30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
پکانے کی بناء پر تغیر سے انہوں نے گاڑھا اور غلیظ مراد لیا ہے اھ اس کی پوری بحث ۲۱۷ میں گزر چکی ہے۔ (ت)
کفایہ میں ہے :
عنی بالتغیر الثخونۃ حتی اذاطبخ ولم یثخن بعد بل رقۃ الماء باقیۃ جاز الوضوء بہ ذکرہ الناطفی کذا فی فتاوٰی قاضی خان [1]۔
پکانے کےسبب تغیر سےانہوں نے گاڑھا ہونا مراد لیا ہےحتی کہ اگر پکایا اور گاڑھا نہ ہوا اور اس میں رقت باقی تھی تو اس سے وضو جائز ہوگا اس کو ناطفی نےذکر کیا ہےفتاویٰ قاضیخان میں ایسےہی ہے (ت)
بنایہ میں ہے :
م تغیر بالطبخ ش بان صار ثخینا حتی صار کالمرق حتی اذا طبخ و لم یثخن
متن میں تغیر بالطبخ پر شارح نے کہا کہ وہ گاڑھا ہوجائے حتی کہ شوربے جیسا ہوجائے لیکن اگر پکایا اور گاڑھا
ورقۃ الماء فیہ باقیۃ یجوز الوضوء بہ [2]۔
نہ ہوا اور اس میں رقت باقی ہو تو اس سے وضو جائز ہے۔ (ت)
اسی طرح امام اکمل نے عنایہ میں نقل کرکے مقرر رکھا۔
ولو بلفظۃ قیل اذقال قولہ تغیر بالطبخ قیل المراد بالتغیر الثخونۃ فانہ یصیر مرقا [3]۔
اگرچہ قیل کے لفظ کے ساتھ ہے جبکہ انہوں نے ماتن کے قول تغیر بالطبخ پر کہا ، بعض نے کہا کہ اس تغیر سے مراد گاڑھا ہونا ہے کیونکہ وہ شوربا بن جاتا ہے۔ (ت)
اسی طرح غایۃ البیان میں ہے یہ تو عام بحث تھی رہی ان میں ہر کتاب پر خاص نظر۔
(۱) ہدایہ اقول متن میں زوال طبع تھا شرح نے اُسے مقرر رکھ کر آبِ باقلاء وغیرہ سے مطبوخ مراد لیا پھر ان تغیر بالطبخ لایجوز التوضی بہ [4] (اگر پکانے سے متغیر ہوجائے تو اس سے وضو جائز نہیں۔ ت) فرمایا لاجرم وہی تغیر معہود ومقصود ھذا مایقتضی بہ موافقۃ الشرح لمشروحہ لکن فیہ اشکال قوی سنعود الی بیانہ اٰخر ھذا البحث بعونہ تعالٰی(شرح اور مشروح کی موافقت کا یہی تقاضا ہے لیکن اس میں ایك قوی اشکال ہے اس کو بیان کریں گے بحث کے آخر میں اِن شاء الله تعالٰی۔ ت)
(۲) نقایہ اقول اس کی اصل وقایہ میں زوال طبع ہے اور خود امام صاحب نقایہ نے شرح میں اعتبار رقت کی تصریح فرمائی اگر کہیے ممکن کہ نقایہ میں رائے کو تغیر ہوا کہ جانب تغیر گئی اقول تالیف شرح تصنیف نقایہ سے متأخر ہے کمالایخفی علی من طالعہ (اس پر مخفی نہیں جس نے اس کا مطالعہ کیا ہے۔ ت) اگر کہئے پھر تغیر سے تغییر کیوں فرمائی اقول وہی اشارہ غامضہ کہ ہم نے ۲۱۷ میں بیان کیا کہ طبخ میں زوال رقت کا بالفعل ظہور ضرور نہیں بلالکہ اس قابل ہوجانا کہ ٹھنڈا ہوکر رقیق نہ رہے کماتقدم التنصیص علیہ من الائمۃ الجلۃ وبہ اندفع مافی شرح نقایۃ البرجندی من الاستشھاد علی التغایر بجعل التغیر قسیم زوال الطبع کماقدمناہ ثمہ(جیساکہ اس پر جلیل القدر ائمہ کرام کی تصریح گزر چکی ہے اور اسی سے علامہ برجندی کی شرح نقایہ میں تغایر کیلئے تغیر کو زوال طبع کے مقابل قرار دینے کو دلیل بنانے کا اعتراض ختم ہوگیا ، جس کو ہم نے وہاں ذکر کردیا تھا۔ ت)
(۳ ، ۴) کنزو وافی اقول اُن میں بالطبخ کا عطف بکثرۃ الاوراق پر ہے اور وہاں تغیر طبع ہے مراد تو بالطبخ اس کے نیچے داخل وتاویل عــہ البحر قدعلمت مافیہ اعترف بھذا فی النھرو
عـــہ : تذکر ماتقدم فی ۲۱۷ من حمل البحر التغیر علی تغیر الاطلاق وقولی انہ لایتمشی فی عبارۃ النقایۃ والاصلاح۔
فان قلت ھلا قلت وفی نفس الکنز فان المفاھیم معتبرۃ فالکتب فاذا حمل التغیر علی تغیر الاطلاق کان المعنی لایجوز الوضوء بماتغیر عن اطلاقہ بالطبخ امالوتغیر عنہ بغیر الطبخ جاز وھو باطل۔
اقول : (۱) عبارۃ الکنز وان احتملت المفھوم احتملت ان یکون الطبخ مطلقًاعلۃ موجبۃ لتغیر الاطلاق وحصول التقیید وان لم یتغیرالشیء ادعی البحر والمعلول لایتخلف عن علتہ فلایکون لھا مفھوم من ھذہ الجھۃ کأن تقول لایتوضؤ بماء غُلب بکثرۃ اجزاء الممازج فلایحتمل انہ وجدت کثرۃ ولم یغلب بھا جاز بہ الوضوء لاستحالۃ انفکاك الغلبۃ عنھا۔
بحر کے اس قول جس میں انہوں نے “ تغیر “ سے اطلاق کا تغیر مراد لیا ہے جو نمبر ۲۱۷ میں گزرا ، اور میرے اس قول کو جس میں کہا تھا کہ یہ بات نقایہ اور اصلاح کی عبارت میں درست نہیں ہوگی ، کو یاد کرو۔
اگر تو اعتراض کرے کہ تم نے اس بارے کنز کا ذکر کیوں نہیں کیا ، حالانکہ کتب فقہ میں مفہومات کا اعتبار ہوتا ہے پس جب طبخ والے تغیر سے مراد ، اطلاق کا تغیر ہے تو پھر معنی یوں ہوگا کہ پکانے کی وجہ سے جو تغیر پانی کے اطلاق میں پیدا ہوا ہے اس سے وضو جائز نہ ہوگا ، اور اگر یہ اطلاق کا تغیر بغیر پکائے حاصل ہو تو اس سے وضو جائز ہوگا حالانکہ یہ باطل ہے۔
میں کہتا ہوں کہ کنز کی عبارت میں اگر مفہوم کا احتمال ہے تو اس میں یہ احتمال بھی ہے کہ طبخ علی الاطلاق تغیر اطلاق کی علتِ مؤثرہ قرار پائے اور مطلق پانی کو مقید کرنے کی علّت بن جائے ، اگرچہ طبخ کے ساتھ کوئی تغیر پیدا نہ ہو ، جیسا کہ بحر نے دعویٰ کیا ہے تو اب کوئی مفہوم پیدا نہ ہوگا کیونکہ کوئی معلول اپنی علت سے جُدا نہیں ہوسکتا ہے ، یہ یوں ہوا جیسے تم کہو کہ پانی میں ملنے والی چیز کے اجزاء کی کثرت ہونے پر وضو جائز نہیں ، تو یہاں مفہوم مخالف پیدا نہیں ہوتا ، کہ یوں کہا جاسکے کہ کثرت بغیر غلبہ اگر پائی جائے تو وضو جائز ہوگا ، کیونکہ کثرت اجزاء غلبہ کیلئے علت موثرہ ہے جس کا جدا ہونا محال ہے۔ (باقی برصفحہ آیندہ)
استشکلہ علی تقدیر الاخذ بما فی الخانیۃ من البناء علی وجود ریح الباقلاء فقال کمانقل عنہ ابو السعود علی ھذا یشکل عطف الطبخ علی ماتغیرہ بکثرۃ الاوراق لما علمت ان التغیر بکثرۃ الاوراق بالثخن وھذا بنفس الطبخ سواء ثخن اولا [5] اھ
(بحر کی تاویل کی کمزوری تمہیں معلوم ہوچکی ہے اور نہر میں اس کا اعتراف ہوچکا ہے اور انہوں نے خانیہ کے اُس بیان کو جس میں انہوں نے طبخ کے تغیر پر باقلا کی بُو کو دلیل بنایا ہے پر اشکال وارد کیا ہے اور یوں کہا کہ ماتغیرہ بکثرۃ الاوراق پر طبخ کے عطف کرنے سے اعتراض پیدا ہوگا ، کیونکہ کثرتِ اوراق (پتّوں کی کثرت) سے گاڑھا ہونے کی وجہ سے تغیر ہوتا ہے اور یہ محض پکانے سے تغیر ہوگا ، گاڑھا ہو یا نہ ہو ابوسعود نے ان سے یوں ہی نقل کیا ہے اھ۔ ت)
اقول : والاشکال مدفوع (۱) اولا بماعلمت من تواتر النصوص علی اعتبار الثخن
میں کہتا ہوں یہ اشکال مدفوع ہے اولًا اس لئے کہ طبخ میں بھی گاڑھے پن کا اعتبار ہے جس پر
(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)
[1] الکفایۃ مع الفتح الماء الذی یجوزبہ الوضوء مطبعہ نوریہ رضویہ سکھر ۱ / ۶۲
[2] البنایۃ الماء الذی یجوزبہ الوضوء الخ ملک سنز فیصل آباد ۱ / ۱۸۹
[3] العنایۃ مع الفتح الماء الذی یجوزبہ الوضوء الخ مطبعۃ نوریہ رضویہ سکھر ۱ / ۶۲
[4] الہدایۃ الماء الذی یجوزبہ الوضوء الخ مطبعۃ عربیہ کراچی ۱ / ۱۸
[5] فتح الله المعین کتاب الطہارت ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۶۳
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع