30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
عــہ ای حکم الجواز مع تغیرفی الاوصاف ۱۲ منہ غفرلہ (م)
یعنی امام زیلعی نے اس مطلق کو تینوں اوصاف میں پانی کے مخالف بہنے والی چیز پر محمول کیا ہے ۱۲ منہ غفرلہ (ت)
انما حدث بعد الضابطۃ وکلام کل من قبل الزیلعی مطلق فالحاصل حملہ عــہ علی مائع مخالف فی الاوصاف الثلثۃ فالاعتراض ساقط عن الزیلعی وبالجملۃ ھمامسلکان لاھل الضابطۃ الاول حمل احد علی التقیید وحمل الحکم علی مائع یخالف فی الثلثۃ وھو مسلك الزیلعی والثانی جعل التقیید اتفاقیا وحمل الحکم علی الجامد وھو مسلك الدرر ومن تبعھاکالتنویر ونور الایضاح وکلاھما صحیح موافق للضابطۃ فلاایراد وانما نشأمن خلط المسلکین۔
اقول : نعم اذاطوینا الکشح عن الضابطۃالحادثۃ وقصرناالنظرعلی نصوص المذھب و المذاھب المنقولۃ عن ائمۃ المذھب فھما مسلکان متخالفان لان جعل احد قیدا احتراز یایقضی باعتبار الغلبۃ بالاوصاف وھو مذھب محمد و جعلہ اتفاقیا یطرحہ وھومذھب ابی یوسف رضی الله تعالٰی عنھما وھذا ھو الاولی والاحزی لوجوہ تتلی۔
باوجود وضو کے جواز کو جامد چیز سے خاص کرنا ضابطہ مذکورہ کے بعدکی بات ہے ، حالانکہ امام زیلعی سے پہلے تمام حضرات کا کلام مطلق ہے ، حاصل یہ ہے کہ امام زیلعی نے اس مطلق کو تینوں اوصاف میں مخالف بہنے والی چیز پر محمول کیا ، یوں امام زیلعی پر سے اعتراض ساقط ہوگیا۔ خلاصہ کلام یہ ہے کہ اہل ضابطہ کے دو مسلك ہیں ، اوّل یہ کہ ایك وصف کے ذکر کو قیدبناکر اس کو بہنے والی ایسی چیز کاحکم قرار دیا جو تینوں اوصاف میں پانی کے مخالف ہو ، یہ امام زیلعی کا مسلك ہے اور دوسرا یہ کہ وصفِ واحد کے ذکر کو اتفاقی قید بنایا اور اس کو جامد کا حکم قرار دیا یہ دُرر اور اس کے موافق حضرات جیسے تنویر ، نورالایضاح کا مسلك ہے اور یہ دونوں مسلك درست ہیں اور ضابطہ کے موافق ہیں لہٰذا کوئی اعتراض نہیں ، صرف دونوں مسلکوں کے خلط سے اشتباہ پیدا ہوا۔ (ت)
میں کہتا ہوں ، ہاں اگرہم نئے ضابطہ سے صرف نظر کریں اور مذہب کے ائمہ کرام سے منقول انکی نصوص کا ہی لحاظ کریں تو پھر یہ دونوں مسلك مختلف ہیں کہ واحد وصف کے ذکر کو احترازی قید قرار دے کر اوصاف کے لحاظ سے غلبہ کا فیصلہ کیا جائے تو یہ امام محمد کا مسلك ہوگا اور اس ایك وصف کو اتفاقی قرار دے کر غلبہ میں اوصاف کے اعتبار کو ساقط قرار دیا جائے تو یہ امام ابویوسف کا مذہب ہوگایہی زیادہ بہتر اور مناسب ہے حسب ذیل وجوہ کی بنا پر۔
عــہ ای حمل الزیلعی ذلك المطلق ۱۲ منہ غفرلہ (م)
یعنی اوصاف کی تبدیلی کے باوجود وضو کے جواز کا حکم ۱۲ منہ غفرلہ (ت)
فاقول : (۱) اوّلا قدعلمت ان مذھب ابی یوسف ھوالصحیح المعتمد ومھماقدرنا ان نحمل النصوص علی الصحیح لانعدوہ۔
وثانیا : (۲) النصوص مطلقۃ تشمل الجامد والمائع واعلی الله درجات الامامین برھان الدین الفرغانی وحافظ الدین النسفی اذ زادافی الامثلۃ الماء الذی خالطہ اللبن فاتیا بالتنصیص علی التعمیم وبطلان التخصیص ومحمدانما یقول باعتبار الاوصاف فی المائعات کما یأتی باعتبارالاوصاف فی المائعات کمایأتی تحقیقہ اِن شاء الله تعالٰی فجعلہ للاحتراز یجعل النصوص خارجۃعن المذھبین والمتون ماشیۃ علی مالاوجودلہ فی المذھب وانما کان وضعھا لنقل المذھب۔
وثالثا : (۳) معلوم ان دلالۃ المفھوم غیر قطعیۃ ورب قیود تجیئ فی الکتب لامحترزلھا فحمل النصوص علی ھذا اولی ام جعل القید للاحتراز ثم القیام بالاعتراض۔
و رابعا : (۴) لاشك ان کل کل معہ بعضہ وماغیر الاوصاف فقد غیر احدھا
میں کہتا ہوں اول : یہ کہ آپ کو معلوم ہے کہ امام ابویوسف کا مذہب ہی قابلِ اعتماد اور صحیح ہے اور جب تك ممکن ہوگا ہم نصوص کو صحیح مذہب پر محمول کریں گے اور آگے نہیں پڑھیں گے۔
دوم : یہ کہ اس بارے میں نصوص میں اطلاق ہے جو جامد اور بہنے والی دونوں کو شامل ہے اس تعمیم پر امام برہان الدین فرغانی اور امام حافظ الدین نسفی(الله تعالٰی ان دونوں اماموں کے درجات کو بلند فرمائے) نے نص کرتے ہوئے اس مسئلہ کی مثالوں میں ایسے پانی کوجس میں دُودھ ملا ہو ، کا اضافہ فرمایا جس سے تخصیص کا احتمال باطل ہوگیا ، اور امام محمد بہنے والی چیزوں میں اوصاف کا اعتبار کرتے ہیں جیسا کہ آئندہ اس کی تحقیق آئے گی ان شاء الله تعالٰی ، پس اب ایك وصف کے ذکرکو قید احترازی بنانے کیلئے تمام نصوص کو دونوں مذکور مذاہب سے خارج کرناہے اور متون باوجودیکہ وہ مذہب کی ترجمانی کیلئے وضع ہیں ان کو ایسے امور میں رواں کرتے ہیں جن کا مذہب میں وجود ہی نہیں ہے۔
اور سوم ، یہ کہ واضح طورپر معلوم ہے کہ مفہوم کی دلالت قطعی نہیں ہوتی کیونکہ کتب میں بہت سے قیود غیر احترازی آتی ہیں تو اب نصوص کو اس معنی پر محمول کرنا بہتر ہے یا قید کو احترازی بنا کر پھر اعتراض کا سامنا کیا جائے؟
چہارم ، یہ کہ اس میں شك نہیں کہ ہر کُل کے ساتھ اس کا بعض بھی ہوتا ہے تو جب اوصاف کو
(۱) واعتبار الواحد علی صفۃالانفرادغیر لازم ومالہ من اطراد الاتری الی مافی خیریۃ لایستفاد من لفظ واحدۃ وصف التوحید فقد نصوا علی (۲) انہ لو کان تحتہ اربع نسوۃ ولہ عبید فقال ان طلقت واحدۃ منھن فعبد من عبیدی حراوثنتین فعبدان اوثلثافثلثۃ اواربعافاربعۃ فطلقھن معا اومفرقاای مرتبا فی الکل والبعض عتق عشرۃ من عبیدہ واحد بطلاق الاولی واثنان بطلاق الثانیۃ وثلثۃ بطلاق الثالثۃ واربعۃ بطلاق الرابعۃ : مجموع ذلك عشرۃ فلو اشترط وصف التوحید فی لفظ الواحدۃ لماوقع العتق علی الواحد فی صورۃ طلاقھن معالانہ حینئذ لم یطلق واحدۃ حال کونھا منفردۃ بل طلھقا فی جملۃ نسائہ الاربع [1] اھ اقول : (۳) والانصاف عندی ان الحکم بالمفھوم فی امثال المحال مختلف
کوئی چیز تبدیل کرے گی تو ان میں سے ایك وصف کو بھی تبدیل کرے گی جبکہ ایك کو انفرادی صفت پر رکھنا لازم نہیں ہے اور نہ ہی اس کیلئے کوئی ضابطہ ہے ، کیاآپ نے فتاوٰی خیریہ کے اس مضمون پر غور نہیں کیا جس میں انہوں نے کہا ہے کہ “ واحدۃ “ کے لفظ سے وحدت کا وصف حاصل نہیں ہوتا (اسی لئے فقہاء کرام) نے اس بات پر نص کی ہے کہ اگر کسی شخص کی چار بیویاں ہوں اور اس کے دس غلام ہوں اور وہ یہ کہے اگر میں ایك بیوی کو طلاق دُوں تو ایك غلام آزاد ، اگر دو کو طلاق دُوں تو دو غلام آزاد ، اگر تین کو طلاق دوں تو تین غلام آزاد ، اگر چار کو طلاق دوں تو چار غلام آزاد ، اس کے بعد اس نے چاروں بیویوں کو ایك ساتھ یا متفرق طورپر طلاق دے دی تو اس کے دس غلام آزاد ہوجائیں گے ، پہلی کے ساتھ ایک ، دوسری کے ساتھ دو اور تیسری کے ساتھ تین اور چوتھی طلاق کے ساتھ چار غلام آزاد ہوں گے یوں کل دس عدد غلام آزاد ہوں گے(اس مسئلہ سے واضح ہوا)کہ اگر “ واحدۃ “ میں توحیدکے وصف کا اعتبار شرط ہوتا تو سب بیویوں کو ایك ساتھ طلاق دینے کی صورت میں ایك غلام کو آزادی والی صورت نہ بنتی کیونکہ ایك غلام کی آزادی ایك بیوی کی طلاق سے مشروط تھی جبکہ ایك ساتھ طلاق دینے میں ایك بیوی کو علیحدہ طلاق نہیں ہوئی بلالکہ چاروں بیویوں کو ایك ساتھ طلاق میں ایك طلاق ہے اھ (ت)
میں کہتا ہوں ، میرے نزدیك انصاف یہ ہے کہ احوال کے اختلاف کی بنا پر ہر محل میں
باختلاف الاحوال فان علم ان الافرادلامدخل فی الحکم لایسبق الذھن الی المفھوم کقول رجل لبنیہ اکرموا من یکرم احدکم لایفھم منہ احدان لاتکرموا من اکرم کلکم وکذلك قول حنفی من قرأ احدی اٰیات القراٰن صحت صلاتہ وقول شافعی من مسح احدی شعرات رأسہ صح وضوؤہ ومن ھذاالباب الصورۃ المذکورۃ فی الخیریۃ فانا نری الحکم یزداد بالازدیاد فلاتوقف لہ علی الانفراد ، ومن ذلك قولہ عزوجل وان
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع