30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اوّلًا اس لئے کہ مصنّف ، پانی کی طبع کے زوال کے بارے میں کلام فرما رہے ہیں اور زوالِ طبع ہر طرح وضو سے مانع ہے اس پر اجماع ہے لہٰذا اس ورت میں پانی کے پکانے کی قید بے معنی ہے اور یہ بات میں پہلے ۸۹ میں کہہ چکا ہوں۔
ثانیًا اس لئے کہ “ خروج عن طبع “ سے “ تغیر
تغیر وصفہ بالطبخ۔
وثالثًا : فرق بین بین طبخ المتغیر والتغیر بالطبخ والمتحقق فی ماء الباقلاء والحمص والزردج وامثالھا ھو الاول لان مجرد خلط بعضھا بالماء ومکث بعضھا فیہ مغیرلوصفہ والخلط والمکث متقدمان علی حصول الطبخ وھوالانضاج کماھومعلوم مشھود فلم یحصل التغیربالطبخ بل ورد الطبخ علی المتغیر وشتان ماھماوکذالاسبیل الی الاول اولًا یکون المعنی فان زال طبعہ بدون الطبخ یجوز التوضی بہ وھو بدیھی البطلان وثانیًا یبطل استثناء المنظف من المطبوخ فان زوال الطبع لاثنیا فیہ وثالثًا یتناقض الحکم والثنیافان قولہ الا اذاطبخ فیہ مایقصدبہ دل علی جواز التوضی بمازال طبعہ بطبخہ مع المنظف وھذا ھو الذی ابطلہ بالثنیاالاخیرۃ الا ان یغلب الخ فعلی کل من الوجھین ثلثۃ وجوہ من الاشکال ولم ارمن تعرض لشیئ من ھذا اوحام حولہ فضلاعمن رام حلہ وقد (۱) تبعہ علی الوجہ الاول فی الدرایۃ والشلبیۃ والکفایۃ والبنایۃ والدر فقال الاولان عنی بالتغیر الثخانۃ (الی قولھما[1] ) ھذا اذا لم
فی الاوصاف بالطبخ “ کیسے مراد لیا جاسکتا ہے؟
اور ثالثًا ، اس لئے کہ “ متغیر کو پکانے “ اور “ پکانے سے تغیر “ میں بڑا فرق ہے ، اور یہاں باقلٰی ، چنوں ، زردج وغیرہا کے پانی میں پہلی یعنی “ متغیر کا پکانا “ صورت پائی جاتی ہے کیونکہ ان میں سے بعض کے ملنے اور بعض کے پانی میں کچھ دیر پڑے رہنے سے ہی پانی متغیر ہوجاتا ہے اور اس کو پکانے کا مرحلہ بعد میں ہوتا ہے جس کو تیاری کا مرحلہ کہتے ہیں یہ بات مشاہدہ سے معلوم ہے پس یہاں طبخ سے تغیر نہ ہوا بلالکہ متغیر شدہ چیز پر طبخ واقع ہوا ہے ، اور ان دونوں میں فرق واضح ہے اسی طرح پہلی شق (یعنی تغیر الطبع ، مراد نہیں ہوسکتی) اوّلًا اس لئے کہ اس صورت میں معنی یوں ہوگا کہ اگر پکائے بغیر پانی کی طبع زائل ہوجائے تو وضو جائز ہے ، حالانکہ یہ بدیہی طور پر غلط ہے(کیونکہ زوال طبع کے بعد کسی صورت میں وضو جائز نہیں ہے)اور ثانیًا ، اس لئے کہ صفائی کی خاطر پکائی ہوئی چیز کا استثناء ، اس صورت میں درست نہ ہوگا کیونکہ زوال طبع بلااستثناء جس چیز سے بھی ہو تو وضو جائز نہیں ہے ، اور ثالثا اس لئے کہ اس صورت میں حکم اور استثناء دونوں ایك دوسرے کے مخالف ہونگے کیونکہ ہدایہ میں پہلے متغیر بالطبخ کے ساتھ وضو کو ناجائز قرار دے کر اس سے نظافت کے مقصد کیلئے پانی میں پکائی ہوئی چیز کو مستثنٰی کیا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ نظافت کی خاطر پانی میں پکائی ہوئی چیز جس سے پانی کی طبع
یکن المقصودبالطبخ المبالغۃ فی التنظیف فان کان کالاشنان والصابون یجوز الا ان یصیر کالسویق المخلوط لزوال اسم الماء عنہ [2] اھ ونحوہ فی التالیین ، وقال الدر لایجوز بماء زال طبعہ وھو السیلان بطبخ الا بما قصد بہ التنظیف فیجوز ان بقی رقتہ[3] اھ
والعجب (۱) اَنْ لم یتنبہ لہ الشراح السادۃ (۲)حتی ط الاٰخذ علی المراقی بمایأت (۳) وقد اغتربہ الفاضل عبدالحلیم اذقال لااختلاف فی عدم جواز التوضی بماء زال طبعہ بالطبخ بخلاف مازال طبعہ بالخلط من غیرطبخ[4] اھ
ویا سبحٰن الله من ذا الذی اجاز الوضوء بماء زال طبعہ ھذالایساعدہ عقل ولانقل وقدمرفی رابع ابحاث زوال الطبع انہ لایجوز بالاجماع بلا خلاف [5] اھ
ختم ہوچکی ہو ، سے وضو جائز ہو حالانکہ یہی وہ صورت ہے جس کو دوبارہ استثناء سے باطل کیا ہے اور یوں کہا الا ان یغلب الخ (یعنی نظافت کی خاطر پانی میں پکائی ہوئی چیز سے وضو اس شرط کے ساتھ جائز ہے کہ وہ نظافت والی چیز پانی پر غالب نہ ہو یعنی اس چیز نے پانی کی طبع کو زائل نہ کیا ہو) پس ہدایہ کی عبارت میں دونوں احتمال تین تین وجوہ سے اشکال کے حامل ہیں ، میری نظر میں ان اشکال میں سے کسی ایك کو بیان کرنے یا ان کے قریب پھٹکنے والا کوئی نہیں چہ جائیکہ وہ ان کا حل پیش کرے ، ہدایہ کی عبارت ، تغیر بالطبخ کے دو احتمالوں میں سے پہلے احتمال کو درایہ ، شلبیہ ، کفایہ ، بنایہ ، اور دُر میں ذکر کیا گیا ہے ، پہلی دونوں کتب یعنی درایہ اور شلبیہ نے کہا کہ ہدایہ نے تغیر سے گاڑھا پن مراد لیا ہے اور اس کو آخر تك یوں بیان کیا ، یہ اس صورت میں ہے جب پکانے میں نظافت کا مبالغہ مقصود نہ ہو اور اگر یہ مقصد ہو تو پھر وضو جائز ہے جیسے اشنان اور صابون وغیرہ سے ، بشرطیکہ اس صورت میں اشنان وصابون کی وجہ سے پانی مخلوط ستّوؤں کی طرح نہ بن جائے کیونکہ ایسا ہوجانے پراس کوپانی نہیں کہا جاتا اھ ، اور اسی طرح کا بیان دوسری دونوں کتب یعنی کفایہ اور بنایہ میں ہے ، اوردُرنے یوں کہا ایسے پانی سے وضو ناجائز ہے پکانے سے جس کی طبع زائل ہوچکی ہو اور وہ طبع ، پانی کا سیلان ہے ، مگر جب پانی میں پکانے سے مقصد صفائی مقصود ہو تو وضو جائز ہوگا بشرطیکہ پانی کی رقت باقی ہو اھ اور تعجب ہے کہ سید شارح حضرات بھی اس اشکال کی طرف متوجہ نہ ہوئے حتی کہ
وانا اقول(۱) وبالله التوفیق وجھد المقل دموعہ یبتنی کشف الغمۃ بعونہ تعالٰی علی تقدیم مقدمات فاعلم۔
اوّلًا : ان قول المتن ماء غلب علیہ غیرہ فاخرجہ عن طبع الماء لابدفیہ من التجوزوذلك لانہ جعلہ خارجا عن طبع الماء ثم سماہ ماء وماء خرج عن طبعہ حقیقۃ لایبقی ماء لماتقدم ان الطبع لازم الذات فتنتفی بانتفائہ وقد افادالمحقق علی الاطلاق فی الفتح ان ماسلب رقتہ لیس ماء اصلاکمایشیرالیہ قول المصنف فی المختلط بالاشنان فیصیرکالسویق لزوال اسم الماء عنہ [6] اھ فلابدمن التجوزامافی الماء سماہ ماء باعتبارماکان وامافی الخروج سمی قرب الخروج خروجاوالثانی (۲) اکثر واقرب لان الاٰتی قریبا احق بالاعتبار من الفائت الساقط وایضًا موضوع
طحطاوی بھی جنہوں نے مراقی الفلاح پر گرفت کی جو آئندہ آئے گی ، اور یہاں فاضل عبدالحلیم کو غلط فہمی ہوئی جہاں انہوں نے کہاکہ پکانے کی وجہ سے جس پانی کی طبع زائل ہوجائے تو اس سے وضو کے ناجائز ہونے میں کوئی اختلاف نہیں ہے اس کے برخلاف جبکہ بغیر پکائے کسی چیز کے خلط سے پانی کی طبع زائل ہوجائے تو وضو جائز ہے اھ۔ یا سبحان الله وہ کون ہے جو زوالِ طبع کے بعد بھی پانی سے وضو کو جائز قرار دیتا ہو ، یہ ایسی بات ہے جو عقل ونقل کے مخالف ہے ، اور زوالِ طبع کی چوتھی بحث میں یہ بات گزر چکی ہے کہ زوالِ طبع کے بعد وضو جائز نہیں ہے بلااختلاف یہ بات سب کو مسلّم ہے اھ (ت)
میں کہتا ہوں الله تعالٰی سے ہی توفیق ، اور اس اشکال کی پریشانی کو کم کرنے والی کوشش ہے۔ اس اشکال کے حل کی بنیاد چند مقامات پر ہے۔
اوّلًا یہ سمجھو کہ ہدایہ کے متن میں یہ قول “ ماء غلب علیہ غیرہ فاخرجہ عن طبع الماء “ جس پانی میں کوئی چیز مل کر اس پر غالب ہوکر اسے طبع سے خارج کردے ، اس قول میں مجاز لازمی ہے کیونکہ یہاں پانی کی طبع ختم ہوجانے کے باوجود اس کو پانی کہاگیا ہے حالانکہ پانی کی طبیعت ختم ہوجانے کے بعد وہ پانی نہیں رہتا ہے اس لئے کہ وہ بات پہلے کہی جاچکی ہے کہ طبع پانی کی ذات کو لازم ہے تو لازم کے ختم ہونے پر ذات کا خاتمہ ضروری ہے محقق مطلق نے فتح القدیر میں یہ واضح کیاہے کہ جب رقّت ختم ہوجائے تو وہ پانی نہیں رہتا ، جیسا کہ مصنف نے کہا ستوؤں کی طرح گاڑھا ہونے والے اس پانی کو جس میں اشنان ملا ہو ، کے بارے میں کہاکہ اس کا نام پانی نہیں ہوگااھ ، لہٰذا یہاں مجاز ماننا ضروری ہے یہ مجاز لفظ ماء
الباب الماء الذی یجوز بہ الوضوومالاوایضا ھو اکثر فائدۃ لان الاعلام بماء لایجوز الوضوء بہ اھم من منع الوضوء بمالیس بماء۔
[1] شلبیہ علی التبیین کتاب الطہارۃ الاسلامیہ بولاق مصر ۱ / ۱۹
[2] الہدایۃ باب الماء الذی یجوزبہ الوضو الخ مطبع عربیہ کراچی ۱ / ۱۸)
[3] درمختار باب المیاہ مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۳۷
[4] حاشیۃ الدرر للمولی عبدالحلیم کتاب الطہارۃ عثمانیہ بیروت ۱ / ۱۸ ، و خلاصۃ الفتاوٰی ماء المقید نولکشور لکھنؤ ۱ / ۹
[5] بدائع الصنائع ماء المقید سعید کمپنی کراچی ۱ / ۱۷
[6] فتح القدیر الماء الذی یجوزبہ الوضوء الخ نوریہ رضویہ سکھر ۱ / ۶۵
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع