دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 3 | فتاوی رضویہ جلد ۳

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۳

فان قلت الیس ان البحر حمل التغیر المذکور فی المتن علی زوال الاسم بالثخونۃ کماتقدم فی ۷۷ ولاشك ان قولہ بالطبخ داخل تحت ھذا التغیر فیکون المعنی اوثخن بالطبخ فلم لم تحتجّ علی البحر یقول نفسہ۔

اقول :  لو ان یقول معنی التغیر ھو التقیید غیر انہ فی الاوراق بالثخن ففسرتہ بہ ھناك وفی الطبخ بنفسہ اماکلام الفقیر ھھنا فمبنی علی التحقیق والیہ اشرت بقولی وتأویل البحر قدعلمت مافیہ فافھم  منہ غفرلہ۔  (م)                     

اگر تو اعتراض کرے کہ کیا بحر نے متن کی تفسیر میں تغیر سے مراد پانی کے نام کی تبدیلی گاڑھے پن کی وجہ سے نہیں لی؟ جیسا کہ نمبر ۷۷ میں گزرا ، اور اس میں شك نہیں کہ اس کا قول “ بالطبخ “ بھی اس کے تحت ہے تو اب معنی یہ ہوا اوثخن بالطبخ یا پکانے سے گاڑھا ہوجائے تو آپ بحر کا رد خود اس کے اپنے قول سے کیوں نہیں کرتے؟

تو میں جواب دیتا ہوں کہ بحر یہ کہہ سکتے ہیں کہ تغیر سے میری مراد تقیید یعنی پانی کو مقید کرنا ہے مگر اوراق (پتّوں) میں یہ تقیید گاڑھے پن سے ہوتی ہے اس لئے میں نے وہاں تغیر کی تفسیر گاڑھے پن سے کی ہے ، لیکن مجھ فقیر کا یہ کلام محض تحقیق پر مبنی ہے جس کی طرف میں نے (تاویل البحر قدعلمت مافیہ)بحر کی تاویل میں اعتراض تمہیں معلوم ہے ، کہہ کر اشارہ کیا تھا ، فافہم ۱۲ منہ غفرلہ۔

فی الطبخ ایضا (۱) وثانیا بما سمعت ان الثخن لازم الطبخ عادۃ (۲) وثالثا اعلمناك فی ۲۱۷ ماٰل کلام الخانیۃ ھذا واجاب الحموی ثم ابو السعود عن اشکال النھر انہ یشکل ان لوکان مختار المصنّف ان التغیر بکثرۃ الاوراق بالثخن ولیس کذلك لمامر من ان ظاھر قولہ وان غیر طاھر احد اوصافہ انہ لوغیر اوصافہ الجمیع لایجوز وان لم یصر ثخینا[1] اھ۔

اقول :  اولا (۱) لیس الاولی بنا ان نحمل کلام الائمۃ علی الضعیف المھجور مع صحۃ المعنی الصحیح الموافق للجمھور وحدیث احد الاوصاف یأتی مافیہ

بعون الله تعالٰی۔

وثانیا :  (۲) الامام النسفی حافظ الدین صاحب الکنز ھو القائل فی مستصفاہ ان اعتبار احد الاوصاف خلاف الروایۃ الصحیحۃ [2] کما تقدم فی ۱۰۱۔ (۴)  اصلاح اقول کان الاولی بہ الحمل علی مایوافق النصوص المتواترۃ

نصوص کا تواتر تمہیں معلوم ہے اور ثانیًا اس لئے کہ تم سن چکے ہو کہ گاڑھا پن ، طبخ کو عادتًا لازم ہے اور ثالثا اس لیے کہ ہم نے خانیہ کے اس کلام کا ماحاصل ۲۱۷ میں آپ کو بتایا تھا اور حموی اور پھر ابوسعود نے نہر کے اشکال کا یہ جواب دیا کہ اشکال تب ہوتا جب مصنّف کثرتِ اوراق میں تغیر کی وجہ سے گاڑھا ہونے کو قرار دیتے حالانکہ ایسا نہیں جیسا کہ گزرا کہ ان کے قول (وان غیر طاھر احد اوصافہ) کا ظاہری مفہوم یہ ہے کہ اگر کوئی پاك چیز پانی کے تمام اوصاف کو متغیر کردے تو وضو جائز نہیں اگرچہ وہ گاڑھا نہ ہو اھ (ت)

میں کہتا ہوں اوّلًا ، ہمارے لئے مناسب نہیں کہ ائمہ کرام کے کلام کو کسی ضعیف اور متروك پر محمول کریں جبکہ اس کا صحیح اور جمہور کے موافق معنی درست ہوسکتا ہو ، جس حدیث میں پانی کے کسی ایك وصف کی تبدیلی کا ذکر ہے اس کے بارے میں الله  کی مدد سے آئندہ بحث آئے گی۔

اور ثانیاکنز کے مصنف امام حافظ الدین نسفی نے اپنی مستصفیٰ میں کہا ہے کہ کسی ایك وصف کی تبدیلی والی روایت صحیح روایت کے خلاف ہے جیسا کہ ۱۰۱ میں گزرا۔

اصلاح ، میں کہتا ہوں کہ اس کو نصوص متواترہ کے موافق معنی پر محمول کرنا بہتر ہے ، لیکن علامہ

لکن العلامۃ الو زیر رحمہ الله تعالٰی قال فی منھواتہ من ھھنا علم ان المعتبر فی صورۃ الطبخ تغیر الماء بہ لاخروجہ عن طبعہ کمایفھم من قول تاج الشریعۃ اوبطبخ کیف والمرق لایجوز بہ الوضوء مع انہ انما وجد فیہ تغیر الماء بالطبخ لاخروجہ عن حدالرقۃ والسیلان[3] اھ

اقول :   (۱) اولا مایفھم من تاج الشریعۃ(۲) بل الذی ھو نصہ ھو الموافق لمتواترات النصوص وثانیا (۳) مااستند الیہ من المرق قد جعلہ القدوری والھدایۃ والوقایۃ والملتقی والغرر والتنویر وغیرھا مماغلب علیہ غیرہ فاخرجہ عن طبع الماء [4] وتقدم اٰنفا قول البنایۃ وقیل العنایۃ بالثخونۃ یصیر مرقا[5] وثالثا (۴) قد علمت ان الثخن لازم الطبخ عادۃ (۵) و رابعا قدعرفت معنی الرقۃ ولاشك ان المرق اذاسال لاینبسط کلافقد تجسد۔                                    

وزیر رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِنے اپنی منہیات میں فرمایا کہ “ یہاں سے معلوم ہوا کہ پکانے کی صورت میں پانی کا تغیر معتبر ہے پانی کا اپنی طبع سے نکلنا مراد نہیں جیسا کہ تاج الشریعۃ کے اس قول سے مفہوم ہے جس میں انہوں نے فرمایا کہ یا پکانے سے متغیر ہو ، تو اس سے وضو کیسے جائز ہو ، حالانکہ شوربے سے وضو جائز نہیں باوجود یکہ اس میں پکانے کی وجہ سے تغیر پایا جاتا ہے وہ تغیر ایسا نہیں کہ جس کی وجہ سے پانی رقت وسیلان کی حد سے نکل جائے اھ (ت)

میں کہتا ہوں اوّلًا تاج الشریعۃ کے کلام سے یہ نہیں سمجھا جاتا بلالکہ انہوں نے جو نص کے طور پر بیان کیا وہ تو نصوص متواترہ کے موافق ہے اور ثانیًا یہ کہ شوربے کے بارے میں انہوں نے تاج الشریعۃ کی طرف جو منسوب کیا اس کو قدوری ، ہدایہ ، وقایہ ، ملتقیٰ ، غرر اور تنویر وغیرہا نے اس صورت میں سے بنایا جس میں غیر کے غلبہ کی بنا پر پانی اپنی طبع سے نکل جاتا ہے ، اور ابھی بنایہ کا قول اور عنایہ کا قیل گزرا کہ گاڑھے پن کی وجہ سے شوربا بنتا ہے ، ثالثًا یہ کہ آپ کو معلوم ہوچکا ہے کہ عادی طور پر گاڑھا پن ، طبخ کو لازم ہے ، اور رابعًا  آپ کو رقت کا معنی معلوم ہوچکا ہے اور اس میں شك نہیں کہ شوربا جب بہتا ہے تو وہ پوری طرح پھیلتا نہیں۔ (ت)

(۱)اکمال فی بیان الاشکال وحلہ بفضل الملك المفضال٭ کان فی متن الھدایۃ لاتجوز بماء غلب علیہ غیرہ فاخرجہ عن طبع الماء کماء الباقلاء والمرق وماء الزردج [6] فقال فی الھدایۃ المراد بماء الباقلاء وغیرہ ماتغیر بالطبخ فان تغیر بدون الطبخ یجوز التوضی بہ ثم قال مستثنیا عما تغیر بالطبخ الا اذا طبخ فیہ مایقصد بہ المبالغۃ فی النظافۃ کالاشنان الا ان یغلب علی الماء فیصیر کالسویق المخلوط لزوال اسم الماء عنہ [7]  اھ

اقول :  وفیہ عندی اشکال قوی وذلك لان المراد بالتغیر بالطبخ اماتغیر الطبع اوتغیر الاوصاف لاسبیل الی الثانی۔

اوّلًا لان کلام المتن فی زوال الطبع وھو مانع مطلقًا بالاجماع ففیم التقیید بالمطبوخ وھذا ماقدمتہ فی ٨٩۔

وثانیًا :  کیف یراد بخروجہ عن طبعہ                اشکال اور اس کے حل کا بیان الله  تعالٰی کے فضل سے ، ہدایہ کے متن میں ہے کہ ایسے پانی سے وضو جائز نہیں جس پر غیر کا غلبہ ہوا ہو اور پانی کو اپنی طبع سے خارج کردیا ہو ، جیسا کہ شوربا ، زردج اور باقلاء کا پانی ، اس پر ہدایہ میں کہا کہ ماء الباقلا وغیرہ سے مراد ، پکانے سے متغیر ہونے والا پانی ہے اور اگر پکائے بغیر پانی متغیر ہوجائے تو اس سے وضو جائز ہے ، پھر انہوں نے پکانے کی وجہ سے متغیر ہونے والے پانی میں سے استثناء کرتے ہوئے فرمایا ، مگر وہ پانی جس میں ایسی چیز پکائی گئی ہو جس سے صفائی میں مبالغہ مقصود ہو جیسے اشنان ، اِلّا یہ کہ اس پر اشنان غالب ہو کر مخلوط ستّو کی طرح بنادے (یعنی گاڑھا کردے) تو وضو جائز نہ ہوگا کیونکہ اس صورت میں اس کا نام پانی نہیں رہتا اھ (ت)

میں کہتا ہوں ، میرے نزدیك ہدایہ کی عبارت میں قوی اشکال ہے ، اس لئے کہ تغیر بالطبخ سے کیا مراد ہے تغیر الطبع ہے یا تغیر الاوصاف ، دوسرا یعنی تغیر الاوصاف مراد نہیں ہوسکتا۔

 



[1]   فتح المعین  کتاب الطہارۃ  ایچ ایم سعید کمپنی کراچی  ۱ / ۶۳

[2]   مستصفی

[3]   اصلاح للعلامہ وزیر ابن  کمال پاشا

[4]   الہدایۃ الماء الذی یجوزبہ الوضوء الخ عربیہ کراچی ۱ / ۱۸

[5]   العنایۃ مع الفتح  الماء الذی یجوزبہ الوضوء الخ  نوریہ رضویہ سکھر  ۱ / ۶۲

[6]   الہدایۃ  الماء الذی یجوزبہ الوضوء الخ  عربیہ کراچی  ۱ / ۱۸

[7]   الہدایۃ  الماء الذی یجوزبہ الوضوء الخ  عربیہ کراچی  ۱ / ۱۸

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن