دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 3 | فتاوی رضویہ جلد ۳

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۳

مسلم نے بیان کیا کہ حضور عَلَیْہِ الصَّلَاۃُ وَالسَّلَام نے اس شخص کو جو کہ احرام کی حالت میں اونٹنی سے گرکر زخمی ہوا ، حکم فرمایاکہ وہ بیری کے پتّوں والے پانی سے دھوئے۔ اور آپ نے قیس بن عاصم کو مسلمان ہونے پر بیری کے پتّوں والے پانی سے غسل کرنے کا حکم فرمایا۔ اور خود حضور عَلَیْہِ الصَّلَاۃُ وَالسَّلَام نے آٹے کے اثر والے پانی سے غسل فرمایا۔ اور آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمجنابت کے غسل میں خطمی والے پانی کے استعمال کو کافی سمجھتے اھ شرح نورالایضاح کی عبارت پر سید طحطاوی نے تعاقب کیا اور کہا کہ بیری کے پتّوں جیسی چیز پانی میں تغیر پیدا کرے تو معاف ہے ، اس حکم پر دوسری چیزوں کو قیاس نہیں کیا جاسکتا ، کیونکہ اس سے تو صفائی مقصود ہے جبکہ

 دوسری چیزوں میں یہ مقصد نہیں ہوتا ہے اھ (ت)

میں کہتا ہوں کہ سید طحطاوی نے شرح نورالایضاح پر تعاقب حکم کے بارے میں نہیں کیابلالکہ پہلی دو اور چوتھی حدیثوں سے استدلال پر تعاقب کیاہے لہٰذا حکم اور تیسری حدیث کو انہوں نے محفوظ رکھا ، پھر آپ کو ہماری تحقیق سے معلوم ہوچکا ہے کہ صفائی والی چیز میں گاڑھے پن کی استعداد تك معافی ہے اس میں اوصاف کا بالکل اعتبار نہیں ہے لیکن دلیل پر منع (اعتراض) کیلئے اتنا کافی ہے۔ (ت)

اور تحقیق یہی ہے کہ تینوں وصفوں کا تغیر بھی کچھ مضر نہیں جب تك موانع ثلاثہ مذکورہ سے کوئی مانع نہ پایا جائے

(۱)بیانہ ان النظار افتر قوافی العبارۃ الاولی مثلھا الثانیۃ فرقتین فریق یعتبر فیھا

اس کا بیان یہ ہے کہ پہلی عبارت (ایك وصف والی)اور دوسری عبارت(دو وصفوں والی) کے

المفھوم فتدل علی المنع بتغیروصفین و الثانیۃ علی الجواز فیہ والمنع بتغیر الکل ثم یعترضہ محققوھم بانہ خلاف الصحیح الصحیح الجواز وان تغیرالکل قال الامام الزیلعی فی التبیین اشار القدوری الی انہ اذا غیر وصفین لایجوز الوضوء [1] بہ ومثلہ فی الفتح والبحر وکذا علی عبارۃ البدایۃ فی النھایۃ والعنایۃ والبنایۃ والدرایۃ والکفایۃ والغایۃ الاتقانیۃ ،  قال الاولان قولہ احداوصافہ یشیرالی انہ اذاغیر الاثنین لایجوز لکن المنقول عن الاساتذۃ خلافہ فذکرا ماتقدم فی ٧٩زاد فی العنایۃ وکذا اشار فی شرح الطحاوی الیہ [2] اھ واقرہ سعدی افندی وقال التالیان فی قولہ احداوصافہ اشارۃ الی انہ اذا تغیر اثنان لایجوز التوضی بہ لکن صحت الروایۃ بخلافہ کذا عن الکرخی [3]اھ والکفایۃ ذکرت الاشارۃ ثم اثرت عن النھایۃ ماعن الاساتذۃ وذکرالاتقانی اشارۃ القدوری ثم قال لکن الظاھرعن اصحابناانہ یجوز الاتری الی مافی                                                                                                                                                                                                                                                          

بارے میں علماء کے دو فریق بن چکے ہیں ، ایك فریق ان عبارات میں مفہوم مخالف کا اعتبار کرتے ہوئے پہلی عبارت میں دو وصفوں کی تبدیلی پر وضو کوناجائزکہتا ہے اور دوسرا عبارت میں مفہوم کا اعتبار نہ کرتے ہوئے وضو کو جائزکہتاہے اور یہ گروہ تمام اوصاف (رنگ ، بو ، ذائقہ)کی تبدیلی پر وضو ناجائز مانتا ہے لیکن پھر اس گروہ میں سے محقق لوگوں نے اس پر اعتراض کیا اور کہا کہ تمام اوصاف کی تبدیلی سے عدمِ جواز ، صحیح قول کے خلاف ہے کیونکہ صحیح یہ ہے کہ اگر تمام اوصاف بھی تبدیل ہوجائیں تب بھی وضو جائز ہے (اس بحث کے بارے میں عبارات درج ذیل ہیں) امام زیلعی نے تبیین میں فرمایا کہ قدوری نے اشارہ کیا ہے کہ اگر دو وصف تبدیل ہوجائیں تو وضو ناجائز ہوگااھ اسی طرح ہے درج ذیل کتب میں ، فتح ، بحر ، نہایہ میں بدایہ کی عبارت پر ، عنایہ۔ بنایہ۔ درایہ۔ کفایہ۔ غایۃ اتقانیہ ، شرح الطحاوی الخ ، ان میں سے پہلے دونوں نے کہاکہ ان کا “ قول احد اوصافہ “ اس بات کا اشارہ ہے کہ اگر دو وصف بدل جائیں تو وضو جائز نہ ہوگا لیکن ماہرین سے اس کا خلاف منقول ہے ، یہ کہہ کر پھر ان دونوں نے ۷۹ میں گزشتہ بحث کو ذکر کیا ، اور اس پر عنایہ میں کذا شرح الطحاوی الخ وفی الجوھرۃ ان غیروصفین فعلی اشارۃ الشیخ لایجوز والصحیح یجوز کذا فی المستصفی [4]  اھ وقدمر فی ۱۰۱ وکذامر عن الحلیۃ اعتبار المفھوم فی ۷۱ وردہ بتصحیح المستصفی فی ۱۰۱ ثم ذکر کلام النھایۃ وفی فتح الله المعین یفھم من التقییدعدم جواز الاستعمال اذاتغیر وصفان ولیس کذلك [5]  اھ  ،

واغرب فی الکفایۃ واذ ذکرمامر ثم استدرك علیہ بما فی التتمۃ عن الفقیہ المیدانی من مسألۃ وقوع الاوراق فی الحوض المارۃ[6]  فی ۷۶ قال قال صاحب النھایۃ لماتغیرلون الماء بالاوراق لابدان یتغیر طعمہ ایضا فکان وصفان زائلین فصار موافقا لمااشار الیہ الکتاب[7] اھاشار فی شرح الطحاوی الیہ

(طحاوی کی شرح میں ایسا ہی اشارہ کیا ہے)کا اضافہ کیا ہے اھ اور سعدی آفندی نے اس کی تائید کی ہے۔ اور ان کے بعد والے دونوں نے یہ کہاکہ “ ان قول احد اوصافہ “ میں اشارہ ہے کہ اگر دو وصف بدل جائیں تو وضو جائز نہ ہوگا۔ لیکن صحیح روایات اس کے خلاف ہیں امام کرخی سے ایسا ہی مروی ہے اھ کفایہ نے یہی اشارہ ذکر کرکے پھر نہایہ والا ماہرین سے منقول قول کا حوالہ بیان کیا۔ اتقانی نے قدوری والا اشارہ ذکر کرکے پھر کہا ہمارے اصحاب کےظاہر قول کے مطابق اس سےوضو جائز ہے کیا طحاوی کی شرح میں موجود قول نہیں دیکھا الخ؟اھ ، اور جوہرہ میں ہےکہ اگر دو وصف تبدیل ہوجائیں تو وضو ناجائز ہےجیسا کہ شیخ نےاشارہ کیا ہےلیکن صحیح یہ ہےکہ وضو جائز ہے ، مستصفٰی میں ایسا ہے اھ یہ بات ۱۰۱ میں گزر چکی ہے اور یوں ہی ۷۱ میں حلیہ کے حوالہ سے مفہوم کے اعتبار کے بارے میں گزرا ، اور پھر اس کے رد میں مستصفٰی کی تصحیح کے حوالہ سے ۱۰۱ میں ذکر کرکے پھر نہایہ کے کلام کو ذکر کیا ہے فتح الله  المعین میں ہے کہ ایك وصف کی قید سی دو وصف کی تبدیلی میں وضو کا عدمِ جواز سمجھ آتاہے حالانکہ ایسا نہیں ہے اھ ، کفایہ میں عجیب انداز سے مذکورہ بات کوبیان کرکے پھر فقیرمیدانی سے تتمہ میں منقولہ مسئلہ سے اس پر استدراك کیااور وہ مسئلہ حوض میں پتّے گرنے کے بارے میں ہے جو ۷۶ میں گزرا ہے ، توکفایہ نے کہا

اقول :  وانت تعلم انہ لایدفع ماعن الاساتذۃ ولذالم تعتمدہ النھایۃ والبنایۃ مع ذکرھم جمیعا ان الماء اذاتغیر لونہ تغیر طعمہ ایضا [8] اھ ھذہ عبارۃ الاخیرین۔

اقول :  والمراد فی صورۃ الاوراق کماافصح عنہ النھایۃ فلایقال قدیتغیر لونہ بقلیل من اللبن والزعفران لاطعمہ وبالجملۃ کان الحق ان یستدرك بماعن الاساتذۃ علی ماعن الفقیہ کمافعلوا (۱) لاالعکس کالکفایۃ وتبعہ مسکین فتعقب المفھوم بمانقل فی النھایۃ عن الاساتذۃ ثم عاد فقال لایتوضو وان اجازہ [9] الاساتذۃ اھ ومثلہ تعقب ورجع فی مجمع الانھرثم قال لکن یمکن التوجیہ بان نقل صاحب النھایۃ محمول علی الضرورۃ فلاینافی القول بعدم الجواز عند الضرورۃ کمافی التحفۃ [10] اھ                                                

کہ صاحبِ نہایہ نے یہ بیان کیا کہ جب پتّوں کی وجہ سے پانی کا رنگ تبدیل ہوگا تو لازمی طور پر اس کا ذائقہ بھی تبدیل ہوگا۔ تو دو وصف کی تبدیلی ہونے پر یہ کتاب کے موافق ہوجائے گا۔ (ت)

 



[1]   تبیین الحقائق  کتاب الطہارت  مطبع الامیریہ بولاق مصر  ۱ / ۲۰

[2]   العنایۃ مع فتح القدیر  الماء الذی یجوزبہ الوضو  سکھر ۱ / ۶۳

[3]   البنایۃ الماء الذی یجوز بہ الوضوء  ملک سنز فیصل آباد  ۱ / ۱۸۹

[4]   الجوہرۃ النیرہ  کتاب الطہارۃ  امدادیہ ملتان ۱ / ۱۴

[5]   فتح الله  المعین  کتاب الطہارۃ  ایچ ایم سعید کمپنی کراچی  ۱ / ۶۲

[6]   الکفایۃ مع الفتح  الماء الذی یجوزبہ الوضو  نوریہ رضویہ سکھر  / ۶۳

[7]   الکفایۃ مع الفتح  الماء الذی یجوزبہ الوضو  نوریہ رضویہ سکھر  / ۶۳

[8]   البنایۃ الماء الذی یجوزبہ الوضوء  ملک سنز فیصل آباد  ۱ / ۱۸۹

[9]   شرح لملا مسکین مع فتح المعین  الماء الذی یجوزبہ الوضوء  سعید کمپنی کراچی  ۱ / ۶۲

[10]   مجمع الانہر تجوز الطہارۃ بالماء المطلق  مطبعۃ عامرہ مصر  ۱ / ۲۷

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن