30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
نسفی نے وافی وکنز میں یہی مسلك لیا اور نقایہ واصلاح وتبیین وغایۃ البیان نے ان کا اتباع کیا اب منظف وغیر منظف میں فرق یہ ہوگا کہ غیر منظف میں کبھی باوصف بقائے رقت زوال اسم ہوجاتا ہے بخلاف منظف۔ اس کی نظیریں غیر مطبوخ میں کثیر ہیں جیسے نبیذ وصبغ ومداد وغیرہا مسائل کثیرہ۔ یہ ہے وہ جس سے بتوفیقہ تعالٰی تمام کلمات ائمہ ملتئم ہوگئے ولله الحمد علی الدوام٭ وعلی نبیہ وذویہ الصلاۃ والسلام۔ یہاں تك نوبحثیں ہوئیں ، ایك اور اضافہ کریں کہ تلك عشرۃ کاملۃ ہوں۔
بحث دہم ارشادات متون پر نظر اقول ہم فصل دوم میں ثابت کر آئے کہ مائے طاھر غیر مستعمل کے فی نفسہ ناقابل وضو ہوجانے کے چار بلالکہ تین ہی سبب ہیں :
(۱) کثرت اجزائے مخالط جس میں حکمًا دوسری صورت مساوات بھی داخل۔
(۲) زوالِ رقت کہ جرم دار ہوجائے۔
(۳) زوال اسم جس سے یہاں اُس کی وہ خاص صورت مراد کہ مقصد دیگر کیلئے چیز دیگر ہوجائے۔ نیز فصل حاضر کی بحث دوم ابحاث غلبہ میں گزرا کہ غلبہ اجزاء کہ مذہب امام یوسف رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِتعالٰی ہے ان تینوں صورتوں پر بولا جاتا ہے بالجملہ مائے مطلق کی تعریف جو ہم نے محقق ومنقح کی اور امام ابویوسف کا مذہب کہ وہی صحیح صحیح ومعتمد ہے حرف بحرف متطابق ہیں ولله الحمد۔
اب متون کو دیکھئے تو وہ بھی ان تین سبب سے باہر نہیں انہیں کو وجہ منع ٹھہراتے ہیں اگر سب کااستیعاب نہیں فرماتے اور یہ کچھ نئی بات نہیں متون (۱) نہ متون جن کی وضع اختصار پر ہے بلالکہ شروح میں بھی جن کا کام ہی تفصیل وتکمیل ہے صدہا جگہ احاطہ صور نہیں ہوتا۔ بعض کی تصریح بعض کی تلویح کہ اشارت دلالت اقتضاءِ فحوی سے مفہوم ہوں اور کبھی بعض یکسر مطوی کمالایخفی علی من خدم کلماتھم وھذا من اعظم وجوہ العسر فی ادراك الفقہ والله المیسر لکل عسیر ولاحول ولاقوۃ الا بالله العلی العظیم (جیسا کہ یہ بات ان لوگوں پر مخفی نہیں جو مصنفین کی عبارات پر کام کرتے ہیں ، فقہ کے ادراك میں یہ مشکل مرحلہ ہے ، اور الله تعالٰی ہر مشکل کو آسان فرماتا ہے لاحول ولاقوۃ الّا بالله العلی العظیم۔ ت)یہاں اکثرمتون نے صرف سبب دوم یعنی زوال طبع کا ذکرفرمایا قدوری وبدایہ نے عبارت میں اس کی کچھ تفصیل نہ فرمائی ہاں مثالوں سے صورت طبخ وغیرہ کی طرف اشارہ کیاوقایہ وغرر ونورالایضاح نے اُسے دو سببوں کی طرف مفصل کیاطبخ وغلبہ غیراور ملتقیٰ نے تیسراسبب جزئی اور اضافہ کیاکثرت اوراق۔ پھر غلبہ غیر کو ان سب نے مطلق رکھا مگر اول نے کہ اجزا سے مقید کیا۔ اقول اور اس کا ارادہ ملتقی میں چاہئے ورنہ کثرت اوراق بھی غلبہ غیر ہی ہے بہرحال کثرتِ اجزاء و زوال اسم جن میں زوال زوال طبع نہ ہو ان چھ(۲) میں مذکور نہ ہوئے ہدایہ نے شرح میں ان کا اشعار فرمایا اول کا ان لفظوں سے الخلط القلیل لامعتبربہ فیعتبر الغالب والغلبۃ بالاجزاء [1] (قلیل ملاوٹ کا اعتبار نہیں صرف غالب کا اعتبار ہوتا ہے اور غلبہ میں اجزاء کا لحاظ ہوتا ہے۔ ت)دوم کا اشارہ خفیہ اس عبارت سے ان تغیر بالطبخ لایجوز اذالنار غیرتہ الا اذا طبخ فیہ مایقصد بہ النظافۃ[2] (اگر تغیر پکانے کی وجہ سے ہوا تو وضو جائز نہ ہوگا کیونکہ آگ سے تغیرپیدا ہوگیا ہے لیکن اگر ایسی چیز ملا کر پانی کو پکایا جائے جس سے نظافت مقصود ہو تو پھر جائز ہے۔ ت) یہ اعتبار مقصدکی طرف ایما ہے کماتقدم الاٰن تقریرہ (جیسا کہ اس کی تقریر اب گزری ہے۔ ت)تو کلام ہدایہ جامع اسباب ثلٰثہ ہوا وافی وکنز نے دو سبب ذکر فرمائے کثرتِ اجزاء و زوال طبع۔
اقول : اوراسے کثرتِ اوراق وطبخ سے مفصل فرماکر اشارہ کیا کہ زوال طبع طبخ سے ہو خواہ بلاطبخ ، اور اگر تغیر کو تغیر طبع ومقاصد دونوں کو عام لے کر کثرتِ اوراق میں صرف اول اور طبخ میں دونوں رکھیں تو بعض صور سبب سوم یعنی زوال اسم کی طرف بھی اشارہ ہوگا اصلاح نے دو سبب اخیر لیے زوال طبع واسم اقول مگر دونوں کی صرف بعض صورپر اقتصار کیا کہ اوّل کو غلبہ اجزاء اور دوم کو طبخ سے مقید کردیا ، نقایہ میں اگر تغیربمعنی زوال طبع ہو تو اپنی اصل وقایہ کی طرح ہے اور بمعنی زوال اسم لیں اور یہی انسب ہے تو مثل اصلاح دو سببوں کا ذکر ہوااقول اور بہرحال سبب اول میں وقایہ واصلاح سے اصلح کہ غلبہ اجزاء سے مقید نہ فرمایا۔
اقول : (۱)لکن فیہ اشکال قوی فان بالحکم الکلی والاستثناء انحصر سبب المنع فیما ذکر (۲) والعجب ان لم یتنبہ لہ الشارحان الفاضلان۔
اقول : ویمکن الجواب عن السبب الاول بان کلامہ مشعر بکون المخالط اقل اجزاء لما قدمنا فی ثانی ابحاث زوال الطبع ان الاختلاط ینسب الی اقل الخلیطین فکانہ قال یتوضو بہ وان خالطہ ماھو اقل اجزاء منہ الا اذا اخرجہ عن رقتہ
میں کہتا ہوں لیکن اس میں اشکال ہے کیونکہ کلی حکم اور استثناء کی وجہ سے وضو سے منع کا سبب صرف اس کا ذکر کردہ ہی ہوگا ، اور تعجب ہے کہ دونوں فاضل شارح حضرات کی توجہ اس طرف نہ ہوئی۔ (ت)
میں کہتا ہوں ، اور پہلے سبب کا جواب یوں ممکن ہے کہ اس کے کلام سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ پانی میں ملائی ہُوئی چیز کے اجزاء کم ہوں ، جیسا کہ ہم زوالِ طبع کی ابحاث میں سے دوسری بحث میں ذکر کرچکے ہیں کہ اختلاط کو کم اجزاء والی چیز کی طرف منسوب کیا جاتا ہے ، گویا اب اس کا کلام یوں ہوا
اوغیرہ اسمہ طبخالکن یبقی وارد ا قصرالثالث علی صورۃ الطبخ الا ان یقال اشار الی غیرہ دلالۃ فان الذی یغیر اسمہ بدون الاستعانۃ بالناراقوی ممالایزیلہ الا بمعالجۃ النار فکانہ قال اوغیرہ اسمہ ولوطبخاای فضلا عمایغیرہ بنفسہ وبھذا التقریر تصیر تشیرالی الاسباب الثلثۃ فتکون من احسن العبارات ھذا غایۃ ماظھرلی فی توجیھہ والله تعالٰی اعلم۔
کہ اس پانی سے وضو جائزہے اگرچہ اس میں ملنے والی چیز کے اجزاء کم ہوں ، مگر جب یہ چیز پانی کی رقت کو ختم کردے یا پکنے کی صورت میں اس کے نام کو تبدیل کردے تو وضو ناجائز ہوگا لیکن اس جواب سے ایك اعتراض باقی رہا ، وہ یہ کہ تیسرے سبب (نام کی تبدیلی)کو صرف پکانے کی صورت سے مختص کردیا ہے۔ ہاں اگر یوں کہا جائے کہ دوسری صورت کی طرف دلالۃً اشارہ انہوں نے کردیا ہے کیونکہ نام کی تبدیلی جب آگ کے بغیر ہوگی تو یہ صورت زیادہ قوی ہوگی اس صورت سے جس میں صرف آگ سے ہی تبدیلی آسکتی ہے گویا یوں کہاکہ یا پانی کے نام کو تبدیل کردے خواہ پکانے کی وجہ سے ہو چہ جائیکہ پکائے بغیر خود بخود نام کی تبدیلی والی صورت پیدا ہوجائے اس تقریر سے اس کی طہارت تینوں اسباب کی طرف اشارہ کرے گی تو اب یہ بہترین عبارت قرار پائے گی ، یہ اس عبارت کی انتہائی توجیہ ہے والله تعالٰی اعلم (ت)
تنویرمیں اگرچہ زوال طبع کو طبخ سے مقید کیاگیامگر غلبہ غیر کو مطلق رکھاجس سے ظاہر غلبہ بکثرت اجزا ہے تو سبب اول اور بعض صور سبب دوم کاذکر ہوا اور اگر غلبہ کو بوجہ اطلاق غلبہ طبعًا واسمًا واجزاءً کو عام لیا جائے تواسی قدر اسباب ثلثہ کو عام ہوجائےگا اور ذکر زوال طبع بطبخ ازقبیل تخصیص بعد تعمیم ہوگا۔
بل اقول : کانہ رحمہ الله تعالٰی لاحظ ان زائل الطبع بالطبخ لم یغلبہ المخالط نفسہ بل النار غیرتہ فیکون العطف علی ظاھرہ واذن تکون ھذہ احسن العبارات وترتقی من الضوابط الجزئیۃ الی الکلیات۔
بلالکہ میں کہتا ہوں کہ انہوں نے گویا یہ لحاظ کیاکہ پکانے کی وجہ سے طبع کا زوال پانی میں ملنے والی چیز کے غلبہ سے نہیں ہے ب لکہ آگ نے اس کو متغیر کیا ہے پس یہ عطف اپنے ظاہر پر رہا۔ اب یہ تمام عبارات میں احسن قرار پائی اور جزئی ضابطہ کی بجائے کلی ضابطوں میں شمار ہوگی۔ (ت)
متون کے ضوابط منع پر یہ نہایت کلام ہے ولله الحمد کما یرضاہ٭ والصلوۃ والسلام علی مصطفاہ٭ واٰلہٖ وصحبہ ومن والاہ۔
(ضابطہ ۵)اب متون ایك کلیہ دربارہ جواز افادہ فرماتے ہیں کہ اختلاط طاہرسے پانی کے صرف وصف میں تغیر مانع وضو نہیں۔ وصف سے مراد رنگ ، مزہ ، بو۔ عبارات اس میں تین طرح آئیں : (۱)احد اوصافہ یعنی کسی ایك وصف میں تغیر۔ قدوری میں ہے :
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع