دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 3 | فتاوی رضویہ جلد ۳

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۳

غیر منظف پکنے والے دونوں کو برابر ومساوی قرار دیا ہے تو بھی یہ درست ہے کیونکہ امام ابویوسف اور امام محمد دونوں اماموں کے ہاں منظف اور غیر منظف دونوں برابر ہیں ، جیسا کہ امام ابویوسف سے مشہور اور امام محمد سے مشہور اور غیر مشہور دونوں طرح منقول ہے نمبر ۱۰۷ میں حلیہ ، تتمہ اور ذخیرہ کے حوالے سے ہم نے جو بیان کیاتھا اس کو یاد کرو ، وہ یہ کہ امام ابویوسف منظّف میں رقّت ختم ہونے کا اعتبار کرتے ہیں ان سے یہ ایك ہی روایت ہے جبکہ غیر منظّف کے بارے میں ان سے مروی روایات مختلف ہیں ، بعض روایات میں وہ یہاں رقّت کے خاتمہ کا اعتبار کرتے ہیں یہی روایت مشہور ہے۔ اور بعض روایات میں یہ ہے کہ وہ یہ شرط نہیں لگاتے اور صرف اوصاف کی تبدیلی کااعتبار کرتے ہیں یہ روایت ضعیف ہے اور امام محمد دونوں صورتوں میں غلبہ کیلئے رنگ کی تبدیلی کا اعتبار کرتے ہیں ، ان سے یہی مشہور روایت ہے۔ اور بعض روایات میں وہ

وکلتاھمامطلقۃ عن التفصیل بین المنظّف وغیرہ فای عتب علی من سوی بینھما تبعا لامامی مذھبہ وھماالمراٰن یقتدی بھما بعد الامام الاعظم رضی الله تعالٰی عنھم اجمعین والله تعالٰی اعلم۔

غلبہ میں رقت کے خاتمہ کا اعتبار کرتے ہیں اور انہوں نے منظف وغیر منظف کے فرق کے بارے میں کچھ نہیں فرمایا ، لہذا ، اگر بقول دونوں معترضین حضرات ، علّامہ شرنبلالی ، دونوں صورتوں کو امام ابویوسف اور امام محمد رَحِمَہُمُ اللہُ تَعَالٰی کی اتباع میں مساوی قرار دیں تو کیاقباحت ہے جبکہ امام اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکے بعدیہ دونوں امام ہی قابلِ اتباع ہیں۔ والله  تعالٰی اعلم۔ (ت)

بالجملہ قول مشہور ومسلك جمہوریہی ہے کہ طبخ میں وجہ منع زوال رقت ہے یہی ہے وہ کہ ہم نے ۲۱۷ میں تحقیق کیا والاٰن اقول :

(اور اب میں کہتا ہوں۔ ت) وبالله التوفیق(۱)(اور الله  کی توفیق سے۔ ت) اوپر معلوم ہوا کہ یہاں چار چیزیں ہیں :

(۱) اجزا ء (۲) اوصاف (۳) طبیعت (۴) اسم۔ اور اعتبار اجزاء تین وجہ پر ہے : مقدار ، طبیعت ، اسم۔ طبخ میں علتِ منع کثرتِ اجزا لینا تو محتمل نہیں کہ یہ کثرت ہوگی

 تو ابتدا سے نہ کہ بوجہ طبخ۔ یوں ہی تغیر لون وطعم وریح۔
 اولًا غالبًا قبل حصول طبخ ونضج ہوجائے گا تو اُسے بھی تغیر بالطبخ میں نہیں لے سکتے اور بعض جگہ کہ بعد تمامی طبخ ہو اسے علت قرار دینے پر عام مطبوخات تغیر بالطبخ سے نکل جائیں گے کہ ان میں تغیر وصف طبخ سے نہ ہوا۔

 ثانیًا : اس سب سے قطع نظر ہو تو اعتبار اوصاف مذہب صحیح معتمد کے خلاف ہے خود خانیہ میں اس کے خلاف کی تصحیح فرمائی ، کماتقدم مشروحافی ۱۰۱و۱۲۲فھٰذاردجدید(۲)علی مافی البحروالنھر(۳)مستندین الٰی عبارۃ الخانیۃ الحکم علی وجود ریح الباقلاء وجامع(۴) الرموز المعتبر تغیر اللون

(جیسا کہ واضح طور پر پہلے ۱۰۱ اور ۱۲۲ میں گزرا۔ پس یہ بحر اور نہر کے اُس بیان کی نئی تردید ہے جو خانیہ کی عبارت کی طرف منسوب ہے جس میں حکم کی بنیاد باقلیٰ کی بُو پر ہے نیز یہ جامع الرموز کی تردید ہے جس نے رنگ کی تبدیلی کا اعتبار کیا ہے۔ (ت)

ثم اعتبار(۵)الریح فیہ نظر فان محمدا الناظر الی الاوصاف لم یعتبرھا فی المشھور عنہ انما اعتبر اللون ثم الطعم

پھر تغیراوصاف میں بُو کا اعتبار محل نظر ہے کیونکہ خود امام محمد جنہوں نے اوصاف کا لحاظ کیا ہے بُو کا اعتبار نہیں کرتے ان سے مشہور روایت یہی ہے

ثم الاجزاء کما سیأتی ان شاء الله تعالٰی (۱) ولو سلم فلم القصر علیھا۔

کہ وہ صرف رنگ اور پھر ذائقہ اجزاء کا اعتبار کرتے ہیں جیسا کہ ان شاء الله  آئندہ آئےگا ، اور اگر بُو کے اعتبار کو تسلیم بھی کرلیا جائے تو بھی صرف اسی کا اعتبار کیوں۔ (ت)

 باقی رہے دو طبیعت واسم۔ اعتبار طبیعت تو وہی قول مذکور جمہور ہے اور امام زیلعی واتقانی نے اعتبارا سم ذکر فرمایا۔

ففی التبیین ماتغیر بالطبخ لایجوز الوضوء بہ لزوال اسم الماء عنہ وھو المعتبر فی الباب [1] اھ

ولما قال فی الھدایۃ ان تغیر بالطبخ لایجوز لانہ لم یبق فی معنی المنزل من السماء اذا النار غیرتہ [2]  اھ علله فی غایۃ البیان عــہ بزوال الاسم۔ تبیین میں ہے پکانے سے جو تغیر پانی میں پیدا ہوا اس سے وضو جائز نہیں ہے کیونکہ ایسی صورت میں پانی کا نام ختم ہوجاتا ہے اور پانی کی تبدیلی میں اس کے نام کی تبدیلی ہی معتبر ہے اھ اور یوں ہی ہدایہ کے قول کی بنیاد پر جس میں ہے کہ اگر پکانے  کی وجہ سے پانی میں تغیر پیدا ہوا تو اس سے وضو جائز نہ ہوگا کیونکہ اب وہ آسمانی پانی کی کیفیت پر نہیں رہابلالکہ آگ نے اس کو متغیر کردیا ہے اھ غایۃ البیان میں وضو جائز نہ ہونے کی علت زوالِ اسم کو قرار دیا ہے۔ (ت)

اقول : وہ اعتبار طبیعت کے منافی نہیں کہ تغیر طبع قطعًا موجب زوال اسم ہے مگر یہاں ایك دقیقہ اور ہے۔

فاقول : وبہ نستعین اوپر گزرا کہ طبخ(۲) میں کبھی پانی مقصود نہیں ہوتا تو یہاں زوال اسم بے زوال طبع نہ ہوگا لعدم صیرورتہ شیئا اخر لمقصود اٰخر (کیونکہ چیز دگر مقصد دگر کیلئے نہیں ہوئی۔ ت) اور کبھی خود بھی مقصود ہوتا ہے اس میں تین صورتیں ہیں : ایک : معہود کہ پانی قدر مناسب یا اس سے کم ہو یہ بعد طبخ طبع واسم دونوں میں متغیر ہوجائےگا۔

عــہ  بل فی نفس الھدایۃ وایضاالکافی فیماطبخ المنظّف فغلب علیہ لزوال اسم الماء عنہ ۱۲ منہ غفرلہ۔  (م)

بلالکہ خود ہدایہ اور کافی میں بھی ہے کہ وہ پانی جس میں ایسی چیز جو نظافت کیلئے مفید ہو ، کو پکایا اور وہ چیز غالب ہوجائے تو پانی کا نام تبدیل ہوجائےگا ۱۲ منہ غفرلہ۔ (ت)

دوم : اس درجہ کثیرو وافر ہوکہ شے مخلوط اس میں عمل نہ کرسکے اس سے نہ طبع بدلے گی نہ اسم کہ بوجہ افراط صالح مقصود آخر نہ ہوگا۔

سوم : زائد ہو مگر نہ اُس درجہ مفرط اس میں محتمل کہ زوالِ طبع نہ ہو اور نام بدل جائے مثلًا کہا جائے شوربا کس قدر زائد کردیا ہے بخلاف اس صورت کے کہ مثلًا دیگچہ(۱) بھر پانی میں چھٹانك بھر گوشت پکائیں اسے کوئی شوربا نہ کہے گا جمہور نے بلحاظ معہودزوال طبع پر اقتصار فرمایا اور ان بعض نے شمول غیر معہود کیلئے بلفظ تغیر تعبیر فرمایا جس سے تغیر اسم مقصود ہے نہ تغیر وصف کہ طبخ پر موقوف نہیں وقد اشرنا الی ھذا فی ۲۱۷ عند التوفیق بین قولھم اذابرد ثخن وقول الغنیۃ غالبا والله تعالٰی اعلم (ہم ۲۱۷ میں اس کی طرف اشارہ کرچکے ہیں جہاں پر ان کے قول “ اذابرد ثخن “ اور غنیہ کےقول “ غالبًا “ میں توفیق بیان کی ، والله  تعالٰی اعلم۔ ت)

اقول :  وبہ ظھر الفرق بین المنظف وغیرہ فانہ اذا زال الاسم حصل المنع ولایزول الاسم فی المنظف الابزوال الطبع بالفعل لانہ لایقصد بہ الامایقصد من الماء وھو التنظیف فھذا غایۃ التحقیق والله سبحٰنہ ولی التوفیق۔                 

میں کہتا ہوں اسی سے منظّف (یعنی نظافت والی چیز کو پکانے ) اور غیر منظّف کا فرق واضح ہوا ، کیونکہ پانی کانام بدل جانے پر وضو منع ہوجاتا ہے جبکہ منظّف میں نام کی تبدیلی اسی صورت میں ہوتی ہے جب بالفعل پانی کی طبع ختم ہوجائے ، کیونکہ خالص پانی اور منظّف دونوں کا مقصد نظافت کا حصول ہے ، یہ کامل تحقیق ہے الله  تعالٰی ہی توفیق کامالك ہے (ت)

بالجملہ حاصل تنقید وتنقیح یہ ہے کہ اگر کلام(۲) طبخ معہودسے خاص ہو تو مدار زوال طبع پر ہے اور یہی ہے وہ جسے عامہ کتب معتمدہ نے اختیار کیا اور اس وقت منظّف میں فرق یہ ہوگا کہ غیر منظف میں زوال بالقوۃ کافی ہے یعنی ٹھنڈی ہونے پر جرم دار ہوجائے اور منظف مثل صابون واُشنان میں زوال بالفعل درکار اور اگر معہودو غیر معہود سب کو شامل کریں تو مدار زوال اسم پر ہے خواہ صرف زوال طبع کے ضمن میں پایا جائے جبکہ پانی مقصود نہ ہو یا صرف چیز دیگر مقصد دیگر کیلئے ہوجانے کے ضمن میں جیسے طبخ غیر معہود میں جبکہ زیادت مفرطہ نہ ہو خواہ دونوں کے ضمن میں جہاں طبخ معہود اور پانی مقصود اس وقت بجائے زوال طبع تغیر کہیں گے امام دقیق النظر حافظ الدین



[1]   تبیین الحقائق  کتاب الطہارۃ الامیریہ بولاق مصر  ۱ / ۱۹

[2]   الہدایۃ باب الماء الذی یجوزبہ الوضو الخ  مطبع عربیہ بولاق مصر  ۱ / ۱۸

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن