دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 3 | فتاوی رضویہ جلد ۳

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۳

خلط کا ذکر کیا گیا)کو وضاحت کیلئے تجرید قرار دیں گے (یعنی طبخ کو خلط کے معنی سے خالی کرنے کے بعد خلط کو ذکر کیا ہے) اور اسی معنی کی بنا پر عنایہ اور بنایہ کے اس قول کو ضعیف قرار دیا گیا ہے جس میں انہوں نے طبخ کو خلط کے ساتھ ذکر کرنے کو قید قرار دیا اور کہا کہ طبخ کو خلط کے ساتھ مقید کرنے کا مطلب یہ ہے کہ اگر پانی اکیلا پکایا جائے اور متغیر ہوجائے تو اس سے  وضو جائز ہے اھ (یہ تضعیف اس لئے کہ خلط ، طبخ کے معنی کا جز ہے اس کو قیدبنانا درست نہیں) اور اسی بنا پر مسکین کے قول “ کسی پاك چیز کے ساتھ پکنے سے پانی میں تغیر الخ “ پر حموی کے اس قول کو ضعیف قرار دیا گیا ہے جس میں انہوں نے کہا کہ مسکین نے طبخ کے ساتھ غیر کے خلط کا ذکر کرکے مصنف کے کلام کو درست کیا ہے کیونکہ خلط کے بغیر طبخ ، وضو سے مانع نہیں ہے ، حموی کے اس قول پر سید ازہری نے یہی اعتراض کیا اور درست کیا والله  تعالٰی اعلم بالصواب (ت)

(۲) جو چیز آگ پر رکھی جائے بالطبع نرم ہو کہ آگ کا اثر جلد قبول کرسکے جس سے اس کے اجزامتخلخل ہوجائیں پہلے جو صلابت تھی باقی نہ رہے خامی جاکر استعمال مطلوب کے لئے مہیا ہوسکے لوہے یا پتھر کنکر کو تنہا یا پانی میں ڈال کر آگ پر رکھنے کو پکانا نہ کہیں گے وھذا حاصل بنفس مدلول الانضاج کمالایخفی (اور یہی حاصل ہے مکمل طور پر پکنے کا ، جیسا کہ مخفی نہیں۔ ت)

(۳) صرف اُس شے کا یہ قابلالیت رکھنا کافی نہیں یہاں کہ آگ پر رکھی جائے کہ یہ امور بالفعل حاصل ہوجائیں اگر پہلے ہی جُدا کرلی گئی پکانا نہ کہیں گے بلالکہ کچا رکھنا۔

(۴) بعد حصول اتنی دیر نہ ہو کہ زائل ہوجائیں اگر اثر نار اور بڑھاکہ استعمال مطلوب کی صلاحیت سے نقل گئے تو پکانا نہ کہیں گے بلالکہ جلانا وھذا التوسط ھوالانضاج (یہ واسطہ وہ تیار ہونا ہے۔ ت)

(۵) پکانے کو ضرور ہے کہ وہ شے مقصود ہو اگر پانی میں جوش دینے سے مقصود صرف پانی ہے مثلًا اس کی اصلاح ورفع غائلہ وغیرہ کے لئے دوسری شے کا صرف اثر لے کر پھینك دیناتو اسے اس چیز کا پکانا نہ کہیں گے زخم دھونے کیلئے پانی میں نیم ڈال کر جوش دینے کو نہ کہا جائے گا کہ نیم کی پتّی باریك رہے ہیں۔

تنبیہ پانی میں پکانے سے کبھی پانی بھی مقصود ہوتا ہے جیسے شوربا دار گوشت مگر یہ طبخ کیلئے لازم نہیں جیسے پانی میں شنجرف پکاتے نشاستہ کیلئے گیہوں آش کیلئے جَواور وہ پانی پھینکے اور یہ چھ چھ بدلے جاتے ہیں امامافی المغرب قال الکرخی الطبیخ مالہ مرق وفیہ لحم اوشحم فاماالقلیۃ الیابسۃ ونحوھا فلا [1] اھ (مغرب میں ہے کہ کرخی نے فرمایاطبیخ وہ ہے جس میں شوربا اور اس کے ساتھ گوشت اور چربی ہو لیکن خالص مشك بھُونی ہوئی چیز وغیرہ کو طبیخ نہیں کیا جائےگا۔ ت)

فاقول :  فی خصوص اللفظ لاعموم الطبخ (۱)کالشریب لماء لیس فی عذوبۃ وقد یشرب علی مافیہ والشروب ادون منہ ولایشرب الاضرورۃ کمافی التاج عن التہذیب عن ابی زید قال ومثلہ حکاہ صاحب کتاب المعالم وابن سیدہ فی المخصص والمحکم [2] اھ فھو فی خصوص اللفظین لافی الشرب والشراب وسائر مشتقاتہ۔

پس میں کہتا ہوں خاص طبیخ لفظ کے بارے میں یہ قول ہے ورنہ عام طبخ میں یہ خصوصیت نہیں ، جیسا کہ شریب خاص ایسے مشروب کو کہا جاتا ہے جس میں میٹھا نہ ہو حالانکہ میٹھا بھی مشروب ہوتا ہے اور لفظ شروب اس سے بھی کم درجہ ہوتا ہے جس کو صرف ضرورت کے وقت پیا جاتا ہے اس کو تاج العروس میں تہذیب کے حوالہ سے ابوزید سے نقل کیا اور اس نے کہا کہ اس کو کتاب المعالم اور ابن سیدہ نے مخصص اور محکم میں بیان کیا ہے اھ لہٰذا یہ خاص معانی لفظِ “ شریب “ اور “ شروب “ کے بارے میں ہیں اس مادہ سے دوسرے مشتقات شرب ، شراب وغیرہ کیلئے یہ خصوصیات نہیں ہیں۔ (ت)

بحث دوم : طبخ میں منع کس وجہ سے ہے ۲۱۷(۲) میں طبخ کی بحث گزری اور یہ کہ اس میں عبارات مختلف آئیں اور یہ کہ طبخ موجب کمال امتزاج ہے ذ ی جرم شے معتدبہ کا پانی سے کامل امتزاج ضرور اس کی رقت میں فرق لائےگا ، اور یہ کہ یہی مآل جملہ عبارات مذکورہ ہے اور یہ کہ امام۱ ناطفی وعامہ کتب جامع۲ کبیر ومنیہ۳ وینابیع۴ وتبیین۵ وفتح القدیر۶ وتجنیس۷ امام صاحب ہدایہ وتجنیس۸ ملتقط وحلیہ۹ وظہیریہ۱۰ وغنیہ۱۱ ومراقی۱۲ الفلاح نے پکانے سے اسی زوال رقت آب پر مدار حکم رکھا اسی کو غنیہ نے جامع۱۳ صغیر امام قاضی خان سے نقل کیا اسی پر متون سے وقایہ۱۴ وملتقی۱۵ وغرر۱۶ وتنویر۱۷ ونور۱۸ نے جزم فرمایاکہ لابماء زال طبعہ بالطبخ[3] (جس پانی کی طبیعت پکانے سے زائل ہوجائے اس سے  وضو جائز نہیں۔ ت) امام۱۹ صدر الشریعۃ نے شرح میں فرمایا : المراد بہ ان یخرجہ عن الرقۃ [4](اس سے مراد وہ پانی ہے جس کو رقت سے خارج کردے۔ ت)

اقول : یہی مختصر۲۰ امام ابو الحسن وہدایہ۲۱ امام برہان الدین سے مستفاد لانھما احلا الامر علی اخراج الماء عن طبعہ وذکرا فی الامثلۃ المرق [5] (وہ دونوں معاملہ کا مدار اس پر رکھتے ہیں کہ پانی کو اس کی طبع سے نکال دے ، اس کی مثال میں شوربا ذکر کیا۔ ت) نیز ان دونوں نے زوال طبع کی مثال میں آب باقلا گنا ہدایہ۲۲ نے اُسے مطبوخ پر حمل کیا اسی طرف کافی۲۳ نے اشارہ فرمایا بنایہ۲۴ وکفایہ۲۵ وعنایہ۲۶ وغایۃ۲۷البیان وفتح نے اسے مقرر رکھا نمبر ۸۹ میں جوہرہ۲۸ نیرہ کی عبارت گزری المراد المطبوخ بحیث اذابرد ثخن [6] (ایسا مطبوخ مراد ہی جو ٹھنڈا ہونے پر گاڑھا ہو جائے۔ ت) یہی مضمون کفایہ وبنایہ وغایہ نیز معراج۲۹ الدرایہ پھر شلبیہ۳۰ علی الزیلعی سے آتا ہے نیز ان دو سے نمبر ۲۱۷ میں گزرا اور یہ کہ انہوں نے یہی مفاد خانیہ ٹھہرایا اور یہی مطلب خانیہ۳۱ حلیہ نے بتایا کفایہ بھی اس میں شریك درایہ ہے کماسیأتی (جیسا کہ آئےگا۔ ت) بالجملہ عبارات اس پر متظافر ومتواتر ہیں اور اس درجہ تواتر کے بعد ہدایہ ونقایہ۳۲ و وافی۳۳ وکنز۳۴ واصلاح کی تعبیر تغیر طبع مراد لینا بہت واضح وآسان ہے۔

اقول : بلالکہ وہ نفس لفظ کا مفاد ہے کہ انہوں نے پانی کا تغیر لیا اور پانی ذات ہے نہ کہ وصف وصف عارض کا تغیر ذات کا تغیر نہیں عوارض بدلتے رہتے ہیں اور ذات بدستور رہتی ہے ذات نہ رہے تو عوارض بدلیں کس پر بخلاف وصف لازم کہ انتفائے لازم انتفائے ملزوم ہے اور اصل کلام میں حقیقت ہے جب تك وہ ممکن ہو مجاز ممکن نہیں جس طرح عنایہ میں فرمایا کہ الغلبۃ بالاجزاء غلبۃ حقیقیۃ [7] (اجزاء کے لحاظ سے غلبہ حقیقی ہے۔ ت)

مجمع الانہر میں بڑھایا : بخلاف الغلبۃ باللون فانھا راجعۃ الی الوصف [8] اھ وقد قدمنا ھذا البحث فی قول الکنز فی ۷۷ (رنگ کے اعتبار سے غلبہ اس کے خلاف ہے کہ وہ وصف کی طرف راجع ہے اس بحث کو ہم نے نمبر ۷۷ میں کنز کے قول میں ذکر کیا ہے۔ ت)

اقول :  وبہ یضعف مافی جامع الرموز تحت قولہ اوغیرہ طبخا فیہ اشارۃ الی ان الغلبۃ مانعۃ فیما طبخ من ھذا الجنس سواء کانت بالاجزاء اوباللون [9] اھ ویأتی دفع اٰخر۔                                                                                                                                                                                                                                                       

میں کہتا ہوں اور اسی سے جامع الرموز کی اس عبارت کی کمزوری سمجھی گئی ماتن کے قول “ اوغیرہ طبخا “ کے تحت ہے کہ اس میں اس طرف اشارہ ہے کہ اس جنس میں پکانے سےغلبہ حاصل ہوگا یہ غلبہ اجزاء کے لحاظ سے ہو خواہ رنگ کے اعتبار سے ہو اھ آگے ایك اور اعتراض ہوگا۔ (ت)

لاجرم امام قوام الدین کاکی پھر علامہ احمد ابن الشلبی نے فرمایا :

عنی بالتغیر بالطبخ الثخانۃ والغلظ [10] اھ وقد تقدم تمامہ فی ۲۱۷۔

 



[1]   المغرب

[2]   تاج العروس  باب الباء فصل الشین  احیاء دار التراث العربی بیروت  ۱ / ۳۱۲

[3]

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن