کلام سے حاصل نہ ہوگا لہٰذا(یہاں پانی میں ملنے والی چیز سے وصفِ واحد کے ذکر میں) وضو کے جواز میں واحد یا بعض کا دخل ثابت ہو تو مفہوم مخالف ثابت ہوگا اور اگر واحد یا بعض کے عدمِ دخل کاعلم ہو تو پھر مفہوم ثابت نہ ہو گا ، اس لئے یہاں واحد کا قیداحترازی ہونا اس بات پر موقوف ہے کہ اوصاف سے تغیر کا اعتبار کیا جائے ، چونکہ یہ بات ثابت نہیں بلالکہ اس کا خلاف ثابت ہے لہٰذا مفہوم بھی ثابت نہ ہوگا ، خلاصہ یہ کہ اس احتمال کے بطلان پر دلیل قائم ہے لہٰذا یہ احتمال معتبر نہ ہوگا۔ (ت)
پنجم ، یہ کہ ان فقہاء کرام کا “ احد الاوصاف “ کے ذکر کے بعد اس کے مثال میں سیلاب کے پانی اور صابون والے پانی کا ذکر کرنا اس بات پر واضح قرینہ ہے کہ یہاں مفہوم مراد نہیں ہے کیونکہ سیلاب کا پانی رنگ اور ذائقہ دونوں میں بلکہ تینوں اوصاف میں متغیر ہوتا ہے اور یوں ہی جب پانی میں صابون ملتا ہے تو بھی صرف ایك وصف تبدیل نہیں ہوتا اور زعفران سے دو وصف بلکہ تینوں وصف متغیر ہوجاتے ہیں صرف ایك وصف کا متغیر ہونا عادۃً نادرہے۔ تو فقہاء کرام نے پابند کیے بغیر “ احدالاوصاف “ کو بطور مثال ذکر کیاہے اگرچہ یہاں بحث کی گنجائش ہوسکتی تھی لیکن سیلاب اور
کافیان فی الاستدلال٭ فظھر الامر و زوال اللبس وقیل الحمدلله رب العٰلمین۔
صابون کے ذکرسے استدلال کافی ہے یوں معاملہ واضح ہوگیا اور اشتباہ ختم ہوگیا ، الحمدلله رب العٰلمین۔ (ت)
یہ ہے ضوابط متون کا بیان ضوابط پیشین نے مذہب امام ابویوسف کا اثبات کیا اور اس ضابطہ نے مذہب امام ثالث کی نفی اور اطلاق نے واضح کیا کہ پانی میں کوئی شے جامد ملے خواہ مائع مطلقًا تغیر اوصاف غیر مانع اور دو امام اجل صاحبِ ہدایہ وصاحب کافی نے پانی میں دودھ ملنے کی مثال زائد فرما کر اس اطلاق کو پورا مسجل فرما دیا اور مذہب امام ابویوسف کہ اُس قدر تصحیحات کثیرہ سے مشید تھا اطباق متون سے اورمؤکد ہوگیا اور بحمدالله یہی ہے وہ کہ مائے مطلق کی تعریف رضوی نے افادہ کیا ولله الحمد علی الدوام٭ وعلی نبیہ والہ الصلٰوۃ والسلام٭ علی مر اللیالی والایام٭
ضابطہ ۶ : قول امام محمد رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُجسے امام اسبیجابی وامام ملك العلماء نے اختیار کیا ،
وفی خصوص مسألۃ الاوراق فی الحوض مشی علیہ فی شرح الوقایۃ والمنیۃ ایضا مخالفۃ لنفسھا فیما مرعنھا فی الضابطۃ الخامسۃ ونقلھا الذخیرۃ والتتمۃ عن الامام احمد المیدانی وللحلیۃ میل الیہ فی المسألۃ علی تصریحاتھابخلافہ فی غیرھا وفیھا زعم چلپی فی ذخیرۃ العقبی انہ الاصح کما تقدم کل ذلك فی ۷۷ ، ۷۹ ، ۱۰۱ وغیرھا وذکر الامام ملك العلماء فی النبیذ المطبوخ ان الاقرب الی الصواب عدم جواز الوضو لغلبۃ التمر طعما ولونا کمایأتی فھذاماوجدت من ترجیحاتہ فی صور خاصۃ ولم ارالتصحیح الصریح لمطلق ھذاھذا القول الاماوقع فی الجوھرۃ ان الشیخ یریدالامام القدوری اختار قول محمد حیث قال فغیر احد اوصافہ
اور خاص طور پر حوض میں پتّے گرنے کے مسئلہ میں امام محمد کے قول کو شرح وقایہ میں اختیار کیا اور مُنیہ نے بھی پانچویں ضابطہ میں مذکور اپنے قول کے خلاف اس کو اپنایا۔ امام احمد میدانی سے ذخیرہ اور تتمہ نے اس مسئلہ کو نقل کیا ہے حلیہ نے اس مسئلہ کی تصریحات پر امام محمد کے قول کو ترجیح دی جبکہ دوسرے مسائل میں انہوں نے اس کے خلاف کیا ہے اور چلپی نے ذخیرۃ العقبیٰ میں امام محمد کے قول کو اس مسئلہ میں اصح کہا ہے جیسا کہ یہ تمام اقوال ۷۷ ، ۷۹ ، ۱۰۱ وغیرہ میں گزر چکے ہیں ، امام ملك العلماء نے پکائی ہوئی نبیذ کے بارے میں ذکر کیا ہے کہ اقرب الی الصواب یہ ہے اس سے وضو جائز نہیں کیونکہ اس میں پانی پر کھجور کا رنگ اور ذائقہ کے لحاظ سے غلبہ ہے جیسا کہ آئندہ ذکر ہوگا۔ امام محمد کے قول کے بارے میں مَیں نے یہ ترجیحات چند خاص صورتوں میں پائی ہیں اور اس قول کے اطلاق کے بارے میں صریح تصریح میں نے
اھ وقال قبلہ اشار الشیخ الی ان المعتبر بالاوصاف والاصح ان المعتبر بالاجزاء [1] اھ
نہیں دیکھی ماسوائے اس کے کہ میں نے جوہرہ میں پایا جس میں انہوں نے شیخ قدوری کے متعلق فرمایا کہ انہوں نے امام محمد کے قول کو ترجیح دیتے ہوئے کہا “ فغیر احد ا وصافہ “ اھ حالانکہ اس سے قبل جوہرہ نے کہا کہ شیخ نے اشارہ دیا ہے کہ اوصاف کا اعتبار ہے حالانکہ اصح یہ ہے کہ اوصاف کے بجائے اجزاء کا اعتبار ہے اھ (ت)
اقول : یبتنی(۱)علی جعل احد عــہ للتقیید وقد علمت مافیہ(میں کہتا ہوں کہ جوہرہ کا “ احد اوصافہ “ کے ذریعہ امام محمد کے قول کی ترجیح سمجھنا لفظ “ احد “ کو قید بنانے پر موقوف ہے حالانکہ اس میں بحث تم معلوم کرچکے ہو۔ ت) اب یہاں بعض ابحاث ہیں۔
بحث اوّل تنقیح مذہب۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع